کل پہلی مرتبہ نہیں تھی ، جب فواد چودھری صاحب نے چاند کے مسلے کو متنازعہ بنانے کی کو شش کی،
بلکہ گذشتہ کئی مرتبہ سے انھوں نے مستقل یہ وطیرہ اپنایا ہوا ہے، اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ مولوی تو سائنس کے دشمن ہیں ، لہذا یہ سائنس سے استفادہ ہی نہیں کرتے
بات یہیں تک نہیں رہی بلکہ انھوں نے عملا 3 مرتبہ رویت ہلال کے عمل میں باقاعدہ intervention کرتے ہوئے، کمیٹی پر زور دیا ہے کہ مہینہ شروع ہونے کا اعلان اس ہی دن کیجئے جس دن وہ بتا رہے ہیں۔
ہر ادارہ کا اپنا SOW ہے اور اگر کوئی دوسرا، اس میں مداخلت کرتا ہے تو وہ گویا اس میں بگاڑ پیدا کرتا ہے
روئت ہلال بھی اس ہی طرح حکومت کا ادارہ ہے اور اس کا فیصلہ ( غلط یا صحیح ) دراصل حکومت کا فیصلہ ہے، اس کو میڈیا کے اوپر اچھالنا اور اس پر لڑنا نہ صرف یہ کہ بالکل غلط ہے ، بلکہ حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
لہذا حکومت کو چاہئے کہ اس مسلے کو سنجیدہ لیں اور بگاڑ کو ہوا دینے کے بجائے وہ فواد چودھری کی فتنہ گری کی سرکوبی کے لئے ان کے خلاف تادیبی کاروائی کریں ، اور وارننگ دیں کہ اگر آئندہ اس قسم کا کوئی بیان منظر عام پر آیا تو ان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔
جہاں تک بات روئت کی ہے تو اس کے متعلق فواد چودھری یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ رویت ہلال کمیٹی ، پہلے ہی Pakistan meteorological department کے تعاون کے ساتھ کام کرتی ہے ، جس کے پاس وہ تمام data اور calculations موجود ہوتی ہیں جس کا اظہار وہ میڈیا پر آ کر کرتے ہیں
کچھ سادہ لوح( TV anchors ) لوگ پھر بھی اصرار کرتے ہیں کہ کیا برائی ہے اگر مفتی منیب ، فواد چودھری کے مشورہ سے استفادہ حاصل کریں، تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ مفتی صاحب یہ کام پہلے ہی کر رہے ہیں اور برسوں سے کر رہے ہیں، اگر وہ سائنس کے دشمن ہوتے تو telescope اور سائنسی آلات سے بھی مدد نہ لیتے۔
لیکن فواد چودھری کا مقصد ان کی مدد کرنا نہیں بلکہ صرف فتنہ گری ہے، جس سے وہ قوم میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں

0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔