لیاقت بلوچ کے بیٹے کی کینیڈا سے پی۔ایچ۔ ڈی کی ڈگری لینے پر اگر کشمیر یا افغانستان میں شہید ہونے والے نوجوانوں کے والدین یا اہل و عیال میں سے کوئی اٹھ کر کھڑا ہوجائے اور اعتراض کرے کے آپ نے ہمارے نوجوان کو تو جہاد کی ترغیب دے کر محاذ پر بھجوایا اور اپنے بیٹے کو کینیڈا تو پھر بھی کوئی تک بنتی ہے لیکن اب ایسے لوگ جن کو جہاد ، اسلام اور ہر قسم کے دینی شعایر سے بيزاری ہو ان کے منہ سے ایسی باتیں سننا "كهسيانی بلی کمبا نوچے" کے مترادف ہیں ۔ جتنے بھی شہدا اللّه کی راہ میں شہید ہو چکے ہیں ان کے اہل و عیال اللّه کے فضل سے انتہائی مطمین ہیں ۔ جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں یہ گزشتہ 40 سال سے لگے ہوئے ہیں جنھیں اصل درد اور مروڑ روس کی افغانستان میں ذلت آمیز شکست سے ہے جن کے آستقبال کے لیے یہ لوگ سرخ ڈولی اٹھائے طورخم پر بنگڑے ڈالتے تھے لیکن ڈولی کی بجائے انہیں سرخ تابوت میں سرخ ریچ کی لاش موصول ہوی جس کے بعد سے یہ حواس باختہ ہوچکے ہیں ۔۔
یہی سوال اگر اے این پی والوں سے کیا جائے کے خان عبدلغفار خان انگریز سامراج کے سخت خلاف اور مذاہم تھے۔ انگریزوں نے قصہ خوانی ، ہاتھی خیل ، اور دیگر جگہوں پر ہزاروں سرخ پوشوں کا قتل عام کیا ، ان پر تشدد کیا ان کو جیلوں میں ڈالا لیکن عین اسی وقت میں ان کا اپنا بھائی اسی سامراج کے دیس میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرکے واپس لوٹا نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ وہاں سے ایک گوری بھی اپنے ساتھ بیا کر لے آیا ۔ جس وقت خدائی خدمات گاروں کی اولاد انگریز تسلط کے خلاف جدوجہد میں جان مال اور جاییداد کی قربانیاں دے کر تنگدستی کی زندگی گزار رہے تھے اس وقت باچا خان کے دونوں بیٹے غنی خان اور علی خان سامراج کے دیس میں اعلی تعلیم حاصل کر رہے تھے ۔ کیا ان سے کوئی پوچھ سکتا ہے کے کسی غریب خدائی خدمت گار کے بیٹے کو بھجوا دیتے تعلیم حاصل کرنے کے لے کے نہیں ان کے حصہ میں صرف انگریز کی گولیاں تھی کھانے کے لیے۔
قیام پاکستان سے قبل دو دفعہ فرنٹیئر میں سرخ پوشوں کی حکومت بنی دونوں بار وازرت اعلی کی ھما ڈاکٹر خان صاحب کے سر پر رکھی گئی کیونکہ وہ باچا خان کے بھائی تھے کیوں نہ اس وقت کسی خدائ خدمت گار کے بیٹے کو اس منصب کے لیے منتخب کیا گیا ؟ ڈاکٹر خان نہ پہلے سرخ پوش تھے نہ بعد میں وہ صرف وزارت کے وقت باچا خان کے بھائی بن کر آجاتے اور کرسی سنبهال لیتے ۔ موصوف بعد میں اس وقت ون یونٹ کے وزیر اعلی بن بیٹھے جب باچا خان ون یونٹ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔
اے این پی والے یہ بھی بتا دیں جب 70 کی دہائی میں پشتونستان تحریک کے لیے پشتون زلمے بنی اور مسلح تحریک کے لیے پشتون طالب علموں کو خیالی گریٹر پشتونستان کے جھانسے میں تخریب اور دہشت کی بھینٹ چڑہایا جارہا تھا تو اے این پی کے کس لیڈر کا بیٹا وہاں کیمپوں میں تربیت حاصل کرنے گیا تھا۔
افغانستان میں فساد اور بربادی کی بنیاد اس وقت پڑی جب نام نہاد انقلابات کا آغاز ہوا پہلے ظاہر شاہ کی مستحکم حکومت کو ختم کیا گیا پھر اقتدار کی ہوس اور لالچ میں ایک دوسرے کا قتل عام کرتے ہویے داؤد خان کو ترکئ نے قتل کیا ، پھر حفیظ اللہ امین نے تراکی کو قتل کیا پھر ببرک کارمل نے اکر حفیظ اللہ امین کو قتل کردیا ۔ یہ قتل عام صرف حکمران وقت تک محدود نہیں ہوتا تھا بلکہ اس حکمران کے پورے خاندان اور حامیان کو بے دریغ قتل کیا جاتا تھا ۔ روسی جریدے کے مضمون کے مطابق نام نہاد انقلاب ثور میں کم و بیش 40 ہزار لوگ قتل ہوئے جب تراکی نے داؤد کے خلاف اقدام کیا تھا۔
عجیب بات یہ ہے کے اس ساری کاروایوں میں اے این پی کی قیادت سب کے ساتھ کھڑی ہوا کرتی تھی۔ ظاہر شاہ سے لے کر داؤد خان ، تراکی ، حفیظ اللہ امین ، ببرک کارمل ، نجیب اللہ سب کے ساتھ ان کے گہرے روابط تھے ۔ کوئی ان سے پوچھے کے پاکستان میں آپ بیک وقت 73 کے آئین کے خالق بھی اپنے آپ کو مانتے ہیں اور ساتھ ساتھ پشتونستان کی زیر زمین مسلح تحریک کو بھی چلاتے ہیں ۔ پاکستان میں آپ آئین ،ووٹ اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن حرام ہو جو آپ نے کبھی نادر شاہ کے وقت سے لے کر ڈاکٹر نجیب تک کسی حکمران کو بھی افغانستان میں جمہوریت اور انتخابات پر قایل کیا ہو بلکہ ہر مسلح اور خونی انقلاب کے آپ پشتبان رہیں .
آج کل بیٹھ کر ماضی پر یوں تجزیہ کرتے ہیں کے ہم نے تو کہا تا یہ روس اور امریکا کی جنگ ہے لیکن پاکستان اور ملا اسے جہاد کہتے تھے۔ مجال ہو جو انہوں نے ایک دن بھی افغانستان پر قابض روس کو کہا ہو کے بھائی کیوں امریکا کے خلاف جنگ افغانستان میں لڑھ رہے ہو جاؤ نکلو یہاں سے یا پھر ان کی کٹھ پتلیوں کو کہا ہو کے بابا یہ تو دراصل روس اور امریکا کی جنگ ہے تم کیوں روس کی خاطر اپنے دیس کو برباد کر رہے ہو ۔ ایسا یہ نہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ ایسا تیسرا اور غیر جانب دار فریق کہہ سکتا ہے جب کے یہ خود روس کے آلہ کار اور حمایتی تھی ۔
پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے روس کی افغانستان میں مداخلت کی بھی مخالفت کی تھی اور بعد میں امریکی حملے کے بھی مخالفت کی تھی کیونکے یہ اصولی بات تھی کل روس جارح تھا پھر امریکا جارح بنا ۔جب کے ان لوگوں نے روسی جارحیت کی بھی مکمل حمایت کی تھی اور پھر امریکی جارحیت کی بھی مکمل حمایتی تھے ۔ افغانستان کی بربادی کی بنیاد رکھنے والے بھی یہی تھے اس جنگ کے شعولوں کو بھڑکانے والے بھی یہی ہیں کل تک جس سامراج کے خلاف روس کی بغل میں بیٹھ کر مخالفت کرتے تھے روس کے شکست کے بعد ایسا قلا بازی کھائی کے اسی سامراج کے گود میں جاکر ان کو پیارے ہوگئے ۔
باقی لیاقت بلوچ صاحب اور جماعت اسلامی کی اکثر قیادت کے بچے اسلامی جمیعت طلبا کا سرگرم حصہ رہے ہیں ان کے اولاد اور عام کارکنان میں کبھی کوئی تفریق نہیں دیکھی۔
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔