Monday, May 31, 2021

اہلیان دھیرکوٹ والو اپنے ہیرے کی قدر کرو۔تحریر صغیر قمر

اہلیان دھیرکوٹ والو اپنے ہیرے کی قدر کرو۔۔۔۔۔۔


وہ ابھی چوبیس پچیس برس کا درزا قد نوجوان تھا,جب اسے میں لے نیلم ویلی گیا۔کیرن ریسٹ ہاؤس کی ساتھ بہتے دریاۓ نیلم کے اس پار کشمیر کی مظلوم بہنوں کو ڈھور ڈنگر چراتے کے دیکھ کر اپنی بے بسی پر زاروقطار رودیا۔تب وہ سعودی عرب اعلیٰ تعلیم حاصل کررہا تھا۔یہ 1986 کے جون کا ذکر ہے۔تب سے میری اس کے ساتھ عقیدت ہے۔بہت جلد کشمیر کے زعفران زاروں میں باردو دھکنے لگا اور وہ پاکستان آگیا۔میں نے اپنی عقیدت دوستی میں بدل لی۔اس نے دوستی کی لاج یوں رکھی کہ میرے دکھ سکھ کے دنوں میں ساتھ کھڑا ہوا اور میرے کندھے پر اس کے ہاتھوں کا لمس ہر لمحے ساتھ رہا۔

میں نے اس مشکل ترین اور جانگسل دنوں میں مسکراتے دیکھا۔میں نے اس کے سکھ کے دن بھی دیکھے وہ عاجزی کا مجسمہ بنا رہا۔میں نے اسے کو نمازوں اور روزے کی حالت میں دیکھا۔اس کے پیچھے درجنوں پار نماز ادا کی اس کی قرات اور سوز سے دلوں کو پگھلتے دیکھا۔میں اس خوشحال دنوں میں دوستوں پر مال و متاع نچھاور کرتے دیکھا۔اس کی تعلیم اس کے اندر غراٌ پیدا نہ کر سکی۔وہ لمبے قد اور بہترین عالم ربانی ہونے کے باوجود جھک کر ملتا۔

ہم اس سے جائز و ناجائز مذاق کر جاتے مگر وہ قہقہے مار کر ٹال جاتا۔

میں نے اسے کشمیر کے مظلوموں کامقدمہ لڑتے ہوۓ ہایا۔کبھی استنبول میں,کبھی مکہ المکرمہ میں ,کبھی تریپولی میں ,کبھی خلیج کی ریاستوں میں,کبھی,عالم ارب کے نوجوانوں کی عالمی تنظیم WAMY,کبھی کوالالمپور میں کبھی,خرطوم میں کبھی قاہرہ میں,فلسطین میں,کبھی جکارتہ میں,کبھی تیونس میں۔۔۔کبھی نور تک کبھی نار تک وہ ہر اس جگہ گیا جہاں کہیں کہیں روشنی تھی۔

وہ عالم عرب کے لیے کشمیر المسلمہ جیسا جریدہ چھاپتا اور سوۓ ہوۓ عربوں کے گھروں پر دستک دیتا ہوا پایا گیا۔

میں نے سفر وحضر میں اسے رب کے ساتھ جڑا ہوا پایا۔اس کے لب رسول اللہ ﷺ پر درود سے ہم وقت تر دیکھے۔

اسے ظلم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ دیکھا۔

عسرت اور مفلسی کے دنوں میں خلیج کی آگ برساتی زندگی میں مزدوری کرتے دیکھا۔

اس کے لب پر کبھی شکوہ نہیں آیا۔ذاتی محرومیوں کا اس نے کبھی رونا نہیں رویا۔۔۔وہ رویا کشمیر کےبہتے لہو پر,فلسطین کے مظلوموں کی بے بسی پر۔

اس کے کردار کا اجلاپن اور ایمان کی دولت سے بھرے دل کی چمک چہرے پر جھلکتی ہے۔

مخالف بنانا اسے آتا نہیں ,دل میں بسا لینے کا سلیقہ خوب جانتا ہے۔

سڑیل,متعصب اور سیاسی مسافروں کے دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ان کے مفادات کے ہیٹ پر جب اس شفاف کردار کی ضرب لگتی ہے تو ان کی چیخیں دور دور تک سنائی دیتی ہیں۔

برسوں سے عوام کا لہو چوسنے والی جونکیں انہیں مسجد اور مصلہ سنبھالنے کا مشورہ دیتی ہیں ان کا کہنا ہے تم دین کو سنبھالو سیاست ہم کریں گے لیکن اس پر شمع کی طرح نچھاور ہونے والے کہتے ہیں اب کہ چنگیزی نہیں چلے گی۔۔۔۔۔تمہارے بوریابستر گول ہونے کے لمحے آ پہنچے۔۔۔۔سیاسی مداریوں اور مسافروں کی "رخصتی "نوشتہ دیوار ہے اسے آج پڑھ لو کیوں کہ جن کو تم پتھر مارتے اوربے گھر کرتے تھے,دفاتر جلاتے تھے ,سماجی بائیکاٹ کرتے تھے۔ان کی نسل جوان ہو چکی ہے۔جو سبق تم نے سکھایا تھا اس کو سننے کی تیاری کرو۔۔۔۔۔۔ ظلم جبر اور تعصب کازمانہ بہت پیچھے رہ گیا۔۔۔۔۔اب مستقبل راجہ خالد محمود خان کا ہے۔!!


مکمل تحریر >>

Wednesday, May 26, 2021

دائروں کا ایک نہ ختم ہونے والا سفر نہ جانے کب ختم ہو گا

 دائروں کے مسافر


 اگر شاہراہوں' کے اتنے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہی عوام کی ضرورت تھے تو مبارک قبول کریں۔ ایک نوٹوں کی مالا میری طرف سے بھی چڑھا دیں۔ ورنہ اڑتی چڑیا کے پر گن سکنے والی ہوشیار عوام لیڈرکو ووٹ بھی اسی حساب سے دینا چاہیے۔ یعنی جہاں 10 ووٹ ہیں وہاں 0.2 کلومیٹر روڈ کے حساب سے آدھا یا ایک ووٹ۔  اللہ جانے اتنی 'سیانی' عوام ہر بار دھوکہ کیوں کھاتی ہے؟


لوگوں کو لیڈر صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ وہ دو سو فٹ سڑک بھی تو دے سکتے تھے، یہ تو انکی مہربانی کہ دو سو میٹر سڑک دی۔ دو سو فٹ دیتے تو ہمارے پاس شکریہ کے الفاظ اور پھولوں کی مالا کے علاوہ بھی کوئی آپشن تھا بھلا؟ 


سمجھ دار لوگوں کے لیے نوٹیفیکیشن کے الفاظ ہی کافی ہیں کہ یہ صدر آزاد کشمیر کے حکم پر پی ڈبلیو ڈی کی سکیمز ہیں جو سالانہ ترقیاتی پروگرام 2020/2021 کا حصہ ہیں (وفاق ترقیاتی فنڈز کے الگ سے پیسے دیتا ہے) لیڈر صاحب خواہ مخواہ اپنے کھاتے میں دال رہے ہیں۔ ہمارے ہاں تو لوگ اسکو اپنے کھاتے میں ایسے ڈال رہے ہیں جیسے صدر آزاد کشمیر علیشان صاحب کے حکم پر سیکرٹری پی ڈبلیو ڈی علیشان صاحب اور وزیر تعمیرات و مواصلات علیشان صاحب نے یہ سڑکیں حلقہ 6 کے نمائندے علیشان صاحب کے ووٹرز کو وفاقی حکومت کا خصوصی تحفہ پہنچایا ہے۔ 


اب زرا ان سڑکوں کی کوالٹی پر نظر بھی رکھیے گا۔ آخر کو ٹھیکیدار نے اسی میں سے پیسے بچا کر آگے بھیجنے ہیں جو آپکے ووٹ خریدنے کے کام آئیں گے۔ یہ نہ ہو کہ سڑک کا اگلا حصہ زیر تعمیر ہو اور پچھلا حصہ بارش کی پھوار میں بہہ نکلا۔


دائروں کا ایک نہ ختم ہونے والا سفر نہ جانے کب ختم ہوگا ۔

تحریر ڈاکٹر اظہر فخرالدین ۔



مکمل تحریر >>

جنسی زیادتیاں اور ہماری معاشرتی ذمہ داریاں ڈاکٹر اظہر فخرالدین

 جنسی زیادتیاں اور ہماری معاشرتی ذمہ داریاں


ڈاکٹر اظہر فخرالدین

جنسی زیادتیاں دنیا بھر کے معاشروں کے لیے ایک چیلنج ہیں بلخصوص جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے جہاں ابھی بھی قانون سازی میں سقم موجود ہیں اور طاقتور مجرم اپنے سیاسی بیک گراؤنڈ اور پولیس یا عدالتی نظام کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر قانون کی گرفت سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ ریپ کا مسئلہ تمام معاشروں کو مساوی مسئلہ ہے اور اسکو رنگ، نسل، مذہب اور جغرافیے سے بالاتر ہو کر سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ اپنی نسلوں کا مستقبل محفوظ کیا جا سکے۔
جنسی زیادتیاں صرف ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی یہ انسانیت سوز جرم ایک ناسور بن چکا ہے۔  امریکہ جیسے ملک میں تقریبا ہر ایک منٹ میں ایک جنسی زیادتی سے جڑا جرم رپورٹ ہوتا ہے۔ ہر 6 میں سے 1 خاتون کا اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار یا تو ریپ ہوتا ہے یا اس پر جنسی حملہ کی کوشش کی جاتی ہے۔ مردوں کو بھی اس سے استشنا حاصل نہیں۔ ہر 33 میں سے ایک مرد بھی اسی صورتحال سے گزرتا ہے۔ Child Protective Agency کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سالانہ 63,000 بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ جس میں سے ایک تہائی تعداد 12 سال سے کم عمر بچوں کی ہوتی ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک انڈیا کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق وہاں روزانہ سو کے قریب ریپ کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں (ہر 15 منٹ میں ایک جنسی زیادتی)۔ NCRB کے اعداد و شمار کے مطابق ہر روز انڈیا میں 109 بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔ ان واقعات میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پچھلے سال ایک دو سالہ بچہ ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ 2008 میں 22,500 واقعات رپورٹ ہوے جبکہ 2018 میں 1,41,764. یہ اس انسانیت سوز جرم میں اضافے کے رحجان کی ایک خوفناک منظر کشی ہے۔ 
اسی طرح بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیوز بنانا اور انکی فروخت کے زریعے پیسہ کمانا بھی ایک گھناؤنا جرم ہے جو پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ انڈیا میں ایک ہزار کے لگ بھگ ایسے کیسز ریکارڈ ہوے۔ پاکستان میں گذشتہ سال ہی راولپنڈی سے ایک گروہ پکڑا گیا جو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرتا تھا اور اسکی فلمیں بنا کر انٹرنیٹ پر فروخت کرتا تھا۔
ارض پاکستان میں بھی حالات تشویشناک ہیں: روزانہ کم از کم 11 ریپ کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں (بحوالہ the news). آزاد کشمیر میں 2020 تک 31 واقعات رپورٹ ہوے جب کہ گلگت بلتستان میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں معاشرتی وجوہات کی بنا پر ایسے واقعات کو منظر عام پر نہیں لایا جاتا یا پھر ان اعداد و شمار کو مرتب کرنے کا نظام ابھی نسبتا کم فعال ہے۔

ایک پریشان کن امر قانون اور قانون کی عملداری کا ہے۔ ارض پاکستان میں رپورٹ ہوئے کل 22,000 سے زائد کیسز میں سے صرف 77 کو سزا ہوئی (0.8٪)۔ 5,000 کے لگ بھگ کیسز عدالتوں میں لٹکے ہوے ہیں۔ 1200 کے قریب کیسز میں ناکافی ثبوتوں کی بنا پر ملزمان کو رہا کر دیا گیا۔ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے مقامی سطح پر جنسی زیادتیوں کے بڑھتے ہوے واقعات، بلخصوص بچوں پر ہونے والے جنسی حملوں کی روک تھام کے لیے ایک قانون گذشتہ برس متعارف کروایا ہے جس کے تحت سخت ترین سزائیں اور 60 دن کے اندر اندر کیس کی سماعت کا مکمل کیا جانا ضروری ہے۔ کیس کی تفتیش ایک ڈی ایس پی لیول کا افسر مکمل کرے گا تاکہ سیاسی اثر و رسوخ کو کم سے کم کیا جا سکے۔ ان سب کے باوجود معاشرے میں بڑھتے ہوے ریپ کے واقعات پریشان کن ہیں۔ کیونکہ مجرمان کو سزا سنائے جانے کا رحجان انتہائی کم ہے۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ جنسی حملہ میں ملوث افراد کون ہوتے ہیں اور یہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپکو یہ جان کر شدید پریشانی ہو گی کہ دو تہائی کیسز میں مجرم ریپ سے متاثرہ فرد کو براہ راست جانتا ہوتا ہے۔ 38 فی صد کیسز میں یہ ایک قریبی دوست یا رشتہ دار ہوتا ہے (US Department of Justice, 2005). وادی سماہنی میں گذشتہ روز ہونے والے افسوسناک واقعے میں بھی ایک قریبی دوست ملوث تھا۔ آدھے سے زیادہ کیسز یا مجرم کے گھر پر ہوتے ہیں یا متاثرہ فرد کے گھر پر (یعنی دونوں کا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا ہوتا ہے)۔ ایک بڑی تعداد ساتھ کام کرنے والوں کی اور افسران بالا کی بھی ہوتی ہے (آفس یا تعلیمی اداروں کی مثال)۔ انجان لوگوں کے ہاتھوں ریپ کی تعداد نسبتا بہت کم ہوتی ہے۔ جہاں تک جنسی حملوں کے پس پردہ وجوہات کا تعلق ہے یہ در اصل طاقت کے زریعے کیا جانے والا جرم ہے اور اسکی کئی ممکنہ وجوہات ہیں مثلا کسی کو مغلوب کرنا، انتقام لینا، جنسی ہوس اور اسکے ساتھ ساتھ میڈیا اور دم توڑتی معاشرتی اقدار ۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی 1987 میں شائع ہوئی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق معاشرے میں عدم مساوات، معاشرتی فکری زوال، جنسی مناظر دکھانے والی فلمیں، معاشی تفریق اور بیروزگاری کا جنسی تشدد سے براہ راست تعلق ہے۔ معاشرے میں پھیلتی بے حیائی بھی ایک ایم فیکٹر ہے لیکن اس کو تمام تر وجہ قرار دینا نا انصافی ہے کیونکہ اگر یہ درست ہوتا تو مرد دوسرے مردوں کا یا بچوں کا ریپ نہ کرتے۔

سب سے اہم سوال اس جرم کو روکنے میں ہمارے کردار کا ہے۔ ہمیں ہر طرح کی عصبیت سے بالاتر ہو کر اس مسئلے کو اپنی نسلوں کے لیے ایک خطرہ سمجھ کر لڑنا ہو گا۔ معاشرے میں آگاہی پھیلانا، قانون سازی اور قانون کی عملداری، جنسی زیادتی کی کیسز کی تیز سماعت، سزاؤں کا نفاذ، مجرمان کی معاشرے میں حوصلہ شکنی کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی نسلوں کو اس حوالے سے تعلیم دینا ہو گی۔ اپنے بچوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ انھیں یہ بھی بتانا ہو گا کہ انھیں کس سے خطرہ ہو سکتا ہے۔ بچوں کو نامناسب طور پر چھونے یا برے الفاظ سے متعلق اگاہی دینا ہو گی۔ اگر بچہ سکول، مدرسے یا کسی رشتہ دار کے گھر جانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہو تو والدین کو وجوہات جاننا چاہیںں۔ بچے کو محفوظ جگہ اور محفوظ لوگوں کا concept سمجھانا چاہیے کہ خطرے کی صورت میں انھیں کس سے رابطہ کرنا ہے اور کس طرح کے لوگ یا سچوئیشن خطرناک ہو سکتی ہے۔ آجکل ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے اس میں اپنے بچوں کی سوشل میڈیا پر تشہیر بھی انکی زندگی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ والدین کو اس حوالے سے بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ ایک اہم بات متاثرہ فرد یا خاندان کے درد کو محسوس کرنے کی ہیں وہ پہلے ہی ایک اذیت سے گزر رہے ہیں اس پر سیاست کرنا، متاثرہ فرد کی شناخت کو عام کرنا یا اس مسئلے کو غیر حساس طریقے سے ہینڈل کرنا بھی انکے درد میں اضافہ کرنا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ الزام ثابت ہونے تک ملزمان کی سوشل میڈیا یا میڈیا کے زریعے کردار کشی کی بھی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی۔ ہماری ذمہ داری قانون کے نفاذ کی ہونی چاہیے نہ کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی۔



مکمل تحریر >>

Sunday, May 9, 2021

لیاقت بلوچ کے بیٹے کی پی ایچ ڈی کی ڈگری اور لبرلز کے پیٹ میں مروڑ ۔صہیب کاکا خیل


 لیاقت بلوچ کے بیٹے کی کینیڈا سے پی۔ایچ۔ ڈی کی ڈگری لینے پر اگر کشمیر یا افغانستان میں شہید ہونے والے نوجوانوں کے والدین یا اہل و عیال میں سے کوئی اٹھ کر کھڑا ہوجائے اور اعتراض کرے کے آپ نے ہمارے نوجوان کو تو جہاد کی ترغیب دے کر محاذ پر بھجوایا اور اپنے بیٹے کو کینیڈا تو پھر بھی کوئی تک بنتی ہے لیکن اب ایسے لوگ جن کو جہاد ، اسلام اور ہر قسم کے دینی شعایر سے بيزاری ہو ان کے منہ سے ایسی باتیں سننا "كهسيانی بلی کمبا نوچے" کے مترادف ہیں ۔ جتنے بھی شہدا اللّه کی راہ میں شہید ہو چکے ہیں ان کے اہل و عیال اللّه کے فضل سے انتہائی مطمین ہیں ۔ جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں یہ گزشتہ 40 سال سے لگے ہوئے ہیں جنھیں اصل درد اور مروڑ روس کی افغانستان میں ذلت آمیز شکست سے ہے جن کے آستقبال کے لیے یہ لوگ سرخ ڈولی اٹھائے طورخم پر بنگڑے ڈالتے تھے لیکن ڈولی کی بجائے انہیں سرخ تابوت میں سرخ ریچ کی لاش  موصول ہوی  جس کے بعد سے یہ حواس باختہ ہوچکے ہیں ۔۔


یہی سوال اگر اے این پی والوں سے کیا جائے کے خان عبدلغفار خان انگریز سامراج کے سخت خلاف اور مذاہم تھے۔ انگریزوں نے قصہ خوانی ، ہاتھی خیل ، اور دیگر جگہوں پر ہزاروں سرخ پوشوں کا قتل عام کیا ، ان پر تشدد کیا ان کو جیلوں میں ڈالا لیکن عین اسی وقت میں ان کا اپنا بھائی اسی سامراج کے دیس میں ڈاکٹری کی  تعلیم حاصل کرکے واپس لوٹا نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ  وہاں سے  ایک گوری بھی اپنے ساتھ بیا کر لے آیا  ۔ جس وقت خدائی خدمات گاروں کی اولاد انگریز تسلط کے خلاف جدوجہد میں جان مال اور جاییداد کی قربانیاں دے کر تنگدستی کی زندگی گزار رہے تھے اس وقت باچا خان کے دونوں بیٹے غنی خان اور علی خان سامراج کے دیس میں اعلی تعلیم حاصل کر رہے تھے ۔ کیا ان سے کوئی پوچھ سکتا ہے کے کسی غریب خدائی خدمت گار کے بیٹے کو بھجوا دیتے تعلیم حاصل کرنے کے لے کے نہیں ان کے حصہ میں صرف انگریز کی گولیاں تھی کھانے کے لیے۔ 


قیام پاکستان سے قبل دو دفعہ فرنٹیئر میں سرخ پوشوں کی حکومت بنی دونوں بار وازرت اعلی کی ھما ڈاکٹر خان صاحب کے سر پر رکھی گئی کیونکہ وہ باچا خان کے بھائی تھے کیوں نہ اس وقت کسی خدائ خدمت گار کے بیٹے کو اس منصب کے لیے منتخب کیا گیا ؟ ڈاکٹر خان نہ پہلے سرخ پوش تھے نہ بعد میں وہ صرف وزارت کے وقت باچا خان کے بھائی بن کر آجاتے اور کرسی سنبهال لیتے ۔ موصوف بعد میں اس وقت ون یونٹ کے وزیر اعلی بن بیٹھے جب باچا خان ون یونٹ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔


اے این پی والے یہ بھی بتا دیں جب 70 کی دہائی میں پشتونستان تحریک کے لیے  پشتون زلمے بنی اور مسلح تحریک کے لیے پشتون طالب علموں کو خیالی گریٹر پشتونستان کے جھانسے میں تخریب اور دہشت کی بھینٹ چڑہایا جارہا تھا تو  اے این پی کے کس لیڈر کا بیٹا وہاں کیمپوں میں تربیت حاصل کرنے گیا تھا۔


افغانستان میں فساد اور بربادی کی بنیاد اس وقت پڑی جب نام نہاد انقلابات کا آغاز ہوا  پہلے ظاہر شاہ کی  مستحکم حکومت کو ختم کیا گیا پھر اقتدار کی ہوس اور لالچ میں ایک دوسرے کا قتل عام کرتے ہویے داؤد خان کو ترکئ نے قتل کیا ، پھر حفیظ اللہ امین نے تراکی کو قتل کیا پھر ببرک کارمل نے اکر حفیظ اللہ امین کو قتل کردیا ۔ یہ قتل عام صرف حکمران وقت تک محدود نہیں ہوتا تھا  بلکہ اس حکمران کے پورے  خاندان اور حامیان کو بے دریغ قتل کیا جاتا تھا ۔ روسی جریدے کے مضمون کے مطابق نام نہاد انقلاب ثور میں کم و بیش 40 ہزار لوگ قتل ہوئے جب تراکی نے داؤد کے خلاف اقدام کیا تھا۔  


عجیب بات یہ ہے کے اس ساری کاروایوں میں اے این پی کی قیادت سب کے ساتھ کھڑی ہوا کرتی تھی۔ ظاہر شاہ سے لے کر داؤد خان ، تراکی ، حفیظ اللہ امین ، ببرک کارمل ، نجیب اللہ سب کے ساتھ ان کے گہرے روابط تھے ۔ کوئی ان سے  پوچھے کے پاکستان میں آپ بیک وقت 73 کے آئین کے خالق بھی اپنے آپ کو مانتے ہیں اور ساتھ ساتھ پشتونستان کی زیر زمین مسلح تحریک کو بھی چلاتے ہیں ۔ پاکستان میں آپ آئین ،ووٹ اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن حرام ہو جو آپ نے کبھی نادر شاہ کے وقت سے لے کر ڈاکٹر نجیب تک کسی حکمران  کو بھی افغانستان میں جمہوریت اور انتخابات پر قایل کیا ہو بلکہ ہر مسلح اور خونی انقلاب کے آپ پشتبان رہیں . 


آج کل بیٹھ کر ماضی پر یوں تجزیہ کرتے ہیں کے ہم نے تو کہا تا یہ روس اور امریکا کی جنگ ہے لیکن پاکستان اور ملا اسے جہاد کہتے تھے۔ مجال ہو جو انہوں نے ایک دن بھی افغانستان پر قابض روس کو کہا ہو کے بھائی کیوں امریکا کے خلاف جنگ افغانستان میں لڑھ رہے ہو جاؤ نکلو یہاں سے یا پھر ان کی کٹھ پتلیوں کو کہا ہو کے بابا یہ تو دراصل روس اور امریکا کی جنگ ہے تم کیوں روس کی خاطر اپنے دیس کو برباد کر رہے ہو ۔ ایسا یہ نہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ ایسا تیسرا اور غیر جانب دار فریق کہہ سکتا ہے جب کے یہ خود روس کے آلہ کار اور حمایتی تھی ۔ 


پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے روس کی افغانستان میں مداخلت کی بھی مخالفت کی تھی اور بعد میں امریکی حملے کے بھی مخالفت کی تھی کیونکے یہ اصولی بات تھی کل روس جارح تھا پھر امریکا جارح بنا ۔جب کے ان لوگوں نے روسی جارحیت کی بھی مکمل حمایت کی تھی اور پھر امریکی جارحیت کی بھی مکمل حمایتی تھے ۔  افغانستان کی بربادی کی بنیاد رکھنے والے بھی یہی تھے اس جنگ کے شعولوں کو بھڑکانے والے بھی یہی ہیں کل تک جس سامراج کے خلاف روس کی بغل  میں بیٹھ کر مخالفت کرتے تھے روس کے شکست کے بعد ایسا قلا بازی کھائی کے اسی سامراج کے گود میں جاکر ان کو پیارے ہوگئے ۔


باقی لیاقت بلوچ صاحب اور جماعت اسلامی کی اکثر قیادت کے بچے اسلامی جمیعت طلبا کا سرگرم حصہ رہے ہیں  ان کے اولاد اور عام کارکنان میں کبھی کوئی تفریق نہیں دیکھی۔


مکمل تحریر >>

مظفر نعیم شہید سے شعیب خان نیازی سے لے کر مولانا جان محمد عباسی کے فرزند تک، خود لیاقت بلوچ صاحب کے ایک رشتہ دار سے لے کر بزرگ رکن غلام علی صاحب کے فرزند تک، یہ تمام لڑکے جو شہید ہوئے، قائدین کے بچے ہی تو تھے ۔۔۔۔


 جب حسان بلوچ اجتماع عام پر کوڑا کرکٹ اکٹھا کر رہا تھا، تب کسی طرف سے تعریفی کلمات سنائی نہیں دئیے اور نا کسی نے کہا کہ چاہے لیاقت بلوچ صاحب کا بیٹا ہے مگر ایک۔مزدور کی طرح کام۔میں لگا ہے۔۔۔


مگر آج کئی فیس بُک مفکرین کو شرم آ رہی کہ ایک لڑکا جس نے کبھی اپنے باپ کے links استعمال نہیں کئے، اپنی محنت سے اپنا مستقبل بنانے میں لگا ہے تو اس پر اچھالے گئے بےسروپا الزامات کے جوابات نہیں مل رہے۔۔۔


کوئی کیسے کسی کے لئے تعلیم کے راستے بند کر سکتا ہے ۔۔ ہھر کس نے کہا کہ قائدین کے بیٹوں نے جہاد میں حصہ نہیں لیا۔۔۔


 مظفر نعیم شہید سے شعیب خان نیازی سے لے کر مولانا جان محمد عباسی کے فرزند تک، خود لیاقت بلوچ صاحب کے ایک رشتہ دار سے لے کر بزرگ رکن غلام علی صاحب کے فرزند تک، یہ تمام لڑکے جو شہید ہوئے، قائدین کے بچے ہی تو تھے ۔۔۔۔


انس قاضی بھائی سمیت کئی لڑکے جہادِ کشمیر و افغانستان سے منسلک رہے


اور اگر لبرلز نے ان بلیڈی سویلین سے ہی جہاد کی امید رکھنی تھی تو 80% بجٹ والوں کے اخراجات برداشت کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔


لہذا دلائل سے جواب دیں ۔۔۔


اور آخری بات، کسی رہنمائے جماعت اسلامی کی ایسی تقریر جس میں وہ نوجوانوں کو اپنا گھر بار، مستقبل چھوڑ کر کشمیر یا افغانستان جہاد کی دعوت دے رہا ہو، پلیز شئیر ضرور کیجئے گا ۔۔۔۔


دعاگو


مکمل تحریر >>