Tuesday, March 23, 2021

میرا چور زندہ باد۔ تحریر شمس الدین امجد

 میرا چور زندہ باد

۔

میں خود تو چوروں کی پارٹی سے تعلق رکھتا ہوں، حمایتی بھی چور کا ہوں، ووٹ بھی چور کو ہی دیا ہے، آئندہ بھی اسی کو یا اسی جیسے کو دوں گا۔ سوشل میڈیا پر دن بھر وکالت بھی چوروں کی کرتا ہوں، آئندہ بھی کرتا رہوں گا

۔

ہم چور ہیں، آپس میں اتحاد بھی کریں گے، الیکشن بھی ساتھ لڑیں گے، جلسے جلوس بھی نکالیں گے، موقع ملے گا تو بہن بھائی بن جائیں گے، ایک دوسرے کو ہار پہنائیں گے، اپنے امیدوار کو مشترکہ طور پر صوبائی اسمبلی سے قومی اسمبلی اور سینیٹ تک ووٹ دیں گے اور منتخب کروائیں گے

۔

بس میں ہی جمہوری ہوں، تم چور ہو ، تم فلاں کے آلہ کار ہو۔ دل کرے گا تو 90 کی دہائی سے آج تک جب چاہوں گا جس سے چاہوں گا ملوں گا، اور پھر میری مرضی نہ ہوگی تو تعلق توڑ دوں گا۔ چاہوں گا تو سیاسی جماعتوں سے مل کر جمہوری کہلاؤں گا اور چاہوں گا تو مقتدر قوتوں سے مل کر وہی اقتدار کرسی کا کھیل کھیلوں گا۔ یعنی کہ دیگر جماعتوں کو اتحادی بنا کر، ان کے زور پر ان کا ڈراوا دے کر ڈیل بھی کروں گا، ڈھیل بھی لوں گا، اور لازمی طور پر سلطانی جمہور کا چیمپئن بھی رہوں گا

۔

ہاں! مگر دیکھو کہ کوئی میرے جیسا کبھی تمھارے دروازے پر آئے تو اس سے  ملاقات نہیں ہونی چاہیے کہ یہ میری طبع نازک پر گراں گزرتا ہے۔ میرے دادا کے بھائی کے بھتیجے کے ماموں بھی اسلامی تحریک کا حصہ تھے، اور میں نے تب یہ خواب دیکھا تھا کہ خود تو چوروں کا ساتھی رہوں گا، مگر تمھارے لیے اخلاق و اصول کا کوڑا برساتا رہوں گا۔


0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔