Thursday, July 9, 2020

سماہنی کا سیاسی مستقبل اور رائے عامہ ۔ چوہدری ادریس


سما  ہنی کا سیاسی مستقبل اور  رائے عامہ !!
الیکشن 2016ء  کے بعد حلقہ سما  ہنی میں کچھ رائے یہ تھی کہ شاید ”ن لیگ ٹکٹ ہولڈ ر“  شکست کے بعد چار سال کیلئے گمنام ہوجائیں گے 
 پی ٹی آئی و پی پی پی ٹکٹ ہولڈر چار سال کے لئے جزوقتی برعکس کل وقتی سیاسی سرگرمیوں سے کوسوں دور ہی رہے۔ چھ ماہ، سال تک  ایک ادھ پریس کانفرنس یا اخباری بیانیہ سے زیادہ کچھ بھی ریکار ڈ میں نہ دیکھا گیا۔ منتخب ممبر اسمبلی بھی چار سال تک حکمران جماعت کے پلے  ”خود ساختہ “  بندھے رہے۔حکومت یا اپوزیشن مخالف بیانیہ بھی کوئی خاطرخواہ نہیں!!
 اپوزیشن کا کردار ” مرزا عبدالقدیر فاروقی، چوہدری شاہ ولی، راجہ جاوید اختر، سابق امیدوار اسمبلی چوہدری محمدلطیف آف پڑاٹی،راجہ غضنفرخان ایڈووکیٹ صدر انجمن تاجران چوکی، شیخ خورشید احمد، راجہ ناظم، راجہ طارق، وجاہت حنیف، کاشف لطیف، حافظ حمید سمیت دیگر درجن بھر اشخاص کے علاوہ میڈیا نمائندگان نے بھرپور انداز میں نبھایا۔  بے شمار احتجاج ہوئے۔ خاص کر بجلی کے مسائل پر سب سے زیادہ ”بیانیہ“ اخبارات کی شہ سرخیاں بنا، سوشل میڈیا ٹرینڈ رہا، مگر حلقہ میں اپوزیشن کی سمجھ نہ آئی کہ اپوزیشن  ”کس فارمولہ کا نام ہے “  یہ الگ بات ہے کہ ”سمجھ “  تو چار سال بعد بھی نہیں آرہی۔
حکومت بننے کے بعد، حلقہ سما  ہنی میں جو پہلا احتجاج ریکارڈ میں آنا شروع ہوا،  شرائط تابع / ایڈہاک و مشروط اساتذہ کا تھا۔ اس پر پی پی ٹکٹ ہولڈر کی ایک عدد پریس کانفرنس چند بیانیہ بھی ریکارڈ پر موجود ہے،
 بجلی بحران پر احتجاج۔اضافی بلات پر احتجاج۔ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر احتجاج۔۔ سب ڈویژن سما  ہنی کے تما م کاروباری مراکز میں پہیہ جام ہڑتال، شٹر ڈاؤن ہڑتال، کا سلسلہ بدستور ”اخباری  شہ سرخیاں“ بنتا رہا۔ اپوزیشن بیانیہ۔ سوشل ایکٹویٹس ہی کے نام سے ہی لیڈ کرتا رہا۔ چار سال بعد بالاخر  ”ہمالیائی گلیشئر کا پگلنا“ مکافات عمل ہی ہوسکتاہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تابڑ تو ڑ۔ بلکہ نظر پھٹک بیانیہ  و  رائے جاری ہے۔مگر حقائق یہ ہیں کہ ن لیگ ٹکٹ ہولڈ ر نے باوجود الیکشن شکست  حلقہ بھر میں عوام کیلئے بھرپور ٹائم دیا،اور حکومتی نمائندگی بھرپور انداز سے کی۔ اور اس تاثر کو غلط ثابت کیا کہ شاید الیکشن شکست کے بعد ”لالہ موسیٰ میں ہی نظر آئیں گے۔ یہ رائے بھی قطعی غلط نہیں کہ عمر کے اس حصے میں بھی ن لیگی ٹکٹ ہولڈر کا سیاسی ورک، اور بھاگ دوڑ  آمدہ الیکشن میں بہتر مقابلے کی فضا بنانے میں کامیاب۔ یہ بھی ممکن ہوسکتاہے کہ ”سما  ہنی کاسیاسی مستقبل“  ن لیگی ٹکٹ ہولڈ ر کے نام ہو۔ آہستہ آہستہ سیاسی موسم کاٹمپریچر بڑھ رہاہے تاہم الیکشن میں کم وبیش  ایک سال باقی بچا ہے، حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہے !!
 سوشل ایکٹیویٹس معززین سے گزارش ہے کہ کچھ یاد کچھ بھول کر امن اور بھائی چارے سے رہیں۔ سیاسی شعور کو بلڈوز ہونے سے بچائیں۔ یہی ہماری سب سے بڑی کامیابی کی دلیل ہے !!
ادریس چوہدری 

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔