جنگلات کے بچاؤ پر قرطبہ سے وسیم احمد کی جاندار تحریر
1990ءکی دہائی کا آغاز ، زمانہ طالبعلمی کا حسین دور ہے ۔ حکومتِ ریاست آزاد جموں وکشمیر کی طرف سے شجرکاری مہم کے آغاز کا اعلان ہوتا ہے محکمہ جنگلات کے آفسران گاڑیوں میں سوار و پیدل کچے پکے راستوں سے گزرتے ہوئے سکولوں کا رخ کرتے ہیں سکول اسمبلیوں میں پہنچ کر قوم کے مستقبل ، فطین زہنوں تک یہ بات پہنچائی جاتی ہے کہ درخت لگانا سنتِ پیغمبری ہے ، یہ ہماری نسلوں کی بہتر زندگی کا ضامن ہیں ۔ ہمارے پہاڑوں کی خوبصورتی و دلکشی کا حسین راز اور ہماری زندگی کی بقا ہیں ۔یہی وہ زمانہ تھا جب کتابوں میں مضامین اور سرورق پر
" *درخت لگائیں بخت جگائیں* "
جیسے درخت دوست جملے دیکھنے کو ملتے جو قوم کے ہونہاروں کے لیئے جہاں زہنی بالیدگی و پختگی کا باعث ہوتے وہیں معماروں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوتے۔
اس دور میں جنگل کے رکھوالے ( گارڈ ، واچر) کا اتنا رعب و دبدبہ ہوتا کہ اگر کہیں سے آواز بلند ہوتی کہ گارڈ آرہا ہے ! درخت کاٹنے والے اپنا سازوسامان چھوڑ کر بھاگنے میں عافیت جانتے ۔ ہم نے اپنی چشم روشن سے ان سِتم ظریفوں کو کئی بار لنگوٹی اٹھا کہ بھاگتے دیکھا ، دل میں یہ احساس ہوتا کہ جنگل کہ رکھوالے زندہ ہیں ۔
پھر نجانے کس کی نظر کھا گئی اس خطہ ارض پاک کو ۔۔
وہ جو سکول اسمبلیوں میں پہنچ کر جنگلات کی اہمیت وفضیلیت پر درس دیا کرتے تھے وہ " *گوہر نایاب"* کم یاب ہو ئے ۔ کتابوں کے مضامین و سرورق بدل دئیے گے ، وہ جملے جو جذبہ ء شجرکاری بیدار کرتے تھے وہ پنہاں کر دئیے گے ۔
محکموں کے اندر سیاسی شعور میں اس قدر بیداری(تنزلی) آئی کہ جو چھوٹی گاڑیاں درختوں کی پنیریاں لے کے گاوں گاوں قریہ قریہ صدا ء سر سبز و شاداب کشمیر بلند کرتی عوام الناس کو اپنا ہمنوا بناتی تھیں اس کے برعکس بڑے بڑے ٹرکوں ٹرالوں کا رخ معصوم و بے ضرر جنگلات کی طرف کیا گیا اور یوں
" **درخت کٹاو بخت جگاو* "
مہم کا آغاز کیا گیا اس مہم جوئی سے بہت سے سیاسی کارندوں کی دلجوئی اور بخت جگائی کی گئی ۔ ان کے خلاف ریاست کے مخلص و مفلص طبقے نے جب کبھی آواز اٹھائی تو ان ناعاقبت اندیشوں نےنئے طریقہ ء واردات ایجاد کر لیئے ۔
* عام لوگوں کی آسانی کے لیئے درختوں کی فروخت
* آراء میشینوں کے ساتھ ٹھیکہ جات
* آندھی و طوفان سے گرنے والے درختوں کی فروخت
جیسے کئی اور طریقوں کی ایجاد ہوئی ۔ جب پیٹ کی تلخی مزید بڑھی تو جنگل کو آگ لگا دو سکیم کا آغاز ہوا جو آج تک کامیابی سے جاری ہے ۔ جو کبھی رکھوالے تھے وہ کئی بار ملوث پائے گے ۔
***اس گھر کو آگ لگی گھر کے ہی چراغ سے***
کے مصداق ٹھہرے ۔
یہ داستان ستم مختصر ہے اور کارہاہ بدنماہ طویل تر
*کہنا صرف یہ ہے*
- یہ جو بستیوں کی بستیاں اجاڑی گئی ہیں خاندانوں کے خاندان ہجرت کرنے پہ مجبور کئے گئے، چرند و پرند کے رزق چھینے گے ، پہاڑوں کے سروں سے ردائیں کیھینچی گئیں، چھوٹے چھوٹے آشیانوں میں چہکتی مہکتی زندگی کو تہ خاک کیا گیا ، دشت و وحشت کا سماں بندہا گیا اس دہشت و وحشت گردی کا حساب کون چکائے گا ۔۔ یقینا اشرف المخلوقات کھڑی ہو گی کٹہراء جرم میں اور سامنے بےزباں ہوں گے انصاف ہستی ء بالا نے کرنا ہے اس وقت سے ڈرئیے اپنے آپ کو بدل دیجیئے ۔ جنگلوں کو آگ سے بچائیے ان کو پھر سے آباد کیجئے ۔ جنگلی حیات کو حیات کا حق دیجیئے ان کی آبادی سے ہمارے گھر آباد ہونگے ، ہماری نسلوں کی رگوں میں صاف و شفاف آکسیجن کی فراہمی کا ذریعہ بنیں گے ۔۔ ان کی آبادی سے ہماری چراگاہیں سبزہ زار ہونگی ہمارے جگر گوشوں کو صاف و خالص دودھ میسر آئے گا ۔۔۔ ہاں یہ تمہیں ایندھن بھی فراہم کریں گے ۔۔ اور تم طرح طرح کے لذیز کھانوں سے لطف و اندوز بھی ہونگے ۔ ہاں یہ تمہیں سایہء راحت بھی دیں گے اور سورج کی تپتی شعاوں سے بھی بچائیں گے۔۔
*میرے دیس کے لوگو* !
جس آگ سے تم پناہ مانگتے ہو اس آگ سے جنگلوں کو پناہ دے دو ۔
آو سنتِ پیغمبر کو پھر سے عام کریں ۔۔۔
**درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے*
تحریر:
وسیم احمد راجہ قرطبہ سپین
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔