Monday, June 29, 2020

مشن جبرالٹر اور برگیڈئیر شیر احمد

ڈاکٹر طارق سابق ڈی ایچ او بھمبر و کوٹلی کا فیس بک پوسٹ پر تبصرہ

جنرل صاحب سٹھیا گئے ھیں۔ مشن جبرالٹر کے دو حصے تھے ایک جموں کے لئے جس کی قیادت میرے چچا بریگیڈیئر ریڈائرڈ شیر احمد نے کی اور دوسرا وادی کے لئے۔ 
جموں مشن کل نوے افراد پر مشتمل تھا لوگوں نے بے مثال تعان کیا انھیں تربیت اور اسلحہ دیا گیا اور کمانڈو کاروائیوں سے نہ صرف ایک بھارتی ڈویژن کو شکست سے دو چار کر کے
راجوری پر قبضہ کیا بلکہ وھاں اپنی حکومت قائم کی۔ اس سلسلے میں   چوہدری منیر صاحب  سابق پرنسپل سیکریٹری/ سیکریٹری کی فیملی اور خصوصآ ان کے سسر صاحب نے بے حد تعاون کیا۔ 
جہاں تک وادی کا تعلق ھے یہ بات اس حد تک درست ھے کہ لوگوں نے اس حد تک تعاون نہیں کیا۔ لیکن یہ کہنا سخت زیادتی اور ناقابل برداشت ھے کہ لوگوں نے پاکستانی کمانڈوز کو پکڑ کر انڈین کے حوالے کیا۔ 
اصل میں اس اوپریشن کا بنیادی نقطہ یہ مفروضہ تھا کہ کشمیر میں کسی قسم کی کاروائی پر بھارت مسلمہ بارڈر کراس نہیں کرے گا۔ جنرل صاحب کو اس غلط حکمت عملی کا جواب دینا چاہئے اور یہی وجہ ھے کہ فتح کئے ھوئے راجوری کو چھوڑ کر واپس آنا پڑا اور آنے سے پہلے انھوں نے درخواست کی کہ انھیں ادھر ھی رھنے دیا جائے واپس نہ بلایا جائے ورنہ ان لوگوں پر بے انتہا ظلم ھوں گے اور وہ کبھی پاکستان پر بھروسہ نہیں کریں گے۔ یہ تحریر GHQ میں موجود ھے اور جنرل صاحب کو ضرور پڑھنی چاہئے۔ 

مکمل تحریر >>

جنرل شعیب کی بدتمیزی اور مشن جبرالٹر


مہتاب عزیز کے قلم سے
جاہل اور نالائق شخص (جنرل امجد شعیب) کو انیس سو پینسٹھ کے آپریشن جبرالٹر فورس کے مین سینئیر کمانڈر کرنل منشاء خان برٹش ملٹری کراس اور تمغہ جراٰت کی آفیشل رپورٹ یا برگیڈئیر گلزار کے صاحب زادے برگیڈئیر فاروق جو اس وقت ایس ایس جی کے میجر تھے اور آپریشن جبرالٹر میں خالد گروپ کی کمان کر رہے تھے ، ان حضرات کی مشن سے واپسی پر دی گئی آفیشل رپورٹ کا مطالعہ کر لینا چاہئیے۔

جس میں ان حضرات نے لکھا تھا کہ کشمیری عوام نے اپنے بچے شہید کروا کر پاکستان سے آے مجاہدوں کی حفاظت کی ۔ مرحوم کرنل منشاء خان لکھتے ہیں کہ ہم اگر مقبوضہ وادی سے زندہ واپس آنے میں کامیاب ہوے تویہ صرف کشمیری عوام کی قربانیوں اور مدد کی وجہ سے ممکن ہو سکا ۔ 

دوسری طرف میجر فاروق اپنی کتاب آپریشن جبرالٹر میں لکھتے ہیں کہ جب یہ خالد گروپ وادی میں داخل ہوا تو ایک گاوں میں داخل ہوے ، گاوں والوں نے اپنی حیثیت کے مطابق خاطر کی کہ ایک بچے نے آ کر بتایا کہ بھارتی فوج آ رہی ہے ، ان کے میزبان گاوں کے نمبردار نے ان سب کو ایک نزدیکی پہاڑی پر چلے جانے کو کہا ، میجر فاروق لکھتے ہیں میں اپنی فورس کو اس پہاڑی پر لے گیا اور دور بین کی مدد سے گاوں کی طرف دیکھنے لگا ۔ ان کے سامنے بھارتی فوج نے گاوں کو گھیر لیا ، اور نمبردار صاحب کے اکلوتے جوان بیٹے کے سر پر پستول رکھ کر ان سے مجاہدین کا پوچھا لیکن نمبردار صاحب نے نہ بتایا تو اس بھارتی فوجی آفیسر نے اس لڑکے کے سر پر گولی مار دی ۔ میجر فاروق دور بین سے یہ سارا منظر دیکھتے رہے لیکن اپنے سرینگر پر حملے کے مشن کو خفیہ رکھنے اور باقی گاوں کے نہتے باشندوں کو بچانے کے لئیے انہوں نے مداخلت نہ کی ۔ میجر فاروق لکھتے ہیں کہ یہ کشمیری جوان وادی میں ہمارا پہلا شہید تھا ۔آگے لکھتے ہیں میں نے سرینگر پر حملے کا پلان بنایا تو رات سری نگر کے نزدیک ہی چند میل کے فاصلے پر ایک جنگل میں ندی کے کنارے مہاراجہ کے وقت کے تعمیر شدہ ایک ریسٹ ہاوس میں قیام کیا ، میجر فاروق لکھتے ہیں کہ صبح سویرے جب میں نے اپنی فورس کو حملے کے لئیے تیار ہونے کا کہنے کے لئیے تلاش کیا تو وہاں کوئی آدمی نہ پایا ۔ میجر لکھتے ہیں کہ میں اپنی اور اپنے مشن کی ناکامی پر ندی کنارے بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رویا ۔ اور پھر انتہائی مایوسی کے عالم میں پاکستان واپسی کا سفر شروع کر دیا تو ہر میل دو میل کے بعد اکا دکا یا چھوٹے گروپوں کی صورت میں بھاگنے والے فوجی آ ملتے گئے حتیٰ کہ سرحدی علاقے کے پاس پہنچتے پہنچتے نفری پوری ہو گئی ، میجر فاروق نے سپاہئیوں کو لعن طعن کی کہ آپ لوگ حملے کے وقت کہاں چلے گئے تھے تو انہوں نے بتایا کہ صوبیدار اقبال نے ہمیں کہا کہ " صاحب پاگل ہو گیا ہے یہ اپنے ساتھ ہمیں بھی مرواے گا آپ لوگ ادھر ادھر چھپ جاو جب یہ واپس چل پڑے تو آن ملنا ۔ ان حضرات کو ان کی قید میں موجود بھارتی فوج کے ایک مسلمان آفیسر کیپٹن حیدر نے بتایا کہ جس دن آپ سرینگر پر حملہ کرنے لگے تھے اس روز سرینگر بھارتی فوج سے بالکل خالی تھا ۔ اسی طرح میجر منظور کی قیادت میں ایک دستے نے بدھل راجوری کے علاقے میں نفوز کیا ، علاقے کے عوام ان کی مدد کے لئیے اٹھ کھڑے ہوے اور یہاں موجود بھارتی فوج لچھ نقصان اٹھا کر یہ علاقہ خالی کر گئی اور یہاں پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا گیا اب قراٰن پر مشترکہ حلف اٹھایا گیا اور عوام سے وعدہ کیا گیا کہ ہم (پاکستانی مجاہدین ) آپ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے ، اچانک ایک رات ریڈیو آزاد کشمیر سے ایک پراسرار پیغام نشر ہوا کہ " طارق کی امی بیمار ہیں گاوں کے افراد صبح ناشتہ دینے مجاہدین کے ٹھکانے پر پہنچے تو دیکھا کہ وہ ٹھکانہ خالی پڑا تھا پاکستان سے آے مجاہدین جنہوں نے قراٰن پر ساتھ جینے مرنے کا حلف اٹھایا تھا " امی " کی بیماری کی وجہ سے راتوں رات واپس جا چکے تھے ، اب بھارتی فوج دوبارہ علاقے میں داخل ہوتی ہے اور یہاں کے باشندوں پر ظلم کر وہ پہاڑ توڑتی ہے کہ آسمان بھی ان کی مظلومیت پر خون کے آنسو روتا ہے میں نے خود میر پور کی " مہاجر کالونی میں ایسی بزرگ خواتین کو دیکھا ہے جن کی چھاتیاں بھارتی فوج نے کاٹ دیں تھیں درجنوں لوگ ایسے دیکھے جن کی ٹانگ ، بازو یا ہاتھ کاٹ دئیے گئے تھے۔ کشمیریوں کے بارے میں جھوٹی بکواس زیادہ تر ان بزدلوں اور بھگوڑوں نے پھیلائی تاکہ اپنی بزدلی ، نااہلی پر پردہ ڈال کر کسی محکمانہ باز پرس اور کاروائی سے بچا جا سکے ۔ یہ بزدلانہ رویہ رکھنے والے بےغیرت کشمیریوں کو طعنے دیتے ہیں اس نالائق ترین آدمی کی اپنی کارکردگی جیسی رہی اس کا تو بزدلی پر کورٹ مارشل بنتا ہے ان کی ساری قابلیت اپنی نہتی قوم کے خلاف منصوبہ بندی تک محدود ہے اس کے علاوہ ہر محاز پر اس نے دشمن کے سامنے نااہلی اور بزدلی کی مثالیں قائم کیں ۔ 

یہ لوگ دنیا کے ہر موضوع پر گھنٹوں بکواس کریں گے لیکن بھارت کے ساتھ جنگوں میں دکھائی گئی کارکردگی پر کبھی ان کے منہ سے ایک لفظ تک نہیں نکلے گا بلکہ ایسا سوال کرنا ہی ان کے نزدیک بہت بڑا جرم ہے کیونکہ اس طرح ان کی قابلیت اور بہادری ایکسپوز ہو جاتی ہے کارگل کی جنگ اس روئیے کی تازہ ترین مثال ہے ۔ 

اپنی عسکری نااہلی اور نالائقی کو چھپانے کے لئیے یہ حضرات آمروں اور آئین شکن افراد کے " دلال " بن جاتے ہیں اور ٹی وی پر بیٹھ کر سیاست پر تبصرہ فرماتے ہیں جو ان کا شعبہ ہی نہیں اور آج یہ اپنے عسکری موضوع پر بولا تو اس کا ذہنی افلاس سب کے سامنے آ گیا ۔

بشکریہ
مکمل تحریر >>

جنگل ہوئے میدان

*جنگل ہوئے میدان* 


جنگلات کے بچاؤ پر قرطبہ سے وسیم احمد کی جاندار تحریر 


1990ءکی دہائی کا آغاز ، زمانہ طالبعلمی  کا حسین دور ہے ۔ حکومتِ ریاست آزاد جموں وکشمیر کی طرف سے شجرکاری مہم کے آغاز کا اعلان ہوتا ہے محکمہ جنگلات کے آفسران گاڑیوں میں سوار و پیدل کچے پکے راستوں سے گزرتے ہوئے سکولوں کا رخ کرتے ہیں سکول اسمبلیوں میں پہنچ کر قوم کے مستقبل ، فطین زہنوں تک یہ بات پہنچائی جاتی ہے کہ درخت لگانا سنتِ پیغمبری ہے ، یہ ہماری نسلوں کی بہتر زندگی کا ضامن ہیں ۔ ہمارے پہاڑوں کی خوبصورتی و دلکشی کا حسین راز اور ہماری زندگی کی بقا ہیں ۔یہی وہ زمانہ تھا جب کتابوں میں مضامین اور سرورق پر
 " *درخت لگائیں بخت جگائیں* " 
جیسے درخت دوست جملے دیکھنے کو ملتے جو قوم کے ہونہاروں کے لیئے جہاں زہنی بالیدگی و پختگی کا باعث ہوتے وہیں معماروں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوتے۔
اس دور میں جنگل کے رکھوالے ( گارڈ ، واچر) کا اتنا رعب و دبدبہ ہوتا کہ اگر کہیں سے آواز بلند ہوتی کہ گارڈ آرہا ہے ! درخت کاٹنے والے اپنا سازوسامان چھوڑ کر بھاگنے میں عافیت جانتے ۔ ہم نے اپنی چشم روشن سے ان سِتم ظریفوں کو کئی بار لنگوٹی اٹھا کہ بھاگتے دیکھا ، دل میں یہ احساس ہوتا کہ جنگل کہ رکھوالے زندہ ہیں ۔
پھر   نجانے کس کی نظر کھا گئی اس خطہ ارض پاک کو ۔۔
وہ جو سکول اسمبلیوں میں پہنچ کر جنگلات کی اہمیت وفضیلیت پر درس دیا کرتے تھے وہ " *گوہر نایاب"*  کم یاب ہو ئے ۔ کتابوں کے مضامین و سرورق بدل دئیے گے ، وہ جملے جو جذبہ ء شجرکاری بیدار کرتے تھے وہ پنہاں کر دئیے گے ۔
محکموں کے اندر سیاسی شعور میں اس قدر بیداری(تنزلی) آئی کہ جو چھوٹی گاڑیاں درختوں کی پنیریاں لے کے گاوں گاوں قریہ قریہ صدا ء سر سبز و شاداب کشمیر  بلند کرتی عوام الناس کو اپنا ہمنوا بناتی تھیں اس کے برعکس بڑے بڑے ٹرکوں ٹرالوں کا رخ معصوم و بے ضرر جنگلات کی طرف کیا گیا اور یوں
 " **درخت کٹاو بخت جگاو* "  
مہم کا آغاز کیا گیا  اس مہم جوئی سے بہت سے سیاسی کارندوں کی دلجوئی اور بخت جگائی کی گئی ۔ ان کے خلاف ریاست کے مخلص و مفلص طبقے نے جب کبھی آواز اٹھائی تو ان ناعاقبت اندیشوں نےنئے طریقہ ء واردات ایجاد کر لیئے ۔
 *  عام لوگوں کی آسانی کے لیئے درختوں کی فروخت 
 *  آراء میشینوں کے ساتھ ٹھیکہ جات
 *  آندھی و طوفان سے گرنے والے درختوں کی فروخت
جیسے کئی اور طریقوں کی ایجاد ہوئی ۔ جب پیٹ کی تلخی مزید بڑھی تو  جنگل کو آگ لگا دو سکیم کا آغاز ہوا جو آج تک کامیابی سے جاری ہے ۔ جو کبھی رکھوالے تھے وہ کئی بار ملوث پائے گے ۔ 
 ***اس گھر کو آگ لگی گھر کے ہی چراغ سے***  
کے مصداق  ٹھہرے ۔
 یہ داستان ستم مختصر ہے اور کارہاہ بدنماہ طویل تر
 *کہنا صرف یہ ہے* 
  • یہ جو بستیوں کی بستیاں اجاڑی گئی ہیں خاندانوں کے خاندان ہجرت کرنے پہ مجبور کئے گئے، چرند و پرند کے رزق چھینے گے ، پہاڑوں کے سروں سے ردائیں کیھینچی گئیں، چھوٹے چھوٹے آشیانوں  میں چہکتی مہکتی زندگی کو تہ خاک کیا گیا ، دشت و وحشت کا سماں بندہا گیا اس دہشت و وحشت گردی کا حساب کون چکائے گا ۔۔ یقینا اشرف المخلوقات کھڑی ہو گی کٹہراء جرم میں اور سامنے بےزباں ہوں گے  انصاف ہستی ء بالا نے کرنا ہے اس وقت سے ڈرئیے اپنے آپ کو بدل دیجیئے ۔ جنگلوں کو آگ سے بچائیے ان کو پھر سے آباد کیجئے ۔ جنگلی حیات کو حیات کا حق دیجیئے  ان کی آبادی سے ہمارے گھر آباد ہونگے ، ہماری نسلوں کی رگوں میں صاف و شفاف آکسیجن کی فراہمی کا ذریعہ بنیں گے ۔۔ ان کی آبادی سے ہماری چراگاہیں سبزہ زار ہونگی ہمارے جگر گوشوں کو صاف و خالص دودھ میسر آئے گا ۔۔۔ ہاں یہ تمہیں ایندھن بھی فراہم کریں گے ۔۔ اور تم طرح طرح کے لذیز کھانوں سے لطف و اندوز بھی ہونگے ۔ ہاں یہ تمہیں سایہء راحت بھی دیں گے اور سورج کی تپتی شعاوں سے بھی بچائیں گے۔۔ 
 *میرے دیس کے لوگو* !
  جس آگ سے تم پناہ مانگتے ہو اس آگ سے جنگلوں کو پناہ دے دو ۔ 
آو سنتِ پیغمبر کو پھر سے  عام کریں ۔۔۔

 **درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے*

تحریر:
وسیم احمد راجہ قرطبہ سپین
مکمل تحریر >>

بلوچ ہمارے وفادار بھائی

............ ہمارے بہادر و وفادار بلوچ بھائی .............ان کے پاکستان سے وابستہ خوابوں کو پورا کریں.........................

  • تحریر رفعت رشید عباسی 
.. الحمد للہ ہماری سیکیورٹی فورسز نے پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کو اپنے ناپاک منصوبوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا تمام شہداء کو سلام۔ اللہ ان کی شہادت قبول فرمائے اور بہادری کا مظاہرہ کرنے والے جوانوں کی جرات کو سلام۔ زخمیوں کے لئے جلد اور مکمل صحت یابی کی دعائیں اللہ وطن عزیز کو دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ رکھے اس جذباتی فضا میں ہم سب کو کچھ سنجیدہ امور پر بھی غور کر نا چاہیے •

  •  یہ حقیقت ہے کہ مارے جانے والے دہشت گرد پاکستانی ہی تھے اور مسلمان بھی آخر وہ کون سے اسباب تھے کہ جو ان لڑکوں کو اپنوں سے اتنا دور اور دشمن کے اتنا قریب لے گے * ہمیں ان کا ہمدرد اور پاکستانی بھائی بن کر خود سے سوال کرنا چاہیے کہ* معدنی وسائل سے مالا مال یہ صوبہ کم آبادی کے باوجود غربت کی چکی میں مسلسل کیوں پِس رہا ہے؟ ہمارے بھائی ہم سے اتنے ناراض آخر کیوں ہیں؟ حقوق اور انصاف کے دروازے ان پر کیوں بند ہیں ؟ * یہ حقیقت ہے کہ جب جدید ریاست کے ادارے عدل، تحفظ، روزگار، تعلیم ، علاج، انصاف کے شعبوں میں مثالی خدمات کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کرنےمیں ناکام ہوتے ہیں تو پھرجنگل کا قانون اس خلا کو پر کرتا ہے۔ جب طلبہ ، وکیل، سیاسی کارکنان، صحافی اور دیگر اہل شعور و دانش کی زبانیں بند کروائی جاتی ہیں تو بندوق کی بے قابو زبان میں ہر کوئی بات کرنے لگتا ہے. جمہور پر مسلط چند سرداروں کے ذریعے ریاست جب نظام چلاتی ہے تو عوام کی غلامی اور محرومی کی رات تاریک تر ہو جاتی ہے۔ یہ سردار جو عوام اور ان کے وسائل و حقوق کے درمیان ایک دیوار بن کر کھڑے ہیں انہیں ہٹا کر عوام کا حق حکمرانی بحال کرنے کے بجائے ان کی سرپرستی ایک ظلم ہے۔ ظلم کا نظام مقامی لوگوں میں مایوسی کا سبب ہے دشمن کو اپنی سازشوں کی فصل بونے کے لیے سازگار ماحول اور زرخیز زمین چاہیے ہوتی ہے اور بدقسمتی سے ہم اپنے ہاتھوں یہ اسے فراہم کر رہے ہیں. سرحدی علاقہ، قبائلی مزاج، تعلیم پسماندگی ، غربت ، معدنی وسائل کی دولت ، جعغرافیائی اہمیت اور پڑوس میں موجود تمام پاکستان کے کھلے اور دوست نما دشمنوں کا "اکٹھ" اس معاملے کی حساسیت کا تقاضا ہے کہ قومی قیادت اب 73 سالہ پرانے روائیتی جملوں سے کام چلانے کے بجائے بلوچ عوام کو ان کے حقوق کی فراہمی کے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے. ان کا احساس محرومی دور کرے ان کے جوانوں کو دشمن کا سازشوں کا شکار ہو کر یوں بے موت مرنے سے بچائے انہیں واپس اپنے گھر لائے تاکہ وہ بھی اس گھر کوبنانے اور سنوارنے میں اپنا کردار ادا کریں. سوشل میڈیا کے بھائیو! خدارا اس واقعے کا ذمہ دار دہشت گرد تنظیم بی ایل اےکو ٹھہرائیں بلوچوں کو نہیں دشمن یہی چاہتاہے نفرت کے بیج بو کر ہمیں تقسیم کرے۔ اس کے اس جال میں اپنا سر نہ دیں. ایک محدود تعداد گمراہ ہو کر اس کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے اس کا الزام سارے بلوچوں کو نہ دیں ان سے محبت کا اظہار کریں ان کی محرومیوں میں اپنے کردار کو تسلیم کریں اس کے ازالے کی مخلصانہ کوشش کریں ان کے وسائل پر ان کا حق تسلیم کریں انہیں سینے سے لگائیں انہیں اپنوں کے ہر قسم کے جبر سے آزادی دلوائیں انہیں پاکستانی بن کر اچھی پر امن زندگی گزارنے میں مدد کریں انہیں پورے پاکستان سے محبت کا پیغام دیں ان کے پاکستان سے وابستہ خوابوں کو پورا کریں تمام حقوق کے تحفظ کی ضمانت دینے والے اسلام کے عادلانہ نظام کے سائے میں ہی تمام قومیں و قبائل باہم متحد ہو کر پرامن پاکستانی بن کر رہ سکتے ہیں جبکہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، ظلم کا نظام، عدل کا فقدان، جمہوری حقوق کا سلب ہونا اور نفرت کا رویہ دوریاں پیدا کرتا ہے اور دشمن کو گھر میں داخلے کی راہ دیکھاتا ہے ہم پاکستانی اپنے حصے کا کام اخلاص سے کریں تو ان شاء اللہ پاکستان کا ہر دشمن ناکام و نامرا د ہی ہو گا

مکمل تحریر >>