Friday, June 11, 2021

لیڈر کے انتخاب پر میرٹ کیسے ممکن ہو؟ ڈاکٹر اظہر فخرالدین

 لیڈر کے انتخاب پر میرٹ کیسے ممکن ہو؟ 

کیا آپ نے کبھی علاج کروانے سے پہلے ڈاکٹر کا قوم یا قبیلہ پوچھا؟ جب ہمیں کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے تو ہم قابل ڈاکٹرز کی تلاش کرتے ہیں۔ کیوں؟


بچوں کی تعلیم: کیا ہم بچوں کو ایسے سکول میں داخل کروائیں گے جو میرٹ اور اچھی تعلیم میں اپنی جان پہچان رکھتا ہو یا ایک ایسے سکول میں جو پڑھائی کے حوالے سے اوسط سے بھی کم درجے کا ہو، اور ہم صرف اسلیے اپنے بچے داخل کروا  دیں کہ وہاں کا پرنسپل بہت ہی مہمان نواز ہے؟ تعلیم کا میعار بمقابلہ مہمان نوازی یا ذاتی مراسم، دونوں میں آپ اپنی اولاد کے لیے کیا منتخب کریں گے؟


گھر کی تعمیر: کیا معمار کے انتخاب میں آپکی ترجیح علیک سلیک ہوتی ہے یا پیشہ ورانہ قابلیت؟


کھیل: اگر آپکو میچ جیتنا ہے تو کیا آپ صرف اپنے کنبے قبیلے کو بھرتی کریں گے یا اچھے بالرز، بیٹسمین ۔۔۔ پر مشتمل ٹیم بنائیں گے؟


جب ہم روزمرہ کے ان تمام اور دیگر کئی کاموں میں میرٹ کی پاسداری اور اچھی طرح جانچ پڑتال کرتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الیکشنز میں اسکا بلکل الٹ کیوں کرتے ہیں؟


کیا ہمیں اس بات کا علم ہے کہ جس بھی فرد کو ہم اپنا ووٹ دیتے ہیں یہ دراصل اسکے ہاتھ میں اپنے مستقبل کے پانچ سال تھما دیتے ہیں؟ اب کیا ہم اپنا اور اپنے خاندان کا مستقبل ایسے فرد کے ہاتھ میں دیں گے جو مسائل کا ٹھیک ادراک نہ رکھتا ہو اور نہ انکے حل کے لیے واضح وژن۔ مثلا، سماہنی کی ڈیڑھ لاکھ آبادی کیا سب ایڈہاک نوکریاں کرے گی؟ کیا ہمارے نمائندوں نے عوام کے سامنے ایک واضح معاشی پالیسی رکھی جس میں یہ بتایاگیا ہو کہ مقامی طور پر کیا زرائع معاش (local industry) ممکن ہیں؟ کیا آپ نے اپنے لیڈر سے اس پر سوال کیا؟ جب آپ سخت دھوپ میں ہاتھ میں پھول لیے ٹھنڈی گاڑی سے لیڈر کے اترنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں تو کیا آپکے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ لیڈر صاحب کی انفرا سٹرکچر، صحت، تعلیم، ماحولیات، اداروں کی اصلاح، عوامی جوابدہی ۔۔۔ کی کیا پالیسی ہے؟


 کیا ہمیں اندازہ ہے کہ ایک ووٹ جو غلط کاسٹ ہو اسکی کیا قیمت نسلوں کو چکانی ہو گی؟ 


درست لیڈرشپ منتخب کرنے کا ایک ہی راستہ ہے، سوچ سمجھ کر میرٹ پر ووٹ ڈالنا۔ اور اس انتخاب میں کسی بھی قسم کی دوستی، ذاتی مفاد یا عناد کو حائل نہ ہونے دینا۔ نہ تو کسی کی اندھی تقلید اور نہ مخالفت (ری ایکشن) میں ووٹ ڈالنا۔


 تمام نمائندوں سے خوب سوال کیجیے (اگر اپکو اس کا موقع میسر ہو) نہ کہ ہاتھوں میں مالا لیکر دھوپ میں  جلتے رہیں۔

اپنی اور اہنے ووٹ کی طاقت پہچانیے۔ یہی طرز عمل ایک تعلیم یافتہ شخص کے موافق ہے اور ایک باشعور معاشرے کی علامت۔

AF


مکمل تحریر >>

Wednesday, June 2, 2021

میں ابھی تک یہ سمجھ نہ سکی کہ لوگ کیوں شادی کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ تیری زندگی میں کوئی فرد ہو، تو آپ کو شادی کے کاغذات(نکاح نامہ) پر دستخط کرنے کی کیا پڑی ہے، یہ (تعلق) صرف پارٹنرشپ کیوں نہیں بن سکتی ہے؟"ملالہ

 ملالہ نے British Vogue کو انٹرویو دیا ہے۔ شادی، شوہر اور بچوں کے بارے میں تفصیلی بات بلکہ خیالات سامنے رکھے ہیں۔ انٹرویو سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں!!


"میں ابھی تک یہ سمجھ نہ سکی کہ لوگ کیوں شادی کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ تیری زندگی میں کوئی فرد ہو، تو آپ کو شادی کے کاغذات(نکاح نامہ) پر دستخط کرنے کی کیا پڑی ہے، یہ (تعلق) صرف پارٹنرشپ کیوں نہیں بن سکتی ہے؟"

ملالہ نے جس سیاق و سباق میں میرج پیپرز اور پارٹنرشپ کا ذکر کیا ہے وہ یقینا مغرب میں موجود تصور پارٹنرشپ اور شادی ہے، لہذا اس پر مزید بات نہیں کرنا چاہتا۔


Malala’s parents had an “arranged love marriage”, as she describes it – they liked the look of each other, and their parents worked out the rest. She isn’t sure if she’ll ever marry herself. “I still don’t understand why people have to get married. If you want to have a person in your life, why do you have to sign marriage papers, why can’t it just be a partnership?” Her mother – like most mothers – disagrees. “My mum is like,” Malala laughs, “‘Don’t you dare say anything like that! You have to get married, marriage is beautiful.’” Meanwhile, Malala’s father occasionally receives emails from prospective suitors in Pakistan. “The boy says that he has many acres of land and many houses and would love to marry me,” she says, amused.


“Even until my second year of university,” she continues, “I just thought, ‘I’m never going to get married, never going to have kids – just going to do my work. I’m going to be happy and live with my family forever.’” She turns to me, full of revelation. “I didn’t realise that you’re not the same person all the time. You change as well and you’re growing.”


مکمل تحریر >>