کووڈ کی تیسری لہر جاری ہے ، گزشتہ کچھ دنوں میں اپنے جاننے والوں یا کسی ریفرنس سے رابطہ کرنے والے مریضوں کے لئے بیڈز کے انتظام کے لئے راولپنڈی اسلام آباد کے کئی سرکاری و پرائیویٹ ہاسپٹلز میں موجود دوستوں سے رابطہ کیا ہے ۔
تقریبا تمام ہی ہاسپٹلز اپنی کیپیسٹی سے زیادہ مریض داخل کر چکے ہیں ، پمز کی ایمرجنسی میں ابھی 25 30 مریض مختلف وارڈ میں داخلے کے منتظر ہیں ۔ انتہائی کوششوں کے باوجود بیڈز کی فراہمی ممکن نہیں ہو پارہی ۔
صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہے ، ایک سال گزرنے کے باوجود حکومت نے بھی ویکسینیشن کے معاملہ میں یا ہاسپٹلز کی capacity building کے حوالہ سے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے ۔جبکہ عوام میں بھی تاحال ایسے افلاطون پائے جا رہے ہیں جو کووڈ کے وجود سے ہی انکاری ہیں ۔
بہرحال باقیوں کی چھوڑیں ، اپنے پیاروں کی خاطر ہر ممکن احتیاط ضرور کریں ۔اگر بے احتیاطی کے سبب آپ اپنے کسی عزیز کی موت کے carrier بنے تو شاید تاحیات آپ خود کو ملامت کرتے رہیں ۔
باقی کسی انفیکشن ، زندگی و موت کا حتمی اختیار اللہ رب العالمین کے پاس ہے ، اسی سے لو لگائیے ۔ توبہ کیجئے ، رجوع الی اللہ آپ میں اعتماد کی قوت ، اطمینان و سکون ، مثبت سوچ ، نیک گمان اور ان کے نتیجے میں مدافعتی نظام میں طاقت پیدا کرتا ہے ۔
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔