پل کی حالت اس سے بھی بدترین ہو گئی ہے۔
گذشتہ دس سال سے ہمارے ممبر قومی اسمبلی ھفتے میں ایک بار تو اس پل سے گزرتے ہونگے۔
سچ ہے جب جوابدہی کا احساس نہ رہے، عوام حلقہ قومی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دیں تو پھر اگلے ۵ سال بھی بجلی کا مسئلہ، ہسپتال میں عملہ کی تعیناتی، بحرانوں میں خاموشی ، گرڈ اسٹیشن ، جنڈالہ سے پیر گلی روڈ، تعلیمی اداروں میں من پسند تعیناتیاں، ایڈھاک ازم پر کمیشن حلقہ کے لوگوں کا مقدر رہے گا۔
اسعد فخرالدین
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔