بھارتی ٹارچر سیل میں کیے گئے تشدد کے نشانات ان کے ٹانگوں اور بازوں پر ابھی بھی موجود تھے۔
عبدالمجید بھٹ جماعت اسلامی ضلع بارہمولہ کے امیر ضلع اور قیم ضلع رہے ہیں۔حلقہ انتخاب رفیع آباد سے جماعت اسلامی اور مسلم متحدہ محاذ کے امید وار بھی رہے۔ بہت سنجیدہ اور ملنسار تھے۔
جبیل مقبول بٹ شہید کی برسی میں ان سے پہلی ملاقات ہی ہماری قربت کا باعث بنی، پچاس منٹ کی ان کی مفصل گفتگو نے ان سے ملنے ہر مجبور کیا
برسی کے اگلے ہی ھفتے ریاض جانا ہوا تو ایک دن قبل کال کی کہ چار بجے آپ کے گھر آوں گا، کہا چار بجے نہیں ایک بجے آئیں کشمیری کھانا ملکر کھائیں گے۔
پانچ گھنٹے کی طویل ملاقات کے بعد اندازہ ہوا آپ تو کشمیر کا انسائیکلوپیڈیا ہیں، جب بھی ریاض جانا ہوا تو بھٹ صاحب کے گھر ضرور چکر لگا۔کشمیری چائے اور کشمیری کھانے سے ہی تواضع کی
ٹانگ میں سوجن کے باوجود نیچے چھوڑنے کے لئے آتے اور رات کال کرکے پوچھتے کہ بخیریت پہنچ گئے ہو!
علی گیلانی صاحب کے قریبی دوستوں میں سے تھے، جیل میں اور کالی ٹھوکری میں ساتھ ساتھ بند رہے
انکوائریاں اور جیلیں بھگتیں۔۔
ان سے ملاقاتوں پر جلد مکمل مضمون لکھنے کا ارادہ ہے
پاکستانی حکومت کی پالیسز سے بہت خفا تھے، لیکن پاکستان سے محبت کا تذکرہ بارہا کرتے تھے۔
ریاض میں ہی مقیم رہے اور آخری سالوں میں آپ کی وابستگی کسی جماعت سے نہیں رہی۔
انتہائی شفیق تھے، منور صاحب کی وفات پر کال کی تو ایک گھنٹہ ان کے یادیں اور باتیں کرتے رہے ، ڈوبتی آواز میں سارے قصے سناتے رہے
ان سے فون پر آخری بات یہ تھی کہ جماعت اسلامی نے اگر مقبوضہ کشمیر میں نظریاتی فصل نہ کھڑی کی ہوتی تو آج شاید یہ مزاحمت بھی نہ ہوتی ۔۔
ایک اور بات بات جو ہمیشہ یاد رہے گی !
“جس کسی تحریک میں اینجسیاں (کوئی بھی) انوالو ہو جائیں پھر وہ تحریک لوگوں کی تحریک نہیں پھر “ان “کی تحریک بن جاتی ہے”
زندہ دل، بیدار مغز اور مدبر رہنما تھے،دو ماہ وینٹیلیٹر پر رہنے کے بعد آج خالق حقیقی سے جا ملے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ ان کی مفغرت فرمائے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے آمین
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔