جنرل صاحب سٹھیا گئے ھیں۔ مشن جبرالٹر کے دو حصے تھے ایک جموں کے لئے جس کی قیادت میرے چچا بریگیڈیئر ریڈائرڈ شیر احمد نے کی اور دوسرا وادی کے لئے۔
جموں مشن کل نوے افراد پر مشتمل تھا لوگوں نے بے مثال تعان کیا انھیں تربیت اور اسلحہ دیا گیا اور کمانڈو کاروائیوں سے نہ صرف ایک بھارتی ڈویژن کو شکست سے دو چار کر کے
راجوری پر قبضہ کیا بلکہ وھاں اپنی حکومت قائم کی۔ اس سلسلے میں چوہدری منیر صاحب سابق پرنسپل سیکریٹری/ سیکریٹری کی فیملی اور خصوصآ ان کے سسر صاحب نے بے حد تعاون کیا۔
جہاں تک وادی کا تعلق ھے یہ بات اس حد تک درست ھے کہ لوگوں نے اس حد تک تعاون نہیں کیا۔ لیکن یہ کہنا سخت زیادتی اور ناقابل برداشت ھے کہ لوگوں نے پاکستانی کمانڈوز کو پکڑ کر انڈین کے حوالے کیا۔
اصل میں اس اوپریشن کا بنیادی نقطہ یہ مفروضہ تھا کہ کشمیر میں کسی قسم کی کاروائی پر بھارت مسلمہ بارڈر کراس نہیں کرے گا۔ جنرل صاحب کو اس غلط حکمت عملی کا جواب دینا چاہئے اور یہی وجہ ھے کہ فتح کئے ھوئے راجوری کو چھوڑ کر واپس آنا پڑا اور آنے سے پہلے انھوں نے درخواست کی کہ انھیں ادھر ھی رھنے دیا جائے واپس نہ بلایا جائے ورنہ ان لوگوں پر بے انتہا ظلم ھوں گے اور وہ کبھی پاکستان پر بھروسہ نہیں کریں گے۔ یہ تحریر GHQ میں موجود ھے اور جنرل صاحب کو ضرور پڑھنی چاہئے۔
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔