Wednesday, July 22, 2020

فواد چودھری کا مقصد ان کی مدد کرنا نہیں بلکہ صرف فتنہ گری ہے، جس سے وہ قوم میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں.انجئیر معروف الغنی صدیقی


فواد چودھری کا مسلہ

کل پہلی مرتبہ نہیں تھی ، جب فواد چودھری صاحب نے چاند کے مسلے کو متنازعہ بنانے کی کو شش کی، 

بلکہ گذشتہ کئی مرتبہ سے انھوں نے مستقل یہ وطیرہ اپنایا ہوا ہے، اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ مولوی تو سائنس کے دشمن ہیں ، لہذا یہ سائنس سے استفادہ ہی نہیں کرتے

بات یہیں تک نہیں رہی بلکہ انھوں نے عملا 3 مرتبہ رویت ہلال کے عمل میں باقاعدہ intervention کرتے ہوئے، کمیٹی پر زور دیا ہے کہ مہینہ شروع ہونے کا اعلان اس ہی دن کیجئے جس دن وہ بتا رہے ہیں۔

 ہر ادارہ کا اپنا SOW  ہے اور اگر کوئی دوسرا،  اس میں مداخلت کرتا ہے تو وہ گویا اس میں بگاڑ پیدا کرتا ہے

روئت ہلال بھی اس ہی طرح حکومت کا ادارہ ہے اور اس کا فیصلہ ( غلط یا صحیح )  دراصل حکومت کا فیصلہ ہے، اس کو میڈیا کے اوپر اچھالنا اور اس پر لڑنا نہ صرف یہ کہ بالکل غلط ہے ، بلکہ حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

لہذا حکومت کو چاہئے کہ اس مسلے کو سنجیدہ لیں اور بگاڑ کو ہوا دینے کے بجائے وہ فواد چودھری کی فتنہ گری کی سرکوبی کے لئے ان کے خلاف تادیبی کاروائی کریں ، اور وارننگ دیں کہ اگر آئندہ اس قسم کا کوئی بیان منظر عام پر آیا تو ان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔

جہاں تک بات روئت کی ہے تو اس کے متعلق فواد چودھری یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ رویت ہلال کمیٹی ، پہلے ہی Pakistan meteorological department کے تعاون کے ساتھ کام کرتی ہے ، جس کے پاس وہ تمام data اور  calculations موجود ہوتی ہیں جس کا اظہار وہ میڈیا پر آ کر کرتے ہیں

کچھ سادہ لوح( TV anchors ) لوگ پھر بھی اصرار کرتے ہیں کہ کیا برائی ہے اگر مفتی منیب ، فواد چودھری کے مشورہ سے استفادہ حاصل کریں، تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ مفتی صاحب یہ کام پہلے ہی کر رہے ہیں اور برسوں سے کر رہے ہیں،  اگر وہ سائنس کے دشمن ہوتے تو telescope اور سائنسی آلات سے بھی مدد نہ لیتے۔

لیکن فواد چودھری کا مقصد ان کی مدد کرنا نہیں بلکہ صرف فتنہ گری ہے، جس سے وہ قوم میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں



مکمل تحریر >>

Monday, July 20, 2020

وادی سماہنی پونا پل حادثہ کو چھ سال مکمل ہوگئے۔اسعد فخرالدین


آج پونا وادی سماہنی حادثہ کو چھ سال گزر گئے۔ 
پل کی حالت اس سے بھی بدترین ہو گئی ہے۔
گذشتہ دس سال سے ہمارے ممبر قومی اسمبلی ھفتے میں ایک بار تو اس پل سے گزرتے ہونگے۔
سچ ہے جب جوابدہی کا احساس نہ رہے، عوام  حلقہ قومی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دیں تو پھر اگلے ۵ سال بھی بجلی کا مسئلہ، ہسپتال میں عملہ کی تعیناتی، بحرانوں میں خاموشی ، گرڈ اسٹیشن ، جنڈالہ سے پیر گلی روڈ، تعلیمی اداروں میں  من پسند تعیناتیاں، ایڈھاک ازم پر کمیشن حلقہ کے لوگوں کا مقدر رہے گا۔
اسعد فخرالدین

مکمل تحریر >>

Saturday, July 18, 2020

آزاد کشمیر جماعت اسلامی کے پانچویں امیر اور جمہوری روایات۔ اسعدفخرالدین

جماعت اسلامی آزاد کشمیر و گلگت و بلتستان کے نئے امیر کی حلف برادری کی تقریب آج مرکز اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ 
دونوں سابق امراء جماعت اسلامی کی شرکت اور نو منتخب امیر کو دعائے استقامت دی۔
کیا یہ کسی دوسرے جماعت میں ممکن ہے، گروپنگ، لابی، ایک دوسرے کی ذات پر کیچڑ اچھالنا ، جتھے بازیاں ، بیانات، بلیک میلنگ اور نہ جانے کیا کیا  اور غضب تو یہ اب تو ڈائریکٹ سیلکشن ہوتی ہے۔
الحمد اللہ جماعت اسلامی ایک جمہوری جماعت ہے جس میں شورائیت کا نظام ہے۔یونین کونسل سے امیر تک کا انتخاب اراکین کرتے ہیں  مولانا عبدالباری صاحب ، کرنل رشید عباسی صاحب، عبدالرشید ترابی صاحب، اعجاز افضل صاحب اور اب ڈاکٹر خالد خان صاحب میں سے کوئی بھی رشتہ دار یا فیملی ممبر نہیں۔
الحمد اللہ یہ تنظیم اراکین جماعت کی ہے جو اپنی قیادت خود چنتی ہے اور اس کا اپنا الیکشن کمیشن اور انتخابی شاد و شفاف طریقہ ہے۔
کاش میرے وطن کی سب پارٹیوں میں یہ طریقہ رائج ہو جہاں احتساب، چناؤ  اور جمہوری روایات اتنی مستحکم ہوں کہ  قیادت کو ملک کا وزیر اعظم بننے کے بھی بیساکھیوں کا سہارا نہ لینا پڑے 
اسعد فخرالدین 




مکمل تحریر >>

Friday, July 17, 2020

کوئی میرا سلام میجر لطیف تک پہنچا دے ۔ زبیر منصوری


کوئی میرا سلام میجر لطیف خلیق تک پہنچا سکے تو پہنچا دے
اگر کوئی ان کے ہاتھ پر بوسہ دے سکے تو دے دے
میں انہیں زیادہ تو نہیں جانتا 
شاید کبھی ملا بھی نہیں 
ممکن ہے کہیں دیکھا ہو
مگرایسے لوگ نہ جانے کیوں ہمیشہ سے ہی بڑے اچھے لگتے ہیں ایک وہ میرے ڈاکٹر تھے ڈاکٹر نذیر شہید  ایک یہ میرے میجر صاحب ہیں 
یہ شیروں گے شکاری قبیلے کے لوگ ہوتے ہیں 
اللہ کی زمین پر اللہ کی نعمت 
ہوتے انسان ہی ہیں انسانوں والی خامیاں بھی ہوتی ہیں مگر عادتیں جی داروں والی لے کر پیدا ہوتے ہیں انہیں شکستیں شکست نہیں دے پاتیں 
یہ کسی اور ہی مٹی کے بنے ہوتے ہیں 
ہار کر بھی جیتے ہوئے لوگ اپنوں کے درمیان اپنوں جیسے اپنے اپنے لگنے والے اپنے بلکہ اپنوں سے بڑھ کر اپنے لوگ۔۔۔

بھلا  سوچو توسامنے تھاکون؟
سرزمین کشمیر کا سب سے بڑا لٹیرا جو وزیر اعظم ہوتے ہوئے اپنے ہی شہر کی طرف جاتی اپنی ہی سڑک کے پیسے بد دیانتوں سے نہ بچا سکے
جو دہائیوں سے پنڈی کی بے ساکھیوں کے سہارے کشمیر پر مسلط  ہومگر کشمیر یوں کے لئے بے فیض !
جسے ایک عام برگیڈئیر بھی تین گھنٹے نتظار کروا کر بیس منٹ کا وقت احسان کرتے ہوئے عنایت کرے
آزادی گشمیر کے لئے پہلی گولی چلانے کا مقدس کام جن کے لئے انتخابی نعرے سے بڑھ کر کچھ نہ ہو جن کے لئے اقتدار اپنے سے بڑوں کے احکامات کو اپنا کمیشن رکھ کر نافذ کر دینے سے زیادہ کچھ نہ ہو وہ سردار سامنے ہو اور اس کی ابا سے لے کر سارے سیاسی  گرگوں سے سیکھی چالیں سامنے ہوں وہ جو جانتے ہیں کہ دھونس اور دھاندلی کے "شفاف طریقے "کیا ہیں اور یہ بھی جانتے ہوں کہ سامنے والے کے ووٹ کاٹے کیسے جاتے ہیں؟
ایسے میں ایک میجر اٹھے ہو بھی وہ نظریہ پرستوں کے قبیلہ کا نہ اقتدار میں رہا ہو اور نہ پرکاری اور شاطرانہ چالوں کے داو پیچ جانتا ہو اور پھر مقابلہ کرے شیروں کی طرح اپنے اردگرد اپنے ہی جیسے شیر جمع کرے جو جانیں ہتھیلیوں پر رکھے اس کے قدم بقدم چلنے کو ہر دم تیار ہوں پھر اس جرات سے مقابلہ کرے کہ وہ حاکم جو کبھی کسی سے ووٹ مانگنے کے روادار نہ تھے گلیوں اور بازاروں میں "ٹکےٹکے" کے لوگوں کی ٹھوڑیوں کو ہاتھ لگاتے پائے جائیں بھلا اور فتح کیا ہوتی ہے؟
ویلڈن میجر صاحب اللہ تمہیں سلامت رکھے اللہ تم جیسوں کو سلامت رکھے تم ہمارا فخر ہو تم ہمارا اعزاز ہو تم ہمارے آج اور کل کی کامیابیوں کی نوید ہو ہم اللہ سے تم جیسے اور مانگتے ہیں اور تم جیسے تیار کرنا چاہتے ہیں
کوئی میرا سلام میجر خلیق تک پہنچا سکے تو پہنچا دے
اگر کوئی اس کے ہاتھ پر بوسہ دے سکے تو دے دے

خود کلامی ۔۔۔زبیر منصوری
مکمل تحریر >>

Monday, July 13, 2020

13-Jul-1931, when it took 22 #Kashmiris lives to complete single Azan


July the 13th 1931, Srinagar, a young man was shot dead by the Dogra Army in the mid of call for prayer(Adhan). What followed was astonishing; one after the other, 22 men of faith came forward, all shot dead before the holy call was completed.
This incident will always be remembered in history as a sign of valour of the brave Kashmiri people. To date the unjust and cruel exercise of power is continuing in kashmir whereas the flag bearers of human rights and justice have turned a blind eye to Indian atrocities.
Said Dr Khalid Khan Ameer JI AJK & GB 


مکمل تحریر >>

بریکنگ نیوز اور انارگی .وادی سماہنی



ان کو صحافی مت کہیے  یہ یو ٹیوبرز ہیں جنھوں نے معاشرے کا امن خراب کر رکھا ہے 
جن کے اپنےقریبی عزیز  کرائم کیسز اور چوری میں مطلوب ہیں ، جنھوں نے سماہنی ہسپتال عورت کے کیس  کے واقعے ، چوکی تھانے میں فیصلہ دینے تک سے لیکر رملوہ کیس اور دیگر معاملات میں جانبداری سے کام لیا ہے۔ انتظامیہ اور چند سلجھے ہوئے صحافیوں کو چائیے کہ فورا” انتظامیہ سے مل کر رپورٹنگ کے ایس او پیز اور صحافیوں کو ایک ہی پریس میں انرول کرے۔ 
علاقے کا چند لائکس کے لئے اور بریکنگ نیوز کے چکر میں پورے علاقے کا  سکون چھین لیا ہے 
جو اشتعال دلانے کے بعد معزرتیں پیش کریں ، لاشیں گرنے کے بعد افسوس کا اظہار کریں انہیں بہت پہلے احتجاجا” ان فرینڈ کر دیا تھا ۔ 
قلم کا مقصد آگہی دینا ہے فتنہ پھیلانا نہیں۔ صحافت کا مطلب مظلوم کی آواز بننا ہے اور انصاف سے کام لیکر رپورٹ مرتب کرنا ہے جج بننااور  کسی کی عزت کی دھجیاں اڑانا نہیں 


مکمل تحریر >>

Sunday, July 12, 2020

Remembering Kashmir Martyrs Day- July 13, 1931

Jamail Chughtai 

The gory acts of state terrorism on Kashmiris are not something new in Indian Occupied Kashmir. The people of the valley have been subjected to atrocious state machinery since 1846 after sale of Kashmir by the British Raj to Dogra Raja Gulab Singh under Amritsar Treaty. Muslims of Kashmir have continued to be the major target of unending stints of tyranny unleashed on them first by Hindu Dogra rule and later by the Indian security forces. Between 1846 – the sale of British to Maharaja and 1947 – the forced takeover of Kashmir by India, the battered history of Kashmir happens to unfold yet another gloomy chapter related to massacre of unarmed Kashmiri protesters by Hindu Dogra Raj in 1931 at Srinagar.  

On 13 July 1931 as many as 22 Kashmiris were shot down by Dogra police outside Srinagar State Prison when they were agitating against the imprisonment of a Kashmiri named Abdul Qadeer who was being tried on the charges of terrorism and inciting the public against the Maharaja of Kashmir. Abdul Qadeer had delivered a speech in a gathering where he spoke about the discriminatory treatment of the state towards Kashmiri Muslims vis-à-vis the Hindu citizens of the valley. His trial soon drew huge attention of the common Kashmiris and on the day of judgment thousands of people gathered outside the Srinagar Court premises to lodge their protest against the likely outcome of the case. Considering the congregation as an unlawful gathering, the Dogra state machinery sprang into action by first resorting to baton-charge and later opening a straight fire on the agitated Kashmiris killing scores on the spot and injuring hundreds of them. 

13th of July is observed every year by people on both sides of the Line of Control and by the Kashmiri Diaspora all over the world as Kashmir Martyrs’ Day. While remembering this day serves for paying homage to 22 Kashmiris who laid their lives protesting the prosecution of the sympathizers of Kashmir struggle, the occasion also recalls the day when people of the valley rose against discriminatory Dogra rule and thereby staged the first signs of revolt in opposition to the atrocities being perpetrated on them since 1846. The later days saw instant realization among the otherwise docile Kashmiris to work under popular platforms and initiate unified struggle to win back their legitimate freedom. With the initiation of active uprising, especially after Indo-Pak partition and by-force occupation of Kashmir by India, an unprecedented amount of tyranny has been let loose on Kashmiri protesters and freedom seekers. 

Since 1947, three successive generations of Kashmiris have struggled for their right to self-determination despite harshest Indian measures. After the martyrdom of young BurhanWani in 2016, the uprising has scaled new heights, etching out to the world seeking their long over-due attention and moral support for the cause. 

During the last three years of the ‘Intifada’, thousands of Kashmiri freedom-seekers have been killed and brutally injured by Indian security forces. 

The count also goes beyond thousands in case of young boys and girls who have been blinded with pellet guns and the Kashmiri woman raped and molested by the Indian military personnel. To add insult to injury, the incumbent BJP government through RSS has continued to work on the shameless strategy of changing the demography of occupied Kashmir by harassing Muslims to leave the area and settling non-locals there. 

All along these seven decades, Pakistan has bore the brunt of Indian aggression for extending moral support to the indigenous freedom movement of the people of Kashmir. Young Kashmiris, however, kept laying down their lives for the greater cause of liberation sans logistic and financial support from outside. India’s false flag maneuvers such as the Indian Parliament attack (13 December 2001), Mumbai Terror attack (26 November 20087) and Uri Base attack (18 September 2016), have also continued at the same time to label Kashmiri freedom fighters as terrorists and Pakistan as a country that supports terrorism. In the latest enactment of 14th February which resulted in death of over 43 Indian paramilitary soldiers in Pulwama,  India has again used Pakistan and the Jaish-e-Muhammad as a scapegoat. In a pre-programmed vengeance spree following the Pulwama incident, Indian military launched search & cordon operations and killed scores of innocent Kashmiris in IOK. 

Besides settling scores with people of occupied Kashmir, India simultaneously resorted to target civilians on the Pakistani side of the LoCblattantly violating the Geneva Conventions and tenets of the International humanitarian law.

For satiating their uncalled-for revenge, the Indian security forces have managed to ‘bravely’ kill over 500 ‘unarmed’ Kashmiris in the span of mere twelve months. 

During the last couple of years, the Indian savagery on hapless Kashmiris have also been reported by the UN and various international human rights organizations, including UNHRC, OHCHR & EUHRC. Similarly UNMOGIP (UN Military Observer Group in India & Pakistan) has also gave out an extremely horrendous picture of Indian hostilities on Kashmiris in their recent report. Moreover, in a rare yet highly rewarding development, the Council of Foreign Ministers in its 46th session recently held on the sidelines of the Organization of Islamic Cooperation (OIC) Conference in UAE has also adopted a resolution that “condemned in the strongest terms the recent wave of Indian terrorism in Occupied Jammu & Kashmir besides ensuring unwavering support for the Kashmiri people in their just cause”. While this OIC admonishing statement is being taken as a long over-due obligation on the part of Muslim Ummah, it has come as an absolute shock for India because SushmaSwaraj, the Indian external affair minister, was present at the said event as the ‘guest of honour’. 

On this 13th July again, the Kashmiris all over the world would remember their martyrs and remind themselves; how cheaply they were sold out in 1846 under ‘Amritsar Treaty’ by the British, how recklessly they were slaughtered by Dogras in 1931 and how their freedom was again deceitfully snatched by India in 1947. 

Observing the Kashmir Martyrs’ Day in July every year is like earnestly and repeatedly knocking at the conscience of the world human rights bodies to make them realize that practice of human slavery still persists in its worst form in the Indian Occupied Kashmir. 

In fact, it is time for the UN and HR observers to come forward and compensate for what they have so far criminally neglected, that is, relieving Kashmiris from the Indian slavery and giving them their right of self-determination, without further delay.


مکمل تحریر >>

غلام سرور ، جعلی ڈگری ، پی آئی اے اور پاکستان کی بدنامی

چور مچائے شور
غلام سرور صاحب نےپی آئی اے کے پائلٹوں کے لائیسنس جعلی قرار دیکر ساری دنیا میں پاکستان کو بدنام کردیا ۔دلچسپ  بات کہ موصوف کی اپنی تمام اسناد جعلی ہیں یعنی تعلیمی قابلیت کے اعتبار سے وزیر باتدبیر محض “خواندہ” ہیں
2002میں انھوں نے  پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ لائلپور سےڈپلومہ کا دعوی کیا۔ جسے 5 دسمبر 2012کو پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن نے جعلی قراردیدیا
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی سینڈیکیٹ نے  2015میں انکی جامعہ سے جاری ہونے والی ڈگری غلط ذریعے سے داخلہ لینے کی بنیاد پر منسوخ کردی
بشکریہ  انصار عباسی روزنامہ جنگ
یعنی پیپلز ہارٹی سے ق لیگ اور پھر تحریک انصاف تک  سفر کرنے والے غلام سرور خان صرف مرغ باد نما ہی نہیں بلکہ انتہا درجے کے دو نمبر ہیں
ہمارے کپتان کے تاج شاہی میں کیسے کیسے کھوٹے نگینے سجے ہوئےہیں
مکمل تحریر >>

نوجوان کمپیوٹر انجئیر ادریس احمد بھٹ کی آج شہادت

آج کپواڑہ میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والا کمپیوٹر انجئیر ادریس احمد بھٹ، اس خوبصورت شہید نوجوان کا تعلق ہندواڑہ سے تھا۔دس لاکھ فوج، گرفتاریاں، عقوبت خانے، شہادتیں اور تشدد کچھ بھی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں رکاوٹ نہ بن سکا جدوجہد اور مزاحمت جاری ہے ۔
مکمل تحریر >>

عمران خان کی ایک اور اے ٹی ایم مشین کی داستان

عمران خان کے ایک اور اے ٹی ایم شبر زیدی نے اپنی من پسند 6 کمپنیوں کو 16 ارب کا ٹیکس ریفنڈ کیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ تمام کمپنیاں شبر زیدی کی کلائنٹس تھیں۔
پاکستان کا سارا مافیا پی ٹی آئی میں جمع ہوچکا ہے، اور دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کر رہے ہیں۔ کم ایسے وزیر رہ گئے ہیں جن پر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا الزام نہ ہو۔ روزانہ اربوں روپے کا نیا سکینڈل سامنے آ رہا ہے، خان صاحب ایکشن لینے کا اعلان کرتے ہیں تو الٹ ہو جاتا ہے۔ ایسے نکمے اور لٹیرے بھی اس قوم کی قسمت میں تھے؟
مکمل تحریر >>

اشرف صحرائی کے جذبات اپنے قلم سے

میں بے ضمیر بھی نہیں
‏ہوں خدا کا اک بندہ

‏رگوں میں جس کے دوڑتا
‏ہے خوں حریت ابھی

‏لٹا چکا ہوں گود کے
‏بیش قیمتی نگیں

‏اب میں شکر کی حسین
‏وادیوں میں سن رہا ہوں گونجتی صدائیں بھی
‏کہ میرے جگنو کا خاتمہ بخیر ہے
‏(اشرف صحرائی کے جذبات) اپنے قلم سے
مکمل تحریر >>

Tehreek-e-Hurriyat Chairman Ashraf Sehrai Arrested, Booked Under PSA

Tehreek-e-Hurriyat Chairman Mohammad Ashraf Sehrai was on Sunday arrested by police from his residence at Baghaat Sirinagar.

He was  arrested the elderly leader at around 5:30 am. 

The report further said that Sehrai has been booked under Public Safety Act (PSA).

Sehrai is the chairman of Tehreek-e-Hurriyat, a constituent of All Parties Hurriyat Conference which was until recently headed by Syed Ali Geelani.

Sehrai’s son, Junaid  who was district commander of Hizbul Mujahideen, was recently killed in an encounter with state forces in Nawakadal area of down town Srinagar.

مکمل تحریر >>

Saturday, July 11, 2020

In Baramulla IOJK, Indian troops martyr one Kashmiri citizen

In occupied Kashmir, Indian troops in their fresh act of state terrorism martyred one Kashmiri youth in Baramulla district, on Sunday.

The youth was martyred by the troops during a cordon and search operation at Rebban in Sopore area of the district.

Meanwhile, Indian police arrested senior Hurriyat leader and Chariman of Tehreek Hurriyat Jammu and Kashmir, Mohammad Ashraf Sahrai in Srinagar, today.

Mohammad Ashraf Sahrai has been booked under the draconian Public Safety Act.

Sehrai’s son, Junaid Sahrai, was martyred by Indian troops during a cordon and search operation along with an associate at Nawakadal area of Srinagar recently.


مکمل تحریر >>

Friday, July 10, 2020

خواجہ آصف جھوٹ نہ بول ۔افضال صدیقی

نِیچ  کریکٹر   ،  گندہ  رول
خواجہ آصف جُھوٹ نہ بول

تو ہے کاذب ٹولے سے
 سچ پر آگ بگولے سے
تیرے ہر فقرے میں جھول
خواجہ آصف جھوٹ نہ بول

نظرئیے کے تم غدار
 بدکرداری ہے کردار
بکتے ہو تم اَول و فَول
 خواجہ آصف جھوٹ نہ بول

کافرِ اعظم کِس نے کہا
 غور سے پڑھ تاریخ اُٹھا 
نامعقول ہے تیرا قول
خواجہ آصف جھوٹ نہ بول

ہم  تو فتویٰ ساز  نہیں
تجھ سے تہمت باز نہیں
ہم ہیں ترازو ، پورا  تول
خواجہ آصف جُھوٹ نہ بول

گالیاں بکنے والے تم
کرتوتوں کے کالے تم
قومی خزانہ کر گئے گول
خواجہ آصف جُھوٹ نہ بول 

تم اولاد اندھیروں کی
پیداوار   لٹیروں   کی
قوم کے ھاتھوں میں کشکول
خواجہ آصف جُھوٹ نہ بول


عقل گئی ہے چرنے گھاس
لب پہ ہر دم  ہے  بکواس
تجھ سے آلودہ ماحول
خواجہ آصف جُھوٹ نہ بول

 (افضال صدیقی)
مکمل تحریر >>

Thursday, July 9, 2020

سید ابوالاعلی مودودی اور قائد اعظم محمد علی جناح

#ابوالاعلی_اور_جناح


سید ابوالاعلیٰ مودودی اور قائد اعظم محمد علی جناح  کو ایک دوسرے کے ساتھ بہت گہرا نظریاتی لگاؤ تھا اور قائد اعظم سید مودودی رح کے علمی کام کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اسی بنیاد پر قائد اعظم نے ریڈیو پاکستان پر اسلامی نظام کے موضوع پر سید مودودی رح کی تقاریر نشر کروائیں جن میں سید مودودی رح نے اسلامی نظام کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی یہ سلسلہ قائدِ اعظم کی وفات تک جاری رہا 


ریڈیو پاکستان پر سیدی کی تقاریر کی فہرست درج ذیل ہے اور ان ساری تقاریر کے جملہ حقوق آج بھی ریڈیو پاکستان کے پاس ہیں۔

"  ۶ جنوری ۱۹۴۸
۲۳صفر ۱۳۶۸
ریڈیو پاکستان لاہور پر مولانا مودودی کی ’’اسلام کے اخلاقی نظام‘‘ پر پہلی نشری تقریر

۲۰ جنوری ۱۹۴۸
۸ ربیع الاول ۱۳۶۸
ریڈیو پاکستان لاہور سے دوسری تقریر نشر کی گئی‘ جس کا موضوع ’’اسلام کا سیاسی نظام‘‘ تھا

۱۰ فروری ۱۹۴۸
۲۷ربیع الاول ۱۳۶۸
ریڈیو پاکستان لاہور سے ’’اسلام کے معاشرتی نظام‘‘ پر تیسری تقریر نشر کی گئی

۲ مارچ ۱۹۴۸
۱۹ ربیع الثانی ۱۳۶۸
ریڈیو پاکستان لاہور سے چوتھی تقریر ’’اسلام کا اقتصادی نظام‘‘ نشر کی گئی

۱۶ مارچ ۱۹۴۸
۱۶ جمادی الاول ۱۳۶۸
ریڈیو پاکستان لاہور سے پانچویں تقریر ’’اسلام کے روحانی نظام‘‘ کے موضوع پر نشر کی گئی

۱۸ مئی ۱۹۴۸
۲رجب ۱۳۶۸
ریڈیو پاکستان لاہور سے ’’پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہیے‘‘ کہ عنوان سے ایک مباحثہ نشر ہوا‘ جو جناب وجیہہ الدین اور مولانا مودودیؒ کے مابین تھا
  • . "
مکمل تحریر >>

فاطمہ جناح اور مولانا مودودی رح

جماعت اسلامی کو مولانا مودودی کی اس مثال سے سیکھتے ہوئے اب آگے بڑھنا چاہیئے. 

یہ وہی خاتون ہیں نہ جن کا مولانا مودودی نے انتخابات میں ساتھ دیا تھا؟
اوگینزا یا نیٹ کا دوپٹہ اوڑھتی تھیں شاید.

"محترمہ فاطمہ جناح میں اسکے علاوہ کوئی برائی نہیں کہ وہ ایک خاتون ہیں اور ایوب خان میں اسکے علاوہ کوئی اچھائی نہیں کہ وہ ایک مرد ہیں"

یہی کہا تھا مولانا مودودی  نے.
اس جملے میں ہے تو بہت کچھ مگر صرف سمجھنے والوں کے لیے. اس لیے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں. 

 مولانا مودودی نے جماعت اسلامی کو تو عملی راہ دکھا دی تھی. جو کہ آج بھی مشعل راہ ہو سکتی ہے.

اور آج بھی جماعت اسلامی کے لوگ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے ایک نئی شروعات کر سکتے ہیں. یقین جانئیے مولانا کے نقش قدم سے انحراف نہیں ہو گا.
جماعت اسلامی خود بھی اپنا سیاسی ونگ الگ کر سکتی ہے... اور اگر جماعت ایسا نہیں کرتی... نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے.. کے اصول پر قائم رہتی ہے تو مولانا مودودی کے نظریے پر ایک پارٹی اور بھی بن سکتی ہے. 

آج ضرورت بھی ہے اور میدان میں نئے کھلاڑیوں اور نئی ٹیم کی جگہ بھی ہے.

وہ لوگ جو اس ائیڈیا کو انتہائی غرور سے مسترد کرتے ہیں ... کہتے ہیں کہ آج تک جماعت اسلامی سے جو الگ ہوا وہ کامیاب نہیں ہوا. تو وہ کیوں نہیں سپورٹ کرتے مولانا مودودی کے نظریے کی ایک اور پارٹی کو جو ان کے اپنے ہی لوگ بنائیں. 
آپ سپورٹ کریں گے، مخالفت نہیں کریں گے تو ضرور کامیاب ہو گی یہ نئی پارٹی یا نیا سیاسی ونگ. 
آپ کیوں چاہیں گے کہ یہ نئی پارٹی ناکام ہو اور آپکی بات سچی ہو جائے؟ یہ کیسی سوچ ہے؟

اگر کچھ لوگ اس میدان میں آگے آئے ہی تھے تو جماعت نے کیوں انہیں ناکام ہونے دیا؟ کیوں گرنے دیا؟ یہ کیوں نہیں سوچا کہ ہم تو ناکام ہیں انہیں تو سپورٹ کریں. ناکامی کا یہ اعتراض تو آپ سے بنتا ہے... 

بحرحال تاریخ کا وہ دور جب فاطمہ جناح اور مولانا مودودی نے ملکر ایک ملٹری آمر سے مقابلہ کیا ہمیں آج سبق سکھانے کے لیے کافی ہونا چاہئے. 

ملک میں لیڈرشپ کا فقدان ہے. مذہبی جماعت کی جگہ نہیں لیکن ایک دائیں بازو کی جماعت میدان میں آ کر میدان مار سکتی ہے. اسکی ضرورت تو اتنی ہے کہ ہم ایک لمحہ جو ضائع کریں اس ضرورت کو پورا کرنے میں،  وہ بھی ہم پر بوجھ ہونا چاہیے. 
اور اگر اس بوجھ کے ساتھ آپ جماعت کے لوگوں کو اچھی نیند آتی ہے تو شاید ہم میں سے کچھ لوگ غلط جگہ اپنا وقت برباد کر رہے ہیں. آپ سے غلط امیدیں لگا بیٹھے
ہیں .
مکمل تحریر >>

سماہنی کا سیاسی مستقبل اور رائے عامہ ۔ چوہدری ادریس


سما  ہنی کا سیاسی مستقبل اور  رائے عامہ !!
الیکشن 2016ء  کے بعد حلقہ سما  ہنی میں کچھ رائے یہ تھی کہ شاید ”ن لیگ ٹکٹ ہولڈ ر“  شکست کے بعد چار سال کیلئے گمنام ہوجائیں گے 
 پی ٹی آئی و پی پی پی ٹکٹ ہولڈر چار سال کے لئے جزوقتی برعکس کل وقتی سیاسی سرگرمیوں سے کوسوں دور ہی رہے۔ چھ ماہ، سال تک  ایک ادھ پریس کانفرنس یا اخباری بیانیہ سے زیادہ کچھ بھی ریکار ڈ میں نہ دیکھا گیا۔ منتخب ممبر اسمبلی بھی چار سال تک حکمران جماعت کے پلے  ”خود ساختہ “  بندھے رہے۔حکومت یا اپوزیشن مخالف بیانیہ بھی کوئی خاطرخواہ نہیں!!
 اپوزیشن کا کردار ” مرزا عبدالقدیر فاروقی، چوہدری شاہ ولی، راجہ جاوید اختر، سابق امیدوار اسمبلی چوہدری محمدلطیف آف پڑاٹی،راجہ غضنفرخان ایڈووکیٹ صدر انجمن تاجران چوکی، شیخ خورشید احمد، راجہ ناظم، راجہ طارق، وجاہت حنیف، کاشف لطیف، حافظ حمید سمیت دیگر درجن بھر اشخاص کے علاوہ میڈیا نمائندگان نے بھرپور انداز میں نبھایا۔  بے شمار احتجاج ہوئے۔ خاص کر بجلی کے مسائل پر سب سے زیادہ ”بیانیہ“ اخبارات کی شہ سرخیاں بنا، سوشل میڈیا ٹرینڈ رہا، مگر حلقہ میں اپوزیشن کی سمجھ نہ آئی کہ اپوزیشن  ”کس فارمولہ کا نام ہے “  یہ الگ بات ہے کہ ”سمجھ “  تو چار سال بعد بھی نہیں آرہی۔
حکومت بننے کے بعد، حلقہ سما  ہنی میں جو پہلا احتجاج ریکارڈ میں آنا شروع ہوا،  شرائط تابع / ایڈہاک و مشروط اساتذہ کا تھا۔ اس پر پی پی ٹکٹ ہولڈر کی ایک عدد پریس کانفرنس چند بیانیہ بھی ریکارڈ پر موجود ہے،
 بجلی بحران پر احتجاج۔اضافی بلات پر احتجاج۔ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر احتجاج۔۔ سب ڈویژن سما  ہنی کے تما م کاروباری مراکز میں پہیہ جام ہڑتال، شٹر ڈاؤن ہڑتال، کا سلسلہ بدستور ”اخباری  شہ سرخیاں“ بنتا رہا۔ اپوزیشن بیانیہ۔ سوشل ایکٹویٹس ہی کے نام سے ہی لیڈ کرتا رہا۔ چار سال بعد بالاخر  ”ہمالیائی گلیشئر کا پگلنا“ مکافات عمل ہی ہوسکتاہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تابڑ تو ڑ۔ بلکہ نظر پھٹک بیانیہ  و  رائے جاری ہے۔مگر حقائق یہ ہیں کہ ن لیگ ٹکٹ ہولڈ ر نے باوجود الیکشن شکست  حلقہ بھر میں عوام کیلئے بھرپور ٹائم دیا،اور حکومتی نمائندگی بھرپور انداز سے کی۔ اور اس تاثر کو غلط ثابت کیا کہ شاید الیکشن شکست کے بعد ”لالہ موسیٰ میں ہی نظر آئیں گے۔ یہ رائے بھی قطعی غلط نہیں کہ عمر کے اس حصے میں بھی ن لیگی ٹکٹ ہولڈر کا سیاسی ورک، اور بھاگ دوڑ  آمدہ الیکشن میں بہتر مقابلے کی فضا بنانے میں کامیاب۔ یہ بھی ممکن ہوسکتاہے کہ ”سما  ہنی کاسیاسی مستقبل“  ن لیگی ٹکٹ ہولڈ ر کے نام ہو۔ آہستہ آہستہ سیاسی موسم کاٹمپریچر بڑھ رہاہے تاہم الیکشن میں کم وبیش  ایک سال باقی بچا ہے، حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہے !!
 سوشل ایکٹیویٹس معززین سے گزارش ہے کہ کچھ یاد کچھ بھول کر امن اور بھائی چارے سے رہیں۔ سیاسی شعور کو بلڈوز ہونے سے بچائیں۔ یہی ہماری سب سے بڑی کامیابی کی دلیل ہے !!
ادریس چوہدری 

مکمل تحریر >>

Tuesday, July 7, 2020

Indian occupied forces, despite all their atrocities, could not overcome the Kashmiris' spirit of independence", said Dr. Khalid Mahmood Khan, Amir of Jamaat-e-Islami Azad Kashmir and Gilgit-Baltistan on the occasion of the anniversary of Burhan Muzaffar Wani.

"Indian occupied forces, despite all their atrocities, could not overcome the Kashmiris' spirit of independence", said Dr. Khalid Mahmood Khan, Amir of Jamaat-e-Islami Azad Kashmir and Gilgit-Baltistan on the occasion of the anniversary of Burhan Muzaffar Wani.
He said in his statement that the holy blood of millions of martyrs including Burhan Muzaffar Wani will not go in vain. Kashmir's independence is written on the wall. Following in his footsteps, the Kashmiri youth has become active and mobile.
The martyrs are the pride of the entire nation. The fate of those who betrayed the blood of the martyrs is exemplary. The government of Pakistan should play a decisive role for the independence of Kashmir.
India is committing genocide of the Kashmiri people. The martyrdom of an elderly in front of his three-year-old grandson in Sopore and other similar tragedies are a big challenge for the international community. Their silence on this issue is a matter of worry and concern.

Attempts are being made by India to turn Muslim majority of Jammu and Kashmir into a minority. UN Security Council should pass a resolution against India and intervene militarily. If not, the fate of the United Nations will be like that of the League of Nations.

The rulers of Islamic countries have a double responsibility to resolve the Kashmir issue. They must play thier part to rid the people of the state of Jammu and Kashmir from the unlawful occupation by Indian occupied forces
مکمل تحریر >>

سید منور حسن کے نام

جو رب کے رستے کے
شمع بردار تھے سپاہی
آخرت ہی کے تھے وہ راہی
فلک پہ جن کے مقام اونچے (آمین)
وہ بھٹیوں میں جلنے والے
وہ عبدیت کے مقام اعلی پہ چڑھنے والے
جو ھدایت کے نور بن کر
جگمگاتے تھے ذہن و دل کو
جو ایک شمع سے دوجی شمع جلا گئے ہیں
کہکشاں سی بنا گئے ہیں
جو قطرہ قطرہ پگھل رہے تھے
وہ ذرہ ذرہ چمک رہے ہیں
جو خود جہاں میں ہوئے منور
جہاں منور وہ کر گئے ہیں

(بیاد سید منور حسن )
اسعد فخرالدین

*شاعری
مکمل تحریر >>

Monday, July 6, 2020

شہادت حق ایک مسلمان کا کیرئیر ۔ڈاکٹر مشتاق خان

معرکہ حق و باطل ازل سے ہے اور ابد تک جاری رہے گا ۔ ا نے حق کی شہادت کے لیئے ہر دور میں اپنے سب سے برگزیدہ
بندے اپنے انبیاء کرام اس فرض کی ادائیگی کے لئے انسانوں کو تعلیم دینے کے لیئے بھیجے۔ ایک لاکھ سے زائد انبیاء کرام تواتر کے ساتھ اسلام کی دعوت خلق خدا کے سامنے رکھتے چلے آئے۔
شہادت حق کے اس کام کو انجام دیتے ہوئے ہر مصیبت انگیز کی گئی ، کام کی بھرپور ادائیگی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی گئی، کسی خوف کی پرواہ نہ کی گئ نہ ہی کسی لالچ کو راستے کی رکاوٹ بننے دیا گیا۔انسانی عزیمت کا یہ سفر حضرت محمد صلی ا علیہ وسلم نبی آخر الزمان تک پہنچتے ہوئے اپنی روایات کی ایک مسلمہ تاریخ چھوڑ گیا جس کا آخری اور روشن ترین باب اسوہ رسول صلی ا علیہ وسلم کی صورت میں رہتی دنیا تک ہر مسلمان کے لیئے ایک راہ عمل بھی اور بطور حجت کے موجود رہے گا۔
امت محمدیہ صلی ا علیہ وسلم کی اولین ذمہ داری شہادت حق کی ادائیگی قرار پائی ۔ اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے مصروف و مشغول مسلمان کو ا نے اپنے انصار ہونے کا شرف خاص عنائیت
مشغول مسلمان کو ا نے اپنے انصار ہونے کا شرف خاص عنائیت فرمایا جو ایک مسلمان کی سب سے بڑی روحانی معراج ہے۔
ایک فانی جسم کا مالک ، محدود صلاحیتوں کے ساتھ اپنی بشری کمزوریوں کی موجودگی میں جب ایک مسلمان شہادت حق کو اپنا کیرئر بناتا ہے تو وہ ا کے انصار کے طور پر مشرف ہوتے ہوئے ایک ابدی حیثیت حاصل کر لیتا ہے ۔ چنانچہ خیرو شر کے اس معرکے کے خاتمے تک اس کا نام خیر کے علمبردار، حامی اور مدد گار کے طور پر باقی رہتا ہے۔
اس سے بڑا مرتبہ ایک مسلمان کو نہیں مل سکتا کہ وہ انبیاء، صدیقین ، شہداء اور صلحاء کے ساتھ اپنی جگہ حاصل کر لے۔
عزیمت کی اس شرف کی راہ نوردی کا ارادہ ہر مسلمان کرنے کو تیار ہو جاتا ہے لیکن مادی دنیا اور اس کی لذتیں اور انسان کے ایمان پر گھات لگائے بیٹھا شیطان اسے کچھ وسوسوں اور خوف کا شکار کرتے ہوئے اولا تین بڑے خدشات کا شکار کرتے ہیں: 1۔ کہیں کشمکش میں موت نہ آ لے۔ 2۔ میرے رزق کی کمائی کے آپشنز کم نہ ہو جائیں ۔ 3۔ کہیں باطل نظام اور اس کے کل پرزے مجھے زیر و ذلیل ہی نہ کر دیں ۔ یہ تینوں خدشات واقعی بہت بڑے ہیں اور شخصیت پر ضعف طاری کر دینے کے لیئے اتنے کافی ہوتے ہیں کہ ان کا شکار مسلمان کوئی بلند اور عظیم نصب العین اختیار ہی نہیں کرسکتا جب تک کہ ان کا ازالہ نہ کر لے۔ ہر مشکل گھڑی میں مسلمان نے اپنے مشکل کشا رب کی طرف رجوع کرنا ہوتا ہے ۔اگر ان خدشات کی مشکلات کے تناظر میں آپ اپنے ا سے رجوع کریں تو کیا زبردست راہنمائ نصیب ہو جاتی ہے: 1۔ زندگی اور موت کا اختیار صرف ا کے پاس ہےوہ نہ چاہے تو دنیا کا کوئی سبب ، دشمن کا کوئی حربہ اور حالات کا کوئی دھارا بھی انسان کو موت کے منہ میں نہیں لے جا سکتا ۔
لیکن اگر ا موت کا فیصلہ کر لے تو دنیا کی تدبیر، دوستوں کی کوئی کوشش اور ماحول کی کوئی سازگاری موت سے بچا نہیں سکتی۔ اس لیئے اس خوف کو ہر مسلمان مرد و عورت کو دل سے ہمیشہ کے لئے نکال باہر کرنا چاہیے کہ وہ زندگی کی رعنائیوں اور موت کے خوف کی وجہ سے اپنے آپ کو معرکہ حق و باطل میں کودنے کے لیئے تیار نہیں کر پا رہا ہے ۔
2۔ رزق کی چابیاں بھی ا نے اپنے پاس رکھی ہیں ۔ وہ جس کا چاہتا ہے رزق وسیع اور تنگ کر دیتا ہے۔ وہ رزق کے عطا کرنے پر کسی سبب کا محتاج نہیں ۔ اور مزید یہ کہ جسکا رزق وہ بڑھا دے مخلوق میں سے کسی کی مجال نہیں کہ وہ اسے کم کر سکے اور جس کا رزق وہ کم کر دے تو کوئی اختیار نہیں رکھتا کہ اسے وسیع کر سکے۔ پتہ چلا کہ مسلمان کو اس حوالے سے متوکل ہوکر اپنے ا پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے اپنے اصل فرض کی ادائیگی کے لئے نکل کھڑا ہونا چاہیے ۔
3۔ زمین وآسمان کی بادشاہی ، عروج و زوال اور عزت و ذلت کا مالک بھی وہ اکیلا ہے۔ جسے چاہے بادشاہی دے جس سے چاہے چھین لے اور جسے چاہے عزت دے اور جسے ذلیل کر دے یہ اختیار صرف میرے ا کا ہے۔ معلوم ہوا کہ مسلمان کے اس آخری خدشے کا جواب بھی اس کے رب کے پاس ہے۔
یہ تین بنیادی حقائق محض معلومات نہیں بلکہ بندہ مومن کا ایمان ہونا چاہئیں ۔
جو جو بھی اس ایمان کو اپنے ہاں پختگی سے رچائےبسائے گا انشاءا وہ مرد ہو یا عورت ا کی راہ میں نکلنا آسان محسوس کرے گا ۔
عمر بھر صبر کے ساتھ شہادت حق کا علمبردار بن کر جیئے گا اسی راہ پر کامل سپردگی اور حوالگی کے ساتھ جان دے کر اپنے رب کی جوار رحمت میں مقام بلند جنت الفردوس پائےگا۔
ا ہمیں فریضہ شہادت حق کا شعور ، اس کی ادائیگی کا جنون اور اسی راہ پر چلتے ہوئے شہادت نصیب فرمائے ۔ آمین

مکمل تحریر >>