Sunday, May 9, 2021

مظفر نعیم شہید سے شعیب خان نیازی سے لے کر مولانا جان محمد عباسی کے فرزند تک، خود لیاقت بلوچ صاحب کے ایک رشتہ دار سے لے کر بزرگ رکن غلام علی صاحب کے فرزند تک، یہ تمام لڑکے جو شہید ہوئے، قائدین کے بچے ہی تو تھے ۔۔۔۔


 جب حسان بلوچ اجتماع عام پر کوڑا کرکٹ اکٹھا کر رہا تھا، تب کسی طرف سے تعریفی کلمات سنائی نہیں دئیے اور نا کسی نے کہا کہ چاہے لیاقت بلوچ صاحب کا بیٹا ہے مگر ایک۔مزدور کی طرح کام۔میں لگا ہے۔۔۔


مگر آج کئی فیس بُک مفکرین کو شرم آ رہی کہ ایک لڑکا جس نے کبھی اپنے باپ کے links استعمال نہیں کئے، اپنی محنت سے اپنا مستقبل بنانے میں لگا ہے تو اس پر اچھالے گئے بےسروپا الزامات کے جوابات نہیں مل رہے۔۔۔


کوئی کیسے کسی کے لئے تعلیم کے راستے بند کر سکتا ہے ۔۔ ہھر کس نے کہا کہ قائدین کے بیٹوں نے جہاد میں حصہ نہیں لیا۔۔۔


 مظفر نعیم شہید سے شعیب خان نیازی سے لے کر مولانا جان محمد عباسی کے فرزند تک، خود لیاقت بلوچ صاحب کے ایک رشتہ دار سے لے کر بزرگ رکن غلام علی صاحب کے فرزند تک، یہ تمام لڑکے جو شہید ہوئے، قائدین کے بچے ہی تو تھے ۔۔۔۔


انس قاضی بھائی سمیت کئی لڑکے جہادِ کشمیر و افغانستان سے منسلک رہے


اور اگر لبرلز نے ان بلیڈی سویلین سے ہی جہاد کی امید رکھنی تھی تو 80% بجٹ والوں کے اخراجات برداشت کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔


لہذا دلائل سے جواب دیں ۔۔۔


اور آخری بات، کسی رہنمائے جماعت اسلامی کی ایسی تقریر جس میں وہ نوجوانوں کو اپنا گھر بار، مستقبل چھوڑ کر کشمیر یا افغانستان جہاد کی دعوت دے رہا ہو، پلیز شئیر ضرور کیجئے گا ۔۔۔۔


دعاگو


0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔