پاکستانی سیاست / جمہوریت کا المیہ
تحریر: رفعت رشید عباسی
پاکستان میں جمہوریت وہ بھیڑ ہے جو بھیڑیے کے جبڑوں میں سسک رہی ہے
اور
جمہوریت کے خیر خواہ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ اس تڑپتی سسکتی جمہوریت کو اس عذاب سے نجات دلانے کے لیے اپنی جاں لڑا رہے ہیں
لیکن
بدقسمتی سے حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے
جمہوریت کی خیر خواہی کا لبادہ اوڑھے یہ سب لوگ درپردہ بھیڑیے کی خوشنودی حاصل کرنے میں ہی دن رات لگے ہوئے ہیں
کہ
کسی طرح وہ ان سے راضی ہو جائے اور اس بھیڑ کے چیتھڑوں میں سے کچھ حصہ انہیں عنائت کر دے.
حقیقت کتنی بھیانک ہے
کہ
بھیڑ جن کو اپنا سمجھ کر ان سے امیدیں لگائی بیٹھی ہے وہ اصل میں بھیڑیے کے غلام ہیں.
ان غلاموں میں سے جسے یہ حصہ مل جاتا ہے اس کے لیے یہی جمہوریت ہے اور وہ بھیڑیے کا ترجمان بن کر اس کے گن گانے میں لگ جاتا ہے
اور
جو اس سےمحروم رہ جاتا ہے
وہ جمہور کی خیر خواہی کے نام پر شور شرابا کر کے اپنی اگلی باری کی راہ ہموار کرنے میں لگ جاتا ہے
اور اس سارے عمل کو عوامی حقوق، جمہوریت کا استحکام، آئین کی بالادستی جیسے خوبصورت نام دیتا ہے۔
عوام کے ہجوم میں ان کے منہ انقلاب کےشعلے اگل رہے ہوتے ہیں اور اسی لمحے ان کے کان کسی خاص "پیغام" کے بھی منتظر ہوتے ہیں اس آس میں کہ کب نظر کرم ہو جائے۔
یوں دوہرے چہرے رکھنے والے عوام میں انقلابی اور بھیڑیے کی در پر سوالی بنے رہتے ہیں۔
ان کا سارا اانقلابی پن بھیڑیے کی رضا کی حدود میں ہی رہتا ہے اور وہ اطاعت وفرمانبرداری کی حد کبھی پار نہیں کرتے ہیں کہ کہیں بھیڑیے صاحب کو غصہ آ جائے اور خواہ مخواہ عوام ، جمہوریت اور انقلابی پن کے نام پر آئندہ نسلوں تک کے اس ملک پر حکمرانی کے امکانات داو پر لگ جائیں۔
جب تک سیاست اس بزدلانہ و منافقانہ انداز سے پاک نہیں ہو گی عوام کا حق حکمرانی بحال نہیں ہو سکتا۔
آئین کی کتاب میں لکھے چند حروف کے پیچھے اگر منظم و باشعور عوامی طاقت نہیں ہو گی تو کوئی بھی اور "طاقت" ان حروف کی حرمت کی پاسداری کبھی نہیں کرے گی.
1 comments:
Ye Jamoreat kea ha, Asl Hakmayet to Allah ki ha and Islami Nazam Khalfat
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔