Sunday, July 12, 2020

اشرف صحرائی کے جذبات اپنے قلم سے

میں بے ضمیر بھی نہیں
‏ہوں خدا کا اک بندہ

‏رگوں میں جس کے دوڑتا
‏ہے خوں حریت ابھی

‏لٹا چکا ہوں گود کے
‏بیش قیمتی نگیں

‏اب میں شکر کی حسین
‏وادیوں میں سن رہا ہوں گونجتی صدائیں بھی
‏کہ میرے جگنو کا خاتمہ بخیر ہے
‏(اشرف صحرائی کے جذبات) اپنے قلم سے

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔