دائروں کے مسافر
اگر شاہراہوں' کے اتنے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہی عوام کی ضرورت تھے تو مبارک قبول کریں۔ ایک نوٹوں کی مالا میری طرف سے بھی چڑھا دیں۔ ورنہ اڑتی چڑیا کے پر گن سکنے والی ہوشیار عوام لیڈرکو ووٹ بھی اسی حساب سے دینا چاہیے۔ یعنی جہاں 10 ووٹ ہیں وہاں 0.2 کلومیٹر روڈ کے حساب سے آدھا یا ایک ووٹ۔ اللہ جانے اتنی 'سیانی' عوام ہر بار دھوکہ کیوں کھاتی ہے؟
لوگوں کو لیڈر صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ وہ دو سو فٹ سڑک بھی تو دے سکتے تھے، یہ تو انکی مہربانی کہ دو سو میٹر سڑک دی۔ دو سو فٹ دیتے تو ہمارے پاس شکریہ کے الفاظ اور پھولوں کی مالا کے علاوہ بھی کوئی آپشن تھا بھلا؟
سمجھ دار لوگوں کے لیے نوٹیفیکیشن کے الفاظ ہی کافی ہیں کہ یہ صدر آزاد کشمیر کے حکم پر پی ڈبلیو ڈی کی سکیمز ہیں جو سالانہ ترقیاتی پروگرام 2020/2021 کا حصہ ہیں (وفاق ترقیاتی فنڈز کے الگ سے پیسے دیتا ہے) لیڈر صاحب خواہ مخواہ اپنے کھاتے میں دال رہے ہیں۔ ہمارے ہاں تو لوگ اسکو اپنے کھاتے میں ایسے ڈال رہے ہیں جیسے صدر آزاد کشمیر علیشان صاحب کے حکم پر سیکرٹری پی ڈبلیو ڈی علیشان صاحب اور وزیر تعمیرات و مواصلات علیشان صاحب نے یہ سڑکیں حلقہ 6 کے نمائندے علیشان صاحب کے ووٹرز کو وفاقی حکومت کا خصوصی تحفہ پہنچایا ہے۔
اب زرا ان سڑکوں کی کوالٹی پر نظر بھی رکھیے گا۔ آخر کو ٹھیکیدار نے اسی میں سے پیسے بچا کر آگے بھیجنے ہیں جو آپکے ووٹ خریدنے کے کام آئیں گے۔ یہ نہ ہو کہ سڑک کا اگلا حصہ زیر تعمیر ہو اور پچھلا حصہ بارش کی پھوار میں بہہ نکلا۔
دائروں کا ایک نہ ختم ہونے والا سفر نہ جانے کب ختم ہوگا ۔
تحریر ڈاکٹر اظہر فخرالدین ۔
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔