Monday, May 31, 2021

اہلیان دھیرکوٹ والو اپنے ہیرے کی قدر کرو۔تحریر صغیر قمر

اہلیان دھیرکوٹ والو اپنے ہیرے کی قدر کرو۔۔۔۔۔۔


وہ ابھی چوبیس پچیس برس کا درزا قد نوجوان تھا,جب اسے میں لے نیلم ویلی گیا۔کیرن ریسٹ ہاؤس کی ساتھ بہتے دریاۓ نیلم کے اس پار کشمیر کی مظلوم بہنوں کو ڈھور ڈنگر چراتے کے دیکھ کر اپنی بے بسی پر زاروقطار رودیا۔تب وہ سعودی عرب اعلیٰ تعلیم حاصل کررہا تھا۔یہ 1986 کے جون کا ذکر ہے۔تب سے میری اس کے ساتھ عقیدت ہے۔بہت جلد کشمیر کے زعفران زاروں میں باردو دھکنے لگا اور وہ پاکستان آگیا۔میں نے اپنی عقیدت دوستی میں بدل لی۔اس نے دوستی کی لاج یوں رکھی کہ میرے دکھ سکھ کے دنوں میں ساتھ کھڑا ہوا اور میرے کندھے پر اس کے ہاتھوں کا لمس ہر لمحے ساتھ رہا۔

میں نے اس مشکل ترین اور جانگسل دنوں میں مسکراتے دیکھا۔میں نے اس کے سکھ کے دن بھی دیکھے وہ عاجزی کا مجسمہ بنا رہا۔میں نے اسے کو نمازوں اور روزے کی حالت میں دیکھا۔اس کے پیچھے درجنوں پار نماز ادا کی اس کی قرات اور سوز سے دلوں کو پگھلتے دیکھا۔میں اس خوشحال دنوں میں دوستوں پر مال و متاع نچھاور کرتے دیکھا۔اس کی تعلیم اس کے اندر غراٌ پیدا نہ کر سکی۔وہ لمبے قد اور بہترین عالم ربانی ہونے کے باوجود جھک کر ملتا۔

ہم اس سے جائز و ناجائز مذاق کر جاتے مگر وہ قہقہے مار کر ٹال جاتا۔

میں نے اسے کشمیر کے مظلوموں کامقدمہ لڑتے ہوۓ ہایا۔کبھی استنبول میں,کبھی مکہ المکرمہ میں ,کبھی تریپولی میں ,کبھی خلیج کی ریاستوں میں,کبھی,عالم ارب کے نوجوانوں کی عالمی تنظیم WAMY,کبھی کوالالمپور میں کبھی,خرطوم میں کبھی قاہرہ میں,فلسطین میں,کبھی جکارتہ میں,کبھی تیونس میں۔۔۔کبھی نور تک کبھی نار تک وہ ہر اس جگہ گیا جہاں کہیں کہیں روشنی تھی۔

وہ عالم عرب کے لیے کشمیر المسلمہ جیسا جریدہ چھاپتا اور سوۓ ہوۓ عربوں کے گھروں پر دستک دیتا ہوا پایا گیا۔

میں نے سفر وحضر میں اسے رب کے ساتھ جڑا ہوا پایا۔اس کے لب رسول اللہ ﷺ پر درود سے ہم وقت تر دیکھے۔

اسے ظلم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ دیکھا۔

عسرت اور مفلسی کے دنوں میں خلیج کی آگ برساتی زندگی میں مزدوری کرتے دیکھا۔

اس کے لب پر کبھی شکوہ نہیں آیا۔ذاتی محرومیوں کا اس نے کبھی رونا نہیں رویا۔۔۔وہ رویا کشمیر کےبہتے لہو پر,فلسطین کے مظلوموں کی بے بسی پر۔

اس کے کردار کا اجلاپن اور ایمان کی دولت سے بھرے دل کی چمک چہرے پر جھلکتی ہے۔

مخالف بنانا اسے آتا نہیں ,دل میں بسا لینے کا سلیقہ خوب جانتا ہے۔

سڑیل,متعصب اور سیاسی مسافروں کے دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ان کے مفادات کے ہیٹ پر جب اس شفاف کردار کی ضرب لگتی ہے تو ان کی چیخیں دور دور تک سنائی دیتی ہیں۔

برسوں سے عوام کا لہو چوسنے والی جونکیں انہیں مسجد اور مصلہ سنبھالنے کا مشورہ دیتی ہیں ان کا کہنا ہے تم دین کو سنبھالو سیاست ہم کریں گے لیکن اس پر شمع کی طرح نچھاور ہونے والے کہتے ہیں اب کہ چنگیزی نہیں چلے گی۔۔۔۔۔تمہارے بوریابستر گول ہونے کے لمحے آ پہنچے۔۔۔۔سیاسی مداریوں اور مسافروں کی "رخصتی "نوشتہ دیوار ہے اسے آج پڑھ لو کیوں کہ جن کو تم پتھر مارتے اوربے گھر کرتے تھے,دفاتر جلاتے تھے ,سماجی بائیکاٹ کرتے تھے۔ان کی نسل جوان ہو چکی ہے۔جو سبق تم نے سکھایا تھا اس کو سننے کی تیاری کرو۔۔۔۔۔۔ ظلم جبر اور تعصب کازمانہ بہت پیچھے رہ گیا۔۔۔۔۔اب مستقبل راجہ خالد محمود خان کا ہے۔!!


0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔