Sunday, September 6, 2020

اقوام متحدہ کی قراردادیں ، کشمیریوں کے پاس موجود آپشنز ، سعید اسعد اور امان اللہ خان کے جھوٹ اور خود مختاری کی حقیت. اظہر فخرالدین

اقوام متحدہ کی قراردادیں ، کشمیریوں کے پاس موجود آپشنز ، سعید اسعد اور امان اللہ خان کے جھوٹ اور خود  مختاری کی حقیت. 

آیے مل کر کُچھ  سوالوں کا جواب تلاش کریں .
کیا اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیریوں کا پاس خود مختاری کا آپشن موجود ہے ؟ 
کیا پاکستان نے اقوام متحدہ سے ساز باز کر کے سیکورٹی کونسل کی قراردادوں سے خود مختاری کا آپشن نکلوا دیا جیسا کے قوم پرستوں کے دانشواران دعوی کرتے ہیں ؟ 

ان سوالوں کے جواب ہمیں سیکورٹی کونسل کا قردار نو ٤٧ میں مل جائیں گے جو مثلا کشمیر پر پہلی جامع قرارداد تھی . جو ٢١ اپریل ١٩٤٨ کو پاس ہوئی تھی .  

یکم جنوری 1948ء کو بھارت جموں و کشمیر کا مسلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر گیا جس پر اقوام متحدہ کا کمیشن برائے بھارت اور پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا. اس کمیشن نے پھر مسلہ کشمیر کے حل کے لئے مختلف قراردادیں پاس کیں لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث ان میں سے کسی بھی قرارداد پر پورے طورعمل نہیں ہو سکا اور مسلہ ابھی بھی حل طلب ہے .

جب ہم سلامتی کونسل کی قراردادوں کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو ایک چیز بلکل واضح ہو جاتی ہے کہ سب کی سب قرادادوں میں جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے رائے شماری کے دوران صرف دو ہی آپشن رکھے گئےہیں۔ مگرایک دلچسپ چیز جو کافی عرصے سے پھیلائی جا رہی ہے کہ ان قراردادوں میں ایک تیسرا آپشن بھی تھا "خودمختار ریاست" کے لئے جسے پاکستان نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ نکلوا دیا۔

یہ جھوٹ بہت تواتر سے بولا گیا اوراسکو پھیلانے میں کچھ جانے مانے قوم پرست رہنما بھی شامل ہیں جس کی وجہ سے لوگوں نے اسے سچ سمجھنا شروع کر دیا۔ لبریشن فرنٹ کے بانی اور اپنے وقت کے سرپرست عالی امان اللہ خان مرحوم نے اپنی کتاب میں حکومت پاکستان کے کشمیر کو لے کر یو ٹرن بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں؛

"مسلہ کشمیر اقوام متحدہ میں چلا گیا اور وہاں 13 اگست 1948ء کی قرارداد میں طے ہوا کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہونے والی رائے شماری کے ذریعہ کریں گے۔۔۔ لیکن صرف چار ماہ کے اندر پاکستان نے پینترا بدل کر اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو بھارت یا پاکستان سے الحاق تک محدود کر دیا جائے اور اس نے اپنا یہ مطالبہ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان کی 5 جنوری 1949ء کی قرارداد کے تحت منوا لیا۔" [1]

موصوف ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ؛

"پاکستان نے 25 دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے کمیشن کے نام اپنے خط میں مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو بھارت یا پاکستان سے الحاق تک محدود کر دیا جائے." [2]

اسی طرح سعید اسد صاحب نے اپنی کتاب "جموں کشمیر بک آف نالج" میں لکھا ہے؛
"پاکستانی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے 25 دسمبر 1948ء کو UNCIP کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے آزادانہ حق خودارادیت کو بھارت یا پاکستان سے الحاق تک محدود کیا جائے۔" [3]

ان تمام الزامات کا باریک بینی سے مطالع کرنے پر یہ بات آشکار ہو گی کے ان میں ذرا برابر بھی سچائی نہیں ہے .
آگے بڑھنے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ سلامتی کونسل کی پہلی مین قرارداد جو کہ 21 اپریل 1948ء میں پاس ہوئی اس میں درج ہے کہ؛

"ہندوستان اور پاکستان دونوں اس پر راضی ہیں کہ جموں وکشمیر کے ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کے سوال کا فیصلہ آزاد اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے کیا جائے."[4]
 See the screenshots attached of the resolution 47 (21 April 1948). I can share the original copy if you need.

اس پہلی قراداد میں ہی کشمیریوں کو دو آپشنز دے گے ہیں، انڈیا یا پاکستان کے ساتھ الحاق . تیسرا کوئی آپشن نہیں. اب آپ خود اندازہ لگیں کے یہ قرارداد اپریل ١٩٤٨ میں پاس ہوئی. سکرین شاٹ لگا دے گے ہیں حوالہ کے لیے. اب امان اللہ خان ور سعید اسعد جھوٹ بولتے ہوۓ کہتے ہیں ک دسمبر میں پاکستان کے وزیر ا خارجہ نے تیسرا آپشن نکلوا دیا.

یعنی کہ پہلی قرارداد سے ہی سے صرف دو ہی آپشن تھے۔ اس کے بعد جو بھی قراردادیں مسلہ کشمیر پر پاس ہوئی ان میں تقریبا اسی موقف کا دوبارہ اعادہ کیاگیا ۔
13 اگست 1948ء کی قرارداد

21 اپریل 1948ء کی قرارداد پر عمل نا ہو سکنے کے بعد اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان نے دونوں ممالک سے مشاورت کے بعد ایک اور قرارداد منظور کروائی جو کہ تین حصوں پر مشتمل تھی؛

پہلا حصہ (پارٹ ون) کا تعلق جنگ بندی سے تھا، دوسرے حصے (پارٹ ٹو) کا تعلق جنگ بندی کے معاہدہ (truce agreement) سے تھا۔ جبکہ تیسرے حصے (پارٹ تھری) کے مطابق truce agreement کے تسلیم کرنے کے بعد دونوں ممالک کمیشن سے بات چیت کے مرحلے میں داخل ہوں گے تا کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اس کی عوام کی مرضی سے طے پائے۔

اس قرارداد کا اصل مقصد جنگ بندی اور truce agreement تھا۔ تیسرے حصے یعنی پارٹ تھری کے لئے قرارداد میں واضح طور پر کہا گیا کہ مزید مذاکرات ہوں گے۔

اسی قرارداد کا پہلا پیراگراف کہتا ہے؛

“Having given careful consideration to the points of view expressed by the Representatives, of India and Pakistan regarding the situation in the State of Jammu and Kashmir, and Being of the opinion that the prompt cessation of hostilities and the correction of conditions the continuance of which is likely to endanger international peace and security are essential to implementation of its endeavors to assist the Governments of India and Pakistan in effecting a final settlement of the situation.”

ترجمہ:- "ریاست جموں و کشمیر کی صورتحال کے بارے میں ، ہندوستان اور پاکستان کے نمائندوں کی طرف سے بیان کردہ نقطہ نظر پر محتاط غور کرنے کے بعد (کمیشن) کا یہ خیال ہے کے پاکستان اور انڈیا کی گورنمنٹ کو صورتحال کے حتمی تصفیہ(حل) کے لئے مدد کرنے کی ضرورت ہے ." [5]
(ترجمہ کو آسان کیا گیا ہے)

19 اگست 1948ء کو پاکستانی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر الفریڈو لوزانو کو خط لکھا جس میں انہوں نے قرارداد کے متعلق کچھ نکات پر مزید جانکاری چاہی۔ اس خط میں وہ لکھتے ہیں؛

"(ہمارا) یہ خیال ہے کہ اس ایکسپریشن "a final settlement of the situation"، جس کے بارے میں کمیشن نے قرارداد کے شروعات میں لکھا ہے، کا مطلب سلامتی کونسل کے ہی پرانے الفاظ ہیں(جس میں کہا گیا ہے کہ) "ریاست کے ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کرنے کے لئے ایک آزاد اور غیر جانب دار رائے شماری کے لئے مناسب حالات (پیدا کرنا)۔" اگر اس ایکسپریشن "a final settlement of the situation" کا کوئی اور مطلب، بلواسطہ یا بلا واسطہ، سلامتی کونسل کی قرارداد(21 اپریل 1948) سے لیے گئے اس اقتباس سے کم یا اس سے بڑھ کر کچھ مطلب ہے تو پاکستانی حکومت اس کے بارے میں جاننا چاہتی ہے۔"[6]
جس کے جواب میں ڈاکٹر الفریڈو نے لکھا؛

"اس ایکسپریشن "a final settlement of the situation" کا مطلب سلامتی کونسل کی 21 اپریل 1948ء کی قرارداد کی شرائط سے کم یا زیادہ نہیں ہے بلکہ یہ ایکسپریشن اس قرارداد سے مکمل طور پر اتفاق کرتا ہے۔"[7]

پھر 3 ستمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان کے چیرمین جوزف کوربل نے اسی بات کو ان الفاظ میں دہرایا؛

"جہاں تک "پارٹ تھری" کا تعلق ہے، اس بارے میں کمیشن سلامتی کونسل کی 21 اپریل 1948ء کی قرارداد کی شرائط سے رہنمائی حاصل کرے گا۔"[8]
اقوام متحدہ کے کمیشن اور پاکستانی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والی اس بات چیت کو پڑھنے کے بعد ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں پارٹ 3 یا رائے شماری کے سوال پر 13 اگست 1948ء کی قرارداد نے 21 اپریل 1948ء کی قرارداد کی پیروی ہی کرنا تھی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں اس قرارداد میں صرف دو ہی آپشن موجود تھے یعنی انڈیا اور پاکستان۔

اب ہم ان الزامات کا بھی جائزہ لیتے ہیں کہ 25 دسمبر 1948ء کو پاکستانی وزیر خارجہ نے کمیشن کو خط لکھا اور رائے شماری کو محدود کروانے کی درخواست کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد، اقوام متحدہ کے کمیشن نے 11 دسمبر 1948ء کو دونوں ممالک کو اپنی تجاویز کا مسودہ (پروپوزل) پیش کیا جس کا عنوان تھا “BASIC PRINCIPLES FOR A PLEBISCITE PROPOSED BY THE COMMISSION TO THE GOVERNMENT OF INDIA AND PAKISTAN ON 11 DECEMBER 1948”.

وضاحت کے لئے میں یہاں اس پروپوزل کے پہلے دو نکات یہاں لکھ دیتا ہوں؛
"اول، کمیشن اپنی 13 اگست 1948ء کی قرارداد کی دوبارہ تصدیق کرتا ہے۔
دوم، ہندوستان اور پاکستان کی حکومت بیک وقت درج ذیل اصولوں کواس قرارداد (13 اگست 1948) میں شامل کرنے پر رضامند ہیں ؛
1- ریاست کے پاکستان یا بھارت سے الحاق کا فیصلہ جمہوری طریقے سے ایک آزاد اور غیر جانب دار رائے شماری کے تحت کیا جائے گا۔"[9]

اس پروپوسل کے پہلے دو نقاط پڑھنے کے بعد سے دو باتیں بلکل واضح ہو جاتی ہیں، ایک کہ تجاویز کا یہ مسودہ کوئی الگ قرارداد نہیں تھا بلکہ 13 اگست 1948ء کی قرارداد پر ضمیمہ (سپلیمنٹ) تھا۔ دوسری، کہ اس میں بھی دو ہی آپشن تھے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ظفر اللہ خان 25 دسمبر 1948ء کو رائے شماری کو محدود کروانے کے لئے خط لکھے جبکہ خود 11 دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے دئے گئے مسودے میں دو ہی آپشن تھے؟ اس کا یہی مطلب ہے کہ یہ الزامات بلکل جھوٹے ہیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے اس تاریخ کو خط ضرور لکھا لیکن صرف کمیشن کی ان تجاویز کو تسلیم کیا جو کہ انہوں نے 11 دسمبر 1948ء کو دیں۔ ظفر اللہ خان کا وہ خط بھی پوسٹ کر دیا گیا۔

پھر دونوں ممالک کی جانب سے کمیشن کی تجاویز تسلیم ہونے کے بعد یہ 13 اگست 1948ء کی قرارداد کی ساتھ یہ ضمیمہ قرارداد 5 جنوری 1949ء کو منظور ہوئی۔

یہ کہنا بلکل بھی غلط نا ہوگا کہ مسلہ کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ لکھے جانے والے موضوعات میں سے ایک ہے۔ لیکن پھر بھی ہم اس کے ساتھ جڑے بہت سے جھوٹ دیکھتے ہیں۔ لہذا ہمیں محتاط رہنا چاہئے اور کچھ بھی پڑھنے کے بعد اس پر یقین کرنے سے پہلے اس موضوع پر ریسرچ کرنی چاہئے۔

ہندوستان یا پاکستان ، اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کوئی تیسرا آپشن نہیں ہے.

حوالہ جات:-
1- امان اللہ خان، "جہد مسلسل"، جلد دوم، صحفہ 200
2- امان اللہ خان، "پاکستان کی حماقتوں بھری کشمیر پالیسی"، صحفہ 9
3- سعید اسد "جموں کشمیر بک آف نالج"، صحفہ 278
4- S/726, p.1
5- S/995, p.3
6- S/1100, “Annexes”, Annex 26, p.3
7- Ibid., Annex 27, p.2
8- Ibid., p.39
9- S/1196, Annex 3, p.19






مکمل تحریر >>

Saturday, September 5, 2020

عبدالمجید بھٹ صاحب انسائیکلوپیڈیا مقبوضہ کشمیر کی یاد میں ۔اسعد فخرالدین

 بھارتی ٹارچر سیل میں کیے گئے تشدد کے نشانات ان کے ٹانگوں اور بازوں پر ابھی بھی موجود تھے۔ 

عبدالمجید بھٹ جماعت اسلامی ضلع بارہمولہ کے امیر ضلع اور قیم ضلع رہے ہیں۔حلقہ انتخاب رفیع آباد سے جماعت اسلامی اور مسلم متحدہ محاذ کے امید وار بھی رہے۔ بہت سنجیدہ  اور ملنسار تھے۔

جبیل مقبول بٹ شہید کی برسی میں ان سے پہلی ملاقات  ہی ہماری قربت کا باعث بنی، پچاس منٹ کی ان کی مفصل گفتگو نے ان سے ملنے ہر مجبور کیا 

برسی کے اگلے ہی ھفتے ریاض جانا ہوا تو ایک دن قبل کال کی کہ چار بجے آپ کے گھر آوں گا، کہا چار بجے نہیں ایک بجے آئیں کشمیری کھانا ملکر کھائیں گے۔

پانچ گھنٹے کی طویل ملاقات کے بعد اندازہ ہوا  آپ تو کشمیر کا انسائیکلوپیڈیا ہیں، جب بھی ریاض جانا ہوا تو  بھٹ صاحب کے گھر ضرور چکر لگا۔کشمیری چائے اور کشمیری کھانے سے ہی تواضع کی

ٹانگ میں سوجن کے باوجود نیچے چھوڑنے کے لئے  آتے اور رات کال کرکے پوچھتے کہ بخیریت پہنچ گئے ہو!

 

علی گیلانی صاحب کے قریبی دوستوں میں سے تھے، جیل میں اور کالی ٹھوکری میں ساتھ ساتھ بند رہے 

انکوائریاں اور جیلیں بھگتیں۔۔

ان سے ملاقاتوں پر جلد مکمل مضمون لکھنے کا ارادہ  ہے

پاکستانی حکومت کی پالیسز سے بہت خفا تھے، لیکن پاکستان سے محبت کا تذکرہ بارہا کرتے تھے۔

ریاض میں ہی مقیم رہے اور آخری سالوں میں آپ کی وابستگی کسی جماعت سے نہیں رہی۔

انتہائی شفیق تھے، منور صاحب کی وفات پر کال کی تو ایک گھنٹہ ان کے یادیں اور باتیں کرتے رہے ، ڈوبتی آواز میں سارے قصے سناتے رہے 

ان سے فون پر آخری بات یہ تھی کہ  جماعت اسلامی نے اگر مقبوضہ کشمیر میں نظریاتی فصل نہ کھڑی کی ہوتی تو آج شاید یہ مزاحمت بھی نہ ہوتی ۔۔ 

ایک  اور بات بات جو ہمیشہ یاد رہے گی !

“جس کسی تحریک میں اینجسیاں (کوئی بھی) انوالو ہو جائیں پھر وہ  تحریک لوگوں کی تحریک نہیں پھر “ان “کی تحریک بن جاتی ہے”

زندہ دل، بیدار مغز اور مدبر رہنما تھے،دو ماہ وینٹیلیٹر پر رہنے کے بعد آج خالق حقیقی سے جا ملے۔

انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ ان کی مفغرت فرمائے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے آمین


مکمل تحریر >>

Friday, September 4, 2020

کے ایچ خورشید کا قائد اعظم کو خط اور حقائق اردو ترجمہ کے ساتھ

 کے ایچ خورشید صاحب کا سری نگر کے دورے کے بعد قائد اعظم کو لکھے گئے  خط کا  ترجمہ حاضر ہے . یہ خط ہمارے قومی نصاب کا حصہ ہونا چائے تھا مگر افسوس. خط پڑھ کر اپ کو ٹھیک سے اندازہ ہو جا ے گا کے ١٩٤٧ میں کشمیر میں کیا حالات تھے . 

اردو ترجمہ

قائداعظم کے پرسنل سیکرٹری کی کشمیر سے بھیجے گئے پیغامات سے معلوم ہوتا ہے کہ ھندوستان نے پاکستان اور کشمیر کے خلاف سازش شروع دن سے ہی شروع کی ھے۔


محمد علی جناح کے پرائیویٹ سیکرٹری خورشید حسن خورشید کو انہوں نے اکتوبر 1947 ء کے پہلے ہفتے میں کشمیر میں موجود مسلمان رہنمائوں کو کچھ اہم پیغامات پہنچانے اور ریاست میں زمینی صورتحال کا اندازہ لگانے کے لئے بھیجا تھا۔ کشمیر میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقات کے بعد کے ایچ خورشید نے محمد علی جناح کو ایک تفصیلی نوٹ واپس بھیجا جس میں انہوں نے انہیں آگاہ کیا کہ ریاست میں گزشتہ دو ماہ کے دوران جو بڑے واقعات رونما ہوئے ہیں ان میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ مہاراجہ کے ارادے ہرگز اچھے نہیں۔ وہ پاکستان سے الحاق کے خلاف تھا اور ہندوستان کے حق میں تھا۔ خورشید نے مشورہ دیا کہ پاکستان کو لڑائی کے حوالے سے سوچنا چاہئے کیونکہ سفارتی دبائو پہلے ہی ناکام ہو چکا تھا اور ریاست میں کوئی بھی پرامن جدوجہد کسی کام کی نہیں تھی۔ اس کے خط کا مکمل متن ذیل میں دوبارہ پیش کیا گیا ہے۔


میرے پیارے سر،

میں دوسری پہر شام کو سرینگر پہنچا اور جب سے میں اپنے دوستوں، جاننے والوں اور گمراہ زائرین کی طرف سے ہر قسم کی معلومات اور معلومات کی وجہ سے حیران ھوں رہا ہوں. میں نے جو کچھ سنا اور دیکھا ہے اس کا خلاصہ بنا لیا ہے اور جو مجھے یقین ہے وہ سچ ہے۔ میں نے حاصل کردہ معلومات کو چھان لیا، دوسرے ذرائع سے اس کی تصدیق کی اور منسلک کاغذات تیار کیے ہیں۔ شاید بہت سی باتیں دوسرے ذرائع سے آپ تک پہلے ہی پہنچ چکی ہوں لیکن میں نے ایک جامع رپورٹ بنا کر اپنی رائے بھی دی اور تجاویز بھی دیں۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ زیادہ لمبا ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ مقامات پر حیرت زدہ ہوجائے، لیکن جو کچھ میں نے سوچا تھا وہ آپ کے سامنے رکھنا ضروری تھا ٹائپ کیا گیا ہے۔

میں امید کرتا ہوں، جناب، کہ آپ اور مس جناح صحت کی بہترین حالت میں ہیں۔

احترام کے ساتھ،

کے ایچ خورشید


نوٹ بذریعہ K. H. خورشید: سرینگر،

شیخ محمد عبداللہ کی رہائی کے بعد سے "رائل کلیمینسی" کے ایک عمل کے طور پر کشمیر میں 12 اکتوبر 1947 کے واقعات بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کی جماعت کے دیگر ارکان، جو "کشمیر سے کنارہ کشی" کے اشتعال کے سلسلے میں گزشتہ سال یا تو قید یا نظربند تھے، کو بھی رہا کردیا گیا ہے۔ لیکن مسلم کانفرنس کے لوگ جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں۔ پہلو بہ پہلو ریاست مسلمانوں سے بیزار ہورہی ہے جو ریاستی قوتوں میں کسی بھی اہمیت کے عہدوں پر فائز تھے۔ فوج اب ان تمام مسلمان اور یورپی افسران سے پاک ہے جن کی جگہ ہندو ڈوگرا راجپوتوں نے لے لی ہے۔


موقف ظاہر ہوتا ہے کہ مہاراجہ کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے خلاف ہے۔ ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ اس کی لاش کو سات سو ٹکڑوں میں کاٹ دیا جائے، لیکن وہ پاکستان سے اتفاق نہیں کرے گا۔ اور، لہذا، وہ کسی بھی اور ہر واقعے سے ملنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ریاست آج گندی عدالتی سازشوں کا ہاٹ بیڈ ہے اور ہر طرح کے منشیوں اور مشینوں کو حکومت کی طرف سے مصلحتوں کو بگاڑنے اور مقبول احساس کو پاکستان کے حق میں دبانے کے لئے جاری ہے۔ لیکن آنے والے کچھ عرصے تک عوام کو ان کے ارادے بنانے میں حکومت کی راہ میں عملی مشکلات ہیں۔ ایک باخبر ڈوگرہ اہلکار نے مجھے بتایا کہ یہ زیادہ تر رائفلوں کا سوال ہے۔ اگر پاکستان کے پاس کشمیر سے زیادہ رائفلیں تھیں، تو بعد میں پاکستان میں شامل ہوں گے. ذیل میں دیا گیا مقام ہے، کیونکہ اس کا اندازہ حقائق اور حالیہ واقعات سے لگایا جاسکتا ہے جو ریاست، حکومت اور مختلف سیاست میں رونما ہوئے ہیں۔


ہندوستانی یونین پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے یا نہیں، حکومت کا ہر اقدام دہلی کی سڑک کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مہاراجا اپنے ارد گرد کے تمام ناپسندیدہ یا مشکوک لوگوں سے جان چھڑا رہے ہیں۔ ان کے چچا نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ نائب وزیر اعظم (ایک نئی پوسٹ) سردار پٹیل کے نامزد ایک مسٹر رام لال بترا ہیں، اور وہ سرینگر اور دہلی کے درمیان مسلسل آگے بڑھتے رہتے ہیں۔


شیخ عبداللہ کی رہائی کا اثر بیرونی دنیا کو یہ تاثر دینے کے واحد مقصد سے ہوا ہے کہ کشمیر کے بھارت سے الحاق، اعلان ہونے پر ریاست کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حمایت حاصل ہوگی۔ مقامی سیاسی حلقوں اور پریس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر کسی بھارتی ریاست کے لوگوں کی خواہشات معلوم کرنے کے سوال پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے اس سے پہلے کہ وہ یا تو ڈومینن پر اکتفا کر لیں، عبداللہ اور پارٹی کو بھارت سے الحاق کی حمایت کے عوض حکومت کی چند نشستوں کا وعدہ کیا جائے گا۔


مشرقی پنجاب اور جموں کو ملانے والی سڑک پر کام اپاکا پر ہو رہا ہے۔ راوی میں سیلاب کی بدولت کام کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور اس کی تکمیل میں خاطر خواہ تاخیر ہوئی ہے۔ جموں اور سری نگر کو ملانے والی ایک اور سڑک بھی تعمیر کا کام جاری ہے، کیونکہ موجودہ ایک تو موسم سرما کے تین ماہ کے دوران ٹریفک کے لیے کھلا نہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ نئی سڑک بار بار ٹریفک کے قابل ہو جائے ۔پٹرول کی سپلائی جسے راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر نے روک لیا تھا، اب دہلی سے بذریعہ ایئر آ رہے ہیں۔


کسی بھی قسم کے خطرات مول لینے کے موڈ میں نہیں، حکومت پوری ریاست میں ڈوگرہ فوجی تعینات کررہی ہے۔ تازہ دستوں کو گلگت اور پونچھ کے سرحدی علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ یہ امر بدستور افواہ ہے کہ بھارتی تسلط کے گورکھا اور سکھ فوجی فوجی کشمیر مشرقی پنجاب کی سرحد پر ریاست میں مارچ کرنے کے احکامات کے منتظر ہیں۔ مسلمانوں اور فوج کے دیگر غیر ہندو افسران کی برطرفی خود بولتا ہے۔


جب موسم سرما میں سیٹ ہوجائے گا تو گلگت جانے والی سڑکیں بلاک کردی جائیں گی اور کشمیر کو عملی طور پر باقی دنیا سے کاٹ دیا جائے گا اگر راولپنڈی سری نگر روڈ فی الحال ٹریفک کو فری کرنے کے لئے نہیں کھلا ہے۔ پٹرول کی قلت کی وجہ سے اب صرف فوجی گاڑیاں اور چند چند نجی کاریں اس سڑک پر چل رہی ہیں۔ گلگت چترال سرحد اور پونچھ سرحد پر قبائل نے مہاراجہ کو ہندوستان سے الحاق کے خلاف متنبہ کیا ہے۔ فی الحقیقت، ریاستی افواج پہلے ہی پونچھ میں مسلح مسلمانوں کے ساتھ تصادم میں آچکی ہیں۔ ریاستی فوجیوں کی ایک اچھی تعداد وہاں مصروف ہے.


ان تمام عوامل کے علاوہ یہ حقیقت بھی ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے ابھی تک جموں کے کچھ پنجابی ہندوؤں کے سوا بھارت سے الحاق کی حمایت نہیں کی، مہاراجہ کے راستے میں کھڑے ہو کر اپنا اعلان کر رہے ہیں۔


مسلم کانفرنس اب عملی طور پر ایک مردہ تنظیم ہے۔ اس کے تمام رہنماؤں کے ساتھ یا تو جیل، قید، حراست یا خارج کر دیا گیا ہے، اس کام پر لے جانے کے لئے شاید ہی کوئی ہے. میر واعظ اور چوہدری حمید اللہ کے درمیان ہونے والے جھگڑے سے جو کچھ بچا تھا وہ دونوں اب ختم ہوچکے ہیں۔ لیکن پاکستان کے حق میں مقبول احساس کا ایک بہت مضبوط احساس ہے، استعمال اور استحصال کرنا جس کا یہاں کوئی نہیں ہے۔ شہر اور ریاست کے مختلف حصوں میں بے ساختہ مظاہرے کئے جارہے ہیں لیکن ان بکھرے ہوئے عناصر کو متحرک کرنے والا کوئی نہیں ہے۔


وہ ایک عجیب پوزیشن میں ہیں۔ یہ ایک معروف حقیقت ہے کہ عبداللہ نے ریاست میں کبھی کسی غیر مسلم کی پیروی نہیں کی تھی اور اب اس کے ماننے والوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پاکستان قائم ہو چکا ہے اور لیگ کانگریس کا تنازع ختم ہونے پر ہے، ریاست کو پاکستان پر اکتفا کرنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے ان کی رہائی ہوئی ہے عبداللہ مبہم بیانات دے رہا ہے۔ میں اس کے ساتھ ان کی ایک حالیہ تقریر کا مکمل متن لے رہا ہوں، جیسا کہ ان کی پارٹی کے سرکاری کاغذ نے شائع کیا ہے۔ انہوں نے متعدد دیگر تقریریں بھی اسی خطوط پر کم و بیش کی ہیں اور اب تک وہ مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل ہیں:


ہمارے سامنے بنیادی سوال (عبداللہ کی جماعت) ذمہ دار حکومت کے قیام اور ریاست کے عوام کی آزادی کا ہے۔ میں اب بھی 'کشمیر سے کنارہ' پر قائم ہوں اور یہی ہمارا بنیادی مطالبہ ہے۔ ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کا سوال ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلم لیگ کا موقف ہے کہ حاکمیت حکمرانوں اور شہزادوں پر مشتمل ہے (یہ ہماری ریاستوں کے موقف کی واضح غلط بیانی ہے کہ پیراموونٹسی ختم نہیں ہوتی بلکہ ہندوستانی ریاستوں کی بھارتی ریاستوں کی طرف پلٹ چکی ہے)۔ لیگ نظام کی خاطر غریبوں اور عوام کو نظرانداز کرتی ہے۔ مسٹر جناح کے خلاف میری ذاتی عناد ہے جنہوں نے مجھے گنڈاسے کہا اور جنہوں نے کہا کہ 'کشمیر سے کنارہ کرو' چند شرپسندوں کا رونا تھا۔ لیکن میں اب کرنا چاہیے ہونا اب کرنا چاہیے اور ہمارے فیصلے پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں ذاتی جذبات کو آگاہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ہم اس کے ساتھ شامل ہوں گے جو ہماری آزادی کے مطالبات کی حمایت کرتا ہے لیکن ہمیں اپنی معاشی پوزیشن، اپنی تجارت اور تجارت اور دیگر چیزوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ہم جذبات کی طرف سے قیادت نہیں کریں گے اور میں بغاوت کروں گا اگر مہاراجہ مقبول منظوری کے بغیر کسی بھی سلطنت کو قبول کرتا ہے. آئیے پہلے اپنی آزادی حاصل کریں اور پھر آزاد لوگوں کی حیثیت سے ہم ایک یا دوسرے تسلط کے حق میں اپنا فیصلہ دیں گے۔


اپنے ہی کچھ پیروکاروں کے ساتھ نجی مذاکرات میں جو انہیں اپنے موجودہ موقف کے منافی باور کرانے گئے تھے، ان کے بارے میں اطلاع ہے کہ مسٹر جناح انہیں لکھ کر مذاکرات کی دعوت دیں لیکن صرف ایک ہی بنیاد ہو گی یعنی لیگ کو ریاست میں ذمہ دار حکومت کے قیام کے لئے تحریک کی حمایت کرنی چاہئے۔ انہوں نے نجی طور پر یہ بھی دیا ہے کہ مہاراجا نے بھارتی تسلط پر عمل کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن سردار پٹیل نے انکار کردیا اور مہاراجا کو صاف صاف کہہ دیا کہ اگر ریاست میں ذمہ دار حکومت قائم نہ ہوئی تو وہ کشمیر کا الحاق قبول نہیں کریں گے۔ وہ پھر پوچھتا ہے کہ مسلم لیگ ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟ لیگ نے حکمرانوں کے حق کو تسلیم کیا ہے کہ وہ عوام کی قسمت کا فیصلہ کریں، وہ جھگڑا کرتا ہے۔


جموں اور کشمیری پنڈتوں کے پنجابی اور ڈوگرہ ہندوؤں نے مہاراجہ کو ایک یادداشت بھیجی ہے جس میں اس سے کہا گیا ہے کہ وہ ہندوستان تک رسائی حاصل کرے۔ لیکن عبداللہ کی رہائی سے ان میں تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے اب نیشنل کانفرنس سے خود کو اتحادی بنا لیا ہے۔ بے شک، وہ موسم گرما ہیں اور ان کی واحد خواہش یہ ہے کہ ان کی کھالوں کو بچایا جائے.


مذکورہ بالا کی روشنی میں میری ذاتی طور پر رائے ہے جناب، کہ پاکستان کو لڑائی (جنگ استعمال نہ کرنے) کے حوالے سے سوچنا ہوگا جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے۔ دوسری طرف عملی طور پر نہ صرف اس پر فیصلہ کیا ہے بلکہ اس کے لئے تیار ہے۔ سفارتی دبائو اب تک ناکام ہوچکا ہے۔ ہم جو عرض البلد دیتے رہے ہیں انہوں نے صرف اس لحاظ سے ہماری غلط تشریح میں خدمت کی ہے کہ پاکستان کو کمزور سمجھا جاتا ہے اور حادثہ ہونے والا ہے۔ یقینا، ہمیں اپنی طرح کی کوشش کرنا چاہئے لیکن ہمیں اس کی لڑائی کے پہلو سے نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ چاہے مسالک کے درمیان اتحاد قائم ہو اور چاہے ریفرنڈم کا انعقاد ہو اور پاکستان کے لئے سازگار فیصلے کے نتیجے میں ہو، اس کی پاسداری کے لئے ایک لمحے کے لئے بھی مہاراجہ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کسی ناموافق فیصلے کے باوجود کشمیر کے الحاق کو قبول نہ کرنے والی بھارتی حکومت پر۔


پاکستان کو جو کچھ بھی اس واقعے کے لئے تیار رہنا ہے وہ یہ ہے کہ وہ ریاست کے اندر اور اس کے بغیر قبائل کو اسلحہ اور کھانے پینے کی چیزیں سپلائی کرے جو پہلے ہی اپنے ہتھیاروں کو تیز کررہے ہیں۔ مقامی آبادی شاید ہی ایک پکھواڑا سے زیادہ کے لئے ایک پر امن تحریک پر لے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے کامیاب حکمت عملی مہاراجہ کو مشرقی پنجاب سے ملحقہ پہاڑی جنوب کی صرف کچھ بنجر پٹریوں کے ساتھ چھوڑ دے گی۔ یہ بہت اچھا لگ سکتا ہے لیکن مہاراجہ کس طرح سوچ رہا ہے بتانے کا شاید ہی کوئی ذریعہ ہے۔ ہمیں بے خبر نہیں پکڑا جانا چاہئے، اور واحد راستہ یہ ہے کہ ہر واقعے کو پورا کرنے کے لئے خود کو تیار کیا جائے۔ بحیثیت ریاست کے لوگوں اور سرحد پار ہمارے لوگوں کے درمیان کیسے قائم ہو سکتا ہے، میں یہ کہہ سکتا ہوں، جناب، کہ میجر خورشید انور (مسلم نیشنل گارڈز کا) پہلے ہی راولپنڈی میں موجود ہے اور اسے رابطے کے کام سے بہت اچھی طرح اعتماد کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ریاست سے تعلق رکھتا ہے اور سرحدی علاقوں کو بہت اچھی طرح جانتا ہے۔


میں یہ بھی تجویز کروں گا، جناب، کہ اگر آپ کشمیر کے حوالے سے کوئی بیان جاری کرسکتے ہیں تو اس سے ہمارے یہاں کے لوگوں کو مدد ملے گی اور ہندوستانی ریاستوں کو لیگ پوزیشن کو واضح کرنے میں مدد ملے گی۔ جناب آپ مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے مسلم کانفرنس کے نظربند افراد کی رہائی کا مطالبہ کرسکتے ہیں جن پر اب تک کوئی مقدمہ بھی نہیں چلا، خاص طور پر اب جب کہ ہر دوسرے سیاسی قیدی اور نظربند آزاد مقرر ہیں۔ لیگ کی پوزیشن کے علاوہ اگر واضح اور دوبارہ حاصل کیا گیا تو عبداللہ کے پاؤں سے زمین اتار دیں گے۔ میں یہ اس لئے تجویز نہیں کر رہا کہ مجھے عبداللہ کے یوٹرنگز پر اشتعال دلایا گیا ہے بلکہ اس لئے کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور یقین ہے کہ لیگ واقعی انہیں نیچا دکھا رہی ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ جناب، بیان کا مندرجہ ذیل حصہ یا کچھ اور اسی اثر کے لئے فارم:


میرے نوٹس میں یہ بات لائی گئی ہے کہ بعض حلقوں میں بھارتی ریاستوں سے متعلق مسلم لیگ کی پالیسی کے حوالے سے کچھ غلط فہمی پائی جاتی ہے اور کچھ دلچسپی رکھنے والے افراد جان بوجھ کر مسلم لیگ کے بارے میں غلط بیانی کر رہے ہیں کہ وہ اپنے اپنے مقصد کی خدمت کرے اور ہندوستانی ریاستوں میں مسلمانوں کو گمراہ کر سکے۔

تیسری جون کے اس منصوبے کے مطابق جسے کانگریس اور مسلم لیگ دونوں نے قبول کیا ہے، ہندوستانی ریاستوں کے احترام میں پیراموونٹسی جو تاج کے ساتھ آرام کیا تھا وہ ہندوستانی ریاستوں کی طرف پلٹ گیا۔ قانونی اور آئینی موقف، اس لئے، تھا، اور رہتا ہے، کہ یہ ایک بھارتی ریاست کے سربراہ کے طور پر حکمران ہے جو اپنی ریاست کی جانب سے مذاکرات کر سکتا ہے اور کسی ایک یا دوسرے تسلط میں شامل ہونے کا حتمی فیصلہ لے سکتا ہے۔500 عجیب ریاستیں جنہوں نے ہندوستانی یونین اور دیگر لوگوں کو قبول کیا ہے جنہوں نے پاکستان کو قبول کیا ہے اسی طریقہ کار پر عمل کیا ہے۔ اس میں ترمیم یا تبدیلی نہیں کی جاسکتی سوائے اس کے کہ دونوں مقبوضات کے مابین اور ہندوستانی ریاستوں کے حکمرانوں کے اتفاق رائے سے۔ ہم تیار ہیں اور پاکستان پہلے ہی بھارتی حکومت سے اس بنیاد اور شرائط پر مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے جس کے تحت وہ اس بات پر متفق ہوں گے کہ الحاق کا سوال بھارتی ریاستوں کے عوام کے حوالہ کیا جائے۔


مسلم لیگ ہمیشہ پوری دنیا میں عوام کے حق خود ارادیت کے لئے کھڑی رہی ہے اور یہ ہی اصول تھا جس نے مسلم لیگ کی طرف سے پاکستان کے مطالبے کی بنیاد تشکیل دی۔ یہ منصوبہ بندی وغیرہ کے تحت ریاستوں کی پوزیشن کی تشریح سے بالکل مختلف سوال ہے۔

میں نے تجویز کیا ہے، جناب، اپنے خام انداز میں کہ مسلم لیگ اور پاکستان کو کشمیر کے حوالے سے کیا کرنا چاہئے۔ یہاں مشکلات یہ ہیں کہ مسلم کانفرنس کو کوئی پریس نہیں ملا ہے اور یہاں تک کہ غیر جانبدار پریس کو بھی مجروح کیا جاتا ہے۔ اگر تھوڑی سی غلطی سے ہمارے یہاں کے لوگ حکومت کو طاقت کے استعمال کا موقع دیں تو میرے ذہن میں کوئی شک نہیں، جناب، وہ ڈوگرہ فوجی ہر گھر میں گھس کر مسلمانوں کو پکڑ کر گولی مار دیں گے۔


میں نے ابھی ابھی سنا ہے کہ شیخ عبداللہ نے اپنے ایک لیفٹیننٹ مسٹر جی ایم صادق کو مسٹر لیاقت علی کو دیکھنے کے لئے لاہور بھیجا ہے۔ اس سے آگے، ابھی کچھ معلوم نہیں ہے۔



مکمل تحریر >>

Thursday, September 3, 2020

پاکستانی سیاست / جمہوریت کا المیہ ۔ رفعت رشید عباسی

 پاکستانی سیاست / جمہوریت کا المیہ

تحریر: رفعت رشید عباسی 


پاکستان میں جمہوریت وہ بھیڑ ہے جو بھیڑیے کے جبڑوں میں سسک رہی ہے

اور

جمہوریت کے خیر خواہ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ اس تڑپتی سسکتی جمہوریت کو اس عذاب سے نجات دلانے کے لیے اپنی جاں لڑا رہے ہیں  

لیکن

بدقسمتی سے حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے

جمہوریت کی خیر خواہی کا لبادہ اوڑھے یہ سب لوگ درپردہ بھیڑیے کی خوشنودی حاصل کرنے میں ہی دن رات لگے ہوئے ہیں 

کہ  

کسی طرح وہ ان سے راضی ہو جائے اور اس بھیڑ کے چیتھڑوں میں سے کچھ حصہ انہیں عنائت کر دے.


حقیقت کتنی بھیانک ہے 

کہ

بھیڑ جن کو اپنا سمجھ کر ان سے امیدیں لگائی بیٹھی ہے  وہ  اصل میں بھیڑیے کے غلام ہیں.


ان غلاموں میں سے جسے یہ حصہ مل جاتا  ہے اس کے لیے یہی جمہوریت ہے اور وہ بھیڑیے کا ترجمان بن کر اس کے گن گانے میں لگ جاتا ہے 

اور 

جو اس  سےمحروم رہ جاتا ہے 

وہ جمہور کی خیر خواہی کے نام پر شور شرابا کر کے اپنی اگلی باری کی راہ ہموار کرنے  میں لگ جاتا ہے 

اور اس سارے عمل کو عوامی حقوق، جمہوریت کا استحکام، آئین کی بالادستی جیسے خوبصورت نام دیتا ہے۔ 


عوام کے ہجوم میں ان کے منہ انقلاب کےشعلے اگل رہے ہوتے ہیں  اور اسی لمحے ان کے  کان کسی خاص "پیغام" کے بھی منتظر  ہوتے   ہیں  اس آس میں کہ کب نظر کرم ہو جائے۔ 


یوں دوہرے چہرے رکھنے والے عوام میں انقلابی اور بھیڑیے کی در پر سوالی بنے رہتے ہیں۔  


ان کا سارا اانقلابی پن بھیڑیے کی رضا کی حدود میں ہی رہتا ہے اور وہ اطاعت وفرمانبرداری کی حد کبھی پار نہیں کرتے ہیں کہ  کہیں بھیڑیے صاحب کو غصہ آ جائے اور خواہ مخواہ عوام ، جمہوریت اور انقلابی پن کے نام پر آئندہ نسلوں تک کے اس ملک پر حکمرانی کے امکانات داو پر لگ جائیں۔ 


جب تک سیاست اس بزدلانہ  و منافقانہ انداز سے پاک نہیں ہو گی عوام کا حق حکمرانی بحال نہیں ہو سکتا۔


 آئین کی کتاب میں لکھے چند حروف کے پیچھے اگر منظم و باشعور عوامی طاقت نہیں ہو گی تو کوئی بھی اور "طاقت"  ان حروف کی حرمت کی پاسداری کبھی نہیں کرے گی.


مکمل تحریر >>