Thursday, August 6, 2020

مثالی امیر اور مثالی کارکن ۔شمس الدین امجد

مثالی امیر مثالی کارکن
۔
ابھی امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق صاحب سے بات ہوئی۔ معلوم ہوا بائی روڈ اسلام آباد سے کراچی کی طرف عازم سفر ہیں۔ گزارش کی کہ بائی ائیر جانے میں آسانی رہتی۔ کہا کہ آج پارلیمنٹ کا مشترکہ سیشن تھا۔ اس سے فراغت ہوئی تو کوئی فلائٹ دستیاب نہیں تھی۔ کل موسم خراب بتایا گیا، معلوم نہیں فلائٹ دستیاب ہو یا نہیں۔ اس لیے بائی روڈ نکل پڑے ہیں۔ 
۔
اللہ تعالی امیر صاحب کو خیر و عافیت سے منزل تک پہنچائے۔ جماعت کی انفرادی خصوصیات بیان کی جائیں، یا حل صرف جماعت اسلامی کا کہا جائے تو بعض دوست تعجب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر آپ بتائیے کہ کسی اور پارٹی میں کہاں ایسے امیر اور سربراہ ہیں جو مشکل وقت میں اپنے کارکنان کے درمیان جانے ان کے حوصلے بڑھانے کو بےتاب ہوں۔ یہاں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا کوئی مرحلہ آئے تو قیادت غائب ہوتی ہے یا کارکن، اور قیادت گاہے سات پردوں میں چھپ جاتی ہے، مگر یہ اللہ کا کرم اور جماعت کا خصوصی امتیاز ہے کہ اس کا امیر ہو یا ادنی کارکن، دونوں ایک دوسرے کی ڈھال ہیں، دونوں میدان میں موجود رہتے ہیں، ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔ کسی کو شاید یہ چھوٹی بات کو بڑا بنا کر پیش کرنا نظر آئے مگر ایک لمحے کو ٹھہریے اور خود سوچیے کہ نفسا نفسی کے عالم میں بھلا کہاں ایسے ہوتا ہے۔ کارکن کو چلتے کارواں میں کچھ ہو جائے تو چند لمحے رک کر گاڑی سے اتر کر اس کا حال پوچھنا گوارا نہیں کیا جاتا، کجا کہ اس کے گھر جایا جائے۔ مگر سراج الحق صاحب روانہ ہوئے ہیں، لمبا سفر، مگر آرام کرنے کے بجائے کل ہسپتال جائیں گے، کارکنان کے گھروں میں جانا ہوگا، رفیق تنولی شہید کے اہل خانہ کو حوصلہ دینا ہوگا۔ اور یہ سب کرکے کل رات کسی وقت پشاور روانہ ہوگا کہ اگلے دن وہاں مصروفیات طے ہیں۔
۔
اللہ تعالی اس اجتماعیت کی برکت کو برقرار رکھے، اور اہل پاکستان کو اس کی توفیق دے کہ اپنے حقیقی خیرخواہوں کو پہچانیں اور اس قافلے میں شامل ہو جائیں۔ آمین. شمس الدین امجد

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔