Monday, March 22, 2021

پاکستان آزادکشمیر کو ایک آزاد ملک کے طور پر قبول کر لیتا ہے۔ اب آگے کیا ہو گا ؟ تحریر ڈاکٹر اظہر فخرالدین

آئیے فرض کرتے ہیں کہ پاکستان آزادکشمیر کو ایک آزاد ملک کے طور پر قبول کر لیتا ہے۔

اب آگے کیا ہو گا ؟ 


کیا ہمارے قوم پرست دوست ہمیں سمجھائیں گے کہ آزاد  جموں و کشمیر سے ڈوگرہ دور کی ریاست جموں و کشمیر تک کا سفر کیسے طے ہوگا (ریاستی وحدت!!)؟


آئیے گلگت بلتستان سے آغاز کریں۔ جی بی گلاب سنگھ اور رنبیر سنگھ نے سفاکانہ طاقت کا استعمال کرکے قبضہ میں لیا تھا۔ 1863 میں وادی یاسین میں ہونے والے قتل عام کے بعد ڈوگرا صرف دریائے سندھ کے پار علاقوں پر قبضہ جمانے کے قابل ہوے۔ ہمارے قوم پرست جی بی کو واپس حاصل کرنے کا کیا  منصوبہ رکھتے ہیں؟ واضح طور پر ، جی بی کے اکثریتی لوگ اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے ہیں۔ ہم انھیں دوبارہ سے کشمیری کیسے۔ بنائیں گے؟ 


بھارتی مقبوضہ کشمیر:وادی کشمیر پر قبضہ ختم کرنے کا کیا منصوبہ ہے؟ ہمارے پاس ہندوستان کو وادی کشمیر سے رخصت ہونے پر راضی کرنے کا کیا منصوبہ ہے؟ آزاد کشمیر بحثیت ایک آزاد ملک کے پاس ایسی کون سی طاقت ہو گی جس کے زریعے وہ بھارت یا دنیا پر دباؤ ڈال کر یہ مسئلہ حل کروائے گا؟ ایسا کیا leverageہو گا  جو پاکستان، ایک ایٹمی قوت، کے پاس نہیں؟


فلسطینی خود اپنے معاملے کی نمائندگی پوری دنیا میں اور اقوام متحدہ میں کرتے ہیں۔ کیا اس نے 1948 سے ان کا مسئلہ حل کیا؟ یہ کتنا مختلف ہوگا اگر کشمیری (بلفرض جے کے ایل ایف) اس کیس کی اقوام۔متحدہ میں نمائندگی کریں۔



پی 5 (ویٹو ممالک) 

برطانیہ ہی اس سارے مسئلے کی جڑ ہے۔ امریکہ اور روس نے ہمارے خلاف ویٹو کیا۔ فرانس؟ واقعی؟ کیا اپکو واقعی لگتا ہے کہ فرانس انسانی ہمدردی کی بنا پر آپکی مدد کرے گا؟


 چین: چین آزاد کشمیر کی حمایت کیوں کرے گا؟ کیا چین ویٹو نہیں کرے گا اگر فرانس ، برطانیہ اور امریکہ آزاد کشمیر کوجنوبی  ایشیا میں ایک اور اسرائیل کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور اس خیال کی حمایت کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں (امریکہ ہر صورت یہاں اپنی کالونی قائم کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ چین پر نظر رکھی جا سکے)؟ اور چین کیا انکھیں بند کر لے گا؟ چین سے اقصائی چن کون لے گا؟

جموں: ایک ہندو اکثریتی جموں ایک مسلم اکثریتی آزاد کشمیر یا 'کشمیر' کے ساتھ کیوں رہے گا؟ یہی حال لداخ کا بھی ہے۔ اس حقیقت کو کس طرح نظرانداز کیا جاسکتا ہے کہ ان دو خطوں (جموں کے  مسلم اکثریتی اضلاع کے علاوہ) میں بمشکل ہی ہندوستان کے خلاف کوئی تحریک چل رہی ہے۔ اور تو اور کارگل کے شیعہ مسلمانوں کی اکثریت بھی 'سیکولر' ہندوستان کے ساتھ اپنا مستقبل دیکھتی ہے۔


اور یہ  'آزاد' آزاد کشمیر کتنا عرصہ زندہ رہ سکے گا؟ ہم۔یہ فرض کرتے ہیں کہ پاکستان سے الگ ہو کر بھی پاکستان ہمارے ساتھ برادر ملک کی طرح برتاؤ کرتا ہے۔

 کیا ہم نے واقعتا پاکستان میں بحثیت ایک غیر ملکی ہونے کے خیال کو اچھی طرح سے سوچا اور پرکھا ہے (لگ بھگ افغانیوں والا معاملہ)؟ مطلب پراپرٹی خریدنے اور کام کرنے کی کوئی آزادی نہیں!


بجٹ: بجٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جے کے ایل ایف کا کہنا  ہے کہ آمدنی کا بنیادی ذریعہ پانی ، ترسیلات زر اور قدرتی وسائل ہوں گے۔ کیا یہ دعوے واقعی دور اندیشی پر مبنی ہیں؟


پہلی بات: پانی فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ بھارت پاکستان کو پانی بیچ نہیں سکتا اور نہ ہی  اس سے رقم کما سکتا ہے۔ بجلی!!!کیا واقعتا” پاکستان کو کشمیر سے بجلی خریدنے کی ضرورت ہے ؟ 


پاکستان اکنامک سروے کی حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی حالیہ پیداوار (~ 35 میگا واٹ) تھی۔ یعنی ضرورت سے زیادہ پیداوار۔ مسئلہ بدانتظامی اور لائن لاسز ہے ، جو چند سالوں میں ختم ہوجائے گا(سی پیک کے تحت نئی لائنیں ڈل رہی ہیں)۔

 آزاد جموں وکشمیر کس کو  بجلی فروخت کرے گا؟ ہندوستان کو یا چین کو؟


ترسیلات زر یعنی Remittance ؟ AJK چیمبر آف کانفرنس کے سابق صدر نے کچھ سال پہلے بتایا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کی کل ترسیلات سالانہ 200 سے 300 ملین ڈالر سے تجاوز نہیں کرتی ہیں۔ پورے پاکستان کےمی کل ترسیلات زر 22 بلین ڈالر ہوتی ہیں۔ اگر ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں کے تناسب پر غور کریں: کشمیری: پاکستانی (9-10: 1) ، تو یہ زیادہ سے زیادہ 1 ارب ڈالر سالانہ بنتی ہیں (ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ 500 ملین ڈالر سے زائد ناں ہوں گی)۔

 لیکن ٹھہرئے!

ترسیلات زر براہ راست بجٹ کا حصہ نہیں ہوتیں ، اگرچہ یہ سینٹرل بینک اور کیش ان فلو کے لیے اہم۔ہیں تاکہ ملک میں آنے والے ڈالرز کی وجہ سے کرنسی کی ویلیو ناں گرے۔ لیکن اس سے حکومت کو بجٹ بنانے میں فائدہ صفر ہوتا ہے۔


 قدرتی وسائل؟ کیا ہم واقعی سنجیدہ ہیں کہ ہم درختوں کو کاٹنے اور بیچنے اور کانوں کی کھدائی کر کے اپنا بجٹ بنانا چاہتے ہیں۔ اور کن کانوں کی کھدائی؟ ہمارے پاس تو کوئی ثابت شدہ سونے کی کان بھی نہیں (بلوچستان کی طرح)۔ یا ہم یاقوت کے پتھر بیچیں گے؟


ٹورازم میں یقینا پوٹینشل ہے،لیکن ٹورازم تو تب آئے گا جب یہ ریاست بچ پائے گی۔


بجٹ: بجٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جے کے ایل ایف کا کہنا  ہے کہ آمدنی کا بنیادی ذریعہ پانی ، ترسیلات زر اور قدرتی وسائل ہوں گے۔ کیا یہ دعوے واقعی دور اندیشی پر مبنی ہیں؟


پہلی بات: پانی فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ بھارت پاکستان کو پانی بیچ نہیں سکتا اور نہ ہی  اس سے رقم کما سکتا ہے۔ بجلی!!!کیا واقعتا” پاکستان کو کشمیر سے بجلی خریدنے کی ضرورت ہے ؟ 


پاکستان اکنامک سروے کی حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی حالیہ پیداوار (~ 35 میگا واٹ) تھی۔ یعنی ضرورت سے زیادہ پیداوار۔ مسئلہ بدانتظامی اور لائن لاسز ہے ، جو چند سالوں میں ختم ہوجائے گا(سی پیک کے تحت نئی لائنیں ڈل رہی ہیں)۔

 آزاد جموں وکشمیر کس کو  بجلی فروخت کرے گا؟ ہندوستان کو یا چین کو؟


ترسیلات زر یعنی Remittance ؟ AJK چیمبر آف کانفرنس کے سابق صدر نے کچھ سال پہلے بتایا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کی کل ترسیلات سالانہ 200 سے 300 ملین ڈالر سے تجاوز نہیں کرتی ہیں۔ پورے پاکستان کےمی کل ترسیلات زر 22 بلین ڈالر ہوتی ہیں۔ اگر ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں کے تناسب پر غور کریں: کشمیری: پاکستانی (9-10: 1) ، تو یہ زیادہ سے زیادہ 1 ارب ڈالر سالانہ بنتی ہیں (ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ 500 ملین ڈالر سے زائد ناں ہوں گی)۔

 لیکن ٹھہرئے!

ترسیلات زر براہ راست بجٹ کا حصہ نہیں ہوتیں ، اگرچہ یہ سینٹرل بینک اور کیش ان فلو کے لیے اہم۔ہیں تاکہ ملک میں آنے والے ڈالرز کی وجہ سے کرنسی کی ویلیو ناں گرے۔ لیکن اس سے حکومت کو بجٹ بنانے میں فائدہ صفر ہوتا ہے۔


 قدرتی وسائل؟ کیا ہم واقعی سنجیدہ ہیں کہ ہم درختوں کو کاٹنے اور بیچنے اور کانوں کی کھدائی کر کے اپنا بجٹ بنانا چاہتے ہیں۔ اور کن کانوں کی کھدائی؟ ہمارے پاس تو کوئی ثابت شدہ سونے کی کان بھی نہیں (بلوچستان کی طرح)۔ یا ہم یاقوت کے پتھر بیچیں گے؟


ٹورازم میں یقینا پوٹینشل ہے،لیکن ٹورازم تو تب آئے گا جب یہ ریاست بچ پائے گی۔


بجٹ: بجٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جے کے ایل ایف کا کہنا  ہے کہ آمدنی کا بنیادی ذریعہ پانی ، ترسیلات زر اور قدرتی وسائل ہوں گے۔ کیا یہ دعوے واقعی دور اندیشی پر مبنی ہیں؟


پہلی بات: پانی فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ بھارت پاکستان کو پانی بیچ نہیں سکتا اور نہ ہی  اس سے رقم کما سکتا ہے۔ بجلی!!!کیا واقعتا” پاکستان کو کشمیر سے بجلی خریدنے کی ضرورت ہے ؟ 


پاکستان اکنامک سروے کی حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی حالیہ پیداوار (~ 35 میگا واٹ) تھی۔ یعنی ضرورت سے زیادہ پیداوار۔ مسئلہ بدانتظامی اور لائن لاسز ہے ، جو چند سالوں میں ختم ہوجائے گا(سی پیک کے تحت نئی لائنیں ڈل رہی ہیں)۔

 آزاد جموں وکشمیر کس کو  بجلی فروخت کرے گا؟ ہندوستان کو یا چین کو؟


ترسیلات زر یعنی Remittance ؟ AJK چیمبر آف کانفرنس کے سابق صدر نے کچھ سال پہلے بتایا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کی کل ترسیلات سالانہ 200 سے 300 ملین ڈالر سے تجاوز نہیں کرتی ہیں۔ پورے پاکستان کےمی کل ترسیلات زر 22 بلین ڈالر ہوتی ہیں۔ اگر ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں کے تناسب پر غور کریں: کشمیری: پاکستانی (9-10: 1) ، تو یہ زیادہ سے زیادہ 1 ارب ڈالر سالانہ بنتی ہیں (ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ 500 ملین ڈالر سے زائد ناں ہوں گی)۔

 لیکن ٹھہرئے!

ترسیلات زر براہ راست بجٹ کا حصہ نہیں ہوتیں ، اگرچہ یہ سینٹرل بینک اور کیش ان فلو کے لیے اہم۔ہیں تاکہ ملک میں آنے والے ڈالرز کی وجہ سے کرنسی کی ویلیو ناں گرے۔ لیکن اس سے حکومت کو بجٹ بنانے میں فائدہ صفر ہوتا ہے۔


 قدرتی وسائل؟ کیا ہم واقعی سنجیدہ ہیں کہ ہم درختوں کو کاٹنے اور بیچنے اور کانوں کی کھدائی کر کے اپنا بجٹ بنانا چاہتے ہیں۔ اور کن کانوں کی کھدائی؟ ہمارے پاس تو کوئی ثابت شدہ سونے کی کان بھی نہیں (بلوچستان کی طرح)۔ یا ہم یاقوت کے پتھر بیچیں گے؟


ٹورازم میں یقینا پوٹینشل ہے،لیکن ٹورازم تو تب آئے گا جب یہ ریاست بچ پائے گی۔

دفاع:  دفاع کو ہم بھول ہی جائیں تو اچھا ہے !! ہندوستان اور چین جیسے پڑوسی ممالک کے ساتھ کوئی سوچ بھی سکتا ہے کہ ہماری کیا حالت ہو گی؟ کیا آپ کو واقعی لگتا ہے کہ چین اپکو تبتہہ اور اقصائی چن جھولی میں ڈال دے گا؟ لداخ پر چین نے بھارت سے تقریبا جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ کیا اپکو واقعی ایسا لگتا ہے کہ وہ اسکو ہری سنگھ کی نشانی سمجھ کر اپکو لوٹا دے گا؟ ہمارے قوم پرست احباب کے پاس یقیناکوئی۔منصوبہ ہو گا چین کو راضی کرنے کا۔ امید ہے وہ عوام کے ساتھ شیئر کریں گے۔


 ہمیں چین / روس کے خلاف برطانیہ اور مغرب کے پراکسی ہونے کے امکان کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ مغرب یقینی طور پر اس کے لئے ہماری مدد کرنا چاہتا ہے۔ کہ ایک چھوٹا سا اسرائیل یہاں بھی مل جائے اور اسکے خطے میں قدم جم جائیں۔ کشمیری جو ہر طرف سے پھنسے ہوے ہوں گے بڑی طاقتوں کے لیے ایک ترنوالہ ثابت ہونگے۔


آخری اور اہم بات:  آزاد جموں و کشمیر میں ایک بڑا طبقہ پاکستان نواز  ہے، اس کے بارے میں قوم پرست احباب کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ صرف بیٹھ کر تماشا دیکھیں گے؟ یاد رکھیں ، وہ پاکستان میں جائیداد نہیں خرید سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی کاروبار کرسکتے ہیں۔ تعلیم اور نوکریوں کے لئے کوئی کوٹہ نہیں۔ تین بڑی طاقتوں کے درمیان پھنسا ہوا ایک خطہ جس کو اپنی تجارت کے لیے بھی پاکستان سے پورٹ چاہیے ہو گی، ایک شدید اندرونی کشمکش میں الجھ جائے گا۔


اور ہاں، ہم کیسے اس بات کو کس طرح نظرانداز کرسکتے ہیں کہ آزاد کشمیر کو پاکستان کو حصہ بننے کے لئے آزاد کرایا گیا ( اس حصہ بننے کی نوعیت الحاق کی ہو گی یا انضمام می،یہ فیصلہ کشمیریوں کو ہی کرنا ہے)۔ اب اچانک آزاد کشمیر کے لوگ بھلا کیوں پاکستان سے پیٹھ پھیرنے پر راضی کیوں ہوں گے؟


اس حقیقت کو بھی فراموش نہ کیجیے کہ ایک “خود مختار “ کشمیر زیادہ مشکل کام ہوسکتا ہے۔ نہ صرف یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے (وہاں کوئی تیسرا آپشن نہیں) بلکہ اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے لئے بھی غیر یقینی کی پیدا کر سکتا  ہے۔ خدا جانے کل یہ چھوٹا سا ملک کتنوں کے لیے سر درد بن جائے۔ بھلا کیوں چین،انڈیا، پاکستان اور روس اس بات کی اجازت دیں گے؟ یہ ایک تلخ عالمی حقیقت ہے۔


ان سب باتوں کے کہنے کا مقصد یہی ہے کہ  اہلیان کشمیر کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ خودمختار کشمیر کا معاملہ اتنا سیدھا بھی نہیں۔

ترجمہ: اسعد فخرالدین 



مکمل تحریر >>

Friday, September 4, 2020

کے ایچ خورشید کا قائد اعظم کو خط اور حقائق اردو ترجمہ کے ساتھ

 کے ایچ خورشید صاحب کا سری نگر کے دورے کے بعد قائد اعظم کو لکھے گئے  خط کا  ترجمہ حاضر ہے . یہ خط ہمارے قومی نصاب کا حصہ ہونا چائے تھا مگر افسوس. خط پڑھ کر اپ کو ٹھیک سے اندازہ ہو جا ے گا کے ١٩٤٧ میں کشمیر میں کیا حالات تھے . 

اردو ترجمہ

قائداعظم کے پرسنل سیکرٹری کی کشمیر سے بھیجے گئے پیغامات سے معلوم ہوتا ہے کہ ھندوستان نے پاکستان اور کشمیر کے خلاف سازش شروع دن سے ہی شروع کی ھے۔


محمد علی جناح کے پرائیویٹ سیکرٹری خورشید حسن خورشید کو انہوں نے اکتوبر 1947 ء کے پہلے ہفتے میں کشمیر میں موجود مسلمان رہنمائوں کو کچھ اہم پیغامات پہنچانے اور ریاست میں زمینی صورتحال کا اندازہ لگانے کے لئے بھیجا تھا۔ کشمیر میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقات کے بعد کے ایچ خورشید نے محمد علی جناح کو ایک تفصیلی نوٹ واپس بھیجا جس میں انہوں نے انہیں آگاہ کیا کہ ریاست میں گزشتہ دو ماہ کے دوران جو بڑے واقعات رونما ہوئے ہیں ان میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ مہاراجہ کے ارادے ہرگز اچھے نہیں۔ وہ پاکستان سے الحاق کے خلاف تھا اور ہندوستان کے حق میں تھا۔ خورشید نے مشورہ دیا کہ پاکستان کو لڑائی کے حوالے سے سوچنا چاہئے کیونکہ سفارتی دبائو پہلے ہی ناکام ہو چکا تھا اور ریاست میں کوئی بھی پرامن جدوجہد کسی کام کی نہیں تھی۔ اس کے خط کا مکمل متن ذیل میں دوبارہ پیش کیا گیا ہے۔


میرے پیارے سر،

میں دوسری پہر شام کو سرینگر پہنچا اور جب سے میں اپنے دوستوں، جاننے والوں اور گمراہ زائرین کی طرف سے ہر قسم کی معلومات اور معلومات کی وجہ سے حیران ھوں رہا ہوں. میں نے جو کچھ سنا اور دیکھا ہے اس کا خلاصہ بنا لیا ہے اور جو مجھے یقین ہے وہ سچ ہے۔ میں نے حاصل کردہ معلومات کو چھان لیا، دوسرے ذرائع سے اس کی تصدیق کی اور منسلک کاغذات تیار کیے ہیں۔ شاید بہت سی باتیں دوسرے ذرائع سے آپ تک پہلے ہی پہنچ چکی ہوں لیکن میں نے ایک جامع رپورٹ بنا کر اپنی رائے بھی دی اور تجاویز بھی دیں۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ زیادہ لمبا ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ مقامات پر حیرت زدہ ہوجائے، لیکن جو کچھ میں نے سوچا تھا وہ آپ کے سامنے رکھنا ضروری تھا ٹائپ کیا گیا ہے۔

میں امید کرتا ہوں، جناب، کہ آپ اور مس جناح صحت کی بہترین حالت میں ہیں۔

احترام کے ساتھ،

کے ایچ خورشید


نوٹ بذریعہ K. H. خورشید: سرینگر،

شیخ محمد عبداللہ کی رہائی کے بعد سے "رائل کلیمینسی" کے ایک عمل کے طور پر کشمیر میں 12 اکتوبر 1947 کے واقعات بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کی جماعت کے دیگر ارکان، جو "کشمیر سے کنارہ کشی" کے اشتعال کے سلسلے میں گزشتہ سال یا تو قید یا نظربند تھے، کو بھی رہا کردیا گیا ہے۔ لیکن مسلم کانفرنس کے لوگ جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں۔ پہلو بہ پہلو ریاست مسلمانوں سے بیزار ہورہی ہے جو ریاستی قوتوں میں کسی بھی اہمیت کے عہدوں پر فائز تھے۔ فوج اب ان تمام مسلمان اور یورپی افسران سے پاک ہے جن کی جگہ ہندو ڈوگرا راجپوتوں نے لے لی ہے۔


موقف ظاہر ہوتا ہے کہ مہاراجہ کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے خلاف ہے۔ ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ اس کی لاش کو سات سو ٹکڑوں میں کاٹ دیا جائے، لیکن وہ پاکستان سے اتفاق نہیں کرے گا۔ اور، لہذا، وہ کسی بھی اور ہر واقعے سے ملنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ریاست آج گندی عدالتی سازشوں کا ہاٹ بیڈ ہے اور ہر طرح کے منشیوں اور مشینوں کو حکومت کی طرف سے مصلحتوں کو بگاڑنے اور مقبول احساس کو پاکستان کے حق میں دبانے کے لئے جاری ہے۔ لیکن آنے والے کچھ عرصے تک عوام کو ان کے ارادے بنانے میں حکومت کی راہ میں عملی مشکلات ہیں۔ ایک باخبر ڈوگرہ اہلکار نے مجھے بتایا کہ یہ زیادہ تر رائفلوں کا سوال ہے۔ اگر پاکستان کے پاس کشمیر سے زیادہ رائفلیں تھیں، تو بعد میں پاکستان میں شامل ہوں گے. ذیل میں دیا گیا مقام ہے، کیونکہ اس کا اندازہ حقائق اور حالیہ واقعات سے لگایا جاسکتا ہے جو ریاست، حکومت اور مختلف سیاست میں رونما ہوئے ہیں۔


ہندوستانی یونین پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے یا نہیں، حکومت کا ہر اقدام دہلی کی سڑک کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مہاراجا اپنے ارد گرد کے تمام ناپسندیدہ یا مشکوک لوگوں سے جان چھڑا رہے ہیں۔ ان کے چچا نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ نائب وزیر اعظم (ایک نئی پوسٹ) سردار پٹیل کے نامزد ایک مسٹر رام لال بترا ہیں، اور وہ سرینگر اور دہلی کے درمیان مسلسل آگے بڑھتے رہتے ہیں۔


شیخ عبداللہ کی رہائی کا اثر بیرونی دنیا کو یہ تاثر دینے کے واحد مقصد سے ہوا ہے کہ کشمیر کے بھارت سے الحاق، اعلان ہونے پر ریاست کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حمایت حاصل ہوگی۔ مقامی سیاسی حلقوں اور پریس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر کسی بھارتی ریاست کے لوگوں کی خواہشات معلوم کرنے کے سوال پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے اس سے پہلے کہ وہ یا تو ڈومینن پر اکتفا کر لیں، عبداللہ اور پارٹی کو بھارت سے الحاق کی حمایت کے عوض حکومت کی چند نشستوں کا وعدہ کیا جائے گا۔


مشرقی پنجاب اور جموں کو ملانے والی سڑک پر کام اپاکا پر ہو رہا ہے۔ راوی میں سیلاب کی بدولت کام کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور اس کی تکمیل میں خاطر خواہ تاخیر ہوئی ہے۔ جموں اور سری نگر کو ملانے والی ایک اور سڑک بھی تعمیر کا کام جاری ہے، کیونکہ موجودہ ایک تو موسم سرما کے تین ماہ کے دوران ٹریفک کے لیے کھلا نہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ نئی سڑک بار بار ٹریفک کے قابل ہو جائے ۔پٹرول کی سپلائی جسے راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر نے روک لیا تھا، اب دہلی سے بذریعہ ایئر آ رہے ہیں۔


کسی بھی قسم کے خطرات مول لینے کے موڈ میں نہیں، حکومت پوری ریاست میں ڈوگرہ فوجی تعینات کررہی ہے۔ تازہ دستوں کو گلگت اور پونچھ کے سرحدی علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ یہ امر بدستور افواہ ہے کہ بھارتی تسلط کے گورکھا اور سکھ فوجی فوجی کشمیر مشرقی پنجاب کی سرحد پر ریاست میں مارچ کرنے کے احکامات کے منتظر ہیں۔ مسلمانوں اور فوج کے دیگر غیر ہندو افسران کی برطرفی خود بولتا ہے۔


جب موسم سرما میں سیٹ ہوجائے گا تو گلگت جانے والی سڑکیں بلاک کردی جائیں گی اور کشمیر کو عملی طور پر باقی دنیا سے کاٹ دیا جائے گا اگر راولپنڈی سری نگر روڈ فی الحال ٹریفک کو فری کرنے کے لئے نہیں کھلا ہے۔ پٹرول کی قلت کی وجہ سے اب صرف فوجی گاڑیاں اور چند چند نجی کاریں اس سڑک پر چل رہی ہیں۔ گلگت چترال سرحد اور پونچھ سرحد پر قبائل نے مہاراجہ کو ہندوستان سے الحاق کے خلاف متنبہ کیا ہے۔ فی الحقیقت، ریاستی افواج پہلے ہی پونچھ میں مسلح مسلمانوں کے ساتھ تصادم میں آچکی ہیں۔ ریاستی فوجیوں کی ایک اچھی تعداد وہاں مصروف ہے.


ان تمام عوامل کے علاوہ یہ حقیقت بھی ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے ابھی تک جموں کے کچھ پنجابی ہندوؤں کے سوا بھارت سے الحاق کی حمایت نہیں کی، مہاراجہ کے راستے میں کھڑے ہو کر اپنا اعلان کر رہے ہیں۔


مسلم کانفرنس اب عملی طور پر ایک مردہ تنظیم ہے۔ اس کے تمام رہنماؤں کے ساتھ یا تو جیل، قید، حراست یا خارج کر دیا گیا ہے، اس کام پر لے جانے کے لئے شاید ہی کوئی ہے. میر واعظ اور چوہدری حمید اللہ کے درمیان ہونے والے جھگڑے سے جو کچھ بچا تھا وہ دونوں اب ختم ہوچکے ہیں۔ لیکن پاکستان کے حق میں مقبول احساس کا ایک بہت مضبوط احساس ہے، استعمال اور استحصال کرنا جس کا یہاں کوئی نہیں ہے۔ شہر اور ریاست کے مختلف حصوں میں بے ساختہ مظاہرے کئے جارہے ہیں لیکن ان بکھرے ہوئے عناصر کو متحرک کرنے والا کوئی نہیں ہے۔


وہ ایک عجیب پوزیشن میں ہیں۔ یہ ایک معروف حقیقت ہے کہ عبداللہ نے ریاست میں کبھی کسی غیر مسلم کی پیروی نہیں کی تھی اور اب اس کے ماننے والوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پاکستان قائم ہو چکا ہے اور لیگ کانگریس کا تنازع ختم ہونے پر ہے، ریاست کو پاکستان پر اکتفا کرنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے ان کی رہائی ہوئی ہے عبداللہ مبہم بیانات دے رہا ہے۔ میں اس کے ساتھ ان کی ایک حالیہ تقریر کا مکمل متن لے رہا ہوں، جیسا کہ ان کی پارٹی کے سرکاری کاغذ نے شائع کیا ہے۔ انہوں نے متعدد دیگر تقریریں بھی اسی خطوط پر کم و بیش کی ہیں اور اب تک وہ مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل ہیں:


ہمارے سامنے بنیادی سوال (عبداللہ کی جماعت) ذمہ دار حکومت کے قیام اور ریاست کے عوام کی آزادی کا ہے۔ میں اب بھی 'کشمیر سے کنارہ' پر قائم ہوں اور یہی ہمارا بنیادی مطالبہ ہے۔ ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کا سوال ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلم لیگ کا موقف ہے کہ حاکمیت حکمرانوں اور شہزادوں پر مشتمل ہے (یہ ہماری ریاستوں کے موقف کی واضح غلط بیانی ہے کہ پیراموونٹسی ختم نہیں ہوتی بلکہ ہندوستانی ریاستوں کی بھارتی ریاستوں کی طرف پلٹ چکی ہے)۔ لیگ نظام کی خاطر غریبوں اور عوام کو نظرانداز کرتی ہے۔ مسٹر جناح کے خلاف میری ذاتی عناد ہے جنہوں نے مجھے گنڈاسے کہا اور جنہوں نے کہا کہ 'کشمیر سے کنارہ کرو' چند شرپسندوں کا رونا تھا۔ لیکن میں اب کرنا چاہیے ہونا اب کرنا چاہیے اور ہمارے فیصلے پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں ذاتی جذبات کو آگاہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ہم اس کے ساتھ شامل ہوں گے جو ہماری آزادی کے مطالبات کی حمایت کرتا ہے لیکن ہمیں اپنی معاشی پوزیشن، اپنی تجارت اور تجارت اور دیگر چیزوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ہم جذبات کی طرف سے قیادت نہیں کریں گے اور میں بغاوت کروں گا اگر مہاراجہ مقبول منظوری کے بغیر کسی بھی سلطنت کو قبول کرتا ہے. آئیے پہلے اپنی آزادی حاصل کریں اور پھر آزاد لوگوں کی حیثیت سے ہم ایک یا دوسرے تسلط کے حق میں اپنا فیصلہ دیں گے۔


اپنے ہی کچھ پیروکاروں کے ساتھ نجی مذاکرات میں جو انہیں اپنے موجودہ موقف کے منافی باور کرانے گئے تھے، ان کے بارے میں اطلاع ہے کہ مسٹر جناح انہیں لکھ کر مذاکرات کی دعوت دیں لیکن صرف ایک ہی بنیاد ہو گی یعنی لیگ کو ریاست میں ذمہ دار حکومت کے قیام کے لئے تحریک کی حمایت کرنی چاہئے۔ انہوں نے نجی طور پر یہ بھی دیا ہے کہ مہاراجا نے بھارتی تسلط پر عمل کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن سردار پٹیل نے انکار کردیا اور مہاراجا کو صاف صاف کہہ دیا کہ اگر ریاست میں ذمہ دار حکومت قائم نہ ہوئی تو وہ کشمیر کا الحاق قبول نہیں کریں گے۔ وہ پھر پوچھتا ہے کہ مسلم لیگ ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟ لیگ نے حکمرانوں کے حق کو تسلیم کیا ہے کہ وہ عوام کی قسمت کا فیصلہ کریں، وہ جھگڑا کرتا ہے۔


جموں اور کشمیری پنڈتوں کے پنجابی اور ڈوگرہ ہندوؤں نے مہاراجہ کو ایک یادداشت بھیجی ہے جس میں اس سے کہا گیا ہے کہ وہ ہندوستان تک رسائی حاصل کرے۔ لیکن عبداللہ کی رہائی سے ان میں تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے اب نیشنل کانفرنس سے خود کو اتحادی بنا لیا ہے۔ بے شک، وہ موسم گرما ہیں اور ان کی واحد خواہش یہ ہے کہ ان کی کھالوں کو بچایا جائے.


مذکورہ بالا کی روشنی میں میری ذاتی طور پر رائے ہے جناب، کہ پاکستان کو لڑائی (جنگ استعمال نہ کرنے) کے حوالے سے سوچنا ہوگا جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے۔ دوسری طرف عملی طور پر نہ صرف اس پر فیصلہ کیا ہے بلکہ اس کے لئے تیار ہے۔ سفارتی دبائو اب تک ناکام ہوچکا ہے۔ ہم جو عرض البلد دیتے رہے ہیں انہوں نے صرف اس لحاظ سے ہماری غلط تشریح میں خدمت کی ہے کہ پاکستان کو کمزور سمجھا جاتا ہے اور حادثہ ہونے والا ہے۔ یقینا، ہمیں اپنی طرح کی کوشش کرنا چاہئے لیکن ہمیں اس کی لڑائی کے پہلو سے نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ چاہے مسالک کے درمیان اتحاد قائم ہو اور چاہے ریفرنڈم کا انعقاد ہو اور پاکستان کے لئے سازگار فیصلے کے نتیجے میں ہو، اس کی پاسداری کے لئے ایک لمحے کے لئے بھی مہاراجہ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کسی ناموافق فیصلے کے باوجود کشمیر کے الحاق کو قبول نہ کرنے والی بھارتی حکومت پر۔


پاکستان کو جو کچھ بھی اس واقعے کے لئے تیار رہنا ہے وہ یہ ہے کہ وہ ریاست کے اندر اور اس کے بغیر قبائل کو اسلحہ اور کھانے پینے کی چیزیں سپلائی کرے جو پہلے ہی اپنے ہتھیاروں کو تیز کررہے ہیں۔ مقامی آبادی شاید ہی ایک پکھواڑا سے زیادہ کے لئے ایک پر امن تحریک پر لے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے کامیاب حکمت عملی مہاراجہ کو مشرقی پنجاب سے ملحقہ پہاڑی جنوب کی صرف کچھ بنجر پٹریوں کے ساتھ چھوڑ دے گی۔ یہ بہت اچھا لگ سکتا ہے لیکن مہاراجہ کس طرح سوچ رہا ہے بتانے کا شاید ہی کوئی ذریعہ ہے۔ ہمیں بے خبر نہیں پکڑا جانا چاہئے، اور واحد راستہ یہ ہے کہ ہر واقعے کو پورا کرنے کے لئے خود کو تیار کیا جائے۔ بحیثیت ریاست کے لوگوں اور سرحد پار ہمارے لوگوں کے درمیان کیسے قائم ہو سکتا ہے، میں یہ کہہ سکتا ہوں، جناب، کہ میجر خورشید انور (مسلم نیشنل گارڈز کا) پہلے ہی راولپنڈی میں موجود ہے اور اسے رابطے کے کام سے بہت اچھی طرح اعتماد کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ریاست سے تعلق رکھتا ہے اور سرحدی علاقوں کو بہت اچھی طرح جانتا ہے۔


میں یہ بھی تجویز کروں گا، جناب، کہ اگر آپ کشمیر کے حوالے سے کوئی بیان جاری کرسکتے ہیں تو اس سے ہمارے یہاں کے لوگوں کو مدد ملے گی اور ہندوستانی ریاستوں کو لیگ پوزیشن کو واضح کرنے میں مدد ملے گی۔ جناب آپ مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے مسلم کانفرنس کے نظربند افراد کی رہائی کا مطالبہ کرسکتے ہیں جن پر اب تک کوئی مقدمہ بھی نہیں چلا، خاص طور پر اب جب کہ ہر دوسرے سیاسی قیدی اور نظربند آزاد مقرر ہیں۔ لیگ کی پوزیشن کے علاوہ اگر واضح اور دوبارہ حاصل کیا گیا تو عبداللہ کے پاؤں سے زمین اتار دیں گے۔ میں یہ اس لئے تجویز نہیں کر رہا کہ مجھے عبداللہ کے یوٹرنگز پر اشتعال دلایا گیا ہے بلکہ اس لئے کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور یقین ہے کہ لیگ واقعی انہیں نیچا دکھا رہی ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ جناب، بیان کا مندرجہ ذیل حصہ یا کچھ اور اسی اثر کے لئے فارم:


میرے نوٹس میں یہ بات لائی گئی ہے کہ بعض حلقوں میں بھارتی ریاستوں سے متعلق مسلم لیگ کی پالیسی کے حوالے سے کچھ غلط فہمی پائی جاتی ہے اور کچھ دلچسپی رکھنے والے افراد جان بوجھ کر مسلم لیگ کے بارے میں غلط بیانی کر رہے ہیں کہ وہ اپنے اپنے مقصد کی خدمت کرے اور ہندوستانی ریاستوں میں مسلمانوں کو گمراہ کر سکے۔

تیسری جون کے اس منصوبے کے مطابق جسے کانگریس اور مسلم لیگ دونوں نے قبول کیا ہے، ہندوستانی ریاستوں کے احترام میں پیراموونٹسی جو تاج کے ساتھ آرام کیا تھا وہ ہندوستانی ریاستوں کی طرف پلٹ گیا۔ قانونی اور آئینی موقف، اس لئے، تھا، اور رہتا ہے، کہ یہ ایک بھارتی ریاست کے سربراہ کے طور پر حکمران ہے جو اپنی ریاست کی جانب سے مذاکرات کر سکتا ہے اور کسی ایک یا دوسرے تسلط میں شامل ہونے کا حتمی فیصلہ لے سکتا ہے۔500 عجیب ریاستیں جنہوں نے ہندوستانی یونین اور دیگر لوگوں کو قبول کیا ہے جنہوں نے پاکستان کو قبول کیا ہے اسی طریقہ کار پر عمل کیا ہے۔ اس میں ترمیم یا تبدیلی نہیں کی جاسکتی سوائے اس کے کہ دونوں مقبوضات کے مابین اور ہندوستانی ریاستوں کے حکمرانوں کے اتفاق رائے سے۔ ہم تیار ہیں اور پاکستان پہلے ہی بھارتی حکومت سے اس بنیاد اور شرائط پر مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے جس کے تحت وہ اس بات پر متفق ہوں گے کہ الحاق کا سوال بھارتی ریاستوں کے عوام کے حوالہ کیا جائے۔


مسلم لیگ ہمیشہ پوری دنیا میں عوام کے حق خود ارادیت کے لئے کھڑی رہی ہے اور یہ ہی اصول تھا جس نے مسلم لیگ کی طرف سے پاکستان کے مطالبے کی بنیاد تشکیل دی۔ یہ منصوبہ بندی وغیرہ کے تحت ریاستوں کی پوزیشن کی تشریح سے بالکل مختلف سوال ہے۔

میں نے تجویز کیا ہے، جناب، اپنے خام انداز میں کہ مسلم لیگ اور پاکستان کو کشمیر کے حوالے سے کیا کرنا چاہئے۔ یہاں مشکلات یہ ہیں کہ مسلم کانفرنس کو کوئی پریس نہیں ملا ہے اور یہاں تک کہ غیر جانبدار پریس کو بھی مجروح کیا جاتا ہے۔ اگر تھوڑی سی غلطی سے ہمارے یہاں کے لوگ حکومت کو طاقت کے استعمال کا موقع دیں تو میرے ذہن میں کوئی شک نہیں، جناب، وہ ڈوگرہ فوجی ہر گھر میں گھس کر مسلمانوں کو پکڑ کر گولی مار دیں گے۔


میں نے ابھی ابھی سنا ہے کہ شیخ عبداللہ نے اپنے ایک لیفٹیننٹ مسٹر جی ایم صادق کو مسٹر لیاقت علی کو دیکھنے کے لئے لاہور بھیجا ہے۔ اس سے آگے، ابھی کچھ معلوم نہیں ہے۔



مکمل تحریر >>

Sunday, August 30, 2020

قوم پرستوں کے 16 ارب ڈالر کے دعوے اور حقیقت.اظہر فخرالدین

 قوم پرستوں کے 16 ارب ڈالر کے دعوے اور حقیقت


ہمارے قوم پرست دوست حضرات اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان کے 

بینکوں میں سے کشمیریوں کا پیسہ اگر نکال لیا جائے تو پاکستان دیوالیہ ہو جائے۔ ویسے تو اس دلیل کی حثیت منگلا ڈیم اور پانی کی رائلٹی کے غبارے جیسی ہی ہے مگر آئیں آج اس دعوی کا بھی جائزہ لے ہی لیتے ہیں، عقلی بنیادوں اور اعداد و شمار کی روشنی میں۔


 قوم پرست دوست کوئی لگ بھگ 16  ارب ڈالر سالانہ کا دعوی دائر کرتے ہیں۔ یعنی بیرون ملک کشمیری اتنے پیسے سالانہ پاکستانی بینکوں میں بھیجتے ہیں۔


ایک اہم بات سمجھنے کی یہ ہے کہ ترسیلات زر، یعنی بیرون ملک سے آنے والے پیسوں میں کشمیری اور پاکستان کے باقی صوبوں کے رہنے والے افرد کا الگ الگ حساب کتاب نہیں ہوتا۔ سب کے پیسوں کو ملا کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایک ٹوٹل فگر جاری کرتا ہے۔


اب آتے ہیں اعدادو شمارکی طرف


پاکستان میں ترسیلات زر کی مد میں بینکوں کے زریعے لگ بھگ 23 ارب ڈالر سالانہ بھیجے جاتے ہیں۔


بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد 8.8 ملین ہے۔ 88 لاکھ۔ جو آزاد کشمیر کی کل آبادی کا دوگنا سے بھی زائد ہے۔ آزاد کشمر کی کل آبادی لگ بھگ 40 لاکھ ہے۔  بیرون ملک کشمیریوں کی ٹھیک تعداد کے کوئی اعداد و شمار مرتب نہیں۔اگر ہم پاکستان کے اوور سیز رہائشیوں کی اوسط کے لحاظ سے اندازہ لگائیں ےتو کوئی دو لاکھ کے قریب کشمیری بیرون ملک ہونگے۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ 88 لاکھ ملکر 7 ارب بھجواتے ہوں اور دو لاکھ 16 ارب ڈالر؟ کیا عقل اسکو مانتی ہے؟

(دو لا کھ کے فگر میں کمی بیشی ممکن ہے ایک دوست کے اندازے کے مطابق یہ کوئی چار لا کھ  یا اس سے بھی زائدہ ہو سکتے ہیں  بہر حال صحیح تعداد معلوم نہیں. )


چلیں اسکو بھی رہنے دیں۔ پاکستان کو موصول ہونے والی ترسیلات زر میں پہلے نمبر پر سعودیہ، دوسرے پر یو اے ای  آتے ہیں۔یہ دونوں ملکر 23  ارب ڈالر کا آدھا حصہ بھیجتے ہیں۔ کشمیری تو صرف برطانیہ میں ہی بڑی تعداد میں آباد ہیں، اور وہی زیادہ خوشحال بھی ہی ۔ برطانیہ کا کل ملا کر 3 سے 4 ارب ڈالر بنتا ہے۔ اس میں 11 لاکھ پاکستانی شامل ہیں اور اور کوئی ایک لاکھ کشمیری۔ باقی اندازہ آپ خود ہی لگا لیں کہ ان 3,4 ارب میں سے کون کتنا بھیجتا ہو گا؟


اور ویسے آپ کہتے ہیں کہ ستر فی صد عوام آکے ساتھ ہے۔ توکیوں نہیں آپ عوام کوکہہ کر ایک مہینے کے لیے ہی سہی  ان 16ارب ڈالرز کو بینکوں سے نکلوا لیتے۔ پاکستان بھی آپ کے گھٹنوں میں لیٹ جائے گا اور آپ کا دعوی بھی سچ ثابت ہو جائے گا۔


خدارا سچ تو بولیں۔ کہاں سے آپ لوگ کہانیاں اور افسانے گھڑتے ہیں۔ کیا آپکو سچ کا سامنا کرتے ہوے شرمندگی نہیں ہوتی؟


مکمل تحریر >>

Friday, August 21, 2020

جوان سعید نام کی طرح جوش ۔ سراپا تحریک ۔اسعد فخرالدین



جوان سعید جوش
اپنے لہو سے سینچے اس گلشن میں آئی بہاروں پر خوش ہے
اپنی لگائی فصل کے بارآور ہونے پر شاداں ہے
لیکن
ظلم کے مقابل بے جگری سے لڑنے والے اپنے ابتدائی ساتھیوں کو یاد کر کے افسردہ بھی ہو جاتا ہے جو اس بہار کو دیکھنے سے رہے 
نام کی طرح پرجوش ، استقامت کا مینارہ 
خالد صاحب ! ان کی دھڑکنوں کومحسوس کریں 
میجر صاحب !!ان کے چہرے پر کھلی مسکراہٹ  اور اطمینان  کو دیکھئے 

غربی باغ کے باشعور لوگو! 
جانتے ہو اس مسکراہٹ کے پیچھے کتنی لمبی داستان ہے؟ 
ظلم بربریت، لاقانونیت ، اجارہ داری اور سرداری کی داستان ۔۔۔۔

اس مسکراہٹ کے پیچھے تو چار دہائیوں کی وفا ہے 
عزم و استقامت  ہے
 نظریے سے محبت ہے 
مشن سے لگن ہے

وقت نے کروٹ بدلی ہے 
جہاں  دو ووٹ زیادہ نکلنے پر پورے گاؤں کو لائن حاضر کر کے بے توقیر کیا جاتا تھا 
جہاں  گلیوں میں آپ کو لہولہان کیا جاتا رہا، جہاں آپ نے جبر کے پہاڑ سہے 
آج اس نیلہ بٹ نے بالآخر  انگڑائی لی ہے 
انقلاب کی صدا پر پیر و جواں لبیک کہنے نکل پڑے ہیں

اندھیروں کے پیامبر
آخری وقت تک اس روشنی کے سفر کو روکنے میں لگے رہے 
لیکن نامراد رہے

پوری زندگی استقامت کے ساتھ ڈٹے “جوش” صاحب  نے دھیرکوٹ کی بازاروں و چوراہوں میں جس “شعوری جدوجہد” کی ابتداء چار دہائیاں قبل کی تھی   
آج اس نے دلوں کو مسخر کرنا تیز تر کر دیا ہے
 ظلم کی علامت بن چکے مافیا کی نسلوں کی غلامی سے عوام بغاوت کر چکے
مقافات عمل کی چکی پسنا شروع ہو گئی ہے 
ہر کارکن سعید جوش بن گیا ہے 
ظلم کے خلاف چٹان بن گیا ہے 
اسعد فخرالدین

 


 

مکمل تحریر >>

Sunday, August 2, 2020

عجیب اتفاق: ۵ اگست سقوط کشمیر کے دن پاکستانی ٹیم کی انگلیڈ میں سیریز۔اسعد فخرالدین

‫ ‫۵ اگست کو پاکستان اور انگلیڈ کے درمیان کرکٹ سیریز کا پہلا میچ مانچسٹر میں ہو گا۔ اسی دن پورے ملک میں ایک منٹ کی خاموشی ہو گی ممکنہ طور پر عارف لوہار کا ایک گانا اور بھی ریلیز ہو جائے۔ افسوس اس بات کا ہے اسی دن مانچسٹر کے کشمیری بھارتی دفتر کے باہر مظاہرہ کر رہے ہونگے اور حکومتی سربراہی میں اندر میچ چل رہا ہو گا۔ بس ان کی ترجیحات میں کشمیر کہیں دور دور بھی نہیں ۔ ‬
‫عمران نیازی کا دور اس لئے تاریخ کا بدترین دور رہا کہ ۵ اگست کو دور نیازی میں کشمیر کی آئینی حثیت ختم کرکے اسے بھارت میں ضم کر لیا گیا۔یوں ایک نیازی نے سقوط ڈھاکہ اور دوسرے نے سقوط کشمیر کیا۔ایک باشعور غیرت مند کشمیری اس کے گن  کس طرح گاتا ہے  کیسے ان ضمیر فروشوں کی کیمپین کرتا ہے ، کیسے ان کے پینا فیلکس پر تصاویر چھپوا کر فخر کرتا ہے اور وہ ان سے کس تبدیلی کا خواہش مند ہے یہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔ ‬
‫جب تک آپ خوداپنے  ضمیر کوشعوری طور پر بیدار نہیں کریں گے  دنیا کی کوئی قوت آپ کو بدل نہیں سکتی ۔ 
پس پشت قوتیں دونوں “سقوط” میں وہی ہیں ‬
‫⁧#اگست_5_یوم_سقوط_سرینگر‬⁩ 


مکمل تحریر >>

Thursday, July 23, 2020

Asia Andaribi Shifted to Tihar Jail ward toady.Asaad Fakharuddin

SRINAGAR: Asiya Andrabi, a female Hurriyet leader of Occupied Kashmir and chairperson of Dukhtaran Millat with female accomplices have been shifted to world known notorious “Tihar Jail “today.
Ahmed,son of Asiya, tweeted that his mother and her two female colleagues had been transferred to the Tihar Jail. My mother is 60 years old while Nahida is 54 & Fehmida Sufi is 32 years old. All three women suffer from various diseases.
Asiya Andrabi is in favor of Kashmir's accession to Pakistan.She has spent most of her life in Indian jails.Asiya Andrabi is the founder of the Kashmiri Women's Organization,Dakhtar-e-Millat. Asiya Andrabi is one of the most important women in Kashmir. 
Proponents of Asiya Andrabi call her the Iron Lady. Asiya's husband Dr Qasim Fakto has also been in jail for 28 years.



مکمل تحریر >>

Monday, July 13, 2020

13-Jul-1931, when it took 22 #Kashmiris lives to complete single Azan


July the 13th 1931, Srinagar, a young man was shot dead by the Dogra Army in the mid of call for prayer(Adhan). What followed was astonishing; one after the other, 22 men of faith came forward, all shot dead before the holy call was completed.
This incident will always be remembered in history as a sign of valour of the brave Kashmiri people. To date the unjust and cruel exercise of power is continuing in kashmir whereas the flag bearers of human rights and justice have turned a blind eye to Indian atrocities.
Said Dr Khalid Khan Ameer JI AJK & GB 


مکمل تحریر >>

بریکنگ نیوز اور انارگی .وادی سماہنی



ان کو صحافی مت کہیے  یہ یو ٹیوبرز ہیں جنھوں نے معاشرے کا امن خراب کر رکھا ہے 
جن کے اپنےقریبی عزیز  کرائم کیسز اور چوری میں مطلوب ہیں ، جنھوں نے سماہنی ہسپتال عورت کے کیس  کے واقعے ، چوکی تھانے میں فیصلہ دینے تک سے لیکر رملوہ کیس اور دیگر معاملات میں جانبداری سے کام لیا ہے۔ انتظامیہ اور چند سلجھے ہوئے صحافیوں کو چائیے کہ فورا” انتظامیہ سے مل کر رپورٹنگ کے ایس او پیز اور صحافیوں کو ایک ہی پریس میں انرول کرے۔ 
علاقے کا چند لائکس کے لئے اور بریکنگ نیوز کے چکر میں پورے علاقے کا  سکون چھین لیا ہے 
جو اشتعال دلانے کے بعد معزرتیں پیش کریں ، لاشیں گرنے کے بعد افسوس کا اظہار کریں انہیں بہت پہلے احتجاجا” ان فرینڈ کر دیا تھا ۔ 
قلم کا مقصد آگہی دینا ہے فتنہ پھیلانا نہیں۔ صحافت کا مطلب مظلوم کی آواز بننا ہے اور انصاف سے کام لیکر رپورٹ مرتب کرنا ہے جج بننااور  کسی کی عزت کی دھجیاں اڑانا نہیں 


مکمل تحریر >>

Sunday, July 12, 2020

Remembering Kashmir Martyrs Day- July 13, 1931

Jamail Chughtai 

The gory acts of state terrorism on Kashmiris are not something new in Indian Occupied Kashmir. The people of the valley have been subjected to atrocious state machinery since 1846 after sale of Kashmir by the British Raj to Dogra Raja Gulab Singh under Amritsar Treaty. Muslims of Kashmir have continued to be the major target of unending stints of tyranny unleashed on them first by Hindu Dogra rule and later by the Indian security forces. Between 1846 – the sale of British to Maharaja and 1947 – the forced takeover of Kashmir by India, the battered history of Kashmir happens to unfold yet another gloomy chapter related to massacre of unarmed Kashmiri protesters by Hindu Dogra Raj in 1931 at Srinagar.  

On 13 July 1931 as many as 22 Kashmiris were shot down by Dogra police outside Srinagar State Prison when they were agitating against the imprisonment of a Kashmiri named Abdul Qadeer who was being tried on the charges of terrorism and inciting the public against the Maharaja of Kashmir. Abdul Qadeer had delivered a speech in a gathering where he spoke about the discriminatory treatment of the state towards Kashmiri Muslims vis-à-vis the Hindu citizens of the valley. His trial soon drew huge attention of the common Kashmiris and on the day of judgment thousands of people gathered outside the Srinagar Court premises to lodge their protest against the likely outcome of the case. Considering the congregation as an unlawful gathering, the Dogra state machinery sprang into action by first resorting to baton-charge and later opening a straight fire on the agitated Kashmiris killing scores on the spot and injuring hundreds of them. 

13th of July is observed every year by people on both sides of the Line of Control and by the Kashmiri Diaspora all over the world as Kashmir Martyrs’ Day. While remembering this day serves for paying homage to 22 Kashmiris who laid their lives protesting the prosecution of the sympathizers of Kashmir struggle, the occasion also recalls the day when people of the valley rose against discriminatory Dogra rule and thereby staged the first signs of revolt in opposition to the atrocities being perpetrated on them since 1846. The later days saw instant realization among the otherwise docile Kashmiris to work under popular platforms and initiate unified struggle to win back their legitimate freedom. With the initiation of active uprising, especially after Indo-Pak partition and by-force occupation of Kashmir by India, an unprecedented amount of tyranny has been let loose on Kashmiri protesters and freedom seekers. 

Since 1947, three successive generations of Kashmiris have struggled for their right to self-determination despite harshest Indian measures. After the martyrdom of young BurhanWani in 2016, the uprising has scaled new heights, etching out to the world seeking their long over-due attention and moral support for the cause. 

During the last three years of the ‘Intifada’, thousands of Kashmiri freedom-seekers have been killed and brutally injured by Indian security forces. 

The count also goes beyond thousands in case of young boys and girls who have been blinded with pellet guns and the Kashmiri woman raped and molested by the Indian military personnel. To add insult to injury, the incumbent BJP government through RSS has continued to work on the shameless strategy of changing the demography of occupied Kashmir by harassing Muslims to leave the area and settling non-locals there. 

All along these seven decades, Pakistan has bore the brunt of Indian aggression for extending moral support to the indigenous freedom movement of the people of Kashmir. Young Kashmiris, however, kept laying down their lives for the greater cause of liberation sans logistic and financial support from outside. India’s false flag maneuvers such as the Indian Parliament attack (13 December 2001), Mumbai Terror attack (26 November 20087) and Uri Base attack (18 September 2016), have also continued at the same time to label Kashmiri freedom fighters as terrorists and Pakistan as a country that supports terrorism. In the latest enactment of 14th February which resulted in death of over 43 Indian paramilitary soldiers in Pulwama,  India has again used Pakistan and the Jaish-e-Muhammad as a scapegoat. In a pre-programmed vengeance spree following the Pulwama incident, Indian military launched search & cordon operations and killed scores of innocent Kashmiris in IOK. 

Besides settling scores with people of occupied Kashmir, India simultaneously resorted to target civilians on the Pakistani side of the LoCblattantly violating the Geneva Conventions and tenets of the International humanitarian law.

For satiating their uncalled-for revenge, the Indian security forces have managed to ‘bravely’ kill over 500 ‘unarmed’ Kashmiris in the span of mere twelve months. 

During the last couple of years, the Indian savagery on hapless Kashmiris have also been reported by the UN and various international human rights organizations, including UNHRC, OHCHR & EUHRC. Similarly UNMOGIP (UN Military Observer Group in India & Pakistan) has also gave out an extremely horrendous picture of Indian hostilities on Kashmiris in their recent report. Moreover, in a rare yet highly rewarding development, the Council of Foreign Ministers in its 46th session recently held on the sidelines of the Organization of Islamic Cooperation (OIC) Conference in UAE has also adopted a resolution that “condemned in the strongest terms the recent wave of Indian terrorism in Occupied Jammu & Kashmir besides ensuring unwavering support for the Kashmiri people in their just cause”. While this OIC admonishing statement is being taken as a long over-due obligation on the part of Muslim Ummah, it has come as an absolute shock for India because SushmaSwaraj, the Indian external affair minister, was present at the said event as the ‘guest of honour’. 

On this 13th July again, the Kashmiris all over the world would remember their martyrs and remind themselves; how cheaply they were sold out in 1846 under ‘Amritsar Treaty’ by the British, how recklessly they were slaughtered by Dogras in 1931 and how their freedom was again deceitfully snatched by India in 1947. 

Observing the Kashmir Martyrs’ Day in July every year is like earnestly and repeatedly knocking at the conscience of the world human rights bodies to make them realize that practice of human slavery still persists in its worst form in the Indian Occupied Kashmir. 

In fact, it is time for the UN and HR observers to come forward and compensate for what they have so far criminally neglected, that is, relieving Kashmiris from the Indian slavery and giving them their right of self-determination, without further delay.


مکمل تحریر >>

نوجوان کمپیوٹر انجئیر ادریس احمد بھٹ کی آج شہادت

آج کپواڑہ میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والا کمپیوٹر انجئیر ادریس احمد بھٹ، اس خوبصورت شہید نوجوان کا تعلق ہندواڑہ سے تھا۔دس لاکھ فوج، گرفتاریاں، عقوبت خانے، شہادتیں اور تشدد کچھ بھی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں رکاوٹ نہ بن سکا جدوجہد اور مزاحمت جاری ہے ۔
مکمل تحریر >>

اشرف صحرائی کے جذبات اپنے قلم سے

میں بے ضمیر بھی نہیں
‏ہوں خدا کا اک بندہ

‏رگوں میں جس کے دوڑتا
‏ہے خوں حریت ابھی

‏لٹا چکا ہوں گود کے
‏بیش قیمتی نگیں

‏اب میں شکر کی حسین
‏وادیوں میں سن رہا ہوں گونجتی صدائیں بھی
‏کہ میرے جگنو کا خاتمہ بخیر ہے
‏(اشرف صحرائی کے جذبات) اپنے قلم سے
مکمل تحریر >>

Tehreek-e-Hurriyat Chairman Ashraf Sehrai Arrested, Booked Under PSA

Tehreek-e-Hurriyat Chairman Mohammad Ashraf Sehrai was on Sunday arrested by police from his residence at Baghaat Sirinagar.

He was  arrested the elderly leader at around 5:30 am. 

The report further said that Sehrai has been booked under Public Safety Act (PSA).

Sehrai is the chairman of Tehreek-e-Hurriyat, a constituent of All Parties Hurriyat Conference which was until recently headed by Syed Ali Geelani.

Sehrai’s son, Junaid  who was district commander of Hizbul Mujahideen, was recently killed in an encounter with state forces in Nawakadal area of down town Srinagar.

مکمل تحریر >>

Saturday, July 11, 2020

In Baramulla IOJK, Indian troops martyr one Kashmiri citizen

In occupied Kashmir, Indian troops in their fresh act of state terrorism martyred one Kashmiri youth in Baramulla district, on Sunday.

The youth was martyred by the troops during a cordon and search operation at Rebban in Sopore area of the district.

Meanwhile, Indian police arrested senior Hurriyat leader and Chariman of Tehreek Hurriyat Jammu and Kashmir, Mohammad Ashraf Sahrai in Srinagar, today.

Mohammad Ashraf Sahrai has been booked under the draconian Public Safety Act.

Sehrai’s son, Junaid Sahrai, was martyred by Indian troops during a cordon and search operation along with an associate at Nawakadal area of Srinagar recently.


مکمل تحریر >>