Friday, August 21, 2020

جوان سعید نام کی طرح جوش ۔ سراپا تحریک ۔اسعد فخرالدین



جوان سعید جوش
اپنے لہو سے سینچے اس گلشن میں آئی بہاروں پر خوش ہے
اپنی لگائی فصل کے بارآور ہونے پر شاداں ہے
لیکن
ظلم کے مقابل بے جگری سے لڑنے والے اپنے ابتدائی ساتھیوں کو یاد کر کے افسردہ بھی ہو جاتا ہے جو اس بہار کو دیکھنے سے رہے 
نام کی طرح پرجوش ، استقامت کا مینارہ 
خالد صاحب ! ان کی دھڑکنوں کومحسوس کریں 
میجر صاحب !!ان کے چہرے پر کھلی مسکراہٹ  اور اطمینان  کو دیکھئے 

غربی باغ کے باشعور لوگو! 
جانتے ہو اس مسکراہٹ کے پیچھے کتنی لمبی داستان ہے؟ 
ظلم بربریت، لاقانونیت ، اجارہ داری اور سرداری کی داستان ۔۔۔۔

اس مسکراہٹ کے پیچھے تو چار دہائیوں کی وفا ہے 
عزم و استقامت  ہے
 نظریے سے محبت ہے 
مشن سے لگن ہے

وقت نے کروٹ بدلی ہے 
جہاں  دو ووٹ زیادہ نکلنے پر پورے گاؤں کو لائن حاضر کر کے بے توقیر کیا جاتا تھا 
جہاں  گلیوں میں آپ کو لہولہان کیا جاتا رہا، جہاں آپ نے جبر کے پہاڑ سہے 
آج اس نیلہ بٹ نے بالآخر  انگڑائی لی ہے 
انقلاب کی صدا پر پیر و جواں لبیک کہنے نکل پڑے ہیں

اندھیروں کے پیامبر
آخری وقت تک اس روشنی کے سفر کو روکنے میں لگے رہے 
لیکن نامراد رہے

پوری زندگی استقامت کے ساتھ ڈٹے “جوش” صاحب  نے دھیرکوٹ کی بازاروں و چوراہوں میں جس “شعوری جدوجہد” کی ابتداء چار دہائیاں قبل کی تھی   
آج اس نے دلوں کو مسخر کرنا تیز تر کر دیا ہے
 ظلم کی علامت بن چکے مافیا کی نسلوں کی غلامی سے عوام بغاوت کر چکے
مقافات عمل کی چکی پسنا شروع ہو گئی ہے 
ہر کارکن سعید جوش بن گیا ہے 
ظلم کے خلاف چٹان بن گیا ہے 
اسعد فخرالدین

 


 

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔