اگر کوئی ان کے ہاتھ پر بوسہ دے سکے تو دے دے
میں انہیں زیادہ تو نہیں جانتا
شاید کبھی ملا بھی نہیں
ممکن ہے کہیں دیکھا ہو
مگرایسے لوگ نہ جانے کیوں ہمیشہ سے ہی بڑے اچھے لگتے ہیں ایک وہ میرے ڈاکٹر تھے ڈاکٹر نذیر شہید ایک یہ میرے میجر صاحب ہیں
یہ شیروں گے شکاری قبیلے کے لوگ ہوتے ہیں
اللہ کی زمین پر اللہ کی نعمت
ہوتے انسان ہی ہیں انسانوں والی خامیاں بھی ہوتی ہیں مگر عادتیں جی داروں والی لے کر پیدا ہوتے ہیں انہیں شکستیں شکست نہیں دے پاتیں
یہ کسی اور ہی مٹی کے بنے ہوتے ہیں
ہار کر بھی جیتے ہوئے لوگ اپنوں کے درمیان اپنوں جیسے اپنے اپنے لگنے والے اپنے بلکہ اپنوں سے بڑھ کر اپنے لوگ۔۔۔
بھلا سوچو توسامنے تھاکون؟
سرزمین کشمیر کا سب سے بڑا لٹیرا جو وزیر اعظم ہوتے ہوئے اپنے ہی شہر کی طرف جاتی اپنی ہی سڑک کے پیسے بد دیانتوں سے نہ بچا سکے
جو دہائیوں سے پنڈی کی بے ساکھیوں کے سہارے کشمیر پر مسلط ہومگر کشمیر یوں کے لئے بے فیض !
جسے ایک عام برگیڈئیر بھی تین گھنٹے نتظار کروا کر بیس منٹ کا وقت احسان کرتے ہوئے عنایت کرے
آزادی گشمیر کے لئے پہلی گولی چلانے کا مقدس کام جن کے لئے انتخابی نعرے سے بڑھ کر کچھ نہ ہو جن کے لئے اقتدار اپنے سے بڑوں کے احکامات کو اپنا کمیشن رکھ کر نافذ کر دینے سے زیادہ کچھ نہ ہو وہ سردار سامنے ہو اور اس کی ابا سے لے کر سارے سیاسی گرگوں سے سیکھی چالیں سامنے ہوں وہ جو جانتے ہیں کہ دھونس اور دھاندلی کے "شفاف طریقے "کیا ہیں اور یہ بھی جانتے ہوں کہ سامنے والے کے ووٹ کاٹے کیسے جاتے ہیں؟
ایسے میں ایک میجر اٹھے ہو بھی وہ نظریہ پرستوں کے قبیلہ کا نہ اقتدار میں رہا ہو اور نہ پرکاری اور شاطرانہ چالوں کے داو پیچ جانتا ہو اور پھر مقابلہ کرے شیروں کی طرح اپنے اردگرد اپنے ہی جیسے شیر جمع کرے جو جانیں ہتھیلیوں پر رکھے اس کے قدم بقدم چلنے کو ہر دم تیار ہوں پھر اس جرات سے مقابلہ کرے کہ وہ حاکم جو کبھی کسی سے ووٹ مانگنے کے روادار نہ تھے گلیوں اور بازاروں میں "ٹکےٹکے" کے لوگوں کی ٹھوڑیوں کو ہاتھ لگاتے پائے جائیں بھلا اور فتح کیا ہوتی ہے؟
ویلڈن میجر صاحب اللہ تمہیں سلامت رکھے اللہ تم جیسوں کو سلامت رکھے تم ہمارا فخر ہو تم ہمارا اعزاز ہو تم ہمارے آج اور کل کی کامیابیوں کی نوید ہو ہم اللہ سے تم جیسے اور مانگتے ہیں اور تم جیسے تیار کرنا چاہتے ہیں
کوئی میرا سلام میجر خلیق تک پہنچا سکے تو پہنچا دے
اگر کوئی اس کے ہاتھ پر بوسہ دے سکے تو دے دے
خود کلامی ۔۔۔زبیر منصوری
1 comments:
شکریہ اسد فخر الدین بھائی ۔۔کاپی کر رھا ھون
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔