Sunday, August 30, 2020

قوم پرستوں کے 16 ارب ڈالر کے دعوے اور حقیقت.اظہر فخرالدین

 قوم پرستوں کے 16 ارب ڈالر کے دعوے اور حقیقت


ہمارے قوم پرست دوست حضرات اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان کے 

بینکوں میں سے کشمیریوں کا پیسہ اگر نکال لیا جائے تو پاکستان دیوالیہ ہو جائے۔ ویسے تو اس دلیل کی حثیت منگلا ڈیم اور پانی کی رائلٹی کے غبارے جیسی ہی ہے مگر آئیں آج اس دعوی کا بھی جائزہ لے ہی لیتے ہیں، عقلی بنیادوں اور اعداد و شمار کی روشنی میں۔


 قوم پرست دوست کوئی لگ بھگ 16  ارب ڈالر سالانہ کا دعوی دائر کرتے ہیں۔ یعنی بیرون ملک کشمیری اتنے پیسے سالانہ پاکستانی بینکوں میں بھیجتے ہیں۔


ایک اہم بات سمجھنے کی یہ ہے کہ ترسیلات زر، یعنی بیرون ملک سے آنے والے پیسوں میں کشمیری اور پاکستان کے باقی صوبوں کے رہنے والے افرد کا الگ الگ حساب کتاب نہیں ہوتا۔ سب کے پیسوں کو ملا کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایک ٹوٹل فگر جاری کرتا ہے۔


اب آتے ہیں اعدادو شمارکی طرف


پاکستان میں ترسیلات زر کی مد میں بینکوں کے زریعے لگ بھگ 23 ارب ڈالر سالانہ بھیجے جاتے ہیں۔


بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد 8.8 ملین ہے۔ 88 لاکھ۔ جو آزاد کشمیر کی کل آبادی کا دوگنا سے بھی زائد ہے۔ آزاد کشمر کی کل آبادی لگ بھگ 40 لاکھ ہے۔  بیرون ملک کشمیریوں کی ٹھیک تعداد کے کوئی اعداد و شمار مرتب نہیں۔اگر ہم پاکستان کے اوور سیز رہائشیوں کی اوسط کے لحاظ سے اندازہ لگائیں ےتو کوئی دو لاکھ کے قریب کشمیری بیرون ملک ہونگے۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ 88 لاکھ ملکر 7 ارب بھجواتے ہوں اور دو لاکھ 16 ارب ڈالر؟ کیا عقل اسکو مانتی ہے؟

(دو لا کھ کے فگر میں کمی بیشی ممکن ہے ایک دوست کے اندازے کے مطابق یہ کوئی چار لا کھ  یا اس سے بھی زائدہ ہو سکتے ہیں  بہر حال صحیح تعداد معلوم نہیں. )


چلیں اسکو بھی رہنے دیں۔ پاکستان کو موصول ہونے والی ترسیلات زر میں پہلے نمبر پر سعودیہ، دوسرے پر یو اے ای  آتے ہیں۔یہ دونوں ملکر 23  ارب ڈالر کا آدھا حصہ بھیجتے ہیں۔ کشمیری تو صرف برطانیہ میں ہی بڑی تعداد میں آباد ہیں، اور وہی زیادہ خوشحال بھی ہی ۔ برطانیہ کا کل ملا کر 3 سے 4 ارب ڈالر بنتا ہے۔ اس میں 11 لاکھ پاکستانی شامل ہیں اور اور کوئی ایک لاکھ کشمیری۔ باقی اندازہ آپ خود ہی لگا لیں کہ ان 3,4 ارب میں سے کون کتنا بھیجتا ہو گا؟


اور ویسے آپ کہتے ہیں کہ ستر فی صد عوام آکے ساتھ ہے۔ توکیوں نہیں آپ عوام کوکہہ کر ایک مہینے کے لیے ہی سہی  ان 16ارب ڈالرز کو بینکوں سے نکلوا لیتے۔ پاکستان بھی آپ کے گھٹنوں میں لیٹ جائے گا اور آپ کا دعوی بھی سچ ثابت ہو جائے گا۔


خدارا سچ تو بولیں۔ کہاں سے آپ لوگ کہانیاں اور افسانے گھڑتے ہیں۔ کیا آپکو سچ کا سامنا کرتے ہوے شرمندگی نہیں ہوتی؟


0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔