لیڈر کے انتخاب پر میرٹ کیسے ممکن ہو؟
کیا آپ نے کبھی علاج کروانے سے پہلے ڈاکٹر کا قوم یا قبیلہ پوچھا؟ جب ہمیں کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے تو ہم قابل ڈاکٹرز کی تلاش کرتے ہیں۔ کیوں؟
بچوں کی تعلیم: کیا ہم بچوں کو ایسے سکول میں داخل کروائیں گے جو میرٹ اور اچھی تعلیم میں اپنی جان پہچان رکھتا ہو یا ایک ایسے سکول میں جو پڑھائی کے حوالے سے اوسط سے بھی کم درجے کا ہو، اور ہم صرف اسلیے اپنے بچے داخل کروا دیں کہ وہاں کا پرنسپل بہت ہی مہمان نواز ہے؟ تعلیم کا میعار بمقابلہ مہمان نوازی یا ذاتی مراسم، دونوں میں آپ اپنی اولاد کے لیے کیا منتخب کریں گے؟
گھر کی تعمیر: کیا معمار کے انتخاب میں آپکی ترجیح علیک سلیک ہوتی ہے یا پیشہ ورانہ قابلیت؟
کھیل: اگر آپکو میچ جیتنا ہے تو کیا آپ صرف اپنے کنبے قبیلے کو بھرتی کریں گے یا اچھے بالرز، بیٹسمین ۔۔۔ پر مشتمل ٹیم بنائیں گے؟
جب ہم روزمرہ کے ان تمام اور دیگر کئی کاموں میں میرٹ کی پاسداری اور اچھی طرح جانچ پڑتال کرتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الیکشنز میں اسکا بلکل الٹ کیوں کرتے ہیں؟
کیا ہمیں اس بات کا علم ہے کہ جس بھی فرد کو ہم اپنا ووٹ دیتے ہیں یہ دراصل اسکے ہاتھ میں اپنے مستقبل کے پانچ سال تھما دیتے ہیں؟ اب کیا ہم اپنا اور اپنے خاندان کا مستقبل ایسے فرد کے ہاتھ میں دیں گے جو مسائل کا ٹھیک ادراک نہ رکھتا ہو اور نہ انکے حل کے لیے واضح وژن۔ مثلا، سماہنی کی ڈیڑھ لاکھ آبادی کیا سب ایڈہاک نوکریاں کرے گی؟ کیا ہمارے نمائندوں نے عوام کے سامنے ایک واضح معاشی پالیسی رکھی جس میں یہ بتایاگیا ہو کہ مقامی طور پر کیا زرائع معاش (local industry) ممکن ہیں؟ کیا آپ نے اپنے لیڈر سے اس پر سوال کیا؟ جب آپ سخت دھوپ میں ہاتھ میں پھول لیے ٹھنڈی گاڑی سے لیڈر کے اترنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں تو کیا آپکے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ لیڈر صاحب کی انفرا سٹرکچر، صحت، تعلیم، ماحولیات، اداروں کی اصلاح، عوامی جوابدہی ۔۔۔ کی کیا پالیسی ہے؟
کیا ہمیں اندازہ ہے کہ ایک ووٹ جو غلط کاسٹ ہو اسکی کیا قیمت نسلوں کو چکانی ہو گی؟
درست لیڈرشپ منتخب کرنے کا ایک ہی راستہ ہے، سوچ سمجھ کر میرٹ پر ووٹ ڈالنا۔ اور اس انتخاب میں کسی بھی قسم کی دوستی، ذاتی مفاد یا عناد کو حائل نہ ہونے دینا۔ نہ تو کسی کی اندھی تقلید اور نہ مخالفت (ری ایکشن) میں ووٹ ڈالنا۔
تمام نمائندوں سے خوب سوال کیجیے (اگر اپکو اس کا موقع میسر ہو) نہ کہ ہاتھوں میں مالا لیکر دھوپ میں جلتے رہیں۔
اپنی اور اہنے ووٹ کی طاقت پہچانیے۔ یہی طرز عمل ایک تعلیم یافتہ شخص کے موافق ہے اور ایک باشعور معاشرے کی علامت۔
AF
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔