اقوام متحدہ کی قراردادیں ، کشمیریوں کے پاس موجود آپشنز ، سعید اسعد اور امان اللہ خان کے جھوٹ اور خود مختاری کی حقیت.
آیے مل کر کُچھ سوالوں کا جواب تلاش کریں .
کیا اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیریوں کا پاس خود مختاری کا آپشن موجود ہے ؟
کیا پاکستان نے اقوام متحدہ سے ساز باز کر کے سیکورٹی کونسل کی قراردادوں سے خود مختاری کا آپشن نکلوا دیا جیسا کے قوم پرستوں کے دانشواران دعوی کرتے ہیں ؟
ان سوالوں کے جواب ہمیں سیکورٹی کونسل کا قردار نو ٤٧ میں مل جائیں گے جو مثلا کشمیر پر پہلی جامع قرارداد تھی . جو ٢١ اپریل ١٩٤٨ کو پاس ہوئی تھی .
یکم جنوری 1948ء کو بھارت جموں و کشمیر کا مسلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر گیا جس پر اقوام متحدہ کا کمیشن برائے بھارت اور پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا. اس کمیشن نے پھر مسلہ کشمیر کے حل کے لئے مختلف قراردادیں پاس کیں لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث ان میں سے کسی بھی قرارداد پر پورے طورعمل نہیں ہو سکا اور مسلہ ابھی بھی حل طلب ہے .
جب ہم سلامتی کونسل کی قراردادوں کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو ایک چیز بلکل واضح ہو جاتی ہے کہ سب کی سب قرادادوں میں جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے رائے شماری کے دوران صرف دو ہی آپشن رکھے گئےہیں۔ مگرایک دلچسپ چیز جو کافی عرصے سے پھیلائی جا رہی ہے کہ ان قراردادوں میں ایک تیسرا آپشن بھی تھا "خودمختار ریاست" کے لئے جسے پاکستان نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ نکلوا دیا۔
یہ جھوٹ بہت تواتر سے بولا گیا اوراسکو پھیلانے میں کچھ جانے مانے قوم پرست رہنما بھی شامل ہیں جس کی وجہ سے لوگوں نے اسے سچ سمجھنا شروع کر دیا۔ لبریشن فرنٹ کے بانی اور اپنے وقت کے سرپرست عالی امان اللہ خان مرحوم نے اپنی کتاب میں حکومت پاکستان کے کشمیر کو لے کر یو ٹرن بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں؛
"مسلہ کشمیر اقوام متحدہ میں چلا گیا اور وہاں 13 اگست 1948ء کی قرارداد میں طے ہوا کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہونے والی رائے شماری کے ذریعہ کریں گے۔۔۔ لیکن صرف چار ماہ کے اندر پاکستان نے پینترا بدل کر اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو بھارت یا پاکستان سے الحاق تک محدود کر دیا جائے اور اس نے اپنا یہ مطالبہ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان کی 5 جنوری 1949ء کی قرارداد کے تحت منوا لیا۔" [1]
موصوف ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ؛
"پاکستان نے 25 دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے کمیشن کے نام اپنے خط میں مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو بھارت یا پاکستان سے الحاق تک محدود کر دیا جائے." [2]
اسی طرح سعید اسد صاحب نے اپنی کتاب "جموں کشمیر بک آف نالج" میں لکھا ہے؛
"پاکستانی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے 25 دسمبر 1948ء کو UNCIP کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے آزادانہ حق خودارادیت کو بھارت یا پاکستان سے الحاق تک محدود کیا جائے۔" [3]
ان تمام الزامات کا باریک بینی سے مطالع کرنے پر یہ بات آشکار ہو گی کے ان میں ذرا برابر بھی سچائی نہیں ہے .
آگے بڑھنے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ سلامتی کونسل کی پہلی مین قرارداد جو کہ 21 اپریل 1948ء میں پاس ہوئی اس میں درج ہے کہ؛
"ہندوستان اور پاکستان دونوں اس پر راضی ہیں کہ جموں وکشمیر کے ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کے سوال کا فیصلہ آزاد اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے کیا جائے."[4]
See the screenshots attached of the resolution 47 (21 April 1948). I can share the original copy if you need.
اس پہلی قراداد میں ہی کشمیریوں کو دو آپشنز دے گے ہیں، انڈیا یا پاکستان کے ساتھ الحاق . تیسرا کوئی آپشن نہیں. اب آپ خود اندازہ لگیں کے یہ قرارداد اپریل ١٩٤٨ میں پاس ہوئی. سکرین شاٹ لگا دے گے ہیں حوالہ کے لیے. اب امان اللہ خان ور سعید اسعد جھوٹ بولتے ہوۓ کہتے ہیں ک دسمبر میں پاکستان کے وزیر ا خارجہ نے تیسرا آپشن نکلوا دیا.
یعنی کہ پہلی قرارداد سے ہی سے صرف دو ہی آپشن تھے۔ اس کے بعد جو بھی قراردادیں مسلہ کشمیر پر پاس ہوئی ان میں تقریبا اسی موقف کا دوبارہ اعادہ کیاگیا ۔
13 اگست 1948ء کی قرارداد
21 اپریل 1948ء کی قرارداد پر عمل نا ہو سکنے کے بعد اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان نے دونوں ممالک سے مشاورت کے بعد ایک اور قرارداد منظور کروائی جو کہ تین حصوں پر مشتمل تھی؛
پہلا حصہ (پارٹ ون) کا تعلق جنگ بندی سے تھا، دوسرے حصے (پارٹ ٹو) کا تعلق جنگ بندی کے معاہدہ (truce agreement) سے تھا۔ جبکہ تیسرے حصے (پارٹ تھری) کے مطابق truce agreement کے تسلیم کرنے کے بعد دونوں ممالک کمیشن سے بات چیت کے مرحلے میں داخل ہوں گے تا کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اس کی عوام کی مرضی سے طے پائے۔
اس قرارداد کا اصل مقصد جنگ بندی اور truce agreement تھا۔ تیسرے حصے یعنی پارٹ تھری کے لئے قرارداد میں واضح طور پر کہا گیا کہ مزید مذاکرات ہوں گے۔
اسی قرارداد کا پہلا پیراگراف کہتا ہے؛
“Having given careful consideration to the points of view expressed by the Representatives, of India and Pakistan regarding the situation in the State of Jammu and Kashmir, and Being of the opinion that the prompt cessation of hostilities and the correction of conditions the continuance of which is likely to endanger international peace and security are essential to implementation of its endeavors to assist the Governments of India and Pakistan in effecting a final settlement of the situation.”
ترجمہ:- "ریاست جموں و کشمیر کی صورتحال کے بارے میں ، ہندوستان اور پاکستان کے نمائندوں کی طرف سے بیان کردہ نقطہ نظر پر محتاط غور کرنے کے بعد (کمیشن) کا یہ خیال ہے کے پاکستان اور انڈیا کی گورنمنٹ کو صورتحال کے حتمی تصفیہ(حل) کے لئے مدد کرنے کی ضرورت ہے ." [5]
(ترجمہ کو آسان کیا گیا ہے)
19 اگست 1948ء کو پاکستانی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر الفریڈو لوزانو کو خط لکھا جس میں انہوں نے قرارداد کے متعلق کچھ نکات پر مزید جانکاری چاہی۔ اس خط میں وہ لکھتے ہیں؛
"(ہمارا) یہ خیال ہے کہ اس ایکسپریشن "a final settlement of the situation"، جس کے بارے میں کمیشن نے قرارداد کے شروعات میں لکھا ہے، کا مطلب سلامتی کونسل کے ہی پرانے الفاظ ہیں(جس میں کہا گیا ہے کہ) "ریاست کے ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کرنے کے لئے ایک آزاد اور غیر جانب دار رائے شماری کے لئے مناسب حالات (پیدا کرنا)۔" اگر اس ایکسپریشن "a final settlement of the situation" کا کوئی اور مطلب، بلواسطہ یا بلا واسطہ، سلامتی کونسل کی قرارداد(21 اپریل 1948) سے لیے گئے اس اقتباس سے کم یا اس سے بڑھ کر کچھ مطلب ہے تو پاکستانی حکومت اس کے بارے میں جاننا چاہتی ہے۔"[6]
جس کے جواب میں ڈاکٹر الفریڈو نے لکھا؛
"اس ایکسپریشن "a final settlement of the situation" کا مطلب سلامتی کونسل کی 21 اپریل 1948ء کی قرارداد کی شرائط سے کم یا زیادہ نہیں ہے بلکہ یہ ایکسپریشن اس قرارداد سے مکمل طور پر اتفاق کرتا ہے۔"[7]
پھر 3 ستمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان کے چیرمین جوزف کوربل نے اسی بات کو ان الفاظ میں دہرایا؛
"جہاں تک "پارٹ تھری" کا تعلق ہے، اس بارے میں کمیشن سلامتی کونسل کی 21 اپریل 1948ء کی قرارداد کی شرائط سے رہنمائی حاصل کرے گا۔"[8]
اقوام متحدہ کے کمیشن اور پاکستانی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والی اس بات چیت کو پڑھنے کے بعد ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں پارٹ 3 یا رائے شماری کے سوال پر 13 اگست 1948ء کی قرارداد نے 21 اپریل 1948ء کی قرارداد کی پیروی ہی کرنا تھی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں اس قرارداد میں صرف دو ہی آپشن موجود تھے یعنی انڈیا اور پاکستان۔
اب ہم ان الزامات کا بھی جائزہ لیتے ہیں کہ 25 دسمبر 1948ء کو پاکستانی وزیر خارجہ نے کمیشن کو خط لکھا اور رائے شماری کو محدود کروانے کی درخواست کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد، اقوام متحدہ کے کمیشن نے 11 دسمبر 1948ء کو دونوں ممالک کو اپنی تجاویز کا مسودہ (پروپوزل) پیش کیا جس کا عنوان تھا “BASIC PRINCIPLES FOR A PLEBISCITE PROPOSED BY THE COMMISSION TO THE GOVERNMENT OF INDIA AND PAKISTAN ON 11 DECEMBER 1948”.
وضاحت کے لئے میں یہاں اس پروپوزل کے پہلے دو نکات یہاں لکھ دیتا ہوں؛
"اول، کمیشن اپنی 13 اگست 1948ء کی قرارداد کی دوبارہ تصدیق کرتا ہے۔
دوم، ہندوستان اور پاکستان کی حکومت بیک وقت درج ذیل اصولوں کواس قرارداد (13 اگست 1948) میں شامل کرنے پر رضامند ہیں ؛
1- ریاست کے پاکستان یا بھارت سے الحاق کا فیصلہ جمہوری طریقے سے ایک آزاد اور غیر جانب دار رائے شماری کے تحت کیا جائے گا۔"[9]
اس پروپوسل کے پہلے دو نقاط پڑھنے کے بعد سے دو باتیں بلکل واضح ہو جاتی ہیں، ایک کہ تجاویز کا یہ مسودہ کوئی الگ قرارداد نہیں تھا بلکہ 13 اگست 1948ء کی قرارداد پر ضمیمہ (سپلیمنٹ) تھا۔ دوسری، کہ اس میں بھی دو ہی آپشن تھے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ظفر اللہ خان 25 دسمبر 1948ء کو رائے شماری کو محدود کروانے کے لئے خط لکھے جبکہ خود 11 دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے دئے گئے مسودے میں دو ہی آپشن تھے؟ اس کا یہی مطلب ہے کہ یہ الزامات بلکل جھوٹے ہیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے اس تاریخ کو خط ضرور لکھا لیکن صرف کمیشن کی ان تجاویز کو تسلیم کیا جو کہ انہوں نے 11 دسمبر 1948ء کو دیں۔ ظفر اللہ خان کا وہ خط بھی پوسٹ کر دیا گیا۔
پھر دونوں ممالک کی جانب سے کمیشن کی تجاویز تسلیم ہونے کے بعد یہ 13 اگست 1948ء کی قرارداد کی ساتھ یہ ضمیمہ قرارداد 5 جنوری 1949ء کو منظور ہوئی۔
یہ کہنا بلکل بھی غلط نا ہوگا کہ مسلہ کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ لکھے جانے والے موضوعات میں سے ایک ہے۔ لیکن پھر بھی ہم اس کے ساتھ جڑے بہت سے جھوٹ دیکھتے ہیں۔ لہذا ہمیں محتاط رہنا چاہئے اور کچھ بھی پڑھنے کے بعد اس پر یقین کرنے سے پہلے اس موضوع پر ریسرچ کرنی چاہئے۔
ہندوستان یا پاکستان ، اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کوئی تیسرا آپشن نہیں ہے.
حوالہ جات:-
1- امان اللہ خان، "جہد مسلسل"، جلد دوم، صحفہ 200
2- امان اللہ خان، "پاکستان کی حماقتوں بھری کشمیر پالیسی"، صحفہ 9
3- سعید اسد "جموں کشمیر بک آف نالج"، صحفہ 278
4- S/726, p.1
5- S/995, p.3
6- S/1100, “Annexes”, Annex 26, p.3
7- Ibid., Annex 27, p.2
8- Ibid., p.39
9- S/1196, Annex 3, p.19
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔