Monday, August 17, 2020

سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے.اسعد فخرالدین

 سانحہ ساہیوال ہو، خروٹ آباد ہو، کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں گولیوں کا شکار ہونے والا نوجوان ہو یا اب  بلوچستان کا طالبعلم ایف سی کے ہاتھوں شہید ہونے والا “حیات “ہو ، کسی کیس میں قاتلوں کو سز انہیں دی گئی ویسے ہی دندناتے پھر رہے ہیں  

معاشرے کے محافظ جب قاتل بن جائیں بیچ سڑکوں میں شہریوں کو قتل کرکے عدالتوں سے بری ذمہ ہوجائیں آب تو انصاف کہاں ملے گا 

درندوں کے معاشرے میں قطر سے واپسی کے بعد بھی انصاف نہیں ملا تو حیات کے لئے کیا امید رکھیں 

سینٹر مشتاق صاحب نے سینٹ نے اس واقعہ پر بھرپور آواز اٹھائی ہے 

اس واقعہ میں ملوث ایف سی اہلکار کو کڑی سے کڑی سزا نا ملی تو کئی حیات بلوچوں کا اس ریاست سے اعتماد اُٹھ جائے گا وہ اسے اپنا دشمن سمجھیں گے پلیز ہاتھ جوڑتے ہیں حضور خدارا اپنا مستقبل اس ملک کا مستقبل بچا لیجیے خدارا نا لیجیے ماوں کی بدعا خدارا


سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے


#JusticeForHayatBaloch


اسعد فخرالدین

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔