معرکہ حق و باطل ازل سے ہے اور ابد تک جاری رہے گا ۔ ا نے حق کی شہادت کے لیئے ہر دور میں اپنے سب سے برگزیدہ
بندے اپنے انبیاء کرام اس فرض کی ادائیگی کے لئے انسانوں کو تعلیم دینے کے لیئے بھیجے۔ ایک لاکھ سے زائد انبیاء کرام تواتر کے ساتھ اسلام کی دعوت خلق خدا کے سامنے رکھتے چلے آئے۔
شہادت حق کے اس کام کو انجام دیتے ہوئے ہر مصیبت انگیز کی گئی ، کام کی بھرپور ادائیگی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی گئی، کسی خوف کی پرواہ نہ کی گئ نہ ہی کسی لالچ کو راستے کی رکاوٹ بننے دیا گیا۔انسانی عزیمت کا یہ سفر حضرت محمد صلی ا علیہ وسلم نبی آخر الزمان تک پہنچتے ہوئے اپنی روایات کی ایک مسلمہ تاریخ چھوڑ گیا جس کا آخری اور روشن ترین باب اسوہ رسول صلی ا علیہ وسلم کی صورت میں رہتی دنیا تک ہر مسلمان کے لیئے ایک راہ عمل بھی اور بطور حجت کے موجود رہے گا۔
امت محمدیہ صلی ا علیہ وسلم کی اولین ذمہ داری شہادت حق کی ادائیگی قرار پائی ۔ اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے مصروف و مشغول مسلمان کو ا نے اپنے انصار ہونے کا شرف خاص عنائیت
مشغول مسلمان کو ا نے اپنے انصار ہونے کا شرف خاص عنائیت فرمایا جو ایک مسلمان کی سب سے بڑی روحانی معراج ہے۔
ایک فانی جسم کا مالک ، محدود صلاحیتوں کے ساتھ اپنی بشری کمزوریوں کی موجودگی میں جب ایک مسلمان شہادت حق کو اپنا کیرئر بناتا ہے تو وہ ا کے انصار کے طور پر مشرف ہوتے ہوئے ایک ابدی حیثیت حاصل کر لیتا ہے ۔ چنانچہ خیرو شر کے اس معرکے کے خاتمے تک اس کا نام خیر کے علمبردار، حامی اور مدد گار کے طور پر باقی رہتا ہے۔
اس سے بڑا مرتبہ ایک مسلمان کو نہیں مل سکتا کہ وہ انبیاء، صدیقین ، شہداء اور صلحاء کے ساتھ اپنی جگہ حاصل کر لے۔
عزیمت کی اس شرف کی راہ نوردی کا ارادہ ہر مسلمان کرنے کو تیار ہو جاتا ہے لیکن مادی دنیا اور اس کی لذتیں اور انسان کے ایمان پر گھات لگائے بیٹھا شیطان اسے کچھ وسوسوں اور خوف کا شکار کرتے ہوئے اولا تین بڑے خدشات کا شکار کرتے ہیں: 1۔ کہیں کشمکش میں موت نہ آ لے۔ 2۔ میرے رزق کی کمائی کے آپشنز کم نہ ہو جائیں ۔ 3۔ کہیں باطل نظام اور اس کے کل پرزے مجھے زیر و ذلیل ہی نہ کر دیں ۔ یہ تینوں خدشات واقعی بہت بڑے ہیں اور شخصیت پر ضعف طاری کر دینے کے لیئے اتنے کافی ہوتے ہیں کہ ان کا شکار مسلمان کوئی بلند اور عظیم نصب العین اختیار ہی نہیں کرسکتا جب تک کہ ان کا ازالہ نہ کر لے۔ ہر مشکل گھڑی میں مسلمان نے اپنے مشکل کشا رب کی طرف رجوع کرنا ہوتا ہے ۔اگر ان خدشات کی مشکلات کے تناظر میں آپ اپنے ا سے رجوع کریں تو کیا زبردست راہنمائ نصیب ہو جاتی ہے: 1۔ زندگی اور موت کا اختیار صرف ا کے پاس ہےوہ نہ چاہے تو دنیا کا کوئی سبب ، دشمن کا کوئی حربہ اور حالات کا کوئی دھارا بھی انسان کو موت کے منہ میں نہیں لے جا سکتا ۔
لیکن اگر ا موت کا فیصلہ کر لے تو دنیا کی تدبیر، دوستوں کی کوئی کوشش اور ماحول کی کوئی سازگاری موت سے بچا نہیں سکتی۔ اس لیئے اس خوف کو ہر مسلمان مرد و عورت کو دل سے ہمیشہ کے لئے نکال باہر کرنا چاہیے کہ وہ زندگی کی رعنائیوں اور موت کے خوف کی وجہ سے اپنے آپ کو معرکہ حق و باطل میں کودنے کے لیئے تیار نہیں کر پا رہا ہے ۔
2۔ رزق کی چابیاں بھی ا نے اپنے پاس رکھی ہیں ۔ وہ جس کا چاہتا ہے رزق وسیع اور تنگ کر دیتا ہے۔ وہ رزق کے عطا کرنے پر کسی سبب کا محتاج نہیں ۔ اور مزید یہ کہ جسکا رزق وہ بڑھا دے مخلوق میں سے کسی کی مجال نہیں کہ وہ اسے کم کر سکے اور جس کا رزق وہ کم کر دے تو کوئی اختیار نہیں رکھتا کہ اسے وسیع کر سکے۔ پتہ چلا کہ مسلمان کو اس حوالے سے متوکل ہوکر اپنے ا پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے اپنے اصل فرض کی ادائیگی کے لئے نکل کھڑا ہونا چاہیے ۔
3۔ زمین وآسمان کی بادشاہی ، عروج و زوال اور عزت و ذلت کا مالک بھی وہ اکیلا ہے۔ جسے چاہے بادشاہی دے جس سے چاہے چھین لے اور جسے چاہے عزت دے اور جسے ذلیل کر دے یہ اختیار صرف میرے ا کا ہے۔ معلوم ہوا کہ مسلمان کے اس آخری خدشے کا جواب بھی اس کے رب کے پاس ہے۔
یہ تین بنیادی حقائق محض معلومات نہیں بلکہ بندہ مومن کا ایمان ہونا چاہئیں ۔
جو جو بھی اس ایمان کو اپنے ہاں پختگی سے رچائےبسائے گا انشاءا وہ مرد ہو یا عورت ا کی راہ میں نکلنا آسان محسوس کرے گا ۔
عمر بھر صبر کے ساتھ شہادت حق کا علمبردار بن کر جیئے گا اسی راہ پر کامل سپردگی اور حوالگی کے ساتھ جان دے کر اپنے رب کی جوار رحمت میں مقام بلند جنت الفردوس پائےگا۔
ا ہمیں فریضہ شہادت حق کا شعور ، اس کی ادائیگی کا جنون اور اسی راہ پر چلتے ہوئے شہادت نصیب فرمائے ۔ آمین
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔