جھوٹوں نے جھوٹوں سے کہا ہے سچ بولو
سرکاری اعلان ہوا ہے سچ بولو
گھر کے اندر جھوٹوں کی اک منڈی ہے
دروازے پر لکھا ہوا سچ بولو
آہ! راحت اندوری
ممتازشاعر ڈاکٹر راحت قریشی المعروف راحت اندوری آج اپنے آبائی مقام اندور، مدھیاپردیش (ہندوستان ) میں انتقال کرگئے۔
ایک مزدور کے گھر جنم لینے راحت قریشی نے اندور کے اسلامیہ کریمیہ کالج سے بی اے، جامعہ برکت اللہ بھوپال س ے ایم اے اور جامعہ بھوج مدھیہ پردیش سے اردومیں پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں۔پروفیسر اندوری نے مشق سخن کے ساتھ مختلف کالجوں اور جامعات میں درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ اندوری صاحب نے فلمی نغمات بھی لکھے۔
ڈاکٹر اندوری کے مجموعہ ہائے کلام 'رت'،' دو قدم اور سہی '، ' 'میرے بعد'، 'دھوپ بہت ہے آج'۔ 'چاند پاگل ہے'۔' موجود'، اور 'ناراض' کو پزیرائی نصیب ہوئی۔
ڈاکٹر اندوری 10 اگست کو دل کا دورہ پڑا جس پر انھیں ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں انکا کرونا وائرس کا ٹیست بھی مثبت نکلا۔ ڈاکٹر راحت اندوری 11 اگست کو 70 سال کی عمر میں انتقال کرگئے
انتقال سے کچھ عرصہ پہلے انکی ایک غزل TikTokپر بہت مقبول ہوئی۔یہ کلام پیش خدمت ہے
نوٹ: جناب اندوری کا اصرار تھا کہ غزل کے ردیف 'نہیں' کو قدیم اردو املے کے مطابق 'نئی' لکھا جاے۔ ہم نے اندروری مرحوم کی خواہش کے احترام میں اسی طرح لکھا ہے
بلاتی ہے مگر جانے کا نئی
یہ دنیا ہے ادھر جانے کانئی
مرے بیٹے کسی سے عشق کر
مگر حد سے گزرجانے کا نئی
کشادہ ظرف ہونا چاہئے
چھلک جانے کا بھرجانےکا نئی
ستارے نوچ کر لے جاونگا
میں خالی ہاتھ گھر جانے کا نئی
وبا پھیلی ہوئی ہے ہرطرف
ابھی ماحول مرجانے کا نئی
وہ گردن ناپتا ہے ناپ لے
مگر ظالم سے ڈرجانے کا نئی
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔