جو رب کے رستے کے
شمع بردار تھے سپاہی
آخرت ہی کے تھے وہ راہی
فلک پہ جن کے مقام اونچے (آمین)
وہ بھٹیوں میں جلنے والے
وہ عبدیت کے مقام اعلی پہ چڑھنے والے
جو ھدایت کے نور بن کر
جگمگاتے تھے ذہن و دل کو
جو ایک شمع سے دوجی شمع جلا گئے ہیں
کہکشاں سی بنا گئے ہیں
جو قطرہ قطرہ پگھل رہے تھے
وہ ذرہ ذرہ چمک رہے ہیں
جو خود جہاں میں ہوئے منور
جہاں منور وہ کر گئے ہیں
(بیاد سید منور حسن )
اسعد فخرالدین
4 comments:
ماشاءاللہ بہترین
ماشاءاللہ
بہت اعلی ماشاءاللہ
👌
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔