Monday, June 29, 2020

جنرل شعیب کی بدتمیزی اور مشن جبرالٹر


مہتاب عزیز کے قلم سے
جاہل اور نالائق شخص (جنرل امجد شعیب) کو انیس سو پینسٹھ کے آپریشن جبرالٹر فورس کے مین سینئیر کمانڈر کرنل منشاء خان برٹش ملٹری کراس اور تمغہ جراٰت کی آفیشل رپورٹ یا برگیڈئیر گلزار کے صاحب زادے برگیڈئیر فاروق جو اس وقت ایس ایس جی کے میجر تھے اور آپریشن جبرالٹر میں خالد گروپ کی کمان کر رہے تھے ، ان حضرات کی مشن سے واپسی پر دی گئی آفیشل رپورٹ کا مطالعہ کر لینا چاہئیے۔

جس میں ان حضرات نے لکھا تھا کہ کشمیری عوام نے اپنے بچے شہید کروا کر پاکستان سے آے مجاہدوں کی حفاظت کی ۔ مرحوم کرنل منشاء خان لکھتے ہیں کہ ہم اگر مقبوضہ وادی سے زندہ واپس آنے میں کامیاب ہوے تویہ صرف کشمیری عوام کی قربانیوں اور مدد کی وجہ سے ممکن ہو سکا ۔ 

دوسری طرف میجر فاروق اپنی کتاب آپریشن جبرالٹر میں لکھتے ہیں کہ جب یہ خالد گروپ وادی میں داخل ہوا تو ایک گاوں میں داخل ہوے ، گاوں والوں نے اپنی حیثیت کے مطابق خاطر کی کہ ایک بچے نے آ کر بتایا کہ بھارتی فوج آ رہی ہے ، ان کے میزبان گاوں کے نمبردار نے ان سب کو ایک نزدیکی پہاڑی پر چلے جانے کو کہا ، میجر فاروق لکھتے ہیں میں اپنی فورس کو اس پہاڑی پر لے گیا اور دور بین کی مدد سے گاوں کی طرف دیکھنے لگا ۔ ان کے سامنے بھارتی فوج نے گاوں کو گھیر لیا ، اور نمبردار صاحب کے اکلوتے جوان بیٹے کے سر پر پستول رکھ کر ان سے مجاہدین کا پوچھا لیکن نمبردار صاحب نے نہ بتایا تو اس بھارتی فوجی آفیسر نے اس لڑکے کے سر پر گولی مار دی ۔ میجر فاروق دور بین سے یہ سارا منظر دیکھتے رہے لیکن اپنے سرینگر پر حملے کے مشن کو خفیہ رکھنے اور باقی گاوں کے نہتے باشندوں کو بچانے کے لئیے انہوں نے مداخلت نہ کی ۔ میجر فاروق لکھتے ہیں کہ یہ کشمیری جوان وادی میں ہمارا پہلا شہید تھا ۔آگے لکھتے ہیں میں نے سرینگر پر حملے کا پلان بنایا تو رات سری نگر کے نزدیک ہی چند میل کے فاصلے پر ایک جنگل میں ندی کے کنارے مہاراجہ کے وقت کے تعمیر شدہ ایک ریسٹ ہاوس میں قیام کیا ، میجر فاروق لکھتے ہیں کہ صبح سویرے جب میں نے اپنی فورس کو حملے کے لئیے تیار ہونے کا کہنے کے لئیے تلاش کیا تو وہاں کوئی آدمی نہ پایا ۔ میجر لکھتے ہیں کہ میں اپنی اور اپنے مشن کی ناکامی پر ندی کنارے بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رویا ۔ اور پھر انتہائی مایوسی کے عالم میں پاکستان واپسی کا سفر شروع کر دیا تو ہر میل دو میل کے بعد اکا دکا یا چھوٹے گروپوں کی صورت میں بھاگنے والے فوجی آ ملتے گئے حتیٰ کہ سرحدی علاقے کے پاس پہنچتے پہنچتے نفری پوری ہو گئی ، میجر فاروق نے سپاہئیوں کو لعن طعن کی کہ آپ لوگ حملے کے وقت کہاں چلے گئے تھے تو انہوں نے بتایا کہ صوبیدار اقبال نے ہمیں کہا کہ " صاحب پاگل ہو گیا ہے یہ اپنے ساتھ ہمیں بھی مرواے گا آپ لوگ ادھر ادھر چھپ جاو جب یہ واپس چل پڑے تو آن ملنا ۔ ان حضرات کو ان کی قید میں موجود بھارتی فوج کے ایک مسلمان آفیسر کیپٹن حیدر نے بتایا کہ جس دن آپ سرینگر پر حملہ کرنے لگے تھے اس روز سرینگر بھارتی فوج سے بالکل خالی تھا ۔ اسی طرح میجر منظور کی قیادت میں ایک دستے نے بدھل راجوری کے علاقے میں نفوز کیا ، علاقے کے عوام ان کی مدد کے لئیے اٹھ کھڑے ہوے اور یہاں موجود بھارتی فوج لچھ نقصان اٹھا کر یہ علاقہ خالی کر گئی اور یہاں پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا گیا اب قراٰن پر مشترکہ حلف اٹھایا گیا اور عوام سے وعدہ کیا گیا کہ ہم (پاکستانی مجاہدین ) آپ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے ، اچانک ایک رات ریڈیو آزاد کشمیر سے ایک پراسرار پیغام نشر ہوا کہ " طارق کی امی بیمار ہیں گاوں کے افراد صبح ناشتہ دینے مجاہدین کے ٹھکانے پر پہنچے تو دیکھا کہ وہ ٹھکانہ خالی پڑا تھا پاکستان سے آے مجاہدین جنہوں نے قراٰن پر ساتھ جینے مرنے کا حلف اٹھایا تھا " امی " کی بیماری کی وجہ سے راتوں رات واپس جا چکے تھے ، اب بھارتی فوج دوبارہ علاقے میں داخل ہوتی ہے اور یہاں کے باشندوں پر ظلم کر وہ پہاڑ توڑتی ہے کہ آسمان بھی ان کی مظلومیت پر خون کے آنسو روتا ہے میں نے خود میر پور کی " مہاجر کالونی میں ایسی بزرگ خواتین کو دیکھا ہے جن کی چھاتیاں بھارتی فوج نے کاٹ دیں تھیں درجنوں لوگ ایسے دیکھے جن کی ٹانگ ، بازو یا ہاتھ کاٹ دئیے گئے تھے۔ کشمیریوں کے بارے میں جھوٹی بکواس زیادہ تر ان بزدلوں اور بھگوڑوں نے پھیلائی تاکہ اپنی بزدلی ، نااہلی پر پردہ ڈال کر کسی محکمانہ باز پرس اور کاروائی سے بچا جا سکے ۔ یہ بزدلانہ رویہ رکھنے والے بےغیرت کشمیریوں کو طعنے دیتے ہیں اس نالائق ترین آدمی کی اپنی کارکردگی جیسی رہی اس کا تو بزدلی پر کورٹ مارشل بنتا ہے ان کی ساری قابلیت اپنی نہتی قوم کے خلاف منصوبہ بندی تک محدود ہے اس کے علاوہ ہر محاز پر اس نے دشمن کے سامنے نااہلی اور بزدلی کی مثالیں قائم کیں ۔ 

یہ لوگ دنیا کے ہر موضوع پر گھنٹوں بکواس کریں گے لیکن بھارت کے ساتھ جنگوں میں دکھائی گئی کارکردگی پر کبھی ان کے منہ سے ایک لفظ تک نہیں نکلے گا بلکہ ایسا سوال کرنا ہی ان کے نزدیک بہت بڑا جرم ہے کیونکہ اس طرح ان کی قابلیت اور بہادری ایکسپوز ہو جاتی ہے کارگل کی جنگ اس روئیے کی تازہ ترین مثال ہے ۔ 

اپنی عسکری نااہلی اور نالائقی کو چھپانے کے لئیے یہ حضرات آمروں اور آئین شکن افراد کے " دلال " بن جاتے ہیں اور ٹی وی پر بیٹھ کر سیاست پر تبصرہ فرماتے ہیں جو ان کا شعبہ ہی نہیں اور آج یہ اپنے عسکری موضوع پر بولا تو اس کا ذہنی افلاس سب کے سامنے آ گیا ۔

بشکریہ

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔