Monday, June 29, 2020

بلوچ ہمارے وفادار بھائی

............ ہمارے بہادر و وفادار بلوچ بھائی .............ان کے پاکستان سے وابستہ خوابوں کو پورا کریں.........................

  • تحریر رفعت رشید عباسی 
.. الحمد للہ ہماری سیکیورٹی فورسز نے پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کو اپنے ناپاک منصوبوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا تمام شہداء کو سلام۔ اللہ ان کی شہادت قبول فرمائے اور بہادری کا مظاہرہ کرنے والے جوانوں کی جرات کو سلام۔ زخمیوں کے لئے جلد اور مکمل صحت یابی کی دعائیں اللہ وطن عزیز کو دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ رکھے اس جذباتی فضا میں ہم سب کو کچھ سنجیدہ امور پر بھی غور کر نا چاہیے •

  •  یہ حقیقت ہے کہ مارے جانے والے دہشت گرد پاکستانی ہی تھے اور مسلمان بھی آخر وہ کون سے اسباب تھے کہ جو ان لڑکوں کو اپنوں سے اتنا دور اور دشمن کے اتنا قریب لے گے * ہمیں ان کا ہمدرد اور پاکستانی بھائی بن کر خود سے سوال کرنا چاہیے کہ* معدنی وسائل سے مالا مال یہ صوبہ کم آبادی کے باوجود غربت کی چکی میں مسلسل کیوں پِس رہا ہے؟ ہمارے بھائی ہم سے اتنے ناراض آخر کیوں ہیں؟ حقوق اور انصاف کے دروازے ان پر کیوں بند ہیں ؟ * یہ حقیقت ہے کہ جب جدید ریاست کے ادارے عدل، تحفظ، روزگار، تعلیم ، علاج، انصاف کے شعبوں میں مثالی خدمات کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کرنےمیں ناکام ہوتے ہیں تو پھرجنگل کا قانون اس خلا کو پر کرتا ہے۔ جب طلبہ ، وکیل، سیاسی کارکنان، صحافی اور دیگر اہل شعور و دانش کی زبانیں بند کروائی جاتی ہیں تو بندوق کی بے قابو زبان میں ہر کوئی بات کرنے لگتا ہے. جمہور پر مسلط چند سرداروں کے ذریعے ریاست جب نظام چلاتی ہے تو عوام کی غلامی اور محرومی کی رات تاریک تر ہو جاتی ہے۔ یہ سردار جو عوام اور ان کے وسائل و حقوق کے درمیان ایک دیوار بن کر کھڑے ہیں انہیں ہٹا کر عوام کا حق حکمرانی بحال کرنے کے بجائے ان کی سرپرستی ایک ظلم ہے۔ ظلم کا نظام مقامی لوگوں میں مایوسی کا سبب ہے دشمن کو اپنی سازشوں کی فصل بونے کے لیے سازگار ماحول اور زرخیز زمین چاہیے ہوتی ہے اور بدقسمتی سے ہم اپنے ہاتھوں یہ اسے فراہم کر رہے ہیں. سرحدی علاقہ، قبائلی مزاج، تعلیم پسماندگی ، غربت ، معدنی وسائل کی دولت ، جعغرافیائی اہمیت اور پڑوس میں موجود تمام پاکستان کے کھلے اور دوست نما دشمنوں کا "اکٹھ" اس معاملے کی حساسیت کا تقاضا ہے کہ قومی قیادت اب 73 سالہ پرانے روائیتی جملوں سے کام چلانے کے بجائے بلوچ عوام کو ان کے حقوق کی فراہمی کے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے. ان کا احساس محرومی دور کرے ان کے جوانوں کو دشمن کا سازشوں کا شکار ہو کر یوں بے موت مرنے سے بچائے انہیں واپس اپنے گھر لائے تاکہ وہ بھی اس گھر کوبنانے اور سنوارنے میں اپنا کردار ادا کریں. سوشل میڈیا کے بھائیو! خدارا اس واقعے کا ذمہ دار دہشت گرد تنظیم بی ایل اےکو ٹھہرائیں بلوچوں کو نہیں دشمن یہی چاہتاہے نفرت کے بیج بو کر ہمیں تقسیم کرے۔ اس کے اس جال میں اپنا سر نہ دیں. ایک محدود تعداد گمراہ ہو کر اس کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے اس کا الزام سارے بلوچوں کو نہ دیں ان سے محبت کا اظہار کریں ان کی محرومیوں میں اپنے کردار کو تسلیم کریں اس کے ازالے کی مخلصانہ کوشش کریں ان کے وسائل پر ان کا حق تسلیم کریں انہیں سینے سے لگائیں انہیں اپنوں کے ہر قسم کے جبر سے آزادی دلوائیں انہیں پاکستانی بن کر اچھی پر امن زندگی گزارنے میں مدد کریں انہیں پورے پاکستان سے محبت کا پیغام دیں ان کے پاکستان سے وابستہ خوابوں کو پورا کریں تمام حقوق کے تحفظ کی ضمانت دینے والے اسلام کے عادلانہ نظام کے سائے میں ہی تمام قومیں و قبائل باہم متحد ہو کر پرامن پاکستانی بن کر رہ سکتے ہیں جبکہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، ظلم کا نظام، عدل کا فقدان، جمہوری حقوق کا سلب ہونا اور نفرت کا رویہ دوریاں پیدا کرتا ہے اور دشمن کو گھر میں داخلے کی راہ دیکھاتا ہے ہم پاکستانی اپنے حصے کا کام اخلاص سے کریں تو ان شاء اللہ پاکستان کا ہر دشمن ناکام و نامرا د ہی ہو گا

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔