Tuesday, October 20, 2020

سراج الحق سینٹر کیسے بنے ۔ارشد زمان

__ یہاں تو سر ہی غائب ہے گریبان سے __!

قومی وطن پارٹی کے باغی رکن صوبائی اسمبلی بلکہ صحیح معنوں میں داغی بخت بیدار صاحب  جنہوں نے دولت کے خاطر  ضمیر کا سودا کر کے اس پارٹی کو کہی کا نہی چهوڑا____

  اج کل زہنی مریض اور مخبوط الحواس ہے اور نئے نئے شگوفے چهوڑ کر دراصل  اپنی کی ہوئی گندگی کو پیشاب سے دهونے کی حماقت کر رہے ہے__ 

جناب فرمارہے ہیں کہ جناب  سراج الحق  جعلی ووٹوں سے سینٹر منتخب ہوچکے ہیں _!

افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ کیسے کیسے عجوبوں کو لوگ  کندھوں پر بٹھا کر ایوانوں تک  پہنچاتے ہیں __اجڈ و انپڑھ ہونا شاید اتنا  گناہ نہی لیکن  اوپر سے اگر کوئی بے شرم اور ڈیٹ جاہل بنے پھرے تو ان کے حلقہ انتخاب کے لوگوں کو کوسنے کو  جی چاہتا ہے ___!

صوبائی اسمبلی کے چند درجن ووٹوں میں جعلی ووٹوں کا استعمال __؟

خدا کے بندے سینٹ کے الیکشن میں تو  اول ترجیح تو دور کی بات اخری ترجیح کا بهی پتہ چل جاتا ہے کہ کس کس نے غلط ووٹ ڈلا ہے یعنی  ووٹ  فروخت کر ڈالا ہے_

اگر  سراج الحق صاحب کو جعلی ووٹ پڑے ہیں تو اس کی معنی یہ ہوئی کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے ووٹ کسی اور کو ملے ہیں اب اس کے دو طرح کے نتائج  ہونے چاہئے ___

اول_ کسی دوسرے امیدوار کا اپنی ووٹوں سے زیادہ ووٹ لینا__ خیبر پختون خواہ سے کسی بھی سینٹر نے اول ترجیح کے اپنے مقرر شدہ ووٹوں سے زیادہ ووٹ نہیں لئے _

دوم__ متعلقہ حلقہ سے اپنی تعداد سے زیادہ سینئرز کا انتخاب__اور اس طرح کا بچگانہ  سوچ تک  بهی  صرف  بخت بیدار صاحب جیسے "صاحب بصیرت " ہی سوچ سکتے ہیں _

اگر صاحب  تهوڑی بہت عقل رکھتے  تو الزام لگاتے کہ:سراج الحق نے ووٹ خریدے ہیں__ !

     *_    کیسے تیر انداز ہو، سیدها تو کرلو تیر _!

موصوف  کی حواس باختگی  کی وجوہات کوئی ڈهکی چهپی نہیں ___

 *_  وہ الزام ہم کو دیتے تھے، قصور اپنا نکل آیا ___کے  مصداق خود ہی اپنے ہاتھوں رسوا ٹهرے اور بڑاس کسی اور پر نکال رہے ہیں __

آفتاب شیر پاؤ صاحب نے کمال مہارت سے چند سیٹوں پر اپنی پارٹی کو صوبائی حکومت میں شامل کرایا  لیکن اگلے ہی دن سے آنجناب بخت بیدار صاحب دل کے کچے  نکلے اور دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف رہے اور جنابِ عمران خان کو دعوت غضب دیکر خود تو کیا  اپنے دیکر وزراء ساتھیوں کو بھی  گهر بٹھا دیا ___

 *_  سر اشک غم سمٹ کر دل  کے ارمانوں کو لے ڈوبے 

      یہ صاحب خانہ  اپنے ساتھ مہمانوں کو لے  ڈوبے __!

 ابهی یہ گرد مکمل طور پر بیٹھی ہی نہیں تهی کہ  جناب نے  اپنی پارٹی کو داغ  دیکر سینٹ کا ووٹ بیچ  ڈال کر ضمیر کا سودا کیا __یہ اور بات ہے کہ ضمیر نام کی چیز وہ کب کے پاوں تلے روند ڈال چکے ہے __!

جب قبلہ کو پارٹی کی طرف سے شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا تو بیچارہ حواس باختہ ہو کر جماعت اسلامی کے پیچھے پڑگیا____اور ایسی عجیب منطق پیش کی کہ  دنیا ہنسی _ کہ مجهے اس لئے پارٹی سے نکالا جارہا ہے کہ میں نے سراج الحق کو ووٹ نہیں دیا___ 

*_اب بندہ روئے کہ پیٹے جگر___!                                                                 محترم! جناب سراج الحق کو خیبر پختون خواہ اسمبلی سے سب سے زیادہ اٹهارہ ووٹ ملے ہیں اور جسے اپ نے ووٹ دینا تها وہ بیچارہ ہی  ہار چکا ہے ___

بحرحال اج کل  بیچارے کی حالت قابل رحم ہے پارٹی نے جو ٹهکرایا ہے اور حلقے کے لوگوں نے خوب  پہچانا__!

   *_   الجھا الجها رہنے کا سبب پوچھتے ہیں لوگ 

      


یہ کیوں نہیں نہیں سمجھتے کہ ٹهکرا گیا ہو میں

مکمل تحریر >>