اب آگے کیا ہو گا ؟
کیا ہمارے قوم پرست دوست ہمیں سمجھائیں گے کہ آزاد جموں و کشمیر سے ڈوگرہ دور کی ریاست جموں و کشمیر تک کا سفر کیسے طے ہوگا (ریاستی وحدت!!)؟
آئیے گلگت بلتستان سے آغاز کریں۔ جی بی گلاب سنگھ اور رنبیر سنگھ نے سفاکانہ طاقت کا استعمال کرکے قبضہ میں لیا تھا۔ 1863 میں وادی یاسین میں ہونے والے قتل عام کے بعد ڈوگرا صرف دریائے سندھ کے پار علاقوں پر قبضہ جمانے کے قابل ہوے۔ ہمارے قوم پرست جی بی کو واپس حاصل کرنے کا کیا منصوبہ رکھتے ہیں؟ واضح طور پر ، جی بی کے اکثریتی لوگ اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے ہیں۔ ہم انھیں دوبارہ سے کشمیری کیسے۔ بنائیں گے؟
بھارتی مقبوضہ کشمیر:وادی کشمیر پر قبضہ ختم کرنے کا کیا منصوبہ ہے؟ ہمارے پاس ہندوستان کو وادی کشمیر سے رخصت ہونے پر راضی کرنے کا کیا منصوبہ ہے؟ آزاد کشمیر بحثیت ایک آزاد ملک کے پاس ایسی کون سی طاقت ہو گی جس کے زریعے وہ بھارت یا دنیا پر دباؤ ڈال کر یہ مسئلہ حل کروائے گا؟ ایسا کیا leverageہو گا جو پاکستان، ایک ایٹمی قوت، کے پاس نہیں؟
فلسطینی خود اپنے معاملے کی نمائندگی پوری دنیا میں اور اقوام متحدہ میں کرتے ہیں۔ کیا اس نے 1948 سے ان کا مسئلہ حل کیا؟ یہ کتنا مختلف ہوگا اگر کشمیری (بلفرض جے کے ایل ایف) اس کیس کی اقوام۔متحدہ میں نمائندگی کریں۔
پی 5 (ویٹو ممالک)
برطانیہ ہی اس سارے مسئلے کی جڑ ہے۔ امریکہ اور روس نے ہمارے خلاف ویٹو کیا۔ فرانس؟ واقعی؟ کیا اپکو واقعی لگتا ہے کہ فرانس انسانی ہمدردی کی بنا پر آپکی مدد کرے گا؟
چین: چین آزاد کشمیر کی حمایت کیوں کرے گا؟ کیا چین ویٹو نہیں کرے گا اگر فرانس ، برطانیہ اور امریکہ آزاد کشمیر کوجنوبی ایشیا میں ایک اور اسرائیل کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور اس خیال کی حمایت کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں (امریکہ ہر صورت یہاں اپنی کالونی قائم کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ چین پر نظر رکھی جا سکے)؟ اور چین کیا انکھیں بند کر لے گا؟ چین سے اقصائی چن کون لے گا؟
جموں: ایک ہندو اکثریتی جموں ایک مسلم اکثریتی آزاد کشمیر یا 'کشمیر' کے ساتھ کیوں رہے گا؟ یہی حال لداخ کا بھی ہے۔ اس حقیقت کو کس طرح نظرانداز کیا جاسکتا ہے کہ ان دو خطوں (جموں کے مسلم اکثریتی اضلاع کے علاوہ) میں بمشکل ہی ہندوستان کے خلاف کوئی تحریک چل رہی ہے۔ اور تو اور کارگل کے شیعہ مسلمانوں کی اکثریت بھی 'سیکولر' ہندوستان کے ساتھ اپنا مستقبل دیکھتی ہے۔
اور یہ 'آزاد' آزاد کشمیر کتنا عرصہ زندہ رہ سکے گا؟ ہم۔یہ فرض کرتے ہیں کہ پاکستان سے الگ ہو کر بھی پاکستان ہمارے ساتھ برادر ملک کی طرح برتاؤ کرتا ہے۔
کیا ہم نے واقعتا پاکستان میں بحثیت ایک غیر ملکی ہونے کے خیال کو اچھی طرح سے سوچا اور پرکھا ہے (لگ بھگ افغانیوں والا معاملہ)؟ مطلب پراپرٹی خریدنے اور کام کرنے کی کوئی آزادی نہیں!
بجٹ: بجٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جے کے ایل ایف کا کہنا ہے کہ آمدنی کا بنیادی ذریعہ پانی ، ترسیلات زر اور قدرتی وسائل ہوں گے۔ کیا یہ دعوے واقعی دور اندیشی پر مبنی ہیں؟
پہلی بات: پانی فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ بھارت پاکستان کو پانی بیچ نہیں سکتا اور نہ ہی اس سے رقم کما سکتا ہے۔ بجلی!!!کیا واقعتا” پاکستان کو کشمیر سے بجلی خریدنے کی ضرورت ہے ؟
پاکستان اکنامک سروے کی حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی حالیہ پیداوار (~ 35 میگا واٹ) تھی۔ یعنی ضرورت سے زیادہ پیداوار۔ مسئلہ بدانتظامی اور لائن لاسز ہے ، جو چند سالوں میں ختم ہوجائے گا(سی پیک کے تحت نئی لائنیں ڈل رہی ہیں)۔
آزاد جموں وکشمیر کس کو بجلی فروخت کرے گا؟ ہندوستان کو یا چین کو؟
ترسیلات زر یعنی Remittance ؟ AJK چیمبر آف کانفرنس کے سابق صدر نے کچھ سال پہلے بتایا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کی کل ترسیلات سالانہ 200 سے 300 ملین ڈالر سے تجاوز نہیں کرتی ہیں۔ پورے پاکستان کےمی کل ترسیلات زر 22 بلین ڈالر ہوتی ہیں۔ اگر ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں کے تناسب پر غور کریں: کشمیری: پاکستانی (9-10: 1) ، تو یہ زیادہ سے زیادہ 1 ارب ڈالر سالانہ بنتی ہیں (ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ 500 ملین ڈالر سے زائد ناں ہوں گی)۔
لیکن ٹھہرئے!
ترسیلات زر براہ راست بجٹ کا حصہ نہیں ہوتیں ، اگرچہ یہ سینٹرل بینک اور کیش ان فلو کے لیے اہم۔ہیں تاکہ ملک میں آنے والے ڈالرز کی وجہ سے کرنسی کی ویلیو ناں گرے۔ لیکن اس سے حکومت کو بجٹ بنانے میں فائدہ صفر ہوتا ہے۔
قدرتی وسائل؟ کیا ہم واقعی سنجیدہ ہیں کہ ہم درختوں کو کاٹنے اور بیچنے اور کانوں کی کھدائی کر کے اپنا بجٹ بنانا چاہتے ہیں۔ اور کن کانوں کی کھدائی؟ ہمارے پاس تو کوئی ثابت شدہ سونے کی کان بھی نہیں (بلوچستان کی طرح)۔ یا ہم یاقوت کے پتھر بیچیں گے؟
ٹورازم میں یقینا پوٹینشل ہے،لیکن ٹورازم تو تب آئے گا جب یہ ریاست بچ پائے گی۔
بجٹ: بجٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جے کے ایل ایف کا کہنا ہے کہ آمدنی کا بنیادی ذریعہ پانی ، ترسیلات زر اور قدرتی وسائل ہوں گے۔ کیا یہ دعوے واقعی دور اندیشی پر مبنی ہیں؟
پہلی بات: پانی فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ بھارت پاکستان کو پانی بیچ نہیں سکتا اور نہ ہی اس سے رقم کما سکتا ہے۔ بجلی!!!کیا واقعتا” پاکستان کو کشمیر سے بجلی خریدنے کی ضرورت ہے ؟
پاکستان اکنامک سروے کی حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی حالیہ پیداوار (~ 35 میگا واٹ) تھی۔ یعنی ضرورت سے زیادہ پیداوار۔ مسئلہ بدانتظامی اور لائن لاسز ہے ، جو چند سالوں میں ختم ہوجائے گا(سی پیک کے تحت نئی لائنیں ڈل رہی ہیں)۔
آزاد جموں وکشمیر کس کو بجلی فروخت کرے گا؟ ہندوستان کو یا چین کو؟
ترسیلات زر یعنی Remittance ؟ AJK چیمبر آف کانفرنس کے سابق صدر نے کچھ سال پہلے بتایا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کی کل ترسیلات سالانہ 200 سے 300 ملین ڈالر سے تجاوز نہیں کرتی ہیں۔ پورے پاکستان کےمی کل ترسیلات زر 22 بلین ڈالر ہوتی ہیں۔ اگر ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں کے تناسب پر غور کریں: کشمیری: پاکستانی (9-10: 1) ، تو یہ زیادہ سے زیادہ 1 ارب ڈالر سالانہ بنتی ہیں (ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ 500 ملین ڈالر سے زائد ناں ہوں گی)۔
لیکن ٹھہرئے!
ترسیلات زر براہ راست بجٹ کا حصہ نہیں ہوتیں ، اگرچہ یہ سینٹرل بینک اور کیش ان فلو کے لیے اہم۔ہیں تاکہ ملک میں آنے والے ڈالرز کی وجہ سے کرنسی کی ویلیو ناں گرے۔ لیکن اس سے حکومت کو بجٹ بنانے میں فائدہ صفر ہوتا ہے۔
قدرتی وسائل؟ کیا ہم واقعی سنجیدہ ہیں کہ ہم درختوں کو کاٹنے اور بیچنے اور کانوں کی کھدائی کر کے اپنا بجٹ بنانا چاہتے ہیں۔ اور کن کانوں کی کھدائی؟ ہمارے پاس تو کوئی ثابت شدہ سونے کی کان بھی نہیں (بلوچستان کی طرح)۔ یا ہم یاقوت کے پتھر بیچیں گے؟
ٹورازم میں یقینا پوٹینشل ہے،لیکن ٹورازم تو تب آئے گا جب یہ ریاست بچ پائے گی۔
بجٹ: بجٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جے کے ایل ایف کا کہنا ہے کہ آمدنی کا بنیادی ذریعہ پانی ، ترسیلات زر اور قدرتی وسائل ہوں گے۔ کیا یہ دعوے واقعی دور اندیشی پر مبنی ہیں؟
پہلی بات: پانی فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ بھارت پاکستان کو پانی بیچ نہیں سکتا اور نہ ہی اس سے رقم کما سکتا ہے۔ بجلی!!!کیا واقعتا” پاکستان کو کشمیر سے بجلی خریدنے کی ضرورت ہے ؟
پاکستان اکنامک سروے کی حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی حالیہ پیداوار (~ 35 میگا واٹ) تھی۔ یعنی ضرورت سے زیادہ پیداوار۔ مسئلہ بدانتظامی اور لائن لاسز ہے ، جو چند سالوں میں ختم ہوجائے گا(سی پیک کے تحت نئی لائنیں ڈل رہی ہیں)۔
آزاد جموں وکشمیر کس کو بجلی فروخت کرے گا؟ ہندوستان کو یا چین کو؟
ترسیلات زر یعنی Remittance ؟ AJK چیمبر آف کانفرنس کے سابق صدر نے کچھ سال پہلے بتایا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کی کل ترسیلات سالانہ 200 سے 300 ملین ڈالر سے تجاوز نہیں کرتی ہیں۔ پورے پاکستان کےمی کل ترسیلات زر 22 بلین ڈالر ہوتی ہیں۔ اگر ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں کے تناسب پر غور کریں: کشمیری: پاکستانی (9-10: 1) ، تو یہ زیادہ سے زیادہ 1 ارب ڈالر سالانہ بنتی ہیں (ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ 500 ملین ڈالر سے زائد ناں ہوں گی)۔
لیکن ٹھہرئے!
ترسیلات زر براہ راست بجٹ کا حصہ نہیں ہوتیں ، اگرچہ یہ سینٹرل بینک اور کیش ان فلو کے لیے اہم۔ہیں تاکہ ملک میں آنے والے ڈالرز کی وجہ سے کرنسی کی ویلیو ناں گرے۔ لیکن اس سے حکومت کو بجٹ بنانے میں فائدہ صفر ہوتا ہے۔
قدرتی وسائل؟ کیا ہم واقعی سنجیدہ ہیں کہ ہم درختوں کو کاٹنے اور بیچنے اور کانوں کی کھدائی کر کے اپنا بجٹ بنانا چاہتے ہیں۔ اور کن کانوں کی کھدائی؟ ہمارے پاس تو کوئی ثابت شدہ سونے کی کان بھی نہیں (بلوچستان کی طرح)۔ یا ہم یاقوت کے پتھر بیچیں گے؟
ٹورازم میں یقینا پوٹینشل ہے،لیکن ٹورازم تو تب آئے گا جب یہ ریاست بچ پائے گی۔
دفاع: دفاع کو ہم بھول ہی جائیں تو اچھا ہے !! ہندوستان اور چین جیسے پڑوسی ممالک کے ساتھ کوئی سوچ بھی سکتا ہے کہ ہماری کیا حالت ہو گی؟ کیا آپ کو واقعی لگتا ہے کہ چین اپکو تبتہہ اور اقصائی چن جھولی میں ڈال دے گا؟ لداخ پر چین نے بھارت سے تقریبا جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ کیا اپکو واقعی ایسا لگتا ہے کہ وہ اسکو ہری سنگھ کی نشانی سمجھ کر اپکو لوٹا دے گا؟ ہمارے قوم پرست احباب کے پاس یقیناکوئی۔منصوبہ ہو گا چین کو راضی کرنے کا۔ امید ہے وہ عوام کے ساتھ شیئر کریں گے۔
ہمیں چین / روس کے خلاف برطانیہ اور مغرب کے پراکسی ہونے کے امکان کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ مغرب یقینی طور پر اس کے لئے ہماری مدد کرنا چاہتا ہے۔ کہ ایک چھوٹا سا اسرائیل یہاں بھی مل جائے اور اسکے خطے میں قدم جم جائیں۔ کشمیری جو ہر طرف سے پھنسے ہوے ہوں گے بڑی طاقتوں کے لیے ایک ترنوالہ ثابت ہونگے۔
آخری اور اہم بات: آزاد جموں و کشمیر میں ایک بڑا طبقہ پاکستان نواز ہے، اس کے بارے میں قوم پرست احباب کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ صرف بیٹھ کر تماشا دیکھیں گے؟ یاد رکھیں ، وہ پاکستان میں جائیداد نہیں خرید سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی کاروبار کرسکتے ہیں۔ تعلیم اور نوکریوں کے لئے کوئی کوٹہ نہیں۔ تین بڑی طاقتوں کے درمیان پھنسا ہوا ایک خطہ جس کو اپنی تجارت کے لیے بھی پاکستان سے پورٹ چاہیے ہو گی، ایک شدید اندرونی کشمکش میں الجھ جائے گا۔
اور ہاں، ہم کیسے اس بات کو کس طرح نظرانداز کرسکتے ہیں کہ آزاد کشمیر کو پاکستان کو حصہ بننے کے لئے آزاد کرایا گیا ( اس حصہ بننے کی نوعیت الحاق کی ہو گی یا انضمام می،یہ فیصلہ کشمیریوں کو ہی کرنا ہے)۔ اب اچانک آزاد کشمیر کے لوگ بھلا کیوں پاکستان سے پیٹھ پھیرنے پر راضی کیوں ہوں گے؟
اس حقیقت کو بھی فراموش نہ کیجیے کہ ایک “خود مختار “ کشمیر زیادہ مشکل کام ہوسکتا ہے۔ نہ صرف یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے (وہاں کوئی تیسرا آپشن نہیں) بلکہ اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے لئے بھی غیر یقینی کی پیدا کر سکتا ہے۔ خدا جانے کل یہ چھوٹا سا ملک کتنوں کے لیے سر درد بن جائے۔ بھلا کیوں چین،انڈیا، پاکستان اور روس اس بات کی اجازت دیں گے؟ یہ ایک تلخ عالمی حقیقت ہے۔
ان سب باتوں کے کہنے کا مقصد یہی ہے کہ اہلیان کشمیر کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ خودمختار کشمیر کا معاملہ اتنا سیدھا بھی نہیں۔
ترجمہ: اسعد فخرالدین