Tuesday, July 19, 2022

جولائی 1947 کی قرارداد اور اس سے جڑے مفروضات

 19 جولائی 1947 کی قرارداد اور اس سے جڑے مفروضات


('دی کشمیر ڈسکورس' کے ایک آرٹیکل کا اردو ترجمہ)


19جولائی 1947 کی قرارداد کی آزاد جموں و کشمیر کی تاریخ میں وہی اہمیت یے جو کہ قرارداد پاکستان کو تحریک پاکستان میں حاصل ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اس سب عرصے میں ایک مخصوص طبقے نے کبھی تو اس کو متنازع بنانے کی کوشش کی ہے تو کہیں اسے آزاد جموں و کشمیر کی تاریخ پر ہونے والی گفتگو سے جان بھوج کر نظر انداز کیا اور کچھ نے حتیٰ کہ یہ تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا کہ ایسی کوئی قرارداد کبھی منظور ہوئی تھی [1]۔ مثال کے طور پر آزاد جموں و کشمیر سے ایک قوم پرست لکھاری اور "Kashmir and the Partition of India" نامی کتاب کے مصنف، ڈاکٹر شبیر چوہدری لکھتے ہیں کہ 19 جولائی 1947 کی قرارداد "دھوکہ دہی سے" منظور کی گئی تھی اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اس قرارداد کی مسلم کانفرنس، بطور تنظیم، میں کوئی قانونی حیثیت نہیں یا کم از کم یہ کہ یہ قرارداد اس وقت عام عوام کے جذبات کی عکاسی نہیں کر رہی تھی۔ موصوف لکھتے ہیں: "یہ واضح رہے کہ ایک ورکنگ کمیٹی کسی بھی سیاسی جماعت کی 'کریم' ہوتی ہے اور یہ عام طور پر پارٹی کے سینئر اور سرشار ممبروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ مسلم کانفرنس کی ورکنگ کمیٹی نے [18 جولائی 1947 کو] ریاست کی مکمل آزادی کی قرارداد منظور کی۔ [لہٰذا،] یہ واضح ہوتا ہے کہ مسلم کانفرنس کے سب سے سینیر ارکان نے ریاست کے مستقبل کے بارے میں غور و فکر کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ مکمل آزادی ہی [ریاست میں بسنے والی] تمام کمیونٹیز کے لئے سب سے باعزت اور قابل قبول حل ہے۔" موصوف لکھتے لکھتے یہ دعویٰ بھی کر گئے کہ "مسلم کانفرنس نظریاتی طور پر متحد پارٹی نہیں تھی۔ چوہدری غلام عباس اور ان کے پیروکار چاہتے تھے کہ ریاست پاکستان کا حصہ بن جائے جبکہ چوہدری حمید اللہ خان اور ان کے بااثر رفقاء اس کو ایک خودمختار ریاست بنتا دیکھنا چاہتے تھے۔"[2]


حقائق کی درستگی کی خاطر ہم یہاں اس قرارداد سے متعلق چند پوائنٹس ڈسکس کرنا چاہیں گے؛

1) ورکنگ کمیٹی کی 18 جولائی کی قرارداد، یہ کیوں اور کس کے کہنے پر منظور ہوئی؟ اور کیا مسلم کانفرنس اور اس کے قائم مقام صدر، جناب چوہدری حمید اللہ خان کشمیر کو واقعی خودمختار دیکھنا چاہتے تھے؟

2) 19 جولائی 1947 کی قرارداد کی قانونی حیثیت اور کیا یہ قرارداد واقعی عوام کے جذبات کی عکاسی کر رہی تھی کہ نہیں؟


*18 جولائی، 1947 کی قرارداد کیوں پاس ہوئی؟*


اس بارے میں جسٹس یوسف صراف لکھتے ہیں کہ "سردار ابراہیم نے مجھے بتایا کہ چوہدری حمید اللہ خان نے 18 جولائی کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے دوران انہیں چوہدری غلام عباس کا جیل سے لکھا ایک غیر دستخط شدہ نوٹ دکھایا جس میں انہوں نے قائم مقام صدر (چوہدری حمید اللہ خان) کو مشورہ دیا کہ وہ ریاست کی آزادی کی ڈیمانڈ کریں۔"[3]


ایک اور مسلم کانفرنس کے رہنما عبدالمنان خلیفہ تصدیق کرتے ہیں کہ بعد میں چوہدری غلام عباس نے ایک اور خط لکھا جس میں انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ جس خط کا ذکر چوہدری حمید اللہ خان کر رہے ہیں وہ یقیناً انہی (یعنی چوہدری غلام عباس) کا ہی ہے اور انہیں ایسا کرنے کے لئے قائد اعظم نے کہا تھا۔[4] اسی طرح سردار ابراہیم نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جو لوگ اس وقت خودمختاری کی حمایت کر رہے تھے انہوں نے ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ ایسا قائد اعظم کے حکم پر کر رہے ہیں۔ [5] اسی طرح پروفیسر اسحاق قریشی، جو کہ چوہدری حمید اللہ کے ہمراہ 11 جولائی 1947 کو قائد اعظم سے ملے تھے، بھی یہی کہتے ہیں کہ جناح صاحب نے ہی انہیں خودمختار کشمیر کا سٹینڈ لینے کو کہا تھا۔ (پروفیسر اسحاق قریشی کا بیان اسی آرٹیکل میں آگے کہیں درج ہے.)


اس دعوے، یعنی کہ چوہدری حمید اللہ خان کو ایسا سٹینڈ لینے کے لیے جناح صاحب نے کہا تھا، کی کچھ حد تک تصدیق جناح صاحب کے اپنے 11 جولائی 1947 کے بیان سے ہو رہی ہے۔ جناح صاحب نے کہا:


"جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے رہنما، چوہدری غلام عباس اور پروفیسر اسحاق قریشی، نے آج مجھ سے ملاقات کی اور مجھے وہاں کے حالات سے آگاہ کیا جو کہ لوگوں کو بے چین کر رہے ہیں۔ [ایک] سوال جو کہ مسلمانوں کی توجہ مبذول کر رہا ہے وہ ہے کہ آیا کشمیر ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی میں شامل ہو یا پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں۔ میں نے پہلے ہی ایک سے زائد بار واضح کیا ہے کہ ہندوستانی ریاستیں اس بارے میں مکمل آزاد ہیں کہ وہ آیا پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں شامل ہوتی ہیں یا ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی میں یا آزاد رہتی ہیں۔" [7]


*کیا جناح خودمختار کشمیر چاہتے تھے؟*


اگلا سوال جو کہ ذہن میں اترتا ہے وہ ہے کہ جناح صاحب نے چوہدری حمید اللہ خان اور پروفیسر اسحاق قریشی کو مہاراجہ سے ہندوستان اور پاکستان میں سے کسی میں نا شامل ہونے کا مطالبہ کرنے کا مشورہ کیوں دیا؟ اس سوال کا جواب ہمیں مسلم کانفرنس کے لیڈران کے ان خطوط سے ملتا ہے جو انہوں نے قیام پاکستان سے قبل قائد اعظم محمد علی جناح کے پرائیویٹ سیکرٹری کے ایچ خورشید کو لکھے تھے۔ یہ خطوط زیڈ ایچ زیدی نے جناح پیپرز میں شایع کیے ہیں۔ انہی خطوط میں سے ایک خط 19 مارچ 1947 کا ہے جس میں پروفیسر اسحاق قریشی کسی "پلان" کا ذکر کرتے ہیں جو جناح صاحب نے مسلم کانفرنس کے لیڈران کو بتایا تھا۔ (جناح پیپرز میں کے ایچ خورشید کے اپنے خطوط نہیں ہیں ورنہ یہ چیزیں اور بھی واضح جاتیں.) پلان یہ تھا کہ "مسلم کانفرنس اپنے آپ کو آل انڈیا [مسلم لیگ] وابستگی سے الگ کرے" لیکن اسحاق قریشی کی نظر میں یہ پلان کسی بھی طور پر کارآمد نہیں تھا کیوں کہ "[رام چندر] کاک بہت ہوشیار ہے اُسکا  ہم سے دھوکہ کھانا ممکن نہیں۔ وہ ایک دم سے اس نتیجے پر پہنچ جائے گا کے اس نئی پالیسی کا تعین مسلم لیگ کے ہندوستان میں روا رکھے جانے معاملات کر رہے ہیں۔ 

مہاراجہ بذات خود بھی اس اقدام پر انتہائی شکوک کا شکار ہو گا جب تک کہ آپ اسکو اس تبدیلی کے لیے پہلے ہی (نواب آف ) بھوپال کر ذریعے رضامند نا کر لیں اور کیونکہ لوگ مہاراجہ کا ساتھ بلکل بھی نہیں دیں گے۔"[8]


"ہلان" کے لفظ کا استعمال اس وقت مسلم کانفرنس کے جنرل سیکرٹری، آغا شوکت علی، نے بھی کے ایچ خورشید کے نام اپنے خط میں استعمال کیا جو انہوں نے 24 مارچ 1947 میں ریاسی جیل سے لکھا۔ اس خط میں لکھتے ہیں:

"پلان جو کہ آپ تجویز کرتے ہیں -- میرا مطلب خود کو کچھ وقت کے لیے پاکستان سے الگ رکھنا, یا مہاراجہ کو دانہ ڈالنا تاکہ وہ کانگریس کے کیمپ میں نا جائے -- کیا آپ کو سچ میں یقین ہے کہ مہاراجہ ہم سے سچ میں دھوکہ کھا جائے گا، یہ جانتے ہوئے کہ جیسا کہ وہ جانتا یے، کہ وہ ہر طرف سے مسلم اکثریتی صوبوں سے گھرا ہوا ہے جو کہ اسے کسی بھی وقت گھٹنوں پر کر سکتے ہیں؟"[9]


پروفیسر اسحاق قریشی نے بعد میں تصدیق کی کہ جناح نے انہیں اور چوہدری حمید اللہ خان کو صرف وقتاً خودمختار کشمیر کی ڈیمانڈ کرنے کے لیے کہا تھا۔ وہ لکھتے ہیں:

"[جناح کے ساتھ 11 جولائی کی] میٹینگ میں ہمیں یہ تاثر ملا کہ جناح کسی تیسرے سورس کے ذریعے مہاراجہ سے رابطے میں ہیں اور انہوں نے کافی حد تک اسے پاکستان سے الحاق پر راضی کر دیا ہے۔ قائد اعظم نے ہمیں بتایا کہ ہندو کانگریس اور گاندھی جی ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ ریاست کا بھارت سے الحاق ہو جائے اور اس کے لئے، وہ اسے [یعنی مہاراجہ کو ریاست کے] مسلمانوں اور پاکستان سے ڈرا رہے تھے۔ لہذا، اس موقع پر، میرا مشورہ ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں کو ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہئے جو کہ کانگریس کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور مہاراجہ کو پریشان کرے۔ اسے سکون سے سوچنے کا موقع دینا چاہئے۔ لہذا، فی الحال آپ لوگوں کو ڈیمانڈ کرنی چاہئے کہ ریاست دونوں ڈومینین سے آزاد رہے۔" [10]


وہ تیسرا سورس، یوسف صراف کی نظر میں، نواب آف بھوپال ہو سکتا تھا جو کہ ریاست کے وزیر اعظم رام چندرا کاک سے رابطے میں تھا۔ کاک 25 جولائی کو جناح سے ملا۔ [11] (اس موضوع پر مزید ڈسکشن کے لئے آخر میں دیے گئے نوٹس چیک کریں۔) جناح کافی پر امید تھے کہ کشمیر آخر کار ایک پکے ہوئے پھل کی مانند ان کی جھولی میں آ گرے گا اور 30 جولائی، 1947 کو پھر سے اعلان کیا کہ ریاستیں خودمختار رہ سکتی ہیں۔(ممکن ہے کہ یہ بیان باقی ریاستیں جیسے حیدرآباد، ٹروانکور، اور بھوپال وغیرہ کے تناظر میں دیا ہو جنہیں قائد اعظم خودمختار دیکھنا چاہتے تھے۔) قائد اعظم کو دھچکا اس وقت لگا جب 17 اگست 1947 کو ریڈکلف ایوارڈ شایع ہوا۔ جناح شدید مایوس ہوئے، ان کا خیال تھا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس کو "ناقابل فہم اور غیر منصفانہ ایوارڈ" کہا۔[12] اس کے بعد جناح صاحب نے خودمختار کشمیر کی حمایت کی پالیسی ترک کر دی اور اس کی حمایت میں بیان دینا چھوڑ دیئے۔


*کیا چوہدری حمید اللہ خان اور مسلم کانفرنس خودمختار کشمیر چاہتے تھے؟*


کے ایچ خورشید اور مسلم کانفرنس کے لیڈران کے درمیان ہونے والی یہی خط و کتابت اس وقت مسلم کانفرنس کے لیڈران، پارٹی ورکرز اور ان علاقوں کے لوگوں کی آراء اور جذبات پر کافی روشنی ڈالتی ہے۔ مثال کے طور پر آغا شوکت علی 24 مارچ 1947 کو لکھتے ہیں؛ "پاکستان مسلم حکمرانی کا ایک روشن خواب ہے۔ کوئی دوسرا آئیڈیل نا تو اس آئیڈیل کی جگہ لے سکتا ہے، نا ہی ہمارے لوگوں کو حرکت کرنے پر اکسا سکتا ہے۔" وہ مزید لکھتے ہیں کہ "اگر حمید اللہ خان اس چیز کا پرچار کرتے ہیں [یعنی خودمختار کشمیر یا مطالبہ پاکستان سے خود کو الگ رکھنا]، تو وہ سیاسی طور پر بالکل ختم ہو جائیں گے۔"[13] اسی طرح وادی سے ایک وکیل نے کے ایچ خورشید کو 11 مارچ 1947 کو لکھا: "مسلمان مسلم لیگ سے رہنمائی چاہتے ہیں لیکن وہ مایوس ہیں۔ وہ مسلم لیگ کی [ریاستوں کے معاملات میں] عدم مداخلت کی پالیسی پر شکایت کر رہے ہیں۔ [اس وقت] پاکستان کو کشمیر کی ضرورت ہے، اور ہمیں (یعنی کشمیریوں کو) پاکستان کی۔" [14]


پروفیسر اسحاق قریشی جو کہ اس وقت وقتی طور پر خودمختار کشمیر کی حمایت کر رہے تھے، نے 25 جولائی، 1947 کو کے ایچ خورشید کے نام ایک خط لکھ کر انہیں اس چیز سے آگاہ کیا کہ 19 جولائی کو مسلم کانفرنس کے کنونشن نے قرارداد الحاق پاکستان کو کیوں منظور کیا۔ اپنے اس خط میں وہ تسلیم کرتے ہیں: "ہماری پوزیشن میں اس تبدیلی [یعنی خودمختار کشمیر سے اب الحاق پاکستان] نے ہمیں عام عوام کی پرجوش حمایت حاصل کر کے دی ہے اور اس وجہ سے ہماری تنظیم مزید مستحکم ہوگی۔"[15]


جون 1947 میں ایک بار مہاراجہ کو ہندوستان سے الحاق کرنے سے منع کرتے ہوئے چوہدری حمید اللہ خان نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ہم مسلمان بغاوت کر دیں گے۔ اپنے اس بیان میں وہ خود کہتے ہیں کہ اگرچہ وہ جانتے ہیں کہ مسلم کانفرنس ابھی بھی پاکستان کا مطالبہ کرتی ہے لیکن انہوں نے "اقلیتوں کے ڈر اور شکوک دور کرنے کی خاطر" اپنے اس دیرینہ مطالبے کو "قربان" کر دیا ہے۔ [16]


اب جہاں تک چوہدری حمید اللہ خان کے خود کے نظریات کا تعلق ہے، تو یہ حقیقت کہ وہ پاکستان کے حامی تھے اور ان کی پاکستان سے محبت پر کوئی دو رائے نہیں تھی، خود جسٹس یوسف صراف [17] اور سردار ابراہیم [18] بھی تسلیم کرتے ہیں جو کہ اس وقت ان کی مخالفت کر رہے تھے۔ مزید یہ کہ ایک بار جب یہ قرارداد الحاق پاکستان منظور ہوگئی، چوہدری حمید اللہ خان لگاتار مہاراجہ سے مطالبہ کرتے رہے کہ وہ ریاست کا الحاق پاکستان سے کر دے۔ [19]


*قرارداد الحاق پاکستان اور اس کی اہمیت*


ڈاکٹر شبیر چوہدری لکھتے ہیں کہ مسلم کانفرنس ہم پر ایک ایسی قرارداد "تھوپ" رہی ہے جو کہ "دھوکہ دہی" سے منظور شدہ ہے۔ وہ اس قرارداد کا موازنہ 18 جولائی کی قرارداد سے کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ورکنگ کمیٹی کسی بھی تنظیم کی "کریم" ہوتی ہے اور مسلم کانفرنس کی ورکنگ کمیٹی نے ہی خودمختار کشمیر کے حق میں یہ قرارداد "متفقہ" طور پر منظور کی۔ 


قرارداد الحاق پاکستان کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے ہوئے موصوف چوہدری حمید اللہ خان کے 28 مئی 1947 کے بیان جس میں وہ مہاراجہ سے ریاست کو خودمختار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں (جو کہ خود انہوں نے اپنے آرٹیکل میں کہیں کوٹ کیا ہے) کا یہ حصہ شائد بھول گئے: 


"مجھے [اپنے خودمختاری والے موقف] پر مسلم کانفرنس کے تمام اہم لیڈران کی حمایت حاصل ہے اور چوہدری غلام بھی اس پروپوزل سے متفق ہیں۔ مسلم کانفرنس کے نمائندوں کا کنونشن ایک مہینے میں بلایا جائے گا جس میں اس پروپوزل کو متفقہ طور پر [پارٹی کے لیے] اپنایا جائے گا۔ اس حل کو، لہذا، مسلم کانفرنس کی آفیشل پالیسی سمجھا جائے۔"[20]


یعنی، پارٹی کے صدر اور قائم مقام صدر کے اس فیصلے کو، چوہدری حمید اللہ خان کے مطابق، پارٹی کی آفیشل پالیسی بننے کے لیے مسلم کانفرنس کے نمائندوں کے کنونشن سے منظوری درکار تھی۔ ورکنگ کمیٹی سے خودمختار کشمیر کے حق میں قرارداد پاس ہو جانے کے اگلے روز، کنونشن سے پہلے ایک میٹنگ میں، چوہدری حمید اللہ خان نے مسلم کانفرنس کے باقی لیڈران سے درخواست کی کہ وہ ورکنگ کمیٹی کی اس قرارداد کی کنونشن میں حمایت کریں۔ جسٹس یوسف صراف لکھتے ہیں: 

"]ورکنگ کمیٹی سے] قرارداد منظور ہونے کی خبر جب عام ہوئی، کئی نو عمر ورکرز، جن میں راقم بھی شامل ہے، کنونشن میں اس کی توثیق کے خلاف باتیں کرنے لگے۔ تگڑی مخالفت محسوس ہونے پر اگلی صبح، کنونشن سے پہلے، سردار ابراہیم کی رہائش گاہ پر آٹھ سے دس بندوں پر مشتمل ایک محدود سی میٹنگ بلائی گئی۔ اس میٹینگ میں پارٹی کے سینیر ترین رہنماؤں، جو کہ ورکنگ کمیٹی کا حصہ تھے اور کچھ جو کہ اسمبلی گروپ کا حصہ تھے، نے شرکت کی۔ راقم کو بھی، شاید اس کے قرارداد کی مخالفت کرنے کی وجہ سے، مدعو کیا گیا تھا۔ جب چوہدری حمید اللہ خان نے ہمیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ ہم ورکنگ کمیٹی کی قرارداد کی کنونشن سے منظوری کے لیے اس کی حمایت کریں، خواجہ غلام احمد جیولر، جو کہ اسمبلی گروپ کے نائب تھے، اور راقم نے اس بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ورکنگ کمیٹی کے باقی ممبران نے گفتگو میں کوئی براہ راست حصہ نہیں لیا بلکہ وہ اپنے [قائم مقام] صدر کے ساتھ کھڑے تھے۔۔۔۔ چوہدری حمید اللہ خان نے بتایا کہ انہوں نے یہ موقف مسلم لیگ کی ہائی کمانڈ کے کہنے پر اختیار کیا ہوا ہے۔" یوسف صراف مزید لکھتے ہیں کہ غلام احمد جیولر نے اس بات پر یقین نہیں کیا اور میٹنگ بے نتیجہ رہی۔[21]


ایک اور چیز جو یہاں قابل ذکر ہے وہ پروفیسر اسحاق قریشی کا وہ خط ہے جو انہوں نے کے ایچ خورشید کو 25 جولائی 1947 کو لکھا جس میں انہوں نے اس بارے میں خاصی روشنی ڈالی ہے کہ کنونشن میں قرارداد الحاق کیوں اور کیسے منظور ہوئی۔ اسحاق قریشی کے مطابق: "ہم [ریاست کی] آزادی/خودمختاری والے اپنے موقف کی حمایت کی نیت لے کر سرینگر گئے تھے۔ اصل میں وہ قرارداد چوہدری غلام عباس کی ہی ڈرافٹ کردہ تھی۔ لیکن سرینگر میں، ہمیں جلد ہی معلوم پڑ گیا کہ ہمیں وہاں تگڑی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اول، پاکستان کا 'گلیمر' اکثریت لوگوں کے لیے خودمختار ریاست کے dull چانسز کی نسبت زیادہ پرکشش تھا۔ دوم، حال ہی میں پارلمینٹ میں ہونے والے اعلانات کا سیاسی حلقوں میں یہ مطلب لیا گیا ہے کہ کشمیر پر ناقابل برداشت دباؤ ڈالا جائے گا کہ وہ دونوں میں سے کسی ایک ڈومینین سے الحاق کر دے۔ ایسی صورتحال میں، یہ محسوس کیا گیا کہ ایک جانب سے ہندوستان سے الحاق کے مطالبے کے جواب میں ہماری جانب سے دوسری کسی ڈیمانڈ کی عدم موجودگی کے نتیجے میں ریاست [کی حکومت] کے پاس مضبوط کیس ہوگا کہ وہ بھارت سے الحاق کر دے۔  دو دن بحث کے بعد ہم نے اپنا پوائنٹ ورکنگ کمیٹی سے منظور کروا لیا لیکن تیسرے دن ہمیں اس میں رعایت کرنا پڑی۔ بنا اس رعایت کے دیے ایوان کو ساتھ لیکر چلنا نا ممکن تھا۔ ہمیں ایسا لگ رہا ہے کہ ہم نے آپکو مایوس کیا ہے اور ہم اپنے پرانے موقف سے ہٹ رہے ہیں لیکن ہم جمہوریت کے اصولوں کے پابند تھے۔" [22]


لہذا یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ورکنگ کمیٹی کی قرارداد کے لیے پارٹی کی پالیسی بننے سے پہلے قانونی طریقہ کار سے گزرنا لازمی تھا۔ اس خاطر اسے پارٹی کے کنونشن، جو کہ 19 جولائی کو منعقد ہونا تھا، میں اکثریت کی حمایت درکار تھی۔ 19 جولائی کو جب مقررہ تاریخ پر کنونشن چوہدری حمید اللہ خان کی صدارت میں منعقد ہوا تو وہی قرارداد جسے پہلے ورکنگ کمیٹی اور اس کے بعد میٹنگ میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، کو اکثریت نے مسترد کر دیا۔ پھر ایک اور قرارداد، جس نے ریاست کے پاکستان سے الحاق پر زور دیا، پیش کی گئی جسے اکثریت نے منظور کر لیا اور یوں وہ سب رہنما جو کہ ورکنگ کمیٹی سے منظور شدہ قرارداد کی حمایت کر رہے تھے، جیسا کہ پروفیسر اسحاق قریشی نے لکھا، کو اکثریت کے اس فیصلے کو تسلیم کرنا پڑا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قرارداد، جس کی حمایت میں اسی کنونشن میں اکثریت نے ووٹ دیا جو کہ منعقد ہی مسلم کانفرنس کی ریاست کے مستقبل کو لے کر آفیشل پالیسی کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے کیا گیا تھا، کیسے "دھوکہ دہی" سے منظور شدہ ہے جیسا کہ ہمارے اس دانشور نے لکھا؟


جیسے ہی 19 جولائی کو قرارداد منظور ہو گئی، پارٹی کے صدر چوہدری غلام عباس نے جیل سے ایک خط لکھ کر اس کی توثیق کر دی۔ [23] قائم مقام صدر چوہدری حمید اللہ خان [24] نے بھی اسے تسلیم کردیا اور اسمبلی گروپ کے چیف وھپ سردار ابراہیم تو پہلے سے ہی اس کے حق میں تھے۔ یوں اس قرارداد کو پارٹی صدر، قائم مقام صدر اور چیف وھپ سب کی حمایت حاصل تھی۔ نیز، جیسا کہ اوپر بیان کیا ہے، یہ قرارداد مسلم کانفرنس کی اکثریت اور ان علاقوں کے مسلمانوں، جہاں مسلم کانفرنس مظبوط تھی، کی اکثریت کے جذبات کی حقیقتاً عکاسی کرتی تھی۔ سب سے بڑھ کر، یہ قرارداد اکثریتی ووٹ کے ساتھ اسی کنونشن سے منظور شدہ ہے جو کہ منقعد ہی اسی لئے کیا گیا تھا کہ اکثریت کی رائے لے کر پارٹی کی آفیشل پالیسی طے کی جائے۔ لہذا، ریاست کے مستقبل کو لے کر مسلم کانفرنس کی آفیشل پوزیشن کی نمائندگی کرنے والی اس قرارداد کی، تنظیم کے قوانین کے تحت، قانونی حیثیت کو کبھی بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ 


اس قرارداد کا موجودہ آزاد جموں و کشمیر کے علاقوں کے سیاسی مستقبل پر گہرا اثر پڑا۔ اس قرارداد نے اس خطے کے مسلمانوں کو، جو کہ مسلم لیگ کی عدم مداخلت کی پالیسی سے سخت مایوس تھے، نا صرف منزل دکھائی بلکہ آغا شوکت علی کے الفاظ میں "حرکت میں آنے" کی وجہ دی۔ اس قرارداد کے منظور ہو جانے کے فورا بعد مسلم کانفرنس کے آٹھ سرکردہ رہنماؤں نے خلف لیا کہ اگر مہاراجہ نے پاکستان سے الحاق نہیں کیا تو وہ اپنے اپنے ضلعوں میں بغاوت کروا دیں گے۔ [25] اس فیصلے نے تاریخ کا دھارا بدل دیا اور آزاد جموں و کشمیر کی جنگ آزادی کی اصل وجہ بنا۔ بقول سردار ابراہیم، یہ فیصلہ 'تاریخی تھا اور بعد میں اس نے ثابت کیا'.


*نوٹس اور حوالہ جات*


1. کچھ لوگ تو اس حد تک چلے گئے کہ یہ دعویٰ ہی کر دیا کہ ایسی کوئی قرارداد (پاکستان سے الحاق کے حق میں) پاس ہی نہیں ہوئی تھی۔ مثال کے طور پر مقبوضہ کشمیر کے ایک مشہور تاریخ دان رشید تاثیر نے اپنی کتاب میں پیر افضل مخدومی کو جواب دیا ہے جنہوں 1973 نے سرینگر سے شایع ہونے والے روزنامہ "آفتاب" میں ایک آرٹیکل میں لکھا کہ ایسی کوئی قرارداد کبھی منظور ہی نہیں ہوئی تھی۔ جواب میں رشید تاثیر نے نیشنل کانفرنس کے اخبار "الخدمت" کے 22 جولائی 1947 کے شمارے کا حوالہ دیا ہے جس میں مسلم کانفرنس کے کنونشن اور قرارداد الحاق پاکستان کی خبر چھپی تھی۔ (دیکھیں، رشید تاثیر، تحریک حریت کشمیر، جلد سوم، صحفات، 194-195) اسی طرح جناح پیپرز میں دی پاکستان ٹائمز (24 جولائی، 1947) کی سٹوری جس کا عنوان ہے "Kashmir's entry in Pakistan demanded" موجود ہے۔ (Z.H.  Zaidi, Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah Papers, vol. 9, File no. KR-336)

2. Shabir Choudhry, “Some facts about resolution of Muslim Conference, 19 July, 1947”

3. Justice Yusuf Saraf, Kashmiris Fight for Freedom, vol. 2, p. 12

4. زاہد چوہدری، پاک بھارت تنازعہ اور مسلہ کشمیر کا آغاز، صحفہ 173

5. Sardar Ibrahim, The Kashmir Saga, p. 34

6. Yusuf Saraf, op. cit. vol. 2, p. 12

7. (Ed) Z.H. Zaidi, Jinnah Papers, vol. 9, File no. KR-332

8. lshaq Qureshi to K.H. Khurshid, 19 March 1947, (Ed) Z.H.Zaidi, Jinnah 

9. Papers, vol.1, File no. 158

Agha Shaukat Ali to K. H. Khurshid, 24 March 1947, ibid., File no. 207

10. Yusuf Saraf, op. cit. vol. 2, p. 12

11. رام چندر کاک کے مطابق اس ملاقات میں "جناح نے اسے پاکستان سے الحاق کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ جن شرائط پر الحاق ہوگا وہ شرائط فوری الحاق کرنے پر بعد میں کی نسبت قدرے بہتر ملیں گے۔ (لیکن) جب اس نے بتایا گیا کہ الحاق نا کرنے کا ریاست کا فیصلہ ختمی ہے، تو مسٹر جناح نے کہا کہ وہ یہ تسلیم کرنے پر تیار ہیں کہ یہ آپشن واقعی موجود ہے اور اگر ریاست ہندوستان سے الحاق نہیں کرتی، انہیں اس سے کوئی مسلہ نہیں کہ وہ پاکستان سے بھی الحاق نا کرے۔" (Radha Rajan, Jammu & Kashmir: Dilemma of Accession, p. 65) اس سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ جناح کشمیر کی حکومت کو انڈیا سے الحاق کرنے سے روکنا چاہتے تھے اور وہ وقتاً ایک خودمختار کشمیر سے خوش تھے۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ جناح (گو وہ اس بارے میں غلطی کا شکار تھے) مطمئن تھے کہ کشمیر ان جھولی میں پکے ہوئے پھل کی مانند گرے گا مگر یہ "تاثر کہ جناح نے کسی تیسرے سورس سے مہاراجہ کو کافی حد تک الحاق پر راضی کر دیا تھا" درست نہیں لگتا۔ ہو سکتا ہے، مگر اس بات کے بہت کم امکانات ہیں، کہ اس بارے میں جناح کو کشمیر حکومت کی طرف سے کوئی جھوٹی یقین دہانی کرائی گئی ہو۔ مزید یہ کہ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ آیا جناح صاحب نے پروفیسر اسحاق قریشی کو خود یہ بات کہی یا اسحاق قریشی کو یہ "تاثر" جناح صاحب کے اس پر اعتماد رویے سے ملا تھا کہ کشمیر آخر کار ان کی جھولی میں آ گرے گا۔ 

12. Robert G. Wirsing, India Pakistan and the Kashmir Dispute, p. 14

13. Agha Shaukat Ali to K. H. Khurshid, 24 March 1947, Jinnah Paper, vol.1, File no. 207

ایک اور جگہ آغا شوکت علی نے اس 'پلان' کے لیے "higher political strategy" کا لفظ استعمال کیا۔ کے ایچ خورشید کے نام 23 فروری 1947 کے اپنے خط میں وہ لکھتے ہیں: 

"Personally, I am convinced that if it were not for the League’s non-interventionist policy vis-a-vis the States, we would not have found ourselves so desperately alone [though] I am not unmindful of the higher political strategy which necessitates such a course of action." (See. Jinnah Papers, vol. 9, Enclosure to KR-318)

14. Mohiud Din to K. H. Khurshid, 11 March, 1947, Jinnah Papers, vol. 9, File no. KR-319

15. lshaq Qureshi to K. H. Khurshid, 25 July, 1947, ibid, File no. KR-338

16. Christopher Snedden, The Untold Story of the People of Azad Kashmir, p. 25

17. جسٹس یوسف صراف لکھتے ہیں: "میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ میں لوگوں سے چیزیں منسوب کرنے سے اجتناب کروں۔ مجھے منصفانہ انداز میں مرحوم (چوہدری حمید اللہ) کے بارے میں یہ بات بتانی چاہیے کہ وہ کٹر پاکستانی تھے اور اس بارے میں کسی سے کم نا تھے۔ اسی وجہ سے [مطالبہ پاکستان] انہوں نے اپنے بڑے بیٹے اور بیٹی کو جموں میں مسلمانوں کے قتل عام کے دوران کھویا تھا۔" (Saraf, vol. 2, p. 12)

18. سردار ابراہیم لکھتے ہیں کہ خودمحتاری کی حمایت کرنے والے کسی "بدنیتی سے ایسا نہیں کہہ رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر خودمختاری کا اعلان کر دیا جائے تو ہندوستان ریاست پر ڈورے ڈالنا چھوڑ دے گا اور پاکستان بننے کے بعد یہ خود بخود پاکستان کی جھولی میں چلی جائے گی۔" (سردار ابراہیم، متاع زندگی، صحفہ 148)


19. Snedden, op. cit. p. 25

Justice Yusuf Saraf, 

20. Kashmiris Fight for Freedom, vol. 1, p. 707

21. Saraf, vol. 2, pp. 9-10

22. lshaq Qureshi to K. H. Khurshid, 25 July, 1947, Jinnah Papers, vol. 9 File no. KR-338

23. Zahid Choudhry, op. cit. p. 173

24. یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ بعد میں چوہدری حمید اللہ خان نے ایک خط لکھ کر ابراہیم صاحب کو اپنا جانشین مقرر کر دیا کہ اگر وہ گرفتار ہو جاتے ہیں تو پھر پارٹی کے قائم مقام صدر سردار ابراہیم ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سردار ابراہیم کو تمام تر اختیارات دے رکھے تھے کہ وہ پارٹی اور قائم مقام صدر (حمید اللہ خان) کی طرف سے پاکستان میں جیسے مرضی چاہیں معاملات طے کر سکتے ییں۔ (See his letter to Sardar Ibrahim, The Kashmir Saga, pp. 61-62)

25. رشید تاثیر، تحریک حریت کشمیر، جلد سوم، صحفہ 194

مکمل تحریر >>