Saturday, August 19, 2023

"Awaiting Justice: The Innocent Girl's Plea from the Prime Minister's District and Her Senior Minister's Constituency"

Just day before yesterday, something deeply stirring unfolded in Baranala, Azad Kashmir – a district intimately tied to the Prime Minister of the region and the hometown of a senior minister. An unnamed young girl emerged as a poignant symbol of innocence, embodying an unyielding pursuit for justice. Picture this: the girl sat humbly by her mother's side, her little feet pressing against the warm earth. Her mother lay on the scorching road, her body a silent yet powerful plea for fairness. Beside them, the girl's father also lay, his body stretched on the unforgiving pavement, his protest demanding justice. The village square transformed into a stage of raw emotions, where empathy mingled with indifference. The police officer was nowhere to be seen, the assistant commissioner away on vacation, and the senior minister's voice conspicuously silent, despite the turmoil unraveling in his own hometown.(As per local reporter) The girl's eyes, shimmering with questions unspoken, scanned the faces of the onlookers, seeking answers that seemed to elude her grasp. As the sun dipped beneath the horizon, casting a golden hue over the village, the girl's gaze remained unwavering, fixed on her parents. Sleep proved elusive to many that night, as the haunting image carved an indelible mark on their hearts. This photograph went beyond mere visual capture; it was a living testament to the persistent injustices that mar our world. It begged for change, it yearned for a society where equity reigned supreme. In those quiet moments of restlessness, remember that your emotions are shared by countless others. The image encapsulates a collective yearning for a world that treasures innocence and champions justice. It stands as an arresting reminder that even amid adversity, a solitary photograph has the power to ignite an unwavering call for transformation. Written By: Asaad fakharuddin asaadfakharuddin@gmail.com link for news: link-1: https://www.facebook.com/100063496754875/posts/pfbid02WkPy6iZTDx2Z5SkXMMfESpGzBtusZMoYrxYoF3Gf8ShSv4oJkZEg1EQq3gkDKzt5l/?mibextid=cr9u03 link 2- https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0a7tCMUo6bjdqg9TauZGQcmptfA5on7b9yEpxGa4zK3pHrqDmnAMDbUhcAmZNgX4rl&id=100044439642901&mibextid=qC1gEa #Barnala #AJK
مکمل تحریر >>

Sunday, August 14, 2022

۱۵ اگست سنار بنگلہ کے شہزادے کا ۵۴واں یوم شہادت

 15اگست ۔۔۔ سُنار بنگلہ کے شہزادے کا 53 واں یوم شہادت  

ماہ اگست کے آغاز سے ہی سارے پاکستان میں یوم آزادی کے حوالے سے ایک خاص فضا طاری ہے۔ گھروں پر سبز ہلالی پرچم لہرارہے ہیں توبچوں نے محلوں کو جھنڈیوں سے سجایا ہوا ہے۔ بدقسمتی سے اس ملک کے حکمرانوں اور مقتدرہ  نے نئی نسل کو جان بوجھ کر تاریخ اور نظریہ پاکستان سے لاعلم رکھا ہے۔ بیکن ہاوس اور سٹی اسکول میں پڑھنے والے  بہت سے بچوں کو تو شائد یہ معلوم بھی نہ ہو کہ بنگلہ دیش نہ صرف پاکستان کا حصہ تھا بلکہ تقسیم ہند اور تحریک پاکستان کا آغاز ڈھاکہ، چاٹگام ، جیسور، نواکھالی  اور کھلنا سے ہی ہوا تھا۔ یہ بات ممکن ہے کہ بہت سے 'محب وطن' پاکستانیوں کو بری لگے لیکن یہ بہرحال ایک حقیقت ہے کہ آج بھی نظریہ پاکستان کیلئے جو وارفتگی بنگالی مسلمانوں میں پائی جاتی ہے اسکی مثال کراچی، لاہور و اسلام آباد میں نہیں ملتی۔ کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل کرنے خلاف پاکستان میں عوامی سطح پر خاموشی رہی لیکن بنگلہ دیش کے طول وعرض میں بھارت کے خلاف جلوس نکالے گئے۔ اسلامی چھاترو شبر نے جامعہ ڈھاکہ میں زبردست مظاہرہ کیا جہاں ہزاروں طلبہ نے کشمیر بنے گا پاکستان کے  فلک شگاف نعرے لگائے۔

پاکستان کی تاریخ کے کئی اہم سنگ میل اور مقدس نشانیاں مشرقی پاکستان میں ہیں۔ جامعہ ڈھاکہ اور اس سے متصل عظیم الشان میدان ہماری تاریخ کا امین ہے اور  تاریخی اہمیت کے اعتبار سے یہ لاہور کے مینارِ پاکستان کا ہم پلہ ہے۔ دور غلامی میں یہ میدان گورے سپاہیوں کا عشرت کدہ تھا۔ قریب ہی ہندو دیوی رمنا کالی بائی کا مندر ہےجسکی مناسبت سے اسے رمنا ریس کورس اور رمنا جمخانہ کہا جاتاتھا۔ جب اسلام آباد کی تعمیر کا آغاز ہوا تو مکمل ہونے والے پہلے سیکٹر کا نام رمنا ہی رکھا گیا جو اب Gسیکٹر کہلاتا ہے۔ آزادی کے بعد اسلامی جمہوریہ نے جوئے کو ایک کھیل کے طور پر تسلیم کرلیا اور اس میدان کو گھوڑے دوڑانے کیلئے استعمال کیا جانے لگا تب اسکا نام ڈھاکہ ریس کورس پڑگیا۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد اسے سہروردی میدان کا نام دیدیا گیا۔ قرارداد پاکستان پیش کرنے والے شیر بنگال ابوالقاسم فضل حق، پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل و وزیراعظم خواجہ ناظم الدین اور سابق وزیراعظم و بانی عوامی لیگ حسین شہید سہروردی یہیں آسودہ خاک ہیں۔ 

1969میں یہاں شیخ مجیب الرحمٰن نے اپنی پارٹی کی انتخابی مہم کا اغاز کیا جس میں انھیں بنگلہ بندھو کا خطاب عطاہوا اور مارچ 1971کو اسی میدان سے آزادی کا اعلان کیا گیا۔ اور پھر اسی مقام سے پاکستانی فوج نے مکتی باہنی کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا۔یہ لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے کہ یہیں 16دسمبر 1971کوکالی بائی مندر کے سامنے اس ذلت آمیز دستاویز پر دستخط کئے گئے جسے سقوط ڈھاکہ کہا جاتا ہے۔ مارچ 1972کو اسی میدان میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اندراگاندھی نے دعویٰ کیا تھاکہ دوقومی نظریہ خلیج بنگال میں غرق ہوگیا ہے۔کاش شیخی بگھارنے والی برہمن زادی آج زندہ ہوتی تو 6 اگست 2019 جامعہ ڈھاکہ سے بلند ہوتے کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے سن کر اسے یقین آجاتا کہ سقوط ڈھاکہ کے اڑتالیس سال بعد بھی دوقومی نظریہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ بنگالی و کشمیری شہدا کے تازہ لہو نے اسے اور بھی تابدار کردیا ہے۔

 اس میدان کی مٹی سے جہاں ہمارے بزرگوں نے اپنی مٹی ملائی وہیں 15 اگست 1969کو ایک سجیلے اور کڑیل نوجوان نے اسےاپنے پاکیزہ لہو سے سیراب کیا۔ سنار بنگلہ کے اس شہزادے کا نام عبدالمالک شہید ہے جس نے پاکستان میں سب سے پہلےاسلامی و نظریاتی نظام تعلیم کانعرہ بلند کیا۔ 22 سال کے اس سجیلے نوجوان کا گرم لہو اس خونریز بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوا جو نصف صدی سے جاری ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے اس میں مزیدشدت آگئی ہے۔ عجیب بات کہ نہ تو دست قاتل میں تھکن کے آثار ہیں اور نہ ہی سینہ و سر کی فراہمی میں کوئی کمی۔ سہروردی میدان سے بلند ہونے والے اس علم کوبنگالی عشاق کسی طور سرنگوں کرنے کو تیار نہیں۔ آج بنگلہ دیش کی ہر گلی اور ڈھاکہ جیل کی ہر کوٹھری شہدا کے لہو سے جگمگا رہی ہے۔یہ اور بات کہ پاکستان اور اہل پاکستان کو اپنے ان عاشقوں کی نہ کوئی پرواہ ہے اور نہ خبر۔ 

بوگرہ کے ایک  غریب لیکن خوددار عالمِ دین کے گھر پیدا ہونے والا عبدالمالک پانچ بھائیوں میں سب سے چھوٹا اوراپنی اکلوتی  بہن کا چہیتا تھا اورگھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی بنا پرعائشہ  عبدالمالک کی لاڈلی تھی۔ذہین، محنتی اور گفتگو وتقریر کا ماہرعبدالمالک جامعہ ڈھاکہ میں حیاتیاتی کیمیا یا بائیوکیمسٹری کے تیسرے سال کا طالبعلم تھا اور تینوں سال انھوں نے ٹاپ کیا تھا۔ سلیم الطبع اور بذلہ سنج عبدالمالک اسکول کے زمانے ہی سے اسلامی چھاترو شنگھو(اسلامی جمیعت طلبہ) سے وابستہ ہوگئے اور شہادت کے وقت وہ ڈھاکہ شہر کے ناظم اور جمیعت کی مرکزی مجلس شوریٰ کےرکن تھے۔ یحییٰ حکومت نے نظام تعلیم میں اصلاح اور نصاب کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے ماہرین تعلیم کا ایک بورڈ تشکیل دیا جسکے سرابراہ مغربی پاکستان کے گورنر ائرمارشل نورخان تھے اور اسی مناسبت یہ ادارہ بعد میں  نورخان کمیشن کہلایا

نورخان کمیشن نے پاکستانی نظام تعلیم کے نام سے کچھ سفارشات مرتب کیں جن پر ملک بھر کی جامعات میں بحث کی گئی۔ اسی سلسلے میں ایک مباحثہ جامعہ ڈھاکہ میں منعقد ہوا۔ 12 اگست 1969کو اساتذہ طلبہ مرکز میں ہونے والے اس مباحثے کا اہتمام جامعہ کی انتظامیہ نے کیا تھا لیکن سارے کا سارا انتظام عوامی لیگ کی طلبہ تنظیم چھاترو لیگ کو سونپ دیا گیا جس نے چن چن کر سیکیولراورور دین بیزار دانشوروں کو مدعو کیا۔جن کی بڑی تعداد ہندو دانشوروں کی تھی۔ تاہم غیر جانبداری کا بھرم رکھنے کیلئے اسلامی چھاترو شنگھو کے عبدالمالک کا نام بھی مقررین کی فرست میں شامل تھا۔ تقریب کےآغاز سے ہی چھاترو لیگ کے کارکنوں نے امار دیش تمار دیش بنگلہ دیش بنگلہ دیش، ملاازم مردہ باد، اسلام کے نام پر اسلام آباد کی غلامی نامنظور کے  فلگ شگاف نعرے لگاکر سماں باندھ دیا۔ افتتاحی خطاب ہی سے دین بیزاری کا پہلو نمایاں تھا۔  ہر مقرر سیکیولر نظام تعلیم کے حق میں دلائل دے رہاتھااورہال میں موجود اسلام پسند اساتذہ اور طلبہ سہمے ہوئے تھے۔ 

سب سے آخر میں  جب عبدالمالک کا نام پکارا گیا تو ہال میں مردہ باد، نامنظور، ملاگیری نہیں چلے گی کے نعروں سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ سیٹیاں اور فرش پر جوتے گھسنے کی آوازیں اسکے علاوہ تھیں۔ اس طوفان بدتمیزی میں عبدالمالک اسٹیج پر آئے اور بلند آواز میں اللہ کی تسبیح سے گفتگو کا آغاز کیا۔ شہید نے اپنے رب کی عظمت کچھ ایسے جلالی لہجے میں بیان کی کہ حاضرین پر سکوت طاری ہوگیا۔ آقاکے حضور درود کا نذرانہ پیش کرکے عبدالمالک نے کہا

 جنابِ صدر! پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور اسکا نظام تعلیم اسی نظرئے کا ترجمان ہونا چاہئے۔ عبدالمالک نے دھیمے مگر پروقار لہجے میں کہا کہ 'نصابی کتب محض تحریروں کے مجموعے کا نام نہیں اور نہ ہی  بے جان عمارتوں کو جامعات کہا جاسکتا ہے۔ تعلیمی نظام دراصل مستقبل کی صورت گری کا دوسرا نام ہے یہ اس عزم کا مظہر ہے کہ ہم اپنا مستقبل کس انداز میں تراشنا چاہتے ہیں۔اسی  بے سمت اور بے مقصد نظام تعلیم کا نتیجہ ہے کہ آج ڈاکٹر وں کے ہاتھ اپنے مریض کی نبض سے پہلے اسکی جیب ٹٹولتے ہیں۔ ہماری جامعات سے فارغ التحصیل ہونے والے منیجر قومی اثاثوں کی نشو ونما سے زیادہ اپنی تنخواہوں اور مراعات کے پیکج تشکیل دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہمارے وکلا معاشرے کے مظلوموں کی پشتیبانی کے بجائےظالم کے حق میں جھوٹی شہادتیں جمع کرنے پر اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔ عبدالمالک نے کہا کہ اسکول آغوش ِمادر کا تسلسل ہے، جامعات کا بنیادی کام کردار سازی ہے اور اقدار و  نظرئے کے بغیر کردار سازی ممکن نہیں۔ سیکیولرازم ایک خلاہے  جس میں نہ عمارت بن سکتی ہے اور نہ خلا میں کردار کی تعمیر ممکن ہے' عبدالمالک کی دلائل سے مزین تقریر نے ہال پر سحر طاری کردیا اسی دوران کسی نوجوان نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔جواب میں اللہ اکبر اور اسلامی انقلاب کے نعروں سے سارا ہال  گونج اٹھا۔ عبدالمالک کی تقریر کے بعد مجمع نے  زوردار تالیاں بجاکر انھیں خراج تحسین پیش کیااور ایک بار پھر اسلامی انقلاب کے نعرے بلند ہوئے۔ 

 منتظمین کو صورتحال کا اندازہ ہوگیا تھا چنانچہ قرارداد پر رائے شماری کے بغیر ہی تقریب کے اختتام کا اعلان کردیا گیا۔ عبدالمالک واپسی جانے کیلئے جیسے ہی جامعہ سے باہر نکلے پہلے سے موجود چھاترو لیگ کے غنڈوں نے انھیں گھیر لیا اور دھکیلتے ہوئے انھیں سہروردی میدان لے گئے۔ ہاکیوں، سریوں اور ڈنڈوں سے لہو لہان کرنے کے بعد اینٹوں سے انکا سرکچل دیا گیا۔ بیدم عبدالمالک کو جب ہسپتال پہنچایا گیا اسوقت  ہی ڈاکٹر انکی زندگی سے مایوس ہوچکے تھے اوراکھڑتی سانسوں کے علاوہ زندگی کے اور کوئی آثار نہ تھے۔ 

پندرہ اگست کی صبح ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹڑ بسوال چندعرف چنوں میاں نے عبدالمالک کی شہادت کا اعلان کیا۔ جب ان سے موت کی وجہ پوچھی گئی توچنوں میاں نے عبدالمالک کی کروشیا سے بنی ٹوپی فضا میں لہراتے ہوئے کہا کہ بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے وہ ہسپتال آنے سے پہلے ہی عملاً فوت ہوچکے تھے۔ عبدالمالک کی ٹوپی سے خون ٹپک رہا تھا اور بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہید کے دماغ کے کچھ ریشے ٹوپی سے چپکے نظر آرہے تھے۔ یہ اعلان کرتے ہوئے ڈاکٹر چنوں میاں کے چہرے سے خوشی پھوٹی پڑتی تھی۔عجیب اتفاق کے جس ہسپتل میں عبدالمالک نے دم توڑا وہیں اکتوبر 2014میں سابق امیر جماعت اسلامی مشرقی پاکستان  پروفیسر غلام اعظم اپنے رب سے جاملے۔ 1969 میں اس ادارے کا نام  انسٹیٹیوٹ اف پوسٹ گریجویٹ میڈیسن اینڈ ریسرچ  (ڈھاکہ میڈیکل کالج) تھا قیامِ بنگلہ دیش کے  بعد انسٹیٹیوٹ کو جامعہ کا درجہ دیکر اسے  بنگلہ بندھو  شیخ مجیب الرحمٰن میڈیکل یونیورسٹی بنادیاگیا۔ اس بار جب جامعہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر پران گوپال دتہ نے اعلان کیا کہ "قومی مجرم پروفیسر غلام اعظم کو دل کا شدید دورہ پڑا ہے اورانھیں مصنوعی تنفس فراہم کیا جارہاہے" تو انکے ہونٹوں پر بھی وہی مسکراہٹ تھی جو  45 سال قبل ڈاکٹر چنوں میاں کے مکروہ چہرے پر کھیل رہی تھی۔ 

اس قتل کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ شہر کی انتطامیہ تو ایک طرف صوبے کے فوجی گورنر بھی اگر ملوث نہیں تو بے اختیار ضرورمحسوس ہوئے۔ پروفیسر غلام اعظم مرحوم نے میجر جنرل مظفر الدین سے خود ملاقات کی۔ یہ قتل دن دھاڑے ہوا تھا اور تصویروں میں حملہ آور صاف پہچانے جاتے تھے لیکن بات چیت کے دوران گورنر صاحب نے اپنے بےاختیار ہونے کا رونا روتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ انھیں بہت جلد برطرف کیا جانیوالا ہے اور حقیقتاً ہوا بھی ایسا ہی کہ ایک ہفتہ بعد موصوف سبکدوش کردئے گئے اورصاحبزادہ یعقوب علی خان نےگورنری سنبھال لی۔ صاحبزادہ صاحب  نے تحقیقات کا وعدہ کیا لیکن کوئی موثر FIRتک نہ کٹی۔ تھانے کے روزنامچے میں پورا واقعہ کچھ اس طرح درج تھاکہ ' جھگڑے کے دوران جامعہ ڈھاکہ کا ایک طالب علم عبدالمالک ہلاک ہوگیا' صرف ایک ماہ بعد صاحبزاہ صاحب کی جگہ  وائس ایڈمرل سید محمد احسن نے گورنری سنبھال لی۔ ایڈمرل صاحب عوامی لیگ سے مرعوب اور انتہائی کمزور گورنر تھے جنکے دور میں علیحدگی پسندوں اور قوم پرستوں کو کھلی آزادی نصیب ہوئی۔ جنوری 1970 کو پلٹن میدان میں جماعت اسلامی کے پہلے انتخابی جلسے کو مسلح غنڈوں نے کھلے عام نشانہ بنایا۔ اس جلسے سے خطاب کرنے مولانا موددی ڈھاکہ آئے تھے لیکن انکے جلسہ گاہ میں پہنچنے سے پہلے ہی اسٹیج کو آگ لگادی گئی۔ پتھراو اور ڈنڈوں سے جماعت کے درجنوں کارکن شہید اور کئی سو شدید زخمی ہوئے۔ پروفیسر غلام اعظم کی قیادت میں احتجاجی جلوس اسی وقت گورنر احسن کے گھر پہنچا لیکن کوئی کاروائی نہ ہوئی۔ 

عبدالمالک کے بہیمانہ قتل اور جماعت اسلامی کے جلسے کو کامیابی سے ثبوتاژ کرکے عوامی لیگ اور سیکیولر عناصر نے اپنی قوت کا لوہا منوالیا۔ جماعت اسلامی نے ریاستی جبر کے باوجود بہت کامیابی کے ساتھ انتخابی مہم چلائی اور اس جرات رندانہ کی جماعت کے کارکنوں نے بھاری قیمت اداکرنی پڑی۔ ایک سال طویل انتخابی مہم کے دوران کارکنو ں کی ٹارگٹ کلنگ، جلسے جلوسوں پر حملہ، بینر اتارنے اور پوسٹر پھاڑنے کے واقعات عام رہے اور درجنوں کارکن اپنی جان سے گئے۔

عبدالمالک کی شہادت کو نصف صدی گزرجانے کے باجود انکے بنگالی ساتھیوں نے فراموش نہیں کیا اور اسلامی چھاترو شبر اب بھی پندرہ اگست کو یوم اسلامی نظام تعلیم کے طور پر مناتی ہے۔15




مکمل تحریر >>

Tuesday, July 19, 2022

جولائی 1947 کی قرارداد اور اس سے جڑے مفروضات

 19 جولائی 1947 کی قرارداد اور اس سے جڑے مفروضات


('دی کشمیر ڈسکورس' کے ایک آرٹیکل کا اردو ترجمہ)


19جولائی 1947 کی قرارداد کی آزاد جموں و کشمیر کی تاریخ میں وہی اہمیت یے جو کہ قرارداد پاکستان کو تحریک پاکستان میں حاصل ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اس سب عرصے میں ایک مخصوص طبقے نے کبھی تو اس کو متنازع بنانے کی کوشش کی ہے تو کہیں اسے آزاد جموں و کشمیر کی تاریخ پر ہونے والی گفتگو سے جان بھوج کر نظر انداز کیا اور کچھ نے حتیٰ کہ یہ تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا کہ ایسی کوئی قرارداد کبھی منظور ہوئی تھی [1]۔ مثال کے طور پر آزاد جموں و کشمیر سے ایک قوم پرست لکھاری اور "Kashmir and the Partition of India" نامی کتاب کے مصنف، ڈاکٹر شبیر چوہدری لکھتے ہیں کہ 19 جولائی 1947 کی قرارداد "دھوکہ دہی سے" منظور کی گئی تھی اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اس قرارداد کی مسلم کانفرنس، بطور تنظیم، میں کوئی قانونی حیثیت نہیں یا کم از کم یہ کہ یہ قرارداد اس وقت عام عوام کے جذبات کی عکاسی نہیں کر رہی تھی۔ موصوف لکھتے ہیں: "یہ واضح رہے کہ ایک ورکنگ کمیٹی کسی بھی سیاسی جماعت کی 'کریم' ہوتی ہے اور یہ عام طور پر پارٹی کے سینئر اور سرشار ممبروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ مسلم کانفرنس کی ورکنگ کمیٹی نے [18 جولائی 1947 کو] ریاست کی مکمل آزادی کی قرارداد منظور کی۔ [لہٰذا،] یہ واضح ہوتا ہے کہ مسلم کانفرنس کے سب سے سینیر ارکان نے ریاست کے مستقبل کے بارے میں غور و فکر کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ مکمل آزادی ہی [ریاست میں بسنے والی] تمام کمیونٹیز کے لئے سب سے باعزت اور قابل قبول حل ہے۔" موصوف لکھتے لکھتے یہ دعویٰ بھی کر گئے کہ "مسلم کانفرنس نظریاتی طور پر متحد پارٹی نہیں تھی۔ چوہدری غلام عباس اور ان کے پیروکار چاہتے تھے کہ ریاست پاکستان کا حصہ بن جائے جبکہ چوہدری حمید اللہ خان اور ان کے بااثر رفقاء اس کو ایک خودمختار ریاست بنتا دیکھنا چاہتے تھے۔"[2]


حقائق کی درستگی کی خاطر ہم یہاں اس قرارداد سے متعلق چند پوائنٹس ڈسکس کرنا چاہیں گے؛

1) ورکنگ کمیٹی کی 18 جولائی کی قرارداد، یہ کیوں اور کس کے کہنے پر منظور ہوئی؟ اور کیا مسلم کانفرنس اور اس کے قائم مقام صدر، جناب چوہدری حمید اللہ خان کشمیر کو واقعی خودمختار دیکھنا چاہتے تھے؟

2) 19 جولائی 1947 کی قرارداد کی قانونی حیثیت اور کیا یہ قرارداد واقعی عوام کے جذبات کی عکاسی کر رہی تھی کہ نہیں؟


*18 جولائی، 1947 کی قرارداد کیوں پاس ہوئی؟*


اس بارے میں جسٹس یوسف صراف لکھتے ہیں کہ "سردار ابراہیم نے مجھے بتایا کہ چوہدری حمید اللہ خان نے 18 جولائی کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے دوران انہیں چوہدری غلام عباس کا جیل سے لکھا ایک غیر دستخط شدہ نوٹ دکھایا جس میں انہوں نے قائم مقام صدر (چوہدری حمید اللہ خان) کو مشورہ دیا کہ وہ ریاست کی آزادی کی ڈیمانڈ کریں۔"[3]


ایک اور مسلم کانفرنس کے رہنما عبدالمنان خلیفہ تصدیق کرتے ہیں کہ بعد میں چوہدری غلام عباس نے ایک اور خط لکھا جس میں انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ جس خط کا ذکر چوہدری حمید اللہ خان کر رہے ہیں وہ یقیناً انہی (یعنی چوہدری غلام عباس) کا ہی ہے اور انہیں ایسا کرنے کے لئے قائد اعظم نے کہا تھا۔[4] اسی طرح سردار ابراہیم نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جو لوگ اس وقت خودمختاری کی حمایت کر رہے تھے انہوں نے ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ ایسا قائد اعظم کے حکم پر کر رہے ہیں۔ [5] اسی طرح پروفیسر اسحاق قریشی، جو کہ چوہدری حمید اللہ کے ہمراہ 11 جولائی 1947 کو قائد اعظم سے ملے تھے، بھی یہی کہتے ہیں کہ جناح صاحب نے ہی انہیں خودمختار کشمیر کا سٹینڈ لینے کو کہا تھا۔ (پروفیسر اسحاق قریشی کا بیان اسی آرٹیکل میں آگے کہیں درج ہے.)


اس دعوے، یعنی کہ چوہدری حمید اللہ خان کو ایسا سٹینڈ لینے کے لیے جناح صاحب نے کہا تھا، کی کچھ حد تک تصدیق جناح صاحب کے اپنے 11 جولائی 1947 کے بیان سے ہو رہی ہے۔ جناح صاحب نے کہا:


"جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے رہنما، چوہدری غلام عباس اور پروفیسر اسحاق قریشی، نے آج مجھ سے ملاقات کی اور مجھے وہاں کے حالات سے آگاہ کیا جو کہ لوگوں کو بے چین کر رہے ہیں۔ [ایک] سوال جو کہ مسلمانوں کی توجہ مبذول کر رہا ہے وہ ہے کہ آیا کشمیر ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی میں شامل ہو یا پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں۔ میں نے پہلے ہی ایک سے زائد بار واضح کیا ہے کہ ہندوستانی ریاستیں اس بارے میں مکمل آزاد ہیں کہ وہ آیا پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں شامل ہوتی ہیں یا ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی میں یا آزاد رہتی ہیں۔" [7]


*کیا جناح خودمختار کشمیر چاہتے تھے؟*


اگلا سوال جو کہ ذہن میں اترتا ہے وہ ہے کہ جناح صاحب نے چوہدری حمید اللہ خان اور پروفیسر اسحاق قریشی کو مہاراجہ سے ہندوستان اور پاکستان میں سے کسی میں نا شامل ہونے کا مطالبہ کرنے کا مشورہ کیوں دیا؟ اس سوال کا جواب ہمیں مسلم کانفرنس کے لیڈران کے ان خطوط سے ملتا ہے جو انہوں نے قیام پاکستان سے قبل قائد اعظم محمد علی جناح کے پرائیویٹ سیکرٹری کے ایچ خورشید کو لکھے تھے۔ یہ خطوط زیڈ ایچ زیدی نے جناح پیپرز میں شایع کیے ہیں۔ انہی خطوط میں سے ایک خط 19 مارچ 1947 کا ہے جس میں پروفیسر اسحاق قریشی کسی "پلان" کا ذکر کرتے ہیں جو جناح صاحب نے مسلم کانفرنس کے لیڈران کو بتایا تھا۔ (جناح پیپرز میں کے ایچ خورشید کے اپنے خطوط نہیں ہیں ورنہ یہ چیزیں اور بھی واضح جاتیں.) پلان یہ تھا کہ "مسلم کانفرنس اپنے آپ کو آل انڈیا [مسلم لیگ] وابستگی سے الگ کرے" لیکن اسحاق قریشی کی نظر میں یہ پلان کسی بھی طور پر کارآمد نہیں تھا کیوں کہ "[رام چندر] کاک بہت ہوشیار ہے اُسکا  ہم سے دھوکہ کھانا ممکن نہیں۔ وہ ایک دم سے اس نتیجے پر پہنچ جائے گا کے اس نئی پالیسی کا تعین مسلم لیگ کے ہندوستان میں روا رکھے جانے معاملات کر رہے ہیں۔ 

مہاراجہ بذات خود بھی اس اقدام پر انتہائی شکوک کا شکار ہو گا جب تک کہ آپ اسکو اس تبدیلی کے لیے پہلے ہی (نواب آف ) بھوپال کر ذریعے رضامند نا کر لیں اور کیونکہ لوگ مہاراجہ کا ساتھ بلکل بھی نہیں دیں گے۔"[8]


"ہلان" کے لفظ کا استعمال اس وقت مسلم کانفرنس کے جنرل سیکرٹری، آغا شوکت علی، نے بھی کے ایچ خورشید کے نام اپنے خط میں استعمال کیا جو انہوں نے 24 مارچ 1947 میں ریاسی جیل سے لکھا۔ اس خط میں لکھتے ہیں:

"پلان جو کہ آپ تجویز کرتے ہیں -- میرا مطلب خود کو کچھ وقت کے لیے پاکستان سے الگ رکھنا, یا مہاراجہ کو دانہ ڈالنا تاکہ وہ کانگریس کے کیمپ میں نا جائے -- کیا آپ کو سچ میں یقین ہے کہ مہاراجہ ہم سے سچ میں دھوکہ کھا جائے گا، یہ جانتے ہوئے کہ جیسا کہ وہ جانتا یے، کہ وہ ہر طرف سے مسلم اکثریتی صوبوں سے گھرا ہوا ہے جو کہ اسے کسی بھی وقت گھٹنوں پر کر سکتے ہیں؟"[9]


پروفیسر اسحاق قریشی نے بعد میں تصدیق کی کہ جناح نے انہیں اور چوہدری حمید اللہ خان کو صرف وقتاً خودمختار کشمیر کی ڈیمانڈ کرنے کے لیے کہا تھا۔ وہ لکھتے ہیں:

"[جناح کے ساتھ 11 جولائی کی] میٹینگ میں ہمیں یہ تاثر ملا کہ جناح کسی تیسرے سورس کے ذریعے مہاراجہ سے رابطے میں ہیں اور انہوں نے کافی حد تک اسے پاکستان سے الحاق پر راضی کر دیا ہے۔ قائد اعظم نے ہمیں بتایا کہ ہندو کانگریس اور گاندھی جی ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ ریاست کا بھارت سے الحاق ہو جائے اور اس کے لئے، وہ اسے [یعنی مہاراجہ کو ریاست کے] مسلمانوں اور پاکستان سے ڈرا رہے تھے۔ لہذا، اس موقع پر، میرا مشورہ ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں کو ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہئے جو کہ کانگریس کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور مہاراجہ کو پریشان کرے۔ اسے سکون سے سوچنے کا موقع دینا چاہئے۔ لہذا، فی الحال آپ لوگوں کو ڈیمانڈ کرنی چاہئے کہ ریاست دونوں ڈومینین سے آزاد رہے۔" [10]


وہ تیسرا سورس، یوسف صراف کی نظر میں، نواب آف بھوپال ہو سکتا تھا جو کہ ریاست کے وزیر اعظم رام چندرا کاک سے رابطے میں تھا۔ کاک 25 جولائی کو جناح سے ملا۔ [11] (اس موضوع پر مزید ڈسکشن کے لئے آخر میں دیے گئے نوٹس چیک کریں۔) جناح کافی پر امید تھے کہ کشمیر آخر کار ایک پکے ہوئے پھل کی مانند ان کی جھولی میں آ گرے گا اور 30 جولائی، 1947 کو پھر سے اعلان کیا کہ ریاستیں خودمختار رہ سکتی ہیں۔(ممکن ہے کہ یہ بیان باقی ریاستیں جیسے حیدرآباد، ٹروانکور، اور بھوپال وغیرہ کے تناظر میں دیا ہو جنہیں قائد اعظم خودمختار دیکھنا چاہتے تھے۔) قائد اعظم کو دھچکا اس وقت لگا جب 17 اگست 1947 کو ریڈکلف ایوارڈ شایع ہوا۔ جناح شدید مایوس ہوئے، ان کا خیال تھا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس کو "ناقابل فہم اور غیر منصفانہ ایوارڈ" کہا۔[12] اس کے بعد جناح صاحب نے خودمختار کشمیر کی حمایت کی پالیسی ترک کر دی اور اس کی حمایت میں بیان دینا چھوڑ دیئے۔


*کیا چوہدری حمید اللہ خان اور مسلم کانفرنس خودمختار کشمیر چاہتے تھے؟*


کے ایچ خورشید اور مسلم کانفرنس کے لیڈران کے درمیان ہونے والی یہی خط و کتابت اس وقت مسلم کانفرنس کے لیڈران، پارٹی ورکرز اور ان علاقوں کے لوگوں کی آراء اور جذبات پر کافی روشنی ڈالتی ہے۔ مثال کے طور پر آغا شوکت علی 24 مارچ 1947 کو لکھتے ہیں؛ "پاکستان مسلم حکمرانی کا ایک روشن خواب ہے۔ کوئی دوسرا آئیڈیل نا تو اس آئیڈیل کی جگہ لے سکتا ہے، نا ہی ہمارے لوگوں کو حرکت کرنے پر اکسا سکتا ہے۔" وہ مزید لکھتے ہیں کہ "اگر حمید اللہ خان اس چیز کا پرچار کرتے ہیں [یعنی خودمختار کشمیر یا مطالبہ پاکستان سے خود کو الگ رکھنا]، تو وہ سیاسی طور پر بالکل ختم ہو جائیں گے۔"[13] اسی طرح وادی سے ایک وکیل نے کے ایچ خورشید کو 11 مارچ 1947 کو لکھا: "مسلمان مسلم لیگ سے رہنمائی چاہتے ہیں لیکن وہ مایوس ہیں۔ وہ مسلم لیگ کی [ریاستوں کے معاملات میں] عدم مداخلت کی پالیسی پر شکایت کر رہے ہیں۔ [اس وقت] پاکستان کو کشمیر کی ضرورت ہے، اور ہمیں (یعنی کشمیریوں کو) پاکستان کی۔" [14]


پروفیسر اسحاق قریشی جو کہ اس وقت وقتی طور پر خودمختار کشمیر کی حمایت کر رہے تھے، نے 25 جولائی، 1947 کو کے ایچ خورشید کے نام ایک خط لکھ کر انہیں اس چیز سے آگاہ کیا کہ 19 جولائی کو مسلم کانفرنس کے کنونشن نے قرارداد الحاق پاکستان کو کیوں منظور کیا۔ اپنے اس خط میں وہ تسلیم کرتے ہیں: "ہماری پوزیشن میں اس تبدیلی [یعنی خودمختار کشمیر سے اب الحاق پاکستان] نے ہمیں عام عوام کی پرجوش حمایت حاصل کر کے دی ہے اور اس وجہ سے ہماری تنظیم مزید مستحکم ہوگی۔"[15]


جون 1947 میں ایک بار مہاراجہ کو ہندوستان سے الحاق کرنے سے منع کرتے ہوئے چوہدری حمید اللہ خان نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ہم مسلمان بغاوت کر دیں گے۔ اپنے اس بیان میں وہ خود کہتے ہیں کہ اگرچہ وہ جانتے ہیں کہ مسلم کانفرنس ابھی بھی پاکستان کا مطالبہ کرتی ہے لیکن انہوں نے "اقلیتوں کے ڈر اور شکوک دور کرنے کی خاطر" اپنے اس دیرینہ مطالبے کو "قربان" کر دیا ہے۔ [16]


اب جہاں تک چوہدری حمید اللہ خان کے خود کے نظریات کا تعلق ہے، تو یہ حقیقت کہ وہ پاکستان کے حامی تھے اور ان کی پاکستان سے محبت پر کوئی دو رائے نہیں تھی، خود جسٹس یوسف صراف [17] اور سردار ابراہیم [18] بھی تسلیم کرتے ہیں جو کہ اس وقت ان کی مخالفت کر رہے تھے۔ مزید یہ کہ ایک بار جب یہ قرارداد الحاق پاکستان منظور ہوگئی، چوہدری حمید اللہ خان لگاتار مہاراجہ سے مطالبہ کرتے رہے کہ وہ ریاست کا الحاق پاکستان سے کر دے۔ [19]


*قرارداد الحاق پاکستان اور اس کی اہمیت*


ڈاکٹر شبیر چوہدری لکھتے ہیں کہ مسلم کانفرنس ہم پر ایک ایسی قرارداد "تھوپ" رہی ہے جو کہ "دھوکہ دہی" سے منظور شدہ ہے۔ وہ اس قرارداد کا موازنہ 18 جولائی کی قرارداد سے کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ورکنگ کمیٹی کسی بھی تنظیم کی "کریم" ہوتی ہے اور مسلم کانفرنس کی ورکنگ کمیٹی نے ہی خودمختار کشمیر کے حق میں یہ قرارداد "متفقہ" طور پر منظور کی۔ 


قرارداد الحاق پاکستان کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے ہوئے موصوف چوہدری حمید اللہ خان کے 28 مئی 1947 کے بیان جس میں وہ مہاراجہ سے ریاست کو خودمختار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں (جو کہ خود انہوں نے اپنے آرٹیکل میں کہیں کوٹ کیا ہے) کا یہ حصہ شائد بھول گئے: 


"مجھے [اپنے خودمختاری والے موقف] پر مسلم کانفرنس کے تمام اہم لیڈران کی حمایت حاصل ہے اور چوہدری غلام بھی اس پروپوزل سے متفق ہیں۔ مسلم کانفرنس کے نمائندوں کا کنونشن ایک مہینے میں بلایا جائے گا جس میں اس پروپوزل کو متفقہ طور پر [پارٹی کے لیے] اپنایا جائے گا۔ اس حل کو، لہذا، مسلم کانفرنس کی آفیشل پالیسی سمجھا جائے۔"[20]


یعنی، پارٹی کے صدر اور قائم مقام صدر کے اس فیصلے کو، چوہدری حمید اللہ خان کے مطابق، پارٹی کی آفیشل پالیسی بننے کے لیے مسلم کانفرنس کے نمائندوں کے کنونشن سے منظوری درکار تھی۔ ورکنگ کمیٹی سے خودمختار کشمیر کے حق میں قرارداد پاس ہو جانے کے اگلے روز، کنونشن سے پہلے ایک میٹنگ میں، چوہدری حمید اللہ خان نے مسلم کانفرنس کے باقی لیڈران سے درخواست کی کہ وہ ورکنگ کمیٹی کی اس قرارداد کی کنونشن میں حمایت کریں۔ جسٹس یوسف صراف لکھتے ہیں: 

"]ورکنگ کمیٹی سے] قرارداد منظور ہونے کی خبر جب عام ہوئی، کئی نو عمر ورکرز، جن میں راقم بھی شامل ہے، کنونشن میں اس کی توثیق کے خلاف باتیں کرنے لگے۔ تگڑی مخالفت محسوس ہونے پر اگلی صبح، کنونشن سے پہلے، سردار ابراہیم کی رہائش گاہ پر آٹھ سے دس بندوں پر مشتمل ایک محدود سی میٹنگ بلائی گئی۔ اس میٹینگ میں پارٹی کے سینیر ترین رہنماؤں، جو کہ ورکنگ کمیٹی کا حصہ تھے اور کچھ جو کہ اسمبلی گروپ کا حصہ تھے، نے شرکت کی۔ راقم کو بھی، شاید اس کے قرارداد کی مخالفت کرنے کی وجہ سے، مدعو کیا گیا تھا۔ جب چوہدری حمید اللہ خان نے ہمیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ ہم ورکنگ کمیٹی کی قرارداد کی کنونشن سے منظوری کے لیے اس کی حمایت کریں، خواجہ غلام احمد جیولر، جو کہ اسمبلی گروپ کے نائب تھے، اور راقم نے اس بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ورکنگ کمیٹی کے باقی ممبران نے گفتگو میں کوئی براہ راست حصہ نہیں لیا بلکہ وہ اپنے [قائم مقام] صدر کے ساتھ کھڑے تھے۔۔۔۔ چوہدری حمید اللہ خان نے بتایا کہ انہوں نے یہ موقف مسلم لیگ کی ہائی کمانڈ کے کہنے پر اختیار کیا ہوا ہے۔" یوسف صراف مزید لکھتے ہیں کہ غلام احمد جیولر نے اس بات پر یقین نہیں کیا اور میٹنگ بے نتیجہ رہی۔[21]


ایک اور چیز جو یہاں قابل ذکر ہے وہ پروفیسر اسحاق قریشی کا وہ خط ہے جو انہوں نے کے ایچ خورشید کو 25 جولائی 1947 کو لکھا جس میں انہوں نے اس بارے میں خاصی روشنی ڈالی ہے کہ کنونشن میں قرارداد الحاق کیوں اور کیسے منظور ہوئی۔ اسحاق قریشی کے مطابق: "ہم [ریاست کی] آزادی/خودمختاری والے اپنے موقف کی حمایت کی نیت لے کر سرینگر گئے تھے۔ اصل میں وہ قرارداد چوہدری غلام عباس کی ہی ڈرافٹ کردہ تھی۔ لیکن سرینگر میں، ہمیں جلد ہی معلوم پڑ گیا کہ ہمیں وہاں تگڑی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اول، پاکستان کا 'گلیمر' اکثریت لوگوں کے لیے خودمختار ریاست کے dull چانسز کی نسبت زیادہ پرکشش تھا۔ دوم، حال ہی میں پارلمینٹ میں ہونے والے اعلانات کا سیاسی حلقوں میں یہ مطلب لیا گیا ہے کہ کشمیر پر ناقابل برداشت دباؤ ڈالا جائے گا کہ وہ دونوں میں سے کسی ایک ڈومینین سے الحاق کر دے۔ ایسی صورتحال میں، یہ محسوس کیا گیا کہ ایک جانب سے ہندوستان سے الحاق کے مطالبے کے جواب میں ہماری جانب سے دوسری کسی ڈیمانڈ کی عدم موجودگی کے نتیجے میں ریاست [کی حکومت] کے پاس مضبوط کیس ہوگا کہ وہ بھارت سے الحاق کر دے۔  دو دن بحث کے بعد ہم نے اپنا پوائنٹ ورکنگ کمیٹی سے منظور کروا لیا لیکن تیسرے دن ہمیں اس میں رعایت کرنا پڑی۔ بنا اس رعایت کے دیے ایوان کو ساتھ لیکر چلنا نا ممکن تھا۔ ہمیں ایسا لگ رہا ہے کہ ہم نے آپکو مایوس کیا ہے اور ہم اپنے پرانے موقف سے ہٹ رہے ہیں لیکن ہم جمہوریت کے اصولوں کے پابند تھے۔" [22]


لہذا یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ورکنگ کمیٹی کی قرارداد کے لیے پارٹی کی پالیسی بننے سے پہلے قانونی طریقہ کار سے گزرنا لازمی تھا۔ اس خاطر اسے پارٹی کے کنونشن، جو کہ 19 جولائی کو منعقد ہونا تھا، میں اکثریت کی حمایت درکار تھی۔ 19 جولائی کو جب مقررہ تاریخ پر کنونشن چوہدری حمید اللہ خان کی صدارت میں منعقد ہوا تو وہی قرارداد جسے پہلے ورکنگ کمیٹی اور اس کے بعد میٹنگ میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، کو اکثریت نے مسترد کر دیا۔ پھر ایک اور قرارداد، جس نے ریاست کے پاکستان سے الحاق پر زور دیا، پیش کی گئی جسے اکثریت نے منظور کر لیا اور یوں وہ سب رہنما جو کہ ورکنگ کمیٹی سے منظور شدہ قرارداد کی حمایت کر رہے تھے، جیسا کہ پروفیسر اسحاق قریشی نے لکھا، کو اکثریت کے اس فیصلے کو تسلیم کرنا پڑا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قرارداد، جس کی حمایت میں اسی کنونشن میں اکثریت نے ووٹ دیا جو کہ منعقد ہی مسلم کانفرنس کی ریاست کے مستقبل کو لے کر آفیشل پالیسی کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے کیا گیا تھا، کیسے "دھوکہ دہی" سے منظور شدہ ہے جیسا کہ ہمارے اس دانشور نے لکھا؟


جیسے ہی 19 جولائی کو قرارداد منظور ہو گئی، پارٹی کے صدر چوہدری غلام عباس نے جیل سے ایک خط لکھ کر اس کی توثیق کر دی۔ [23] قائم مقام صدر چوہدری حمید اللہ خان [24] نے بھی اسے تسلیم کردیا اور اسمبلی گروپ کے چیف وھپ سردار ابراہیم تو پہلے سے ہی اس کے حق میں تھے۔ یوں اس قرارداد کو پارٹی صدر، قائم مقام صدر اور چیف وھپ سب کی حمایت حاصل تھی۔ نیز، جیسا کہ اوپر بیان کیا ہے، یہ قرارداد مسلم کانفرنس کی اکثریت اور ان علاقوں کے مسلمانوں، جہاں مسلم کانفرنس مظبوط تھی، کی اکثریت کے جذبات کی حقیقتاً عکاسی کرتی تھی۔ سب سے بڑھ کر، یہ قرارداد اکثریتی ووٹ کے ساتھ اسی کنونشن سے منظور شدہ ہے جو کہ منقعد ہی اسی لئے کیا گیا تھا کہ اکثریت کی رائے لے کر پارٹی کی آفیشل پالیسی طے کی جائے۔ لہذا، ریاست کے مستقبل کو لے کر مسلم کانفرنس کی آفیشل پوزیشن کی نمائندگی کرنے والی اس قرارداد کی، تنظیم کے قوانین کے تحت، قانونی حیثیت کو کبھی بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ 


اس قرارداد کا موجودہ آزاد جموں و کشمیر کے علاقوں کے سیاسی مستقبل پر گہرا اثر پڑا۔ اس قرارداد نے اس خطے کے مسلمانوں کو، جو کہ مسلم لیگ کی عدم مداخلت کی پالیسی سے سخت مایوس تھے، نا صرف منزل دکھائی بلکہ آغا شوکت علی کے الفاظ میں "حرکت میں آنے" کی وجہ دی۔ اس قرارداد کے منظور ہو جانے کے فورا بعد مسلم کانفرنس کے آٹھ سرکردہ رہنماؤں نے خلف لیا کہ اگر مہاراجہ نے پاکستان سے الحاق نہیں کیا تو وہ اپنے اپنے ضلعوں میں بغاوت کروا دیں گے۔ [25] اس فیصلے نے تاریخ کا دھارا بدل دیا اور آزاد جموں و کشمیر کی جنگ آزادی کی اصل وجہ بنا۔ بقول سردار ابراہیم، یہ فیصلہ 'تاریخی تھا اور بعد میں اس نے ثابت کیا'.


*نوٹس اور حوالہ جات*


1. کچھ لوگ تو اس حد تک چلے گئے کہ یہ دعویٰ ہی کر دیا کہ ایسی کوئی قرارداد (پاکستان سے الحاق کے حق میں) پاس ہی نہیں ہوئی تھی۔ مثال کے طور پر مقبوضہ کشمیر کے ایک مشہور تاریخ دان رشید تاثیر نے اپنی کتاب میں پیر افضل مخدومی کو جواب دیا ہے جنہوں 1973 نے سرینگر سے شایع ہونے والے روزنامہ "آفتاب" میں ایک آرٹیکل میں لکھا کہ ایسی کوئی قرارداد کبھی منظور ہی نہیں ہوئی تھی۔ جواب میں رشید تاثیر نے نیشنل کانفرنس کے اخبار "الخدمت" کے 22 جولائی 1947 کے شمارے کا حوالہ دیا ہے جس میں مسلم کانفرنس کے کنونشن اور قرارداد الحاق پاکستان کی خبر چھپی تھی۔ (دیکھیں، رشید تاثیر، تحریک حریت کشمیر، جلد سوم، صحفات، 194-195) اسی طرح جناح پیپرز میں دی پاکستان ٹائمز (24 جولائی، 1947) کی سٹوری جس کا عنوان ہے "Kashmir's entry in Pakistan demanded" موجود ہے۔ (Z.H.  Zaidi, Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah Papers, vol. 9, File no. KR-336)

2. Shabir Choudhry, “Some facts about resolution of Muslim Conference, 19 July, 1947”

3. Justice Yusuf Saraf, Kashmiris Fight for Freedom, vol. 2, p. 12

4. زاہد چوہدری، پاک بھارت تنازعہ اور مسلہ کشمیر کا آغاز، صحفہ 173

5. Sardar Ibrahim, The Kashmir Saga, p. 34

6. Yusuf Saraf, op. cit. vol. 2, p. 12

7. (Ed) Z.H. Zaidi, Jinnah Papers, vol. 9, File no. KR-332

8. lshaq Qureshi to K.H. Khurshid, 19 March 1947, (Ed) Z.H.Zaidi, Jinnah 

9. Papers, vol.1, File no. 158

Agha Shaukat Ali to K. H. Khurshid, 24 March 1947, ibid., File no. 207

10. Yusuf Saraf, op. cit. vol. 2, p. 12

11. رام چندر کاک کے مطابق اس ملاقات میں "جناح نے اسے پاکستان سے الحاق کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ جن شرائط پر الحاق ہوگا وہ شرائط فوری الحاق کرنے پر بعد میں کی نسبت قدرے بہتر ملیں گے۔ (لیکن) جب اس نے بتایا گیا کہ الحاق نا کرنے کا ریاست کا فیصلہ ختمی ہے، تو مسٹر جناح نے کہا کہ وہ یہ تسلیم کرنے پر تیار ہیں کہ یہ آپشن واقعی موجود ہے اور اگر ریاست ہندوستان سے الحاق نہیں کرتی، انہیں اس سے کوئی مسلہ نہیں کہ وہ پاکستان سے بھی الحاق نا کرے۔" (Radha Rajan, Jammu & Kashmir: Dilemma of Accession, p. 65) اس سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ جناح کشمیر کی حکومت کو انڈیا سے الحاق کرنے سے روکنا چاہتے تھے اور وہ وقتاً ایک خودمختار کشمیر سے خوش تھے۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ جناح (گو وہ اس بارے میں غلطی کا شکار تھے) مطمئن تھے کہ کشمیر ان جھولی میں پکے ہوئے پھل کی مانند گرے گا مگر یہ "تاثر کہ جناح نے کسی تیسرے سورس سے مہاراجہ کو کافی حد تک الحاق پر راضی کر دیا تھا" درست نہیں لگتا۔ ہو سکتا ہے، مگر اس بات کے بہت کم امکانات ہیں، کہ اس بارے میں جناح کو کشمیر حکومت کی طرف سے کوئی جھوٹی یقین دہانی کرائی گئی ہو۔ مزید یہ کہ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ آیا جناح صاحب نے پروفیسر اسحاق قریشی کو خود یہ بات کہی یا اسحاق قریشی کو یہ "تاثر" جناح صاحب کے اس پر اعتماد رویے سے ملا تھا کہ کشمیر آخر کار ان کی جھولی میں آ گرے گا۔ 

12. Robert G. Wirsing, India Pakistan and the Kashmir Dispute, p. 14

13. Agha Shaukat Ali to K. H. Khurshid, 24 March 1947, Jinnah Paper, vol.1, File no. 207

ایک اور جگہ آغا شوکت علی نے اس 'پلان' کے لیے "higher political strategy" کا لفظ استعمال کیا۔ کے ایچ خورشید کے نام 23 فروری 1947 کے اپنے خط میں وہ لکھتے ہیں: 

"Personally, I am convinced that if it were not for the League’s non-interventionist policy vis-a-vis the States, we would not have found ourselves so desperately alone [though] I am not unmindful of the higher political strategy which necessitates such a course of action." (See. Jinnah Papers, vol. 9, Enclosure to KR-318)

14. Mohiud Din to K. H. Khurshid, 11 March, 1947, Jinnah Papers, vol. 9, File no. KR-319

15. lshaq Qureshi to K. H. Khurshid, 25 July, 1947, ibid, File no. KR-338

16. Christopher Snedden, The Untold Story of the People of Azad Kashmir, p. 25

17. جسٹس یوسف صراف لکھتے ہیں: "میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ میں لوگوں سے چیزیں منسوب کرنے سے اجتناب کروں۔ مجھے منصفانہ انداز میں مرحوم (چوہدری حمید اللہ) کے بارے میں یہ بات بتانی چاہیے کہ وہ کٹر پاکستانی تھے اور اس بارے میں کسی سے کم نا تھے۔ اسی وجہ سے [مطالبہ پاکستان] انہوں نے اپنے بڑے بیٹے اور بیٹی کو جموں میں مسلمانوں کے قتل عام کے دوران کھویا تھا۔" (Saraf, vol. 2, p. 12)

18. سردار ابراہیم لکھتے ہیں کہ خودمحتاری کی حمایت کرنے والے کسی "بدنیتی سے ایسا نہیں کہہ رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر خودمختاری کا اعلان کر دیا جائے تو ہندوستان ریاست پر ڈورے ڈالنا چھوڑ دے گا اور پاکستان بننے کے بعد یہ خود بخود پاکستان کی جھولی میں چلی جائے گی۔" (سردار ابراہیم، متاع زندگی، صحفہ 148)


19. Snedden, op. cit. p. 25

Justice Yusuf Saraf, 

20. Kashmiris Fight for Freedom, vol. 1, p. 707

21. Saraf, vol. 2, pp. 9-10

22. lshaq Qureshi to K. H. Khurshid, 25 July, 1947, Jinnah Papers, vol. 9 File no. KR-338

23. Zahid Choudhry, op. cit. p. 173

24. یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ بعد میں چوہدری حمید اللہ خان نے ایک خط لکھ کر ابراہیم صاحب کو اپنا جانشین مقرر کر دیا کہ اگر وہ گرفتار ہو جاتے ہیں تو پھر پارٹی کے قائم مقام صدر سردار ابراہیم ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سردار ابراہیم کو تمام تر اختیارات دے رکھے تھے کہ وہ پارٹی اور قائم مقام صدر (حمید اللہ خان) کی طرف سے پاکستان میں جیسے مرضی چاہیں معاملات طے کر سکتے ییں۔ (See his letter to Sardar Ibrahim, The Kashmir Saga, pp. 61-62)

25. رشید تاثیر، تحریک حریت کشمیر، جلد سوم، صحفہ 194

مکمل تحریر >>

Friday, June 11, 2021

لیڈر کے انتخاب پر میرٹ کیسے ممکن ہو؟ ڈاکٹر اظہر فخرالدین

 لیڈر کے انتخاب پر میرٹ کیسے ممکن ہو؟ 

کیا آپ نے کبھی علاج کروانے سے پہلے ڈاکٹر کا قوم یا قبیلہ پوچھا؟ جب ہمیں کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے تو ہم قابل ڈاکٹرز کی تلاش کرتے ہیں۔ کیوں؟


بچوں کی تعلیم: کیا ہم بچوں کو ایسے سکول میں داخل کروائیں گے جو میرٹ اور اچھی تعلیم میں اپنی جان پہچان رکھتا ہو یا ایک ایسے سکول میں جو پڑھائی کے حوالے سے اوسط سے بھی کم درجے کا ہو، اور ہم صرف اسلیے اپنے بچے داخل کروا  دیں کہ وہاں کا پرنسپل بہت ہی مہمان نواز ہے؟ تعلیم کا میعار بمقابلہ مہمان نوازی یا ذاتی مراسم، دونوں میں آپ اپنی اولاد کے لیے کیا منتخب کریں گے؟


گھر کی تعمیر: کیا معمار کے انتخاب میں آپکی ترجیح علیک سلیک ہوتی ہے یا پیشہ ورانہ قابلیت؟


کھیل: اگر آپکو میچ جیتنا ہے تو کیا آپ صرف اپنے کنبے قبیلے کو بھرتی کریں گے یا اچھے بالرز، بیٹسمین ۔۔۔ پر مشتمل ٹیم بنائیں گے؟


جب ہم روزمرہ کے ان تمام اور دیگر کئی کاموں میں میرٹ کی پاسداری اور اچھی طرح جانچ پڑتال کرتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الیکشنز میں اسکا بلکل الٹ کیوں کرتے ہیں؟


کیا ہمیں اس بات کا علم ہے کہ جس بھی فرد کو ہم اپنا ووٹ دیتے ہیں یہ دراصل اسکے ہاتھ میں اپنے مستقبل کے پانچ سال تھما دیتے ہیں؟ اب کیا ہم اپنا اور اپنے خاندان کا مستقبل ایسے فرد کے ہاتھ میں دیں گے جو مسائل کا ٹھیک ادراک نہ رکھتا ہو اور نہ انکے حل کے لیے واضح وژن۔ مثلا، سماہنی کی ڈیڑھ لاکھ آبادی کیا سب ایڈہاک نوکریاں کرے گی؟ کیا ہمارے نمائندوں نے عوام کے سامنے ایک واضح معاشی پالیسی رکھی جس میں یہ بتایاگیا ہو کہ مقامی طور پر کیا زرائع معاش (local industry) ممکن ہیں؟ کیا آپ نے اپنے لیڈر سے اس پر سوال کیا؟ جب آپ سخت دھوپ میں ہاتھ میں پھول لیے ٹھنڈی گاڑی سے لیڈر کے اترنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں تو کیا آپکے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ لیڈر صاحب کی انفرا سٹرکچر، صحت، تعلیم، ماحولیات، اداروں کی اصلاح، عوامی جوابدہی ۔۔۔ کی کیا پالیسی ہے؟


 کیا ہمیں اندازہ ہے کہ ایک ووٹ جو غلط کاسٹ ہو اسکی کیا قیمت نسلوں کو چکانی ہو گی؟ 


درست لیڈرشپ منتخب کرنے کا ایک ہی راستہ ہے، سوچ سمجھ کر میرٹ پر ووٹ ڈالنا۔ اور اس انتخاب میں کسی بھی قسم کی دوستی، ذاتی مفاد یا عناد کو حائل نہ ہونے دینا۔ نہ تو کسی کی اندھی تقلید اور نہ مخالفت (ری ایکشن) میں ووٹ ڈالنا۔


 تمام نمائندوں سے خوب سوال کیجیے (اگر اپکو اس کا موقع میسر ہو) نہ کہ ہاتھوں میں مالا لیکر دھوپ میں  جلتے رہیں۔

اپنی اور اہنے ووٹ کی طاقت پہچانیے۔ یہی طرز عمل ایک تعلیم یافتہ شخص کے موافق ہے اور ایک باشعور معاشرے کی علامت۔

AF


مکمل تحریر >>

Wednesday, June 2, 2021

میں ابھی تک یہ سمجھ نہ سکی کہ لوگ کیوں شادی کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ تیری زندگی میں کوئی فرد ہو، تو آپ کو شادی کے کاغذات(نکاح نامہ) پر دستخط کرنے کی کیا پڑی ہے، یہ (تعلق) صرف پارٹنرشپ کیوں نہیں بن سکتی ہے؟"ملالہ

 ملالہ نے British Vogue کو انٹرویو دیا ہے۔ شادی، شوہر اور بچوں کے بارے میں تفصیلی بات بلکہ خیالات سامنے رکھے ہیں۔ انٹرویو سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں!!


"میں ابھی تک یہ سمجھ نہ سکی کہ لوگ کیوں شادی کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ تیری زندگی میں کوئی فرد ہو، تو آپ کو شادی کے کاغذات(نکاح نامہ) پر دستخط کرنے کی کیا پڑی ہے، یہ (تعلق) صرف پارٹنرشپ کیوں نہیں بن سکتی ہے؟"

ملالہ نے جس سیاق و سباق میں میرج پیپرز اور پارٹنرشپ کا ذکر کیا ہے وہ یقینا مغرب میں موجود تصور پارٹنرشپ اور شادی ہے، لہذا اس پر مزید بات نہیں کرنا چاہتا۔


Malala’s parents had an “arranged love marriage”, as she describes it – they liked the look of each other, and their parents worked out the rest. She isn’t sure if she’ll ever marry herself. “I still don’t understand why people have to get married. If you want to have a person in your life, why do you have to sign marriage papers, why can’t it just be a partnership?” Her mother – like most mothers – disagrees. “My mum is like,” Malala laughs, “‘Don’t you dare say anything like that! You have to get married, marriage is beautiful.’” Meanwhile, Malala’s father occasionally receives emails from prospective suitors in Pakistan. “The boy says that he has many acres of land and many houses and would love to marry me,” she says, amused.


“Even until my second year of university,” she continues, “I just thought, ‘I’m never going to get married, never going to have kids – just going to do my work. I’m going to be happy and live with my family forever.’” She turns to me, full of revelation. “I didn’t realise that you’re not the same person all the time. You change as well and you’re growing.”


مکمل تحریر >>

Monday, May 31, 2021

اہلیان دھیرکوٹ والو اپنے ہیرے کی قدر کرو۔تحریر صغیر قمر

اہلیان دھیرکوٹ والو اپنے ہیرے کی قدر کرو۔۔۔۔۔۔


وہ ابھی چوبیس پچیس برس کا درزا قد نوجوان تھا,جب اسے میں لے نیلم ویلی گیا۔کیرن ریسٹ ہاؤس کی ساتھ بہتے دریاۓ نیلم کے اس پار کشمیر کی مظلوم بہنوں کو ڈھور ڈنگر چراتے کے دیکھ کر اپنی بے بسی پر زاروقطار رودیا۔تب وہ سعودی عرب اعلیٰ تعلیم حاصل کررہا تھا۔یہ 1986 کے جون کا ذکر ہے۔تب سے میری اس کے ساتھ عقیدت ہے۔بہت جلد کشمیر کے زعفران زاروں میں باردو دھکنے لگا اور وہ پاکستان آگیا۔میں نے اپنی عقیدت دوستی میں بدل لی۔اس نے دوستی کی لاج یوں رکھی کہ میرے دکھ سکھ کے دنوں میں ساتھ کھڑا ہوا اور میرے کندھے پر اس کے ہاتھوں کا لمس ہر لمحے ساتھ رہا۔

میں نے اس مشکل ترین اور جانگسل دنوں میں مسکراتے دیکھا۔میں نے اس کے سکھ کے دن بھی دیکھے وہ عاجزی کا مجسمہ بنا رہا۔میں نے اسے کو نمازوں اور روزے کی حالت میں دیکھا۔اس کے پیچھے درجنوں پار نماز ادا کی اس کی قرات اور سوز سے دلوں کو پگھلتے دیکھا۔میں اس خوشحال دنوں میں دوستوں پر مال و متاع نچھاور کرتے دیکھا۔اس کی تعلیم اس کے اندر غراٌ پیدا نہ کر سکی۔وہ لمبے قد اور بہترین عالم ربانی ہونے کے باوجود جھک کر ملتا۔

ہم اس سے جائز و ناجائز مذاق کر جاتے مگر وہ قہقہے مار کر ٹال جاتا۔

میں نے اسے کشمیر کے مظلوموں کامقدمہ لڑتے ہوۓ ہایا۔کبھی استنبول میں,کبھی مکہ المکرمہ میں ,کبھی تریپولی میں ,کبھی خلیج کی ریاستوں میں,کبھی,عالم ارب کے نوجوانوں کی عالمی تنظیم WAMY,کبھی کوالالمپور میں کبھی,خرطوم میں کبھی قاہرہ میں,فلسطین میں,کبھی جکارتہ میں,کبھی تیونس میں۔۔۔کبھی نور تک کبھی نار تک وہ ہر اس جگہ گیا جہاں کہیں کہیں روشنی تھی۔

وہ عالم عرب کے لیے کشمیر المسلمہ جیسا جریدہ چھاپتا اور سوۓ ہوۓ عربوں کے گھروں پر دستک دیتا ہوا پایا گیا۔

میں نے سفر وحضر میں اسے رب کے ساتھ جڑا ہوا پایا۔اس کے لب رسول اللہ ﷺ پر درود سے ہم وقت تر دیکھے۔

اسے ظلم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ دیکھا۔

عسرت اور مفلسی کے دنوں میں خلیج کی آگ برساتی زندگی میں مزدوری کرتے دیکھا۔

اس کے لب پر کبھی شکوہ نہیں آیا۔ذاتی محرومیوں کا اس نے کبھی رونا نہیں رویا۔۔۔وہ رویا کشمیر کےبہتے لہو پر,فلسطین کے مظلوموں کی بے بسی پر۔

اس کے کردار کا اجلاپن اور ایمان کی دولت سے بھرے دل کی چمک چہرے پر جھلکتی ہے۔

مخالف بنانا اسے آتا نہیں ,دل میں بسا لینے کا سلیقہ خوب جانتا ہے۔

سڑیل,متعصب اور سیاسی مسافروں کے دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ان کے مفادات کے ہیٹ پر جب اس شفاف کردار کی ضرب لگتی ہے تو ان کی چیخیں دور دور تک سنائی دیتی ہیں۔

برسوں سے عوام کا لہو چوسنے والی جونکیں انہیں مسجد اور مصلہ سنبھالنے کا مشورہ دیتی ہیں ان کا کہنا ہے تم دین کو سنبھالو سیاست ہم کریں گے لیکن اس پر شمع کی طرح نچھاور ہونے والے کہتے ہیں اب کہ چنگیزی نہیں چلے گی۔۔۔۔۔تمہارے بوریابستر گول ہونے کے لمحے آ پہنچے۔۔۔۔سیاسی مداریوں اور مسافروں کی "رخصتی "نوشتہ دیوار ہے اسے آج پڑھ لو کیوں کہ جن کو تم پتھر مارتے اوربے گھر کرتے تھے,دفاتر جلاتے تھے ,سماجی بائیکاٹ کرتے تھے۔ان کی نسل جوان ہو چکی ہے۔جو سبق تم نے سکھایا تھا اس کو سننے کی تیاری کرو۔۔۔۔۔۔ ظلم جبر اور تعصب کازمانہ بہت پیچھے رہ گیا۔۔۔۔۔اب مستقبل راجہ خالد محمود خان کا ہے۔!!


مکمل تحریر >>

Wednesday, May 26, 2021

دائروں کا ایک نہ ختم ہونے والا سفر نہ جانے کب ختم ہو گا

 دائروں کے مسافر


 اگر شاہراہوں' کے اتنے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہی عوام کی ضرورت تھے تو مبارک قبول کریں۔ ایک نوٹوں کی مالا میری طرف سے بھی چڑھا دیں۔ ورنہ اڑتی چڑیا کے پر گن سکنے والی ہوشیار عوام لیڈرکو ووٹ بھی اسی حساب سے دینا چاہیے۔ یعنی جہاں 10 ووٹ ہیں وہاں 0.2 کلومیٹر روڈ کے حساب سے آدھا یا ایک ووٹ۔  اللہ جانے اتنی 'سیانی' عوام ہر بار دھوکہ کیوں کھاتی ہے؟


لوگوں کو لیڈر صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ وہ دو سو فٹ سڑک بھی تو دے سکتے تھے، یہ تو انکی مہربانی کہ دو سو میٹر سڑک دی۔ دو سو فٹ دیتے تو ہمارے پاس شکریہ کے الفاظ اور پھولوں کی مالا کے علاوہ بھی کوئی آپشن تھا بھلا؟ 


سمجھ دار لوگوں کے لیے نوٹیفیکیشن کے الفاظ ہی کافی ہیں کہ یہ صدر آزاد کشمیر کے حکم پر پی ڈبلیو ڈی کی سکیمز ہیں جو سالانہ ترقیاتی پروگرام 2020/2021 کا حصہ ہیں (وفاق ترقیاتی فنڈز کے الگ سے پیسے دیتا ہے) لیڈر صاحب خواہ مخواہ اپنے کھاتے میں دال رہے ہیں۔ ہمارے ہاں تو لوگ اسکو اپنے کھاتے میں ایسے ڈال رہے ہیں جیسے صدر آزاد کشمیر علیشان صاحب کے حکم پر سیکرٹری پی ڈبلیو ڈی علیشان صاحب اور وزیر تعمیرات و مواصلات علیشان صاحب نے یہ سڑکیں حلقہ 6 کے نمائندے علیشان صاحب کے ووٹرز کو وفاقی حکومت کا خصوصی تحفہ پہنچایا ہے۔ 


اب زرا ان سڑکوں کی کوالٹی پر نظر بھی رکھیے گا۔ آخر کو ٹھیکیدار نے اسی میں سے پیسے بچا کر آگے بھیجنے ہیں جو آپکے ووٹ خریدنے کے کام آئیں گے۔ یہ نہ ہو کہ سڑک کا اگلا حصہ زیر تعمیر ہو اور پچھلا حصہ بارش کی پھوار میں بہہ نکلا۔


دائروں کا ایک نہ ختم ہونے والا سفر نہ جانے کب ختم ہوگا ۔

تحریر ڈاکٹر اظہر فخرالدین ۔



مکمل تحریر >>

جنسی زیادتیاں اور ہماری معاشرتی ذمہ داریاں ڈاکٹر اظہر فخرالدین

 جنسی زیادتیاں اور ہماری معاشرتی ذمہ داریاں


ڈاکٹر اظہر فخرالدین

جنسی زیادتیاں دنیا بھر کے معاشروں کے لیے ایک چیلنج ہیں بلخصوص جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے جہاں ابھی بھی قانون سازی میں سقم موجود ہیں اور طاقتور مجرم اپنے سیاسی بیک گراؤنڈ اور پولیس یا عدالتی نظام کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر قانون کی گرفت سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ ریپ کا مسئلہ تمام معاشروں کو مساوی مسئلہ ہے اور اسکو رنگ، نسل، مذہب اور جغرافیے سے بالاتر ہو کر سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ اپنی نسلوں کا مستقبل محفوظ کیا جا سکے۔
جنسی زیادتیاں صرف ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی یہ انسانیت سوز جرم ایک ناسور بن چکا ہے۔  امریکہ جیسے ملک میں تقریبا ہر ایک منٹ میں ایک جنسی زیادتی سے جڑا جرم رپورٹ ہوتا ہے۔ ہر 6 میں سے 1 خاتون کا اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار یا تو ریپ ہوتا ہے یا اس پر جنسی حملہ کی کوشش کی جاتی ہے۔ مردوں کو بھی اس سے استشنا حاصل نہیں۔ ہر 33 میں سے ایک مرد بھی اسی صورتحال سے گزرتا ہے۔ Child Protective Agency کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سالانہ 63,000 بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ جس میں سے ایک تہائی تعداد 12 سال سے کم عمر بچوں کی ہوتی ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک انڈیا کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق وہاں روزانہ سو کے قریب ریپ کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں (ہر 15 منٹ میں ایک جنسی زیادتی)۔ NCRB کے اعداد و شمار کے مطابق ہر روز انڈیا میں 109 بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔ ان واقعات میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پچھلے سال ایک دو سالہ بچہ ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ 2008 میں 22,500 واقعات رپورٹ ہوے جبکہ 2018 میں 1,41,764. یہ اس انسانیت سوز جرم میں اضافے کے رحجان کی ایک خوفناک منظر کشی ہے۔ 
اسی طرح بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیوز بنانا اور انکی فروخت کے زریعے پیسہ کمانا بھی ایک گھناؤنا جرم ہے جو پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ انڈیا میں ایک ہزار کے لگ بھگ ایسے کیسز ریکارڈ ہوے۔ پاکستان میں گذشتہ سال ہی راولپنڈی سے ایک گروہ پکڑا گیا جو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرتا تھا اور اسکی فلمیں بنا کر انٹرنیٹ پر فروخت کرتا تھا۔
ارض پاکستان میں بھی حالات تشویشناک ہیں: روزانہ کم از کم 11 ریپ کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں (بحوالہ the news). آزاد کشمیر میں 2020 تک 31 واقعات رپورٹ ہوے جب کہ گلگت بلتستان میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں معاشرتی وجوہات کی بنا پر ایسے واقعات کو منظر عام پر نہیں لایا جاتا یا پھر ان اعداد و شمار کو مرتب کرنے کا نظام ابھی نسبتا کم فعال ہے۔

ایک پریشان کن امر قانون اور قانون کی عملداری کا ہے۔ ارض پاکستان میں رپورٹ ہوئے کل 22,000 سے زائد کیسز میں سے صرف 77 کو سزا ہوئی (0.8٪)۔ 5,000 کے لگ بھگ کیسز عدالتوں میں لٹکے ہوے ہیں۔ 1200 کے قریب کیسز میں ناکافی ثبوتوں کی بنا پر ملزمان کو رہا کر دیا گیا۔ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے مقامی سطح پر جنسی زیادتیوں کے بڑھتے ہوے واقعات، بلخصوص بچوں پر ہونے والے جنسی حملوں کی روک تھام کے لیے ایک قانون گذشتہ برس متعارف کروایا ہے جس کے تحت سخت ترین سزائیں اور 60 دن کے اندر اندر کیس کی سماعت کا مکمل کیا جانا ضروری ہے۔ کیس کی تفتیش ایک ڈی ایس پی لیول کا افسر مکمل کرے گا تاکہ سیاسی اثر و رسوخ کو کم سے کم کیا جا سکے۔ ان سب کے باوجود معاشرے میں بڑھتے ہوے ریپ کے واقعات پریشان کن ہیں۔ کیونکہ مجرمان کو سزا سنائے جانے کا رحجان انتہائی کم ہے۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ جنسی حملہ میں ملوث افراد کون ہوتے ہیں اور یہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپکو یہ جان کر شدید پریشانی ہو گی کہ دو تہائی کیسز میں مجرم ریپ سے متاثرہ فرد کو براہ راست جانتا ہوتا ہے۔ 38 فی صد کیسز میں یہ ایک قریبی دوست یا رشتہ دار ہوتا ہے (US Department of Justice, 2005). وادی سماہنی میں گذشتہ روز ہونے والے افسوسناک واقعے میں بھی ایک قریبی دوست ملوث تھا۔ آدھے سے زیادہ کیسز یا مجرم کے گھر پر ہوتے ہیں یا متاثرہ فرد کے گھر پر (یعنی دونوں کا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا ہوتا ہے)۔ ایک بڑی تعداد ساتھ کام کرنے والوں کی اور افسران بالا کی بھی ہوتی ہے (آفس یا تعلیمی اداروں کی مثال)۔ انجان لوگوں کے ہاتھوں ریپ کی تعداد نسبتا بہت کم ہوتی ہے۔ جہاں تک جنسی حملوں کے پس پردہ وجوہات کا تعلق ہے یہ در اصل طاقت کے زریعے کیا جانے والا جرم ہے اور اسکی کئی ممکنہ وجوہات ہیں مثلا کسی کو مغلوب کرنا، انتقام لینا، جنسی ہوس اور اسکے ساتھ ساتھ میڈیا اور دم توڑتی معاشرتی اقدار ۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی 1987 میں شائع ہوئی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق معاشرے میں عدم مساوات، معاشرتی فکری زوال، جنسی مناظر دکھانے والی فلمیں، معاشی تفریق اور بیروزگاری کا جنسی تشدد سے براہ راست تعلق ہے۔ معاشرے میں پھیلتی بے حیائی بھی ایک ایم فیکٹر ہے لیکن اس کو تمام تر وجہ قرار دینا نا انصافی ہے کیونکہ اگر یہ درست ہوتا تو مرد دوسرے مردوں کا یا بچوں کا ریپ نہ کرتے۔

سب سے اہم سوال اس جرم کو روکنے میں ہمارے کردار کا ہے۔ ہمیں ہر طرح کی عصبیت سے بالاتر ہو کر اس مسئلے کو اپنی نسلوں کے لیے ایک خطرہ سمجھ کر لڑنا ہو گا۔ معاشرے میں آگاہی پھیلانا، قانون سازی اور قانون کی عملداری، جنسی زیادتی کی کیسز کی تیز سماعت، سزاؤں کا نفاذ، مجرمان کی معاشرے میں حوصلہ شکنی کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی نسلوں کو اس حوالے سے تعلیم دینا ہو گی۔ اپنے بچوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ انھیں یہ بھی بتانا ہو گا کہ انھیں کس سے خطرہ ہو سکتا ہے۔ بچوں کو نامناسب طور پر چھونے یا برے الفاظ سے متعلق اگاہی دینا ہو گی۔ اگر بچہ سکول، مدرسے یا کسی رشتہ دار کے گھر جانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہو تو والدین کو وجوہات جاننا چاہیںں۔ بچے کو محفوظ جگہ اور محفوظ لوگوں کا concept سمجھانا چاہیے کہ خطرے کی صورت میں انھیں کس سے رابطہ کرنا ہے اور کس طرح کے لوگ یا سچوئیشن خطرناک ہو سکتی ہے۔ آجکل ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے اس میں اپنے بچوں کی سوشل میڈیا پر تشہیر بھی انکی زندگی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ والدین کو اس حوالے سے بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ ایک اہم بات متاثرہ فرد یا خاندان کے درد کو محسوس کرنے کی ہیں وہ پہلے ہی ایک اذیت سے گزر رہے ہیں اس پر سیاست کرنا، متاثرہ فرد کی شناخت کو عام کرنا یا اس مسئلے کو غیر حساس طریقے سے ہینڈل کرنا بھی انکے درد میں اضافہ کرنا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ الزام ثابت ہونے تک ملزمان کی سوشل میڈیا یا میڈیا کے زریعے کردار کشی کی بھی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی۔ ہماری ذمہ داری قانون کے نفاذ کی ہونی چاہیے نہ کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی۔



مکمل تحریر >>

Sunday, May 9, 2021

لیاقت بلوچ کے بیٹے کی پی ایچ ڈی کی ڈگری اور لبرلز کے پیٹ میں مروڑ ۔صہیب کاکا خیل


 لیاقت بلوچ کے بیٹے کی کینیڈا سے پی۔ایچ۔ ڈی کی ڈگری لینے پر اگر کشمیر یا افغانستان میں شہید ہونے والے نوجوانوں کے والدین یا اہل و عیال میں سے کوئی اٹھ کر کھڑا ہوجائے اور اعتراض کرے کے آپ نے ہمارے نوجوان کو تو جہاد کی ترغیب دے کر محاذ پر بھجوایا اور اپنے بیٹے کو کینیڈا تو پھر بھی کوئی تک بنتی ہے لیکن اب ایسے لوگ جن کو جہاد ، اسلام اور ہر قسم کے دینی شعایر سے بيزاری ہو ان کے منہ سے ایسی باتیں سننا "كهسيانی بلی کمبا نوچے" کے مترادف ہیں ۔ جتنے بھی شہدا اللّه کی راہ میں شہید ہو چکے ہیں ان کے اہل و عیال اللّه کے فضل سے انتہائی مطمین ہیں ۔ جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں یہ گزشتہ 40 سال سے لگے ہوئے ہیں جنھیں اصل درد اور مروڑ روس کی افغانستان میں ذلت آمیز شکست سے ہے جن کے آستقبال کے لیے یہ لوگ سرخ ڈولی اٹھائے طورخم پر بنگڑے ڈالتے تھے لیکن ڈولی کی بجائے انہیں سرخ تابوت میں سرخ ریچ کی لاش  موصول ہوی  جس کے بعد سے یہ حواس باختہ ہوچکے ہیں ۔۔


یہی سوال اگر اے این پی والوں سے کیا جائے کے خان عبدلغفار خان انگریز سامراج کے سخت خلاف اور مذاہم تھے۔ انگریزوں نے قصہ خوانی ، ہاتھی خیل ، اور دیگر جگہوں پر ہزاروں سرخ پوشوں کا قتل عام کیا ، ان پر تشدد کیا ان کو جیلوں میں ڈالا لیکن عین اسی وقت میں ان کا اپنا بھائی اسی سامراج کے دیس میں ڈاکٹری کی  تعلیم حاصل کرکے واپس لوٹا نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ  وہاں سے  ایک گوری بھی اپنے ساتھ بیا کر لے آیا  ۔ جس وقت خدائی خدمات گاروں کی اولاد انگریز تسلط کے خلاف جدوجہد میں جان مال اور جاییداد کی قربانیاں دے کر تنگدستی کی زندگی گزار رہے تھے اس وقت باچا خان کے دونوں بیٹے غنی خان اور علی خان سامراج کے دیس میں اعلی تعلیم حاصل کر رہے تھے ۔ کیا ان سے کوئی پوچھ سکتا ہے کے کسی غریب خدائی خدمت گار کے بیٹے کو بھجوا دیتے تعلیم حاصل کرنے کے لے کے نہیں ان کے حصہ میں صرف انگریز کی گولیاں تھی کھانے کے لیے۔ 


قیام پاکستان سے قبل دو دفعہ فرنٹیئر میں سرخ پوشوں کی حکومت بنی دونوں بار وازرت اعلی کی ھما ڈاکٹر خان صاحب کے سر پر رکھی گئی کیونکہ وہ باچا خان کے بھائی تھے کیوں نہ اس وقت کسی خدائ خدمت گار کے بیٹے کو اس منصب کے لیے منتخب کیا گیا ؟ ڈاکٹر خان نہ پہلے سرخ پوش تھے نہ بعد میں وہ صرف وزارت کے وقت باچا خان کے بھائی بن کر آجاتے اور کرسی سنبهال لیتے ۔ موصوف بعد میں اس وقت ون یونٹ کے وزیر اعلی بن بیٹھے جب باچا خان ون یونٹ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔


اے این پی والے یہ بھی بتا دیں جب 70 کی دہائی میں پشتونستان تحریک کے لیے  پشتون زلمے بنی اور مسلح تحریک کے لیے پشتون طالب علموں کو خیالی گریٹر پشتونستان کے جھانسے میں تخریب اور دہشت کی بھینٹ چڑہایا جارہا تھا تو  اے این پی کے کس لیڈر کا بیٹا وہاں کیمپوں میں تربیت حاصل کرنے گیا تھا۔


افغانستان میں فساد اور بربادی کی بنیاد اس وقت پڑی جب نام نہاد انقلابات کا آغاز ہوا  پہلے ظاہر شاہ کی  مستحکم حکومت کو ختم کیا گیا پھر اقتدار کی ہوس اور لالچ میں ایک دوسرے کا قتل عام کرتے ہویے داؤد خان کو ترکئ نے قتل کیا ، پھر حفیظ اللہ امین نے تراکی کو قتل کیا پھر ببرک کارمل نے اکر حفیظ اللہ امین کو قتل کردیا ۔ یہ قتل عام صرف حکمران وقت تک محدود نہیں ہوتا تھا  بلکہ اس حکمران کے پورے  خاندان اور حامیان کو بے دریغ قتل کیا جاتا تھا ۔ روسی جریدے کے مضمون کے مطابق نام نہاد انقلاب ثور میں کم و بیش 40 ہزار لوگ قتل ہوئے جب تراکی نے داؤد کے خلاف اقدام کیا تھا۔  


عجیب بات یہ ہے کے اس ساری کاروایوں میں اے این پی کی قیادت سب کے ساتھ کھڑی ہوا کرتی تھی۔ ظاہر شاہ سے لے کر داؤد خان ، تراکی ، حفیظ اللہ امین ، ببرک کارمل ، نجیب اللہ سب کے ساتھ ان کے گہرے روابط تھے ۔ کوئی ان سے  پوچھے کے پاکستان میں آپ بیک وقت 73 کے آئین کے خالق بھی اپنے آپ کو مانتے ہیں اور ساتھ ساتھ پشتونستان کی زیر زمین مسلح تحریک کو بھی چلاتے ہیں ۔ پاکستان میں آپ آئین ،ووٹ اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن حرام ہو جو آپ نے کبھی نادر شاہ کے وقت سے لے کر ڈاکٹر نجیب تک کسی حکمران  کو بھی افغانستان میں جمہوریت اور انتخابات پر قایل کیا ہو بلکہ ہر مسلح اور خونی انقلاب کے آپ پشتبان رہیں . 


آج کل بیٹھ کر ماضی پر یوں تجزیہ کرتے ہیں کے ہم نے تو کہا تا یہ روس اور امریکا کی جنگ ہے لیکن پاکستان اور ملا اسے جہاد کہتے تھے۔ مجال ہو جو انہوں نے ایک دن بھی افغانستان پر قابض روس کو کہا ہو کے بھائی کیوں امریکا کے خلاف جنگ افغانستان میں لڑھ رہے ہو جاؤ نکلو یہاں سے یا پھر ان کی کٹھ پتلیوں کو کہا ہو کے بابا یہ تو دراصل روس اور امریکا کی جنگ ہے تم کیوں روس کی خاطر اپنے دیس کو برباد کر رہے ہو ۔ ایسا یہ نہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ ایسا تیسرا اور غیر جانب دار فریق کہہ سکتا ہے جب کے یہ خود روس کے آلہ کار اور حمایتی تھی ۔ 


پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے روس کی افغانستان میں مداخلت کی بھی مخالفت کی تھی اور بعد میں امریکی حملے کے بھی مخالفت کی تھی کیونکے یہ اصولی بات تھی کل روس جارح تھا پھر امریکا جارح بنا ۔جب کے ان لوگوں نے روسی جارحیت کی بھی مکمل حمایت کی تھی اور پھر امریکی جارحیت کی بھی مکمل حمایتی تھے ۔  افغانستان کی بربادی کی بنیاد رکھنے والے بھی یہی تھے اس جنگ کے شعولوں کو بھڑکانے والے بھی یہی ہیں کل تک جس سامراج کے خلاف روس کی بغل  میں بیٹھ کر مخالفت کرتے تھے روس کے شکست کے بعد ایسا قلا بازی کھائی کے اسی سامراج کے گود میں جاکر ان کو پیارے ہوگئے ۔


باقی لیاقت بلوچ صاحب اور جماعت اسلامی کی اکثر قیادت کے بچے اسلامی جمیعت طلبا کا سرگرم حصہ رہے ہیں  ان کے اولاد اور عام کارکنان میں کبھی کوئی تفریق نہیں دیکھی۔


مکمل تحریر >>

مظفر نعیم شہید سے شعیب خان نیازی سے لے کر مولانا جان محمد عباسی کے فرزند تک، خود لیاقت بلوچ صاحب کے ایک رشتہ دار سے لے کر بزرگ رکن غلام علی صاحب کے فرزند تک، یہ تمام لڑکے جو شہید ہوئے، قائدین کے بچے ہی تو تھے ۔۔۔۔


 جب حسان بلوچ اجتماع عام پر کوڑا کرکٹ اکٹھا کر رہا تھا، تب کسی طرف سے تعریفی کلمات سنائی نہیں دئیے اور نا کسی نے کہا کہ چاہے لیاقت بلوچ صاحب کا بیٹا ہے مگر ایک۔مزدور کی طرح کام۔میں لگا ہے۔۔۔


مگر آج کئی فیس بُک مفکرین کو شرم آ رہی کہ ایک لڑکا جس نے کبھی اپنے باپ کے links استعمال نہیں کئے، اپنی محنت سے اپنا مستقبل بنانے میں لگا ہے تو اس پر اچھالے گئے بےسروپا الزامات کے جوابات نہیں مل رہے۔۔۔


کوئی کیسے کسی کے لئے تعلیم کے راستے بند کر سکتا ہے ۔۔ ہھر کس نے کہا کہ قائدین کے بیٹوں نے جہاد میں حصہ نہیں لیا۔۔۔


 مظفر نعیم شہید سے شعیب خان نیازی سے لے کر مولانا جان محمد عباسی کے فرزند تک، خود لیاقت بلوچ صاحب کے ایک رشتہ دار سے لے کر بزرگ رکن غلام علی صاحب کے فرزند تک، یہ تمام لڑکے جو شہید ہوئے، قائدین کے بچے ہی تو تھے ۔۔۔۔


انس قاضی بھائی سمیت کئی لڑکے جہادِ کشمیر و افغانستان سے منسلک رہے


اور اگر لبرلز نے ان بلیڈی سویلین سے ہی جہاد کی امید رکھنی تھی تو 80% بجٹ والوں کے اخراجات برداشت کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔


لہذا دلائل سے جواب دیں ۔۔۔


اور آخری بات، کسی رہنمائے جماعت اسلامی کی ایسی تقریر جس میں وہ نوجوانوں کو اپنا گھر بار، مستقبل چھوڑ کر کشمیر یا افغانستان جہاد کی دعوت دے رہا ہو، پلیز شئیر ضرور کیجئے گا ۔۔۔۔


دعاگو


مکمل تحریر >>

Wednesday, March 24, 2021

آپ چاہیں تو بنام تحریک انصاف ۔شمس الدین امجد


“آپ چاہیں تو”

زندگی بھر اسٹیبلشمنٹ کو گالیاں دینے کے بعد اس کے کندھے پر بیٹھ کر اقتدار کے مزے لوٹ اور بخوشی سلیکٹڈ کہلا سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ساتھ لائن میں لگ کر  آرمی چیف کو ایکسٹینشن دے سکتے ہیں، ایف اے ٹی ایف کے قوانین اکٹھے منظور کروا سکتے ہیں، اور اس کےلیے پارلیمانی روایات بھی توڑ سکتے ہیں۔


اور

آپ چاہیں تو

پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو سے اتحاد کرکے اسے سپیکر بنا سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

جسے چپڑاسی نہیں رکھنا تھا اسے وزیرداخلہ جیسے اہم عہدے سے نواز سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

جو قاتلوں کا گروہ تھا اور جن کے ساتھ کبھی میز پر نہیں بیٹھنا تھا، ان کا شمار نفیس لوگوں میں کرکے وزارتیں بانٹ سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

سندھ میں وڈیرہ شاہی کی دوسری شکل جی ڈی اے سے اتحاد بنا سکتے ہیں

آپ چاہیں تو 

موقع پرستوں کے طور پر معروف لوگوں کو 'باپ' میں اکٹھا کروانے کے بعد ان سے ہاتھ ملا سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

سیاسی مسافروں کو جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں شامل کروا کر اپنے ساتھ ملا سکتے ہیں

آپ چاہیں تو 

آزاد امیدواروں کو کبھی پارٹی میں نہ لینے کا اعلان اور ان کو ووٹ نہ دینے کی تاکید کرکے پھر انھیں جہازوں میں بھر بھر کر پارٹی میں لا اور ان کی بےساکھی پر حکومت بنا سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

ایک درجن پارٹیوں سے اتحاد بنا سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

دوستوں کو نوازنے کے لیے 50 رکنی کابینہ بنا سکتے ہیں، اور عہدوں کی بندر بانٹ میں پچھلوں کو مات دے سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

آپ کی چھتری تلے چینی مافیا، آٹا مافیا، پیٹرول مافیا، سیمنٹ مافیا سمیت مافیاؤں کے مافیا پرورش پا سکتے ہیں


اور

آپ چاہیں تو 

آصف زرداری اور پرویز مشرف اور نوازشریف کے وزرا سے اپنی کابینہ بھر سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

تو آصف زرداری کے ساتھ میں لائن لگ کر چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب کروا سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

سینیٹ الیکشن کے لیے پختونخوا سے پنجاب تک ن لیگ سے اتحاد کر سکتے ہیں


اور

آپ چاہیں تو

اپنے دائیں بائیں چوروں مافیاؤں کو کھڑا کر سکتے ہیں، اور ایک عہدے سے کرپشن کا الزام لگا کر نکالنے کے بعد اس سے اچھے عہدے سے نواز سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

50 لاکھ مکانات اور ایک کروڑ نوکریوں کے جھوٹے اعلانات کرکے ان سے مکر سکتے ہیں

آپ چاہیں تو 

آئی ایم ایف کے بجائے موت کو ترجیح دینے کا اعلان کرکے اس کے در پر سجدہ ریز ہو سکتے ہیں


اور

آپ چاہیں تو

مودی کے جیتنے کی دعائیں مانگ کر اسے کشمیر فروخت کرکے کشمیر فروش بن سکتے ہیں

آپ چاہیں تو 

اس کشمیر فروشی کے بعد مودی سے خطوط اور پیار محبت کی پینگیں بھی بڑھا اور جنگ بندی کا اعلان کر سکتے ہیں

 

اور

آپ چاہیں تو

آپ چاہیں تو 

آپ چاہیں تو 

کی ایک لمبی داستان ہے۔ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں۔

۔

اور ہاں! آپ کے شیرو چاہیں تو

اس سب سے آنکھیں بند کرکے دوسروں پر غرا سکتے ہیں

از شمس الدین امجد


مکمل تحریر >>

کرونا کی تیسری لہر، ہسپتالوں کی صورت حال، حکومتی اقدامات ۔ڈاکٹر منہم اقبال پمز اسلام آباد


کووڈ کی تیسری لہر جاری ہے ، گزشتہ کچھ دنوں میں اپنے جاننے والوں یا کسی ریفرنس سے رابطہ کرنے والے مریضوں کے لئے بیڈز کے انتظام کے لئے راولپنڈی اسلام آباد کے کئی سرکاری و پرائیویٹ ہاسپٹلز میں موجود دوستوں سے رابطہ کیا ہے ۔

تقریبا تمام ہی ہاسپٹلز اپنی کیپیسٹی سے زیادہ مریض داخل کر چکے ہیں ، پمز کی ایمرجنسی میں ابھی 25 30 مریض مختلف وارڈ میں داخلے کے منتظر ہیں ۔ انتہائی کوششوں کے باوجود بیڈز کی فراہمی ممکن نہیں ہو پارہی ۔

صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہے ، ایک سال گزرنے کے باوجود حکومت نے بھی ویکسینیشن کے معاملہ میں یا ہاسپٹلز کی capacity building کے حوالہ سے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے ۔جبکہ عوام میں بھی تاحال ایسے افلاطون پائے جا رہے ہیں جو کووڈ کے وجود سے ہی انکاری ہیں ۔

بہرحال باقیوں کی چھوڑیں ، اپنے پیاروں کی خاطر ہر ممکن احتیاط ضرور کریں ۔اگر بے احتیاطی کے سبب آپ اپنے کسی عزیز کی موت کے carrier بنے تو شاید تاحیات آپ خود کو ملامت کرتے رہیں ۔

باقی کسی انفیکشن ، زندگی و موت کا حتمی اختیار اللہ رب العالمین کے پاس ہے ، اسی سے لو لگائیے ۔ توبہ کیجئے ، رجوع الی اللہ آپ میں اعتماد کی قوت ، اطمینان و سکون ، مثبت سوچ ، نیک گمان  اور ان کے نتیجے میں مدافعتی نظام میں طاقت پیدا کرتا ہے ۔


 


مکمل تحریر >>

Tuesday, March 23, 2021

میرا چور زندہ باد۔ تحریر شمس الدین امجد

 میرا چور زندہ باد

۔

میں خود تو چوروں کی پارٹی سے تعلق رکھتا ہوں، حمایتی بھی چور کا ہوں، ووٹ بھی چور کو ہی دیا ہے، آئندہ بھی اسی کو یا اسی جیسے کو دوں گا۔ سوشل میڈیا پر دن بھر وکالت بھی چوروں کی کرتا ہوں، آئندہ بھی کرتا رہوں گا

۔

ہم چور ہیں، آپس میں اتحاد بھی کریں گے، الیکشن بھی ساتھ لڑیں گے، جلسے جلوس بھی نکالیں گے، موقع ملے گا تو بہن بھائی بن جائیں گے، ایک دوسرے کو ہار پہنائیں گے، اپنے امیدوار کو مشترکہ طور پر صوبائی اسمبلی سے قومی اسمبلی اور سینیٹ تک ووٹ دیں گے اور منتخب کروائیں گے

۔

بس میں ہی جمہوری ہوں، تم چور ہو ، تم فلاں کے آلہ کار ہو۔ دل کرے گا تو 90 کی دہائی سے آج تک جب چاہوں گا جس سے چاہوں گا ملوں گا، اور پھر میری مرضی نہ ہوگی تو تعلق توڑ دوں گا۔ چاہوں گا تو سیاسی جماعتوں سے مل کر جمہوری کہلاؤں گا اور چاہوں گا تو مقتدر قوتوں سے مل کر وہی اقتدار کرسی کا کھیل کھیلوں گا۔ یعنی کہ دیگر جماعتوں کو اتحادی بنا کر، ان کے زور پر ان کا ڈراوا دے کر ڈیل بھی کروں گا، ڈھیل بھی لوں گا، اور لازمی طور پر سلطانی جمہور کا چیمپئن بھی رہوں گا

۔

ہاں! مگر دیکھو کہ کوئی میرے جیسا کبھی تمھارے دروازے پر آئے تو اس سے  ملاقات نہیں ہونی چاہیے کہ یہ میری طبع نازک پر گراں گزرتا ہے۔ میرے دادا کے بھائی کے بھتیجے کے ماموں بھی اسلامی تحریک کا حصہ تھے، اور میں نے تب یہ خواب دیکھا تھا کہ خود تو چوروں کا ساتھی رہوں گا، مگر تمھارے لیے اخلاق و اصول کا کوڑا برساتا رہوں گا۔


مکمل تحریر >>

Monday, March 22, 2021

پاکستان آزادکشمیر کو ایک آزاد ملک کے طور پر قبول کر لیتا ہے۔ اب آگے کیا ہو گا ؟ تحریر ڈاکٹر اظہر فخرالدین

آئیے فرض کرتے ہیں کہ پاکستان آزادکشمیر کو ایک آزاد ملک کے طور پر قبول کر لیتا ہے۔

اب آگے کیا ہو گا ؟ 


کیا ہمارے قوم پرست دوست ہمیں سمجھائیں گے کہ آزاد  جموں و کشمیر سے ڈوگرہ دور کی ریاست جموں و کشمیر تک کا سفر کیسے طے ہوگا (ریاستی وحدت!!)؟


آئیے گلگت بلتستان سے آغاز کریں۔ جی بی گلاب سنگھ اور رنبیر سنگھ نے سفاکانہ طاقت کا استعمال کرکے قبضہ میں لیا تھا۔ 1863 میں وادی یاسین میں ہونے والے قتل عام کے بعد ڈوگرا صرف دریائے سندھ کے پار علاقوں پر قبضہ جمانے کے قابل ہوے۔ ہمارے قوم پرست جی بی کو واپس حاصل کرنے کا کیا  منصوبہ رکھتے ہیں؟ واضح طور پر ، جی بی کے اکثریتی لوگ اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے ہیں۔ ہم انھیں دوبارہ سے کشمیری کیسے۔ بنائیں گے؟ 


بھارتی مقبوضہ کشمیر:وادی کشمیر پر قبضہ ختم کرنے کا کیا منصوبہ ہے؟ ہمارے پاس ہندوستان کو وادی کشمیر سے رخصت ہونے پر راضی کرنے کا کیا منصوبہ ہے؟ آزاد کشمیر بحثیت ایک آزاد ملک کے پاس ایسی کون سی طاقت ہو گی جس کے زریعے وہ بھارت یا دنیا پر دباؤ ڈال کر یہ مسئلہ حل کروائے گا؟ ایسا کیا leverageہو گا  جو پاکستان، ایک ایٹمی قوت، کے پاس نہیں؟


فلسطینی خود اپنے معاملے کی نمائندگی پوری دنیا میں اور اقوام متحدہ میں کرتے ہیں۔ کیا اس نے 1948 سے ان کا مسئلہ حل کیا؟ یہ کتنا مختلف ہوگا اگر کشمیری (بلفرض جے کے ایل ایف) اس کیس کی اقوام۔متحدہ میں نمائندگی کریں۔



پی 5 (ویٹو ممالک) 

برطانیہ ہی اس سارے مسئلے کی جڑ ہے۔ امریکہ اور روس نے ہمارے خلاف ویٹو کیا۔ فرانس؟ واقعی؟ کیا اپکو واقعی لگتا ہے کہ فرانس انسانی ہمدردی کی بنا پر آپکی مدد کرے گا؟


 چین: چین آزاد کشمیر کی حمایت کیوں کرے گا؟ کیا چین ویٹو نہیں کرے گا اگر فرانس ، برطانیہ اور امریکہ آزاد کشمیر کوجنوبی  ایشیا میں ایک اور اسرائیل کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور اس خیال کی حمایت کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں (امریکہ ہر صورت یہاں اپنی کالونی قائم کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ چین پر نظر رکھی جا سکے)؟ اور چین کیا انکھیں بند کر لے گا؟ چین سے اقصائی چن کون لے گا؟

جموں: ایک ہندو اکثریتی جموں ایک مسلم اکثریتی آزاد کشمیر یا 'کشمیر' کے ساتھ کیوں رہے گا؟ یہی حال لداخ کا بھی ہے۔ اس حقیقت کو کس طرح نظرانداز کیا جاسکتا ہے کہ ان دو خطوں (جموں کے  مسلم اکثریتی اضلاع کے علاوہ) میں بمشکل ہی ہندوستان کے خلاف کوئی تحریک چل رہی ہے۔ اور تو اور کارگل کے شیعہ مسلمانوں کی اکثریت بھی 'سیکولر' ہندوستان کے ساتھ اپنا مستقبل دیکھتی ہے۔


اور یہ  'آزاد' آزاد کشمیر کتنا عرصہ زندہ رہ سکے گا؟ ہم۔یہ فرض کرتے ہیں کہ پاکستان سے الگ ہو کر بھی پاکستان ہمارے ساتھ برادر ملک کی طرح برتاؤ کرتا ہے۔

 کیا ہم نے واقعتا پاکستان میں بحثیت ایک غیر ملکی ہونے کے خیال کو اچھی طرح سے سوچا اور پرکھا ہے (لگ بھگ افغانیوں والا معاملہ)؟ مطلب پراپرٹی خریدنے اور کام کرنے کی کوئی آزادی نہیں!


بجٹ: بجٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جے کے ایل ایف کا کہنا  ہے کہ آمدنی کا بنیادی ذریعہ پانی ، ترسیلات زر اور قدرتی وسائل ہوں گے۔ کیا یہ دعوے واقعی دور اندیشی پر مبنی ہیں؟


پہلی بات: پانی فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ بھارت پاکستان کو پانی بیچ نہیں سکتا اور نہ ہی  اس سے رقم کما سکتا ہے۔ بجلی!!!کیا واقعتا” پاکستان کو کشمیر سے بجلی خریدنے کی ضرورت ہے ؟ 


پاکستان اکنامک سروے کی حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی حالیہ پیداوار (~ 35 میگا واٹ) تھی۔ یعنی ضرورت سے زیادہ پیداوار۔ مسئلہ بدانتظامی اور لائن لاسز ہے ، جو چند سالوں میں ختم ہوجائے گا(سی پیک کے تحت نئی لائنیں ڈل رہی ہیں)۔

 آزاد جموں وکشمیر کس کو  بجلی فروخت کرے گا؟ ہندوستان کو یا چین کو؟


ترسیلات زر یعنی Remittance ؟ AJK چیمبر آف کانفرنس کے سابق صدر نے کچھ سال پہلے بتایا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کی کل ترسیلات سالانہ 200 سے 300 ملین ڈالر سے تجاوز نہیں کرتی ہیں۔ پورے پاکستان کےمی کل ترسیلات زر 22 بلین ڈالر ہوتی ہیں۔ اگر ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں کے تناسب پر غور کریں: کشمیری: پاکستانی (9-10: 1) ، تو یہ زیادہ سے زیادہ 1 ارب ڈالر سالانہ بنتی ہیں (ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ 500 ملین ڈالر سے زائد ناں ہوں گی)۔

 لیکن ٹھہرئے!

ترسیلات زر براہ راست بجٹ کا حصہ نہیں ہوتیں ، اگرچہ یہ سینٹرل بینک اور کیش ان فلو کے لیے اہم۔ہیں تاکہ ملک میں آنے والے ڈالرز کی وجہ سے کرنسی کی ویلیو ناں گرے۔ لیکن اس سے حکومت کو بجٹ بنانے میں فائدہ صفر ہوتا ہے۔


 قدرتی وسائل؟ کیا ہم واقعی سنجیدہ ہیں کہ ہم درختوں کو کاٹنے اور بیچنے اور کانوں کی کھدائی کر کے اپنا بجٹ بنانا چاہتے ہیں۔ اور کن کانوں کی کھدائی؟ ہمارے پاس تو کوئی ثابت شدہ سونے کی کان بھی نہیں (بلوچستان کی طرح)۔ یا ہم یاقوت کے پتھر بیچیں گے؟


ٹورازم میں یقینا پوٹینشل ہے،لیکن ٹورازم تو تب آئے گا جب یہ ریاست بچ پائے گی۔


بجٹ: بجٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جے کے ایل ایف کا کہنا  ہے کہ آمدنی کا بنیادی ذریعہ پانی ، ترسیلات زر اور قدرتی وسائل ہوں گے۔ کیا یہ دعوے واقعی دور اندیشی پر مبنی ہیں؟


پہلی بات: پانی فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ بھارت پاکستان کو پانی بیچ نہیں سکتا اور نہ ہی  اس سے رقم کما سکتا ہے۔ بجلی!!!کیا واقعتا” پاکستان کو کشمیر سے بجلی خریدنے کی ضرورت ہے ؟ 


پاکستان اکنامک سروے کی حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی حالیہ پیداوار (~ 35 میگا واٹ) تھی۔ یعنی ضرورت سے زیادہ پیداوار۔ مسئلہ بدانتظامی اور لائن لاسز ہے ، جو چند سالوں میں ختم ہوجائے گا(سی پیک کے تحت نئی لائنیں ڈل رہی ہیں)۔

 آزاد جموں وکشمیر کس کو  بجلی فروخت کرے گا؟ ہندوستان کو یا چین کو؟


ترسیلات زر یعنی Remittance ؟ AJK چیمبر آف کانفرنس کے سابق صدر نے کچھ سال پہلے بتایا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کی کل ترسیلات سالانہ 200 سے 300 ملین ڈالر سے تجاوز نہیں کرتی ہیں۔ پورے پاکستان کےمی کل ترسیلات زر 22 بلین ڈالر ہوتی ہیں۔ اگر ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں کے تناسب پر غور کریں: کشمیری: پاکستانی (9-10: 1) ، تو یہ زیادہ سے زیادہ 1 ارب ڈالر سالانہ بنتی ہیں (ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ 500 ملین ڈالر سے زائد ناں ہوں گی)۔

 لیکن ٹھہرئے!

ترسیلات زر براہ راست بجٹ کا حصہ نہیں ہوتیں ، اگرچہ یہ سینٹرل بینک اور کیش ان فلو کے لیے اہم۔ہیں تاکہ ملک میں آنے والے ڈالرز کی وجہ سے کرنسی کی ویلیو ناں گرے۔ لیکن اس سے حکومت کو بجٹ بنانے میں فائدہ صفر ہوتا ہے۔


 قدرتی وسائل؟ کیا ہم واقعی سنجیدہ ہیں کہ ہم درختوں کو کاٹنے اور بیچنے اور کانوں کی کھدائی کر کے اپنا بجٹ بنانا چاہتے ہیں۔ اور کن کانوں کی کھدائی؟ ہمارے پاس تو کوئی ثابت شدہ سونے کی کان بھی نہیں (بلوچستان کی طرح)۔ یا ہم یاقوت کے پتھر بیچیں گے؟


ٹورازم میں یقینا پوٹینشل ہے،لیکن ٹورازم تو تب آئے گا جب یہ ریاست بچ پائے گی۔


بجٹ: بجٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جے کے ایل ایف کا کہنا  ہے کہ آمدنی کا بنیادی ذریعہ پانی ، ترسیلات زر اور قدرتی وسائل ہوں گے۔ کیا یہ دعوے واقعی دور اندیشی پر مبنی ہیں؟


پہلی بات: پانی فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ بھارت پاکستان کو پانی بیچ نہیں سکتا اور نہ ہی  اس سے رقم کما سکتا ہے۔ بجلی!!!کیا واقعتا” پاکستان کو کشمیر سے بجلی خریدنے کی ضرورت ہے ؟ 


پاکستان اکنامک سروے کی حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی حالیہ پیداوار (~ 35 میگا واٹ) تھی۔ یعنی ضرورت سے زیادہ پیداوار۔ مسئلہ بدانتظامی اور لائن لاسز ہے ، جو چند سالوں میں ختم ہوجائے گا(سی پیک کے تحت نئی لائنیں ڈل رہی ہیں)۔

 آزاد جموں وکشمیر کس کو  بجلی فروخت کرے گا؟ ہندوستان کو یا چین کو؟


ترسیلات زر یعنی Remittance ؟ AJK چیمبر آف کانفرنس کے سابق صدر نے کچھ سال پہلے بتایا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کی کل ترسیلات سالانہ 200 سے 300 ملین ڈالر سے تجاوز نہیں کرتی ہیں۔ پورے پاکستان کےمی کل ترسیلات زر 22 بلین ڈالر ہوتی ہیں۔ اگر ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں کے تناسب پر غور کریں: کشمیری: پاکستانی (9-10: 1) ، تو یہ زیادہ سے زیادہ 1 ارب ڈالر سالانہ بنتی ہیں (ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ 500 ملین ڈالر سے زائد ناں ہوں گی)۔

 لیکن ٹھہرئے!

ترسیلات زر براہ راست بجٹ کا حصہ نہیں ہوتیں ، اگرچہ یہ سینٹرل بینک اور کیش ان فلو کے لیے اہم۔ہیں تاکہ ملک میں آنے والے ڈالرز کی وجہ سے کرنسی کی ویلیو ناں گرے۔ لیکن اس سے حکومت کو بجٹ بنانے میں فائدہ صفر ہوتا ہے۔


 قدرتی وسائل؟ کیا ہم واقعی سنجیدہ ہیں کہ ہم درختوں کو کاٹنے اور بیچنے اور کانوں کی کھدائی کر کے اپنا بجٹ بنانا چاہتے ہیں۔ اور کن کانوں کی کھدائی؟ ہمارے پاس تو کوئی ثابت شدہ سونے کی کان بھی نہیں (بلوچستان کی طرح)۔ یا ہم یاقوت کے پتھر بیچیں گے؟


ٹورازم میں یقینا پوٹینشل ہے،لیکن ٹورازم تو تب آئے گا جب یہ ریاست بچ پائے گی۔

دفاع:  دفاع کو ہم بھول ہی جائیں تو اچھا ہے !! ہندوستان اور چین جیسے پڑوسی ممالک کے ساتھ کوئی سوچ بھی سکتا ہے کہ ہماری کیا حالت ہو گی؟ کیا آپ کو واقعی لگتا ہے کہ چین اپکو تبتہہ اور اقصائی چن جھولی میں ڈال دے گا؟ لداخ پر چین نے بھارت سے تقریبا جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ کیا اپکو واقعی ایسا لگتا ہے کہ وہ اسکو ہری سنگھ کی نشانی سمجھ کر اپکو لوٹا دے گا؟ ہمارے قوم پرست احباب کے پاس یقیناکوئی۔منصوبہ ہو گا چین کو راضی کرنے کا۔ امید ہے وہ عوام کے ساتھ شیئر کریں گے۔


 ہمیں چین / روس کے خلاف برطانیہ اور مغرب کے پراکسی ہونے کے امکان کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ مغرب یقینی طور پر اس کے لئے ہماری مدد کرنا چاہتا ہے۔ کہ ایک چھوٹا سا اسرائیل یہاں بھی مل جائے اور اسکے خطے میں قدم جم جائیں۔ کشمیری جو ہر طرف سے پھنسے ہوے ہوں گے بڑی طاقتوں کے لیے ایک ترنوالہ ثابت ہونگے۔


آخری اور اہم بات:  آزاد جموں و کشمیر میں ایک بڑا طبقہ پاکستان نواز  ہے، اس کے بارے میں قوم پرست احباب کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ صرف بیٹھ کر تماشا دیکھیں گے؟ یاد رکھیں ، وہ پاکستان میں جائیداد نہیں خرید سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی کاروبار کرسکتے ہیں۔ تعلیم اور نوکریوں کے لئے کوئی کوٹہ نہیں۔ تین بڑی طاقتوں کے درمیان پھنسا ہوا ایک خطہ جس کو اپنی تجارت کے لیے بھی پاکستان سے پورٹ چاہیے ہو گی، ایک شدید اندرونی کشمکش میں الجھ جائے گا۔


اور ہاں، ہم کیسے اس بات کو کس طرح نظرانداز کرسکتے ہیں کہ آزاد کشمیر کو پاکستان کو حصہ بننے کے لئے آزاد کرایا گیا ( اس حصہ بننے کی نوعیت الحاق کی ہو گی یا انضمام می،یہ فیصلہ کشمیریوں کو ہی کرنا ہے)۔ اب اچانک آزاد کشمیر کے لوگ بھلا کیوں پاکستان سے پیٹھ پھیرنے پر راضی کیوں ہوں گے؟


اس حقیقت کو بھی فراموش نہ کیجیے کہ ایک “خود مختار “ کشمیر زیادہ مشکل کام ہوسکتا ہے۔ نہ صرف یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے (وہاں کوئی تیسرا آپشن نہیں) بلکہ اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے لئے بھی غیر یقینی کی پیدا کر سکتا  ہے۔ خدا جانے کل یہ چھوٹا سا ملک کتنوں کے لیے سر درد بن جائے۔ بھلا کیوں چین،انڈیا، پاکستان اور روس اس بات کی اجازت دیں گے؟ یہ ایک تلخ عالمی حقیقت ہے۔


ان سب باتوں کے کہنے کا مقصد یہی ہے کہ  اہلیان کشمیر کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ خودمختار کشمیر کا معاملہ اتنا سیدھا بھی نہیں۔

ترجمہ: اسعد فخرالدین 



مکمل تحریر >>

Thursday, November 12, 2020

A typical Line of Control morning Umar Aziz

A typical LOC Morning


I've personally witnessed huge mortars and howitzers shelling along the Line of Control (LoC) in Samahni sector today. It was probably the worst shelling in over a decade on civilians after the Kargil war.


I was on the breakfast table with my family at 8:30 am when we heard the heavy sounds of small arms and intense shelling of mortars along the LOC. The mortar fires were hitting the villages and hamlets in surroundings of central town while dust and fire had made the morning view very hazy.


It continued for almost two hours, causing huge panic among residents and shopkeepers in bazar who were forced to take shelter in their houses and shops.


I saw the whole thing from the window of my room (home office) at first floor, almost two and a half KMs away from the shelling target. It was horrifying.


After the shelling stopped, my father and uncle rushed to hospital and then to shelling targeted village with other locals to help affected people. More than four people injured, dozens of cattle killed and several houses and shops were completely damaged.


It was not just today and not only in my home town, it's a routine shelling in hundreds of villages and small towns along the LOC, from Barnala up to Taobat, on a 740 KMs long Line of Control (LOC) between India and Pakistan. Some of the areas are densely populated and it's not possible at all for people to relocate from their native places. If I just talk about my tehsil, Samahni valley, there are more than 100k inhabitants living, which is a huge population of a remote area.


A surprising thing I've realized is the media coverage of LOC, which is completely silent most of the times, and a least important story of 20 seconds sometime at the end of 50 mins news bulletin. It's probably more devastating than the shelling itself.

Umar Aziz from Smahani azad kashmir 



مکمل تحریر >>

Tuesday, October 20, 2020

سراج الحق سینٹر کیسے بنے ۔ارشد زمان

__ یہاں تو سر ہی غائب ہے گریبان سے __!

قومی وطن پارٹی کے باغی رکن صوبائی اسمبلی بلکہ صحیح معنوں میں داغی بخت بیدار صاحب  جنہوں نے دولت کے خاطر  ضمیر کا سودا کر کے اس پارٹی کو کہی کا نہی چهوڑا____

  اج کل زہنی مریض اور مخبوط الحواس ہے اور نئے نئے شگوفے چهوڑ کر دراصل  اپنی کی ہوئی گندگی کو پیشاب سے دهونے کی حماقت کر رہے ہے__ 

جناب فرمارہے ہیں کہ جناب  سراج الحق  جعلی ووٹوں سے سینٹر منتخب ہوچکے ہیں _!

افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ کیسے کیسے عجوبوں کو لوگ  کندھوں پر بٹھا کر ایوانوں تک  پہنچاتے ہیں __اجڈ و انپڑھ ہونا شاید اتنا  گناہ نہی لیکن  اوپر سے اگر کوئی بے شرم اور ڈیٹ جاہل بنے پھرے تو ان کے حلقہ انتخاب کے لوگوں کو کوسنے کو  جی چاہتا ہے ___!

صوبائی اسمبلی کے چند درجن ووٹوں میں جعلی ووٹوں کا استعمال __؟

خدا کے بندے سینٹ کے الیکشن میں تو  اول ترجیح تو دور کی بات اخری ترجیح کا بهی پتہ چل جاتا ہے کہ کس کس نے غلط ووٹ ڈلا ہے یعنی  ووٹ  فروخت کر ڈالا ہے_

اگر  سراج الحق صاحب کو جعلی ووٹ پڑے ہیں تو اس کی معنی یہ ہوئی کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے ووٹ کسی اور کو ملے ہیں اب اس کے دو طرح کے نتائج  ہونے چاہئے ___

اول_ کسی دوسرے امیدوار کا اپنی ووٹوں سے زیادہ ووٹ لینا__ خیبر پختون خواہ سے کسی بھی سینٹر نے اول ترجیح کے اپنے مقرر شدہ ووٹوں سے زیادہ ووٹ نہیں لئے _

دوم__ متعلقہ حلقہ سے اپنی تعداد سے زیادہ سینئرز کا انتخاب__اور اس طرح کا بچگانہ  سوچ تک  بهی  صرف  بخت بیدار صاحب جیسے "صاحب بصیرت " ہی سوچ سکتے ہیں _

اگر صاحب  تهوڑی بہت عقل رکھتے  تو الزام لگاتے کہ:سراج الحق نے ووٹ خریدے ہیں__ !

     *_    کیسے تیر انداز ہو، سیدها تو کرلو تیر _!

موصوف  کی حواس باختگی  کی وجوہات کوئی ڈهکی چهپی نہیں ___

 *_  وہ الزام ہم کو دیتے تھے، قصور اپنا نکل آیا ___کے  مصداق خود ہی اپنے ہاتھوں رسوا ٹهرے اور بڑاس کسی اور پر نکال رہے ہیں __

آفتاب شیر پاؤ صاحب نے کمال مہارت سے چند سیٹوں پر اپنی پارٹی کو صوبائی حکومت میں شامل کرایا  لیکن اگلے ہی دن سے آنجناب بخت بیدار صاحب دل کے کچے  نکلے اور دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف رہے اور جنابِ عمران خان کو دعوت غضب دیکر خود تو کیا  اپنے دیکر وزراء ساتھیوں کو بھی  گهر بٹھا دیا ___

 *_  سر اشک غم سمٹ کر دل  کے ارمانوں کو لے ڈوبے 

      یہ صاحب خانہ  اپنے ساتھ مہمانوں کو لے  ڈوبے __!

 ابهی یہ گرد مکمل طور پر بیٹھی ہی نہیں تهی کہ  جناب نے  اپنی پارٹی کو داغ  دیکر سینٹ کا ووٹ بیچ  ڈال کر ضمیر کا سودا کیا __یہ اور بات ہے کہ ضمیر نام کی چیز وہ کب کے پاوں تلے روند ڈال چکے ہے __!

جب قبلہ کو پارٹی کی طرف سے شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا تو بیچارہ حواس باختہ ہو کر جماعت اسلامی کے پیچھے پڑگیا____اور ایسی عجیب منطق پیش کی کہ  دنیا ہنسی _ کہ مجهے اس لئے پارٹی سے نکالا جارہا ہے کہ میں نے سراج الحق کو ووٹ نہیں دیا___ 

*_اب بندہ روئے کہ پیٹے جگر___!                                                                 محترم! جناب سراج الحق کو خیبر پختون خواہ اسمبلی سے سب سے زیادہ اٹهارہ ووٹ ملے ہیں اور جسے اپ نے ووٹ دینا تها وہ بیچارہ ہی  ہار چکا ہے ___

بحرحال اج کل  بیچارے کی حالت قابل رحم ہے پارٹی نے جو ٹهکرایا ہے اور حلقے کے لوگوں نے خوب  پہچانا__!

   *_   الجھا الجها رہنے کا سبب پوچھتے ہیں لوگ 

      


یہ کیوں نہیں نہیں سمجھتے کہ ٹهکرا گیا ہو میں

مکمل تحریر >>

Sunday, September 6, 2020

اقوام متحدہ کی قراردادیں ، کشمیریوں کے پاس موجود آپشنز ، سعید اسعد اور امان اللہ خان کے جھوٹ اور خود مختاری کی حقیت. اظہر فخرالدین

اقوام متحدہ کی قراردادیں ، کشمیریوں کے پاس موجود آپشنز ، سعید اسعد اور امان اللہ خان کے جھوٹ اور خود  مختاری کی حقیت. 

آیے مل کر کُچھ  سوالوں کا جواب تلاش کریں .
کیا اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیریوں کا پاس خود مختاری کا آپشن موجود ہے ؟ 
کیا پاکستان نے اقوام متحدہ سے ساز باز کر کے سیکورٹی کونسل کی قراردادوں سے خود مختاری کا آپشن نکلوا دیا جیسا کے قوم پرستوں کے دانشواران دعوی کرتے ہیں ؟ 

ان سوالوں کے جواب ہمیں سیکورٹی کونسل کا قردار نو ٤٧ میں مل جائیں گے جو مثلا کشمیر پر پہلی جامع قرارداد تھی . جو ٢١ اپریل ١٩٤٨ کو پاس ہوئی تھی .  

یکم جنوری 1948ء کو بھارت جموں و کشمیر کا مسلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر گیا جس پر اقوام متحدہ کا کمیشن برائے بھارت اور پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا. اس کمیشن نے پھر مسلہ کشمیر کے حل کے لئے مختلف قراردادیں پاس کیں لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث ان میں سے کسی بھی قرارداد پر پورے طورعمل نہیں ہو سکا اور مسلہ ابھی بھی حل طلب ہے .

جب ہم سلامتی کونسل کی قراردادوں کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو ایک چیز بلکل واضح ہو جاتی ہے کہ سب کی سب قرادادوں میں جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے رائے شماری کے دوران صرف دو ہی آپشن رکھے گئےہیں۔ مگرایک دلچسپ چیز جو کافی عرصے سے پھیلائی جا رہی ہے کہ ان قراردادوں میں ایک تیسرا آپشن بھی تھا "خودمختار ریاست" کے لئے جسے پاکستان نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ نکلوا دیا۔

یہ جھوٹ بہت تواتر سے بولا گیا اوراسکو پھیلانے میں کچھ جانے مانے قوم پرست رہنما بھی شامل ہیں جس کی وجہ سے لوگوں نے اسے سچ سمجھنا شروع کر دیا۔ لبریشن فرنٹ کے بانی اور اپنے وقت کے سرپرست عالی امان اللہ خان مرحوم نے اپنی کتاب میں حکومت پاکستان کے کشمیر کو لے کر یو ٹرن بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں؛

"مسلہ کشمیر اقوام متحدہ میں چلا گیا اور وہاں 13 اگست 1948ء کی قرارداد میں طے ہوا کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہونے والی رائے شماری کے ذریعہ کریں گے۔۔۔ لیکن صرف چار ماہ کے اندر پاکستان نے پینترا بدل کر اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو بھارت یا پاکستان سے الحاق تک محدود کر دیا جائے اور اس نے اپنا یہ مطالبہ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان کی 5 جنوری 1949ء کی قرارداد کے تحت منوا لیا۔" [1]

موصوف ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ؛

"پاکستان نے 25 دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے کمیشن کے نام اپنے خط میں مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو بھارت یا پاکستان سے الحاق تک محدود کر دیا جائے." [2]

اسی طرح سعید اسد صاحب نے اپنی کتاب "جموں کشمیر بک آف نالج" میں لکھا ہے؛
"پاکستانی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے 25 دسمبر 1948ء کو UNCIP کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے آزادانہ حق خودارادیت کو بھارت یا پاکستان سے الحاق تک محدود کیا جائے۔" [3]

ان تمام الزامات کا باریک بینی سے مطالع کرنے پر یہ بات آشکار ہو گی کے ان میں ذرا برابر بھی سچائی نہیں ہے .
آگے بڑھنے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ سلامتی کونسل کی پہلی مین قرارداد جو کہ 21 اپریل 1948ء میں پاس ہوئی اس میں درج ہے کہ؛

"ہندوستان اور پاکستان دونوں اس پر راضی ہیں کہ جموں وکشمیر کے ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کے سوال کا فیصلہ آزاد اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے کیا جائے."[4]
 See the screenshots attached of the resolution 47 (21 April 1948). I can share the original copy if you need.

اس پہلی قراداد میں ہی کشمیریوں کو دو آپشنز دے گے ہیں، انڈیا یا پاکستان کے ساتھ الحاق . تیسرا کوئی آپشن نہیں. اب آپ خود اندازہ لگیں کے یہ قرارداد اپریل ١٩٤٨ میں پاس ہوئی. سکرین شاٹ لگا دے گے ہیں حوالہ کے لیے. اب امان اللہ خان ور سعید اسعد جھوٹ بولتے ہوۓ کہتے ہیں ک دسمبر میں پاکستان کے وزیر ا خارجہ نے تیسرا آپشن نکلوا دیا.

یعنی کہ پہلی قرارداد سے ہی سے صرف دو ہی آپشن تھے۔ اس کے بعد جو بھی قراردادیں مسلہ کشمیر پر پاس ہوئی ان میں تقریبا اسی موقف کا دوبارہ اعادہ کیاگیا ۔
13 اگست 1948ء کی قرارداد

21 اپریل 1948ء کی قرارداد پر عمل نا ہو سکنے کے بعد اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان نے دونوں ممالک سے مشاورت کے بعد ایک اور قرارداد منظور کروائی جو کہ تین حصوں پر مشتمل تھی؛

پہلا حصہ (پارٹ ون) کا تعلق جنگ بندی سے تھا، دوسرے حصے (پارٹ ٹو) کا تعلق جنگ بندی کے معاہدہ (truce agreement) سے تھا۔ جبکہ تیسرے حصے (پارٹ تھری) کے مطابق truce agreement کے تسلیم کرنے کے بعد دونوں ممالک کمیشن سے بات چیت کے مرحلے میں داخل ہوں گے تا کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اس کی عوام کی مرضی سے طے پائے۔

اس قرارداد کا اصل مقصد جنگ بندی اور truce agreement تھا۔ تیسرے حصے یعنی پارٹ تھری کے لئے قرارداد میں واضح طور پر کہا گیا کہ مزید مذاکرات ہوں گے۔

اسی قرارداد کا پہلا پیراگراف کہتا ہے؛

“Having given careful consideration to the points of view expressed by the Representatives, of India and Pakistan regarding the situation in the State of Jammu and Kashmir, and Being of the opinion that the prompt cessation of hostilities and the correction of conditions the continuance of which is likely to endanger international peace and security are essential to implementation of its endeavors to assist the Governments of India and Pakistan in effecting a final settlement of the situation.”

ترجمہ:- "ریاست جموں و کشمیر کی صورتحال کے بارے میں ، ہندوستان اور پاکستان کے نمائندوں کی طرف سے بیان کردہ نقطہ نظر پر محتاط غور کرنے کے بعد (کمیشن) کا یہ خیال ہے کے پاکستان اور انڈیا کی گورنمنٹ کو صورتحال کے حتمی تصفیہ(حل) کے لئے مدد کرنے کی ضرورت ہے ." [5]
(ترجمہ کو آسان کیا گیا ہے)

19 اگست 1948ء کو پاکستانی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر الفریڈو لوزانو کو خط لکھا جس میں انہوں نے قرارداد کے متعلق کچھ نکات پر مزید جانکاری چاہی۔ اس خط میں وہ لکھتے ہیں؛

"(ہمارا) یہ خیال ہے کہ اس ایکسپریشن "a final settlement of the situation"، جس کے بارے میں کمیشن نے قرارداد کے شروعات میں لکھا ہے، کا مطلب سلامتی کونسل کے ہی پرانے الفاظ ہیں(جس میں کہا گیا ہے کہ) "ریاست کے ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کرنے کے لئے ایک آزاد اور غیر جانب دار رائے شماری کے لئے مناسب حالات (پیدا کرنا)۔" اگر اس ایکسپریشن "a final settlement of the situation" کا کوئی اور مطلب، بلواسطہ یا بلا واسطہ، سلامتی کونسل کی قرارداد(21 اپریل 1948) سے لیے گئے اس اقتباس سے کم یا اس سے بڑھ کر کچھ مطلب ہے تو پاکستانی حکومت اس کے بارے میں جاننا چاہتی ہے۔"[6]
جس کے جواب میں ڈاکٹر الفریڈو نے لکھا؛

"اس ایکسپریشن "a final settlement of the situation" کا مطلب سلامتی کونسل کی 21 اپریل 1948ء کی قرارداد کی شرائط سے کم یا زیادہ نہیں ہے بلکہ یہ ایکسپریشن اس قرارداد سے مکمل طور پر اتفاق کرتا ہے۔"[7]

پھر 3 ستمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان کے چیرمین جوزف کوربل نے اسی بات کو ان الفاظ میں دہرایا؛

"جہاں تک "پارٹ تھری" کا تعلق ہے، اس بارے میں کمیشن سلامتی کونسل کی 21 اپریل 1948ء کی قرارداد کی شرائط سے رہنمائی حاصل کرے گا۔"[8]
اقوام متحدہ کے کمیشن اور پاکستانی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والی اس بات چیت کو پڑھنے کے بعد ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں پارٹ 3 یا رائے شماری کے سوال پر 13 اگست 1948ء کی قرارداد نے 21 اپریل 1948ء کی قرارداد کی پیروی ہی کرنا تھی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں اس قرارداد میں صرف دو ہی آپشن موجود تھے یعنی انڈیا اور پاکستان۔

اب ہم ان الزامات کا بھی جائزہ لیتے ہیں کہ 25 دسمبر 1948ء کو پاکستانی وزیر خارجہ نے کمیشن کو خط لکھا اور رائے شماری کو محدود کروانے کی درخواست کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد، اقوام متحدہ کے کمیشن نے 11 دسمبر 1948ء کو دونوں ممالک کو اپنی تجاویز کا مسودہ (پروپوزل) پیش کیا جس کا عنوان تھا “BASIC PRINCIPLES FOR A PLEBISCITE PROPOSED BY THE COMMISSION TO THE GOVERNMENT OF INDIA AND PAKISTAN ON 11 DECEMBER 1948”.

وضاحت کے لئے میں یہاں اس پروپوزل کے پہلے دو نکات یہاں لکھ دیتا ہوں؛
"اول، کمیشن اپنی 13 اگست 1948ء کی قرارداد کی دوبارہ تصدیق کرتا ہے۔
دوم، ہندوستان اور پاکستان کی حکومت بیک وقت درج ذیل اصولوں کواس قرارداد (13 اگست 1948) میں شامل کرنے پر رضامند ہیں ؛
1- ریاست کے پاکستان یا بھارت سے الحاق کا فیصلہ جمہوری طریقے سے ایک آزاد اور غیر جانب دار رائے شماری کے تحت کیا جائے گا۔"[9]

اس پروپوسل کے پہلے دو نقاط پڑھنے کے بعد سے دو باتیں بلکل واضح ہو جاتی ہیں، ایک کہ تجاویز کا یہ مسودہ کوئی الگ قرارداد نہیں تھا بلکہ 13 اگست 1948ء کی قرارداد پر ضمیمہ (سپلیمنٹ) تھا۔ دوسری، کہ اس میں بھی دو ہی آپشن تھے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ظفر اللہ خان 25 دسمبر 1948ء کو رائے شماری کو محدود کروانے کے لئے خط لکھے جبکہ خود 11 دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے دئے گئے مسودے میں دو ہی آپشن تھے؟ اس کا یہی مطلب ہے کہ یہ الزامات بلکل جھوٹے ہیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے اس تاریخ کو خط ضرور لکھا لیکن صرف کمیشن کی ان تجاویز کو تسلیم کیا جو کہ انہوں نے 11 دسمبر 1948ء کو دیں۔ ظفر اللہ خان کا وہ خط بھی پوسٹ کر دیا گیا۔

پھر دونوں ممالک کی جانب سے کمیشن کی تجاویز تسلیم ہونے کے بعد یہ 13 اگست 1948ء کی قرارداد کی ساتھ یہ ضمیمہ قرارداد 5 جنوری 1949ء کو منظور ہوئی۔

یہ کہنا بلکل بھی غلط نا ہوگا کہ مسلہ کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ لکھے جانے والے موضوعات میں سے ایک ہے۔ لیکن پھر بھی ہم اس کے ساتھ جڑے بہت سے جھوٹ دیکھتے ہیں۔ لہذا ہمیں محتاط رہنا چاہئے اور کچھ بھی پڑھنے کے بعد اس پر یقین کرنے سے پہلے اس موضوع پر ریسرچ کرنی چاہئے۔

ہندوستان یا پاکستان ، اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کوئی تیسرا آپشن نہیں ہے.

حوالہ جات:-
1- امان اللہ خان، "جہد مسلسل"، جلد دوم، صحفہ 200
2- امان اللہ خان، "پاکستان کی حماقتوں بھری کشمیر پالیسی"، صحفہ 9
3- سعید اسد "جموں کشمیر بک آف نالج"، صحفہ 278
4- S/726, p.1
5- S/995, p.3
6- S/1100, “Annexes”, Annex 26, p.3
7- Ibid., Annex 27, p.2
8- Ibid., p.39
9- S/1196, Annex 3, p.19






مکمل تحریر >>