Sunday, August 30, 2020

قوم پرستوں کے 16 ارب ڈالر کے دعوے اور حقیقت.اظہر فخرالدین

 قوم پرستوں کے 16 ارب ڈالر کے دعوے اور حقیقت


ہمارے قوم پرست دوست حضرات اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان کے 

بینکوں میں سے کشمیریوں کا پیسہ اگر نکال لیا جائے تو پاکستان دیوالیہ ہو جائے۔ ویسے تو اس دلیل کی حثیت منگلا ڈیم اور پانی کی رائلٹی کے غبارے جیسی ہی ہے مگر آئیں آج اس دعوی کا بھی جائزہ لے ہی لیتے ہیں، عقلی بنیادوں اور اعداد و شمار کی روشنی میں۔


 قوم پرست دوست کوئی لگ بھگ 16  ارب ڈالر سالانہ کا دعوی دائر کرتے ہیں۔ یعنی بیرون ملک کشمیری اتنے پیسے سالانہ پاکستانی بینکوں میں بھیجتے ہیں۔


ایک اہم بات سمجھنے کی یہ ہے کہ ترسیلات زر، یعنی بیرون ملک سے آنے والے پیسوں میں کشمیری اور پاکستان کے باقی صوبوں کے رہنے والے افرد کا الگ الگ حساب کتاب نہیں ہوتا۔ سب کے پیسوں کو ملا کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایک ٹوٹل فگر جاری کرتا ہے۔


اب آتے ہیں اعدادو شمارکی طرف


پاکستان میں ترسیلات زر کی مد میں بینکوں کے زریعے لگ بھگ 23 ارب ڈالر سالانہ بھیجے جاتے ہیں۔


بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد 8.8 ملین ہے۔ 88 لاکھ۔ جو آزاد کشمیر کی کل آبادی کا دوگنا سے بھی زائد ہے۔ آزاد کشمر کی کل آبادی لگ بھگ 40 لاکھ ہے۔  بیرون ملک کشمیریوں کی ٹھیک تعداد کے کوئی اعداد و شمار مرتب نہیں۔اگر ہم پاکستان کے اوور سیز رہائشیوں کی اوسط کے لحاظ سے اندازہ لگائیں ےتو کوئی دو لاکھ کے قریب کشمیری بیرون ملک ہونگے۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ 88 لاکھ ملکر 7 ارب بھجواتے ہوں اور دو لاکھ 16 ارب ڈالر؟ کیا عقل اسکو مانتی ہے؟

(دو لا کھ کے فگر میں کمی بیشی ممکن ہے ایک دوست کے اندازے کے مطابق یہ کوئی چار لا کھ  یا اس سے بھی زائدہ ہو سکتے ہیں  بہر حال صحیح تعداد معلوم نہیں. )


چلیں اسکو بھی رہنے دیں۔ پاکستان کو موصول ہونے والی ترسیلات زر میں پہلے نمبر پر سعودیہ، دوسرے پر یو اے ای  آتے ہیں۔یہ دونوں ملکر 23  ارب ڈالر کا آدھا حصہ بھیجتے ہیں۔ کشمیری تو صرف برطانیہ میں ہی بڑی تعداد میں آباد ہیں، اور وہی زیادہ خوشحال بھی ہی ۔ برطانیہ کا کل ملا کر 3 سے 4 ارب ڈالر بنتا ہے۔ اس میں 11 لاکھ پاکستانی شامل ہیں اور اور کوئی ایک لاکھ کشمیری۔ باقی اندازہ آپ خود ہی لگا لیں کہ ان 3,4 ارب میں سے کون کتنا بھیجتا ہو گا؟


اور ویسے آپ کہتے ہیں کہ ستر فی صد عوام آکے ساتھ ہے۔ توکیوں نہیں آپ عوام کوکہہ کر ایک مہینے کے لیے ہی سہی  ان 16ارب ڈالرز کو بینکوں سے نکلوا لیتے۔ پاکستان بھی آپ کے گھٹنوں میں لیٹ جائے گا اور آپ کا دعوی بھی سچ ثابت ہو جائے گا۔


خدارا سچ تو بولیں۔ کہاں سے آپ لوگ کہانیاں اور افسانے گھڑتے ہیں۔ کیا آپکو سچ کا سامنا کرتے ہوے شرمندگی نہیں ہوتی؟


مکمل تحریر >>

Friday, August 21, 2020

جوان سعید نام کی طرح جوش ۔ سراپا تحریک ۔اسعد فخرالدین



جوان سعید جوش
اپنے لہو سے سینچے اس گلشن میں آئی بہاروں پر خوش ہے
اپنی لگائی فصل کے بارآور ہونے پر شاداں ہے
لیکن
ظلم کے مقابل بے جگری سے لڑنے والے اپنے ابتدائی ساتھیوں کو یاد کر کے افسردہ بھی ہو جاتا ہے جو اس بہار کو دیکھنے سے رہے 
نام کی طرح پرجوش ، استقامت کا مینارہ 
خالد صاحب ! ان کی دھڑکنوں کومحسوس کریں 
میجر صاحب !!ان کے چہرے پر کھلی مسکراہٹ  اور اطمینان  کو دیکھئے 

غربی باغ کے باشعور لوگو! 
جانتے ہو اس مسکراہٹ کے پیچھے کتنی لمبی داستان ہے؟ 
ظلم بربریت، لاقانونیت ، اجارہ داری اور سرداری کی داستان ۔۔۔۔

اس مسکراہٹ کے پیچھے تو چار دہائیوں کی وفا ہے 
عزم و استقامت  ہے
 نظریے سے محبت ہے 
مشن سے لگن ہے

وقت نے کروٹ بدلی ہے 
جہاں  دو ووٹ زیادہ نکلنے پر پورے گاؤں کو لائن حاضر کر کے بے توقیر کیا جاتا تھا 
جہاں  گلیوں میں آپ کو لہولہان کیا جاتا رہا، جہاں آپ نے جبر کے پہاڑ سہے 
آج اس نیلہ بٹ نے بالآخر  انگڑائی لی ہے 
انقلاب کی صدا پر پیر و جواں لبیک کہنے نکل پڑے ہیں

اندھیروں کے پیامبر
آخری وقت تک اس روشنی کے سفر کو روکنے میں لگے رہے 
لیکن نامراد رہے

پوری زندگی استقامت کے ساتھ ڈٹے “جوش” صاحب  نے دھیرکوٹ کی بازاروں و چوراہوں میں جس “شعوری جدوجہد” کی ابتداء چار دہائیاں قبل کی تھی   
آج اس نے دلوں کو مسخر کرنا تیز تر کر دیا ہے
 ظلم کی علامت بن چکے مافیا کی نسلوں کی غلامی سے عوام بغاوت کر چکے
مقافات عمل کی چکی پسنا شروع ہو گئی ہے 
ہر کارکن سعید جوش بن گیا ہے 
ظلم کے خلاف چٹان بن گیا ہے 
اسعد فخرالدین

 


 

مکمل تحریر >>

Wednesday, August 19, 2020

سینٹر کا بیٹا ویگن کے انتظار میں ۔ اسعد فخرالدین

 اولاد !

جس کے لئے انسان خود بھوکا رہ سکتا ہے۔۔۔سختیوں برداشت کرسکتا ہے۔۔دکھ درد سہہ کر ان کو کو ہر طرح کی سہولتیں پہچانے کی کوشش کرتا ہے 

یہ بچہ کسی عام فرد کا بچہ تو نہیں ہے ؟ 

اس کا باپ سینٹر ہے ۔۔۔سابق وزیر خزانہ ہے ۔۔۔ سابق ایم پی اے 

ایک اچھی کرولا گاڑی اور ڈرائیور تو لیکر دے سکتا ہے 

بالکل ! 

مگر یاد رکھیں اس نے بار ہا اپنی انٹریوز میں کہا ہے کہ میرا گزارہ مشکل سے ہوتا ہے  میری آمدن کے ذرائع سینٹ کی تنخواہ اور گاؤں میں ایک چھوٹے سکول میں پارٹنر شپ ہے

یہ بیٹا سینٹر سراج الحق امیر جماعت اسلامی پاکستان کا بیٹا ہے جو بس سٹاپ پر بیٹھا  گاڑی کا منتظر ہے 

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کسی جماعت کے امیر کا بیٹا اڈوں میں ویگنوں کے انتظار میں بیٹھا رہے


مجھے اس تصویر سے منور حسن صاحب سابق امیر جماعت اسلامی یاد آگئے ان سے کسی نے پوچھا آپ کے اثاثے کتنے ہیں ، جواب دیا مقروض کے بھی اثاثے ہوتے ہیں؟ 

مزدو کا بیٹا ۔۔۔امیر جماعت اور پھر سینٹر 

مگر سچ ہے خدارا خوف دل میں ہے ورنہ کیا کمی تھی کہ اسے اے سی والی کاڑی ایک روڈ کے ٹھیکے سے لیکر ٹھیکیدار سے لیکر دے دیتا !

یہ ہے جماعت اسلامی ! 

اس کے نمائندے آپ کے  علاقوں میں موجود ہیں 

وقت ہے انہیں پہچانیں  جتنی دیر کریں گے نقصان آپ کا 

اور آنے والی  نسل کا ہوگا 

مکمل تحریر >>

بیر کا بوٹا لگا آم ۔ حلقہ چھ سماہنی۔ اسعد فخرالدین

 میری ذاتی رائے میں یہ بات شائد اتنی  ذیادہ اہم نہیں ہے کہ ایک قابل، دیانتدار ، باشعور اور اعلی درجے کا منتظم الیکشن نہ جیت پائے۔ میری نظر میں زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ پڑھے لکھے ، باشعور افراد جب سچائی کو کھلی کتاب کی طرح سامنے پاتے ہوے بھی مفادات، برادری یا ایسی ہی کسی چیز کو بنیاد بنا کر دائروں کا سفر جاری رکھنا چاہیں۔


آج ہمارے پاس وقت اور صلاحیت ہے کہ اپنا فیصلہ شعور کے ساتھ کریں۔ ہمارے آج کے فیصلے ہماری آنے والی نسلوں کے کل کا تعین کریں گے۔ 


یاد رکھیے اگر آپ بیر کے درخت کا بیج بوئیں گے توبیر کا پھل ہی کھائیں گے، اس سے آم کی توقع رکھنے میں قصور آپکا ہی ہے۔

جماعت کے امیدوار نے ایک مفصل منشور پیش کر دیا ہے۔ آپ اپنے پسندیدہ لیڈروں سے بھی انکا پروگرام اور منشور پوچھیں۔ اور پھر خود ہی فیصلہ کر لیں۔


ووٹ میرٹ پر دیں ووٹ تعلیم ، شعور اور حقیقی تبدیلی کے لئے دیں


مکمل تحریر >>

Tuesday, August 18, 2020

مافیا کے خلاف جنگ ۔ جاوید عارف عباسی غربی باغ


مافیا کیخلاف جنگ... 
مافیا کیخلاف جنگ آسان نہیں ہوتی... بہت اعصاب شکن ہوتی ہے. سیاسی جماعت کے خلاف آپ منشور  دیکر لوگوں کے ذہن تبدیل کر سکتے ہیں مگر مافیا کیخلاف جنگ میں سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ اس میں سمجھ دار اور پڑھے لکھے لوگ بھی اس کی جکڑن کا شکار ہوتے ہیں....

 اس میں سوچ اور فکر نا پید ہو جاتی ہے. مافیا میں جکڑے لوگ  اجتماعی مفاد کی بجائے ذاتی مفاد کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں....
محکموں اور  اداروں میں  اس مافیا کے کارندے معاون بنکر جگہ جگہ رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں.
مافیا کا سب سے اہم ہتھیار صالحیت کے لبادے میں چوری، کرہشن، بد دیانتی، استحصال اور لوٹ مار ہوتا ہے.
غربی باغ میں مافیا کی تعداد 2 سے 3 سو کے لگ بھگ ہے. جنہوں نےکئ ہزار لوگوں کو اپنے مفادات کے لیے یر غمال بنایا ہوا ہے...
جھوٹ، ہیرا پھیری، مکاری، لوٹ مار اور کرپشن کے ذریعے عوام کا استحصال کر رہے ہیں...
نوجوان دیکھ لیں
 تین نسلوں نے پسماندگی، غربت اور استحصال میں گزار دیے کیا آپ آئندہ بھی اسی پسماندگی اور غربت میں گزرنا چاہتے ہیں یا ایک روشن، خوشحال اور ترقی یافتہ مستقبل کیلیے بنیاد رکھنا چاہتے ہیں....
آئیے اس ترقی، خوشحالی اور اپنے جائز حقوق کی خاطر جماعت اسلامی کا ساتھ دیجیے


...

 


مکمل تحریر >>

Monday, August 17, 2020

سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے.اسعد فخرالدین

 سانحہ ساہیوال ہو، خروٹ آباد ہو، کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں گولیوں کا شکار ہونے والا نوجوان ہو یا اب  بلوچستان کا طالبعلم ایف سی کے ہاتھوں شہید ہونے والا “حیات “ہو ، کسی کیس میں قاتلوں کو سز انہیں دی گئی ویسے ہی دندناتے پھر رہے ہیں  

معاشرے کے محافظ جب قاتل بن جائیں بیچ سڑکوں میں شہریوں کو قتل کرکے عدالتوں سے بری ذمہ ہوجائیں آب تو انصاف کہاں ملے گا 

درندوں کے معاشرے میں قطر سے واپسی کے بعد بھی انصاف نہیں ملا تو حیات کے لئے کیا امید رکھیں 

سینٹر مشتاق صاحب نے سینٹ نے اس واقعہ پر بھرپور آواز اٹھائی ہے 

اس واقعہ میں ملوث ایف سی اہلکار کو کڑی سے کڑی سزا نا ملی تو کئی حیات بلوچوں کا اس ریاست سے اعتماد اُٹھ جائے گا وہ اسے اپنا دشمن سمجھیں گے پلیز ہاتھ جوڑتے ہیں حضور خدارا اپنا مستقبل اس ملک کا مستقبل بچا لیجیے خدارا نا لیجیے ماوں کی بدعا خدارا


سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے


#JusticeForHayatBaloch


اسعد فخرالدین

مکمل تحریر >>

Tuesday, August 11, 2020

مزدور کا بیٹا راحت قریشی سے راحت اندوری ۔ مسعود ابدالی

جھوٹوں نے جھوٹوں سے کہا ہے سچ  بولو

سرکاری اعلان ہوا ہے سچ بولو

گھر کے اندر جھوٹوں کی اک منڈی ہے

دروازے پر لکھا ہوا سچ بولو

 آہ! راحت اندوری

ممتازشاعر  ڈاکٹر راحت قریشی المعروف راحت اندوری آج اپنے آبائی مقام اندور، مدھیاپردیش (ہندوستان ) میں انتقال کرگئے۔

ایک مزدور کے گھر جنم لینے راحت قریشی نے اندور کے اسلامیہ کریمیہ کالج سے  بی اے، جامعہ برکت اللہ بھوپال س ے ایم اے اور جامعہ بھوج  مدھیہ پردیش سے اردومیں  پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں۔پروفیسر اندوری نے   مشق سخن کے ساتھ مختلف کالجوں اور جامعات میں درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ اندوری صاحب نے  فلمی نغمات بھی لکھے۔

ڈاکٹر اندوری کے مجموعہ ہائے کلام  'رت'،' دو قدم اور سہی '، ' 'میرے بعد'، 'دھوپ بہت ہے آج'۔ 'چاند پاگل ہے'۔' موجود'، اور 'ناراض' کو پزیرائی نصیب ہوئی۔ 

ڈاکٹر اندوری 10 اگست کو دل کا دورہ پڑا جس پر انھیں ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں انکا کرونا وائرس کا ٹیست بھی مثبت نکلا۔ ڈاکٹر راحت اندوری 11 اگست کو 70 سال کی عمر میں انتقال کرگئے

انتقال سے کچھ عرصہ پہلے انکی ایک غزل TikTokپر بہت مقبول ہوئی۔یہ کلام پیش خدمت ہے

نوٹ: جناب اندوری کا اصرار تھا کہ غزل کے ردیف  'نہیں' کو قدیم اردو املے کے مطابق 'نئی' لکھا جاے۔ ہم نے اندروری  مرحوم کی  خواہش کے احترام میں اسی طرح لکھا ہے 

بلاتی ہے مگر جانے کا نئی

یہ دنیا ہے ادھر جانے کانئی

مرے بیٹے کسی سے عشق کر

مگر حد سے گزرجانے کا نئی

کشادہ ظرف ہونا چاہئے

چھلک جانے کا بھرجانےکا نئی

ستارے نوچ کر لے جاونگا

میں خالی ہاتھ گھر جانے کا نئی

وبا پھیلی ہوئی ہے ہرطرف

ابھی ماحول مرجانے کا نئی

وہ گردن ناپتا ہے ناپ لے

مگر ظالم سے ڈرجانے کا نئی


مکمل تحریر >>

Thursday, August 6, 2020

مثالی امیر اور مثالی کارکن ۔شمس الدین امجد

مثالی امیر مثالی کارکن
۔
ابھی امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق صاحب سے بات ہوئی۔ معلوم ہوا بائی روڈ اسلام آباد سے کراچی کی طرف عازم سفر ہیں۔ گزارش کی کہ بائی ائیر جانے میں آسانی رہتی۔ کہا کہ آج پارلیمنٹ کا مشترکہ سیشن تھا۔ اس سے فراغت ہوئی تو کوئی فلائٹ دستیاب نہیں تھی۔ کل موسم خراب بتایا گیا، معلوم نہیں فلائٹ دستیاب ہو یا نہیں۔ اس لیے بائی روڈ نکل پڑے ہیں۔ 
۔
اللہ تعالی امیر صاحب کو خیر و عافیت سے منزل تک پہنچائے۔ جماعت کی انفرادی خصوصیات بیان کی جائیں، یا حل صرف جماعت اسلامی کا کہا جائے تو بعض دوست تعجب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر آپ بتائیے کہ کسی اور پارٹی میں کہاں ایسے امیر اور سربراہ ہیں جو مشکل وقت میں اپنے کارکنان کے درمیان جانے ان کے حوصلے بڑھانے کو بےتاب ہوں۔ یہاں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا کوئی مرحلہ آئے تو قیادت غائب ہوتی ہے یا کارکن، اور قیادت گاہے سات پردوں میں چھپ جاتی ہے، مگر یہ اللہ کا کرم اور جماعت کا خصوصی امتیاز ہے کہ اس کا امیر ہو یا ادنی کارکن، دونوں ایک دوسرے کی ڈھال ہیں، دونوں میدان میں موجود رہتے ہیں، ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔ کسی کو شاید یہ چھوٹی بات کو بڑا بنا کر پیش کرنا نظر آئے مگر ایک لمحے کو ٹھہریے اور خود سوچیے کہ نفسا نفسی کے عالم میں بھلا کہاں ایسے ہوتا ہے۔ کارکن کو چلتے کارواں میں کچھ ہو جائے تو چند لمحے رک کر گاڑی سے اتر کر اس کا حال پوچھنا گوارا نہیں کیا جاتا، کجا کہ اس کے گھر جایا جائے۔ مگر سراج الحق صاحب روانہ ہوئے ہیں، لمبا سفر، مگر آرام کرنے کے بجائے کل ہسپتال جائیں گے، کارکنان کے گھروں میں جانا ہوگا، رفیق تنولی شہید کے اہل خانہ کو حوصلہ دینا ہوگا۔ اور یہ سب کرکے کل رات کسی وقت پشاور روانہ ہوگا کہ اگلے دن وہاں مصروفیات طے ہیں۔
۔
اللہ تعالی اس اجتماعیت کی برکت کو برقرار رکھے، اور اہل پاکستان کو اس کی توفیق دے کہ اپنے حقیقی خیرخواہوں کو پہچانیں اور اس قافلے میں شامل ہو جائیں۔ آمین. شمس الدین امجد
مکمل تحریر >>

Sunday, August 2, 2020

عجیب اتفاق: ۵ اگست سقوط کشمیر کے دن پاکستانی ٹیم کی انگلیڈ میں سیریز۔اسعد فخرالدین

‫ ‫۵ اگست کو پاکستان اور انگلیڈ کے درمیان کرکٹ سیریز کا پہلا میچ مانچسٹر میں ہو گا۔ اسی دن پورے ملک میں ایک منٹ کی خاموشی ہو گی ممکنہ طور پر عارف لوہار کا ایک گانا اور بھی ریلیز ہو جائے۔ افسوس اس بات کا ہے اسی دن مانچسٹر کے کشمیری بھارتی دفتر کے باہر مظاہرہ کر رہے ہونگے اور حکومتی سربراہی میں اندر میچ چل رہا ہو گا۔ بس ان کی ترجیحات میں کشمیر کہیں دور دور بھی نہیں ۔ ‬
‫عمران نیازی کا دور اس لئے تاریخ کا بدترین دور رہا کہ ۵ اگست کو دور نیازی میں کشمیر کی آئینی حثیت ختم کرکے اسے بھارت میں ضم کر لیا گیا۔یوں ایک نیازی نے سقوط ڈھاکہ اور دوسرے نے سقوط کشمیر کیا۔ایک باشعور غیرت مند کشمیری اس کے گن  کس طرح گاتا ہے  کیسے ان ضمیر فروشوں کی کیمپین کرتا ہے ، کیسے ان کے پینا فیلکس پر تصاویر چھپوا کر فخر کرتا ہے اور وہ ان سے کس تبدیلی کا خواہش مند ہے یہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔ ‬
‫جب تک آپ خوداپنے  ضمیر کوشعوری طور پر بیدار نہیں کریں گے  دنیا کی کوئی قوت آپ کو بدل نہیں سکتی ۔ 
پس پشت قوتیں دونوں “سقوط” میں وہی ہیں ‬
‫⁧#اگست_5_یوم_سقوط_سرینگر‬⁩ 


مکمل تحریر >>

Thursday, July 23, 2020

Asia Andaribi Shifted to Tihar Jail ward toady.Asaad Fakharuddin

SRINAGAR: Asiya Andrabi, a female Hurriyet leader of Occupied Kashmir and chairperson of Dukhtaran Millat with female accomplices have been shifted to world known notorious “Tihar Jail “today.
Ahmed,son of Asiya, tweeted that his mother and her two female colleagues had been transferred to the Tihar Jail. My mother is 60 years old while Nahida is 54 & Fehmida Sufi is 32 years old. All three women suffer from various diseases.
Asiya Andrabi is in favor of Kashmir's accession to Pakistan.She has spent most of her life in Indian jails.Asiya Andrabi is the founder of the Kashmiri Women's Organization,Dakhtar-e-Millat. Asiya Andrabi is one of the most important women in Kashmir. 
Proponents of Asiya Andrabi call her the Iron Lady. Asiya's husband Dr Qasim Fakto has also been in jail for 28 years.



مکمل تحریر >>

Wednesday, July 22, 2020

فواد چودھری کا مقصد ان کی مدد کرنا نہیں بلکہ صرف فتنہ گری ہے، جس سے وہ قوم میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں.انجئیر معروف الغنی صدیقی


فواد چودھری کا مسلہ

کل پہلی مرتبہ نہیں تھی ، جب فواد چودھری صاحب نے چاند کے مسلے کو متنازعہ بنانے کی کو شش کی، 

بلکہ گذشتہ کئی مرتبہ سے انھوں نے مستقل یہ وطیرہ اپنایا ہوا ہے، اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ مولوی تو سائنس کے دشمن ہیں ، لہذا یہ سائنس سے استفادہ ہی نہیں کرتے

بات یہیں تک نہیں رہی بلکہ انھوں نے عملا 3 مرتبہ رویت ہلال کے عمل میں باقاعدہ intervention کرتے ہوئے، کمیٹی پر زور دیا ہے کہ مہینہ شروع ہونے کا اعلان اس ہی دن کیجئے جس دن وہ بتا رہے ہیں۔

 ہر ادارہ کا اپنا SOW  ہے اور اگر کوئی دوسرا،  اس میں مداخلت کرتا ہے تو وہ گویا اس میں بگاڑ پیدا کرتا ہے

روئت ہلال بھی اس ہی طرح حکومت کا ادارہ ہے اور اس کا فیصلہ ( غلط یا صحیح )  دراصل حکومت کا فیصلہ ہے، اس کو میڈیا کے اوپر اچھالنا اور اس پر لڑنا نہ صرف یہ کہ بالکل غلط ہے ، بلکہ حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

لہذا حکومت کو چاہئے کہ اس مسلے کو سنجیدہ لیں اور بگاڑ کو ہوا دینے کے بجائے وہ فواد چودھری کی فتنہ گری کی سرکوبی کے لئے ان کے خلاف تادیبی کاروائی کریں ، اور وارننگ دیں کہ اگر آئندہ اس قسم کا کوئی بیان منظر عام پر آیا تو ان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔

جہاں تک بات روئت کی ہے تو اس کے متعلق فواد چودھری یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ رویت ہلال کمیٹی ، پہلے ہی Pakistan meteorological department کے تعاون کے ساتھ کام کرتی ہے ، جس کے پاس وہ تمام data اور  calculations موجود ہوتی ہیں جس کا اظہار وہ میڈیا پر آ کر کرتے ہیں

کچھ سادہ لوح( TV anchors ) لوگ پھر بھی اصرار کرتے ہیں کہ کیا برائی ہے اگر مفتی منیب ، فواد چودھری کے مشورہ سے استفادہ حاصل کریں، تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ مفتی صاحب یہ کام پہلے ہی کر رہے ہیں اور برسوں سے کر رہے ہیں،  اگر وہ سائنس کے دشمن ہوتے تو telescope اور سائنسی آلات سے بھی مدد نہ لیتے۔

لیکن فواد چودھری کا مقصد ان کی مدد کرنا نہیں بلکہ صرف فتنہ گری ہے، جس سے وہ قوم میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں



مکمل تحریر >>

Monday, July 20, 2020

وادی سماہنی پونا پل حادثہ کو چھ سال مکمل ہوگئے۔اسعد فخرالدین


آج پونا وادی سماہنی حادثہ کو چھ سال گزر گئے۔ 
پل کی حالت اس سے بھی بدترین ہو گئی ہے۔
گذشتہ دس سال سے ہمارے ممبر قومی اسمبلی ھفتے میں ایک بار تو اس پل سے گزرتے ہونگے۔
سچ ہے جب جوابدہی کا احساس نہ رہے، عوام  حلقہ قومی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دیں تو پھر اگلے ۵ سال بھی بجلی کا مسئلہ، ہسپتال میں عملہ کی تعیناتی، بحرانوں میں خاموشی ، گرڈ اسٹیشن ، جنڈالہ سے پیر گلی روڈ، تعلیمی اداروں میں  من پسند تعیناتیاں، ایڈھاک ازم پر کمیشن حلقہ کے لوگوں کا مقدر رہے گا۔
اسعد فخرالدین

مکمل تحریر >>

Saturday, July 18, 2020

آزاد کشمیر جماعت اسلامی کے پانچویں امیر اور جمہوری روایات۔ اسعدفخرالدین

جماعت اسلامی آزاد کشمیر و گلگت و بلتستان کے نئے امیر کی حلف برادری کی تقریب آج مرکز اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ 
دونوں سابق امراء جماعت اسلامی کی شرکت اور نو منتخب امیر کو دعائے استقامت دی۔
کیا یہ کسی دوسرے جماعت میں ممکن ہے، گروپنگ، لابی، ایک دوسرے کی ذات پر کیچڑ اچھالنا ، جتھے بازیاں ، بیانات، بلیک میلنگ اور نہ جانے کیا کیا  اور غضب تو یہ اب تو ڈائریکٹ سیلکشن ہوتی ہے۔
الحمد اللہ جماعت اسلامی ایک جمہوری جماعت ہے جس میں شورائیت کا نظام ہے۔یونین کونسل سے امیر تک کا انتخاب اراکین کرتے ہیں  مولانا عبدالباری صاحب ، کرنل رشید عباسی صاحب، عبدالرشید ترابی صاحب، اعجاز افضل صاحب اور اب ڈاکٹر خالد خان صاحب میں سے کوئی بھی رشتہ دار یا فیملی ممبر نہیں۔
الحمد اللہ یہ تنظیم اراکین جماعت کی ہے جو اپنی قیادت خود چنتی ہے اور اس کا اپنا الیکشن کمیشن اور انتخابی شاد و شفاف طریقہ ہے۔
کاش میرے وطن کی سب پارٹیوں میں یہ طریقہ رائج ہو جہاں احتساب، چناؤ  اور جمہوری روایات اتنی مستحکم ہوں کہ  قیادت کو ملک کا وزیر اعظم بننے کے بھی بیساکھیوں کا سہارا نہ لینا پڑے 
اسعد فخرالدین 




مکمل تحریر >>

Friday, July 17, 2020

کوئی میرا سلام میجر لطیف تک پہنچا دے ۔ زبیر منصوری


کوئی میرا سلام میجر لطیف خلیق تک پہنچا سکے تو پہنچا دے
اگر کوئی ان کے ہاتھ پر بوسہ دے سکے تو دے دے
میں انہیں زیادہ تو نہیں جانتا 
شاید کبھی ملا بھی نہیں 
ممکن ہے کہیں دیکھا ہو
مگرایسے لوگ نہ جانے کیوں ہمیشہ سے ہی بڑے اچھے لگتے ہیں ایک وہ میرے ڈاکٹر تھے ڈاکٹر نذیر شہید  ایک یہ میرے میجر صاحب ہیں 
یہ شیروں گے شکاری قبیلے کے لوگ ہوتے ہیں 
اللہ کی زمین پر اللہ کی نعمت 
ہوتے انسان ہی ہیں انسانوں والی خامیاں بھی ہوتی ہیں مگر عادتیں جی داروں والی لے کر پیدا ہوتے ہیں انہیں شکستیں شکست نہیں دے پاتیں 
یہ کسی اور ہی مٹی کے بنے ہوتے ہیں 
ہار کر بھی جیتے ہوئے لوگ اپنوں کے درمیان اپنوں جیسے اپنے اپنے لگنے والے اپنے بلکہ اپنوں سے بڑھ کر اپنے لوگ۔۔۔

بھلا  سوچو توسامنے تھاکون؟
سرزمین کشمیر کا سب سے بڑا لٹیرا جو وزیر اعظم ہوتے ہوئے اپنے ہی شہر کی طرف جاتی اپنی ہی سڑک کے پیسے بد دیانتوں سے نہ بچا سکے
جو دہائیوں سے پنڈی کی بے ساکھیوں کے سہارے کشمیر پر مسلط  ہومگر کشمیر یوں کے لئے بے فیض !
جسے ایک عام برگیڈئیر بھی تین گھنٹے نتظار کروا کر بیس منٹ کا وقت احسان کرتے ہوئے عنایت کرے
آزادی گشمیر کے لئے پہلی گولی چلانے کا مقدس کام جن کے لئے انتخابی نعرے سے بڑھ کر کچھ نہ ہو جن کے لئے اقتدار اپنے سے بڑوں کے احکامات کو اپنا کمیشن رکھ کر نافذ کر دینے سے زیادہ کچھ نہ ہو وہ سردار سامنے ہو اور اس کی ابا سے لے کر سارے سیاسی  گرگوں سے سیکھی چالیں سامنے ہوں وہ جو جانتے ہیں کہ دھونس اور دھاندلی کے "شفاف طریقے "کیا ہیں اور یہ بھی جانتے ہوں کہ سامنے والے کے ووٹ کاٹے کیسے جاتے ہیں؟
ایسے میں ایک میجر اٹھے ہو بھی وہ نظریہ پرستوں کے قبیلہ کا نہ اقتدار میں رہا ہو اور نہ پرکاری اور شاطرانہ چالوں کے داو پیچ جانتا ہو اور پھر مقابلہ کرے شیروں کی طرح اپنے اردگرد اپنے ہی جیسے شیر جمع کرے جو جانیں ہتھیلیوں پر رکھے اس کے قدم بقدم چلنے کو ہر دم تیار ہوں پھر اس جرات سے مقابلہ کرے کہ وہ حاکم جو کبھی کسی سے ووٹ مانگنے کے روادار نہ تھے گلیوں اور بازاروں میں "ٹکےٹکے" کے لوگوں کی ٹھوڑیوں کو ہاتھ لگاتے پائے جائیں بھلا اور فتح کیا ہوتی ہے؟
ویلڈن میجر صاحب اللہ تمہیں سلامت رکھے اللہ تم جیسوں کو سلامت رکھے تم ہمارا فخر ہو تم ہمارا اعزاز ہو تم ہمارے آج اور کل کی کامیابیوں کی نوید ہو ہم اللہ سے تم جیسے اور مانگتے ہیں اور تم جیسے تیار کرنا چاہتے ہیں
کوئی میرا سلام میجر خلیق تک پہنچا سکے تو پہنچا دے
اگر کوئی اس کے ہاتھ پر بوسہ دے سکے تو دے دے

خود کلامی ۔۔۔زبیر منصوری
مکمل تحریر >>

Monday, July 13, 2020

13-Jul-1931, when it took 22 #Kashmiris lives to complete single Azan


July the 13th 1931, Srinagar, a young man was shot dead by the Dogra Army in the mid of call for prayer(Adhan). What followed was astonishing; one after the other, 22 men of faith came forward, all shot dead before the holy call was completed.
This incident will always be remembered in history as a sign of valour of the brave Kashmiri people. To date the unjust and cruel exercise of power is continuing in kashmir whereas the flag bearers of human rights and justice have turned a blind eye to Indian atrocities.
Said Dr Khalid Khan Ameer JI AJK & GB 


مکمل تحریر >>

بریکنگ نیوز اور انارگی .وادی سماہنی



ان کو صحافی مت کہیے  یہ یو ٹیوبرز ہیں جنھوں نے معاشرے کا امن خراب کر رکھا ہے 
جن کے اپنےقریبی عزیز  کرائم کیسز اور چوری میں مطلوب ہیں ، جنھوں نے سماہنی ہسپتال عورت کے کیس  کے واقعے ، چوکی تھانے میں فیصلہ دینے تک سے لیکر رملوہ کیس اور دیگر معاملات میں جانبداری سے کام لیا ہے۔ انتظامیہ اور چند سلجھے ہوئے صحافیوں کو چائیے کہ فورا” انتظامیہ سے مل کر رپورٹنگ کے ایس او پیز اور صحافیوں کو ایک ہی پریس میں انرول کرے۔ 
علاقے کا چند لائکس کے لئے اور بریکنگ نیوز کے چکر میں پورے علاقے کا  سکون چھین لیا ہے 
جو اشتعال دلانے کے بعد معزرتیں پیش کریں ، لاشیں گرنے کے بعد افسوس کا اظہار کریں انہیں بہت پہلے احتجاجا” ان فرینڈ کر دیا تھا ۔ 
قلم کا مقصد آگہی دینا ہے فتنہ پھیلانا نہیں۔ صحافت کا مطلب مظلوم کی آواز بننا ہے اور انصاف سے کام لیکر رپورٹ مرتب کرنا ہے جج بننااور  کسی کی عزت کی دھجیاں اڑانا نہیں 


مکمل تحریر >>

Sunday, July 12, 2020

Remembering Kashmir Martyrs Day- July 13, 1931

Jamail Chughtai 

The gory acts of state terrorism on Kashmiris are not something new in Indian Occupied Kashmir. The people of the valley have been subjected to atrocious state machinery since 1846 after sale of Kashmir by the British Raj to Dogra Raja Gulab Singh under Amritsar Treaty. Muslims of Kashmir have continued to be the major target of unending stints of tyranny unleashed on them first by Hindu Dogra rule and later by the Indian security forces. Between 1846 – the sale of British to Maharaja and 1947 – the forced takeover of Kashmir by India, the battered history of Kashmir happens to unfold yet another gloomy chapter related to massacre of unarmed Kashmiri protesters by Hindu Dogra Raj in 1931 at Srinagar.  

On 13 July 1931 as many as 22 Kashmiris were shot down by Dogra police outside Srinagar State Prison when they were agitating against the imprisonment of a Kashmiri named Abdul Qadeer who was being tried on the charges of terrorism and inciting the public against the Maharaja of Kashmir. Abdul Qadeer had delivered a speech in a gathering where he spoke about the discriminatory treatment of the state towards Kashmiri Muslims vis-à-vis the Hindu citizens of the valley. His trial soon drew huge attention of the common Kashmiris and on the day of judgment thousands of people gathered outside the Srinagar Court premises to lodge their protest against the likely outcome of the case. Considering the congregation as an unlawful gathering, the Dogra state machinery sprang into action by first resorting to baton-charge and later opening a straight fire on the agitated Kashmiris killing scores on the spot and injuring hundreds of them. 

13th of July is observed every year by people on both sides of the Line of Control and by the Kashmiri Diaspora all over the world as Kashmir Martyrs’ Day. While remembering this day serves for paying homage to 22 Kashmiris who laid their lives protesting the prosecution of the sympathizers of Kashmir struggle, the occasion also recalls the day when people of the valley rose against discriminatory Dogra rule and thereby staged the first signs of revolt in opposition to the atrocities being perpetrated on them since 1846. The later days saw instant realization among the otherwise docile Kashmiris to work under popular platforms and initiate unified struggle to win back their legitimate freedom. With the initiation of active uprising, especially after Indo-Pak partition and by-force occupation of Kashmir by India, an unprecedented amount of tyranny has been let loose on Kashmiri protesters and freedom seekers. 

Since 1947, three successive generations of Kashmiris have struggled for their right to self-determination despite harshest Indian measures. After the martyrdom of young BurhanWani in 2016, the uprising has scaled new heights, etching out to the world seeking their long over-due attention and moral support for the cause. 

During the last three years of the ‘Intifada’, thousands of Kashmiri freedom-seekers have been killed and brutally injured by Indian security forces. 

The count also goes beyond thousands in case of young boys and girls who have been blinded with pellet guns and the Kashmiri woman raped and molested by the Indian military personnel. To add insult to injury, the incumbent BJP government through RSS has continued to work on the shameless strategy of changing the demography of occupied Kashmir by harassing Muslims to leave the area and settling non-locals there. 

All along these seven decades, Pakistan has bore the brunt of Indian aggression for extending moral support to the indigenous freedom movement of the people of Kashmir. Young Kashmiris, however, kept laying down their lives for the greater cause of liberation sans logistic and financial support from outside. India’s false flag maneuvers such as the Indian Parliament attack (13 December 2001), Mumbai Terror attack (26 November 20087) and Uri Base attack (18 September 2016), have also continued at the same time to label Kashmiri freedom fighters as terrorists and Pakistan as a country that supports terrorism. In the latest enactment of 14th February which resulted in death of over 43 Indian paramilitary soldiers in Pulwama,  India has again used Pakistan and the Jaish-e-Muhammad as a scapegoat. In a pre-programmed vengeance spree following the Pulwama incident, Indian military launched search & cordon operations and killed scores of innocent Kashmiris in IOK. 

Besides settling scores with people of occupied Kashmir, India simultaneously resorted to target civilians on the Pakistani side of the LoCblattantly violating the Geneva Conventions and tenets of the International humanitarian law.

For satiating their uncalled-for revenge, the Indian security forces have managed to ‘bravely’ kill over 500 ‘unarmed’ Kashmiris in the span of mere twelve months. 

During the last couple of years, the Indian savagery on hapless Kashmiris have also been reported by the UN and various international human rights organizations, including UNHRC, OHCHR & EUHRC. Similarly UNMOGIP (UN Military Observer Group in India & Pakistan) has also gave out an extremely horrendous picture of Indian hostilities on Kashmiris in their recent report. Moreover, in a rare yet highly rewarding development, the Council of Foreign Ministers in its 46th session recently held on the sidelines of the Organization of Islamic Cooperation (OIC) Conference in UAE has also adopted a resolution that “condemned in the strongest terms the recent wave of Indian terrorism in Occupied Jammu & Kashmir besides ensuring unwavering support for the Kashmiri people in their just cause”. While this OIC admonishing statement is being taken as a long over-due obligation on the part of Muslim Ummah, it has come as an absolute shock for India because SushmaSwaraj, the Indian external affair minister, was present at the said event as the ‘guest of honour’. 

On this 13th July again, the Kashmiris all over the world would remember their martyrs and remind themselves; how cheaply they were sold out in 1846 under ‘Amritsar Treaty’ by the British, how recklessly they were slaughtered by Dogras in 1931 and how their freedom was again deceitfully snatched by India in 1947. 

Observing the Kashmir Martyrs’ Day in July every year is like earnestly and repeatedly knocking at the conscience of the world human rights bodies to make them realize that practice of human slavery still persists in its worst form in the Indian Occupied Kashmir. 

In fact, it is time for the UN and HR observers to come forward and compensate for what they have so far criminally neglected, that is, relieving Kashmiris from the Indian slavery and giving them their right of self-determination, without further delay.


مکمل تحریر >>

غلام سرور ، جعلی ڈگری ، پی آئی اے اور پاکستان کی بدنامی

چور مچائے شور
غلام سرور صاحب نےپی آئی اے کے پائلٹوں کے لائیسنس جعلی قرار دیکر ساری دنیا میں پاکستان کو بدنام کردیا ۔دلچسپ  بات کہ موصوف کی اپنی تمام اسناد جعلی ہیں یعنی تعلیمی قابلیت کے اعتبار سے وزیر باتدبیر محض “خواندہ” ہیں
2002میں انھوں نے  پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ لائلپور سےڈپلومہ کا دعوی کیا۔ جسے 5 دسمبر 2012کو پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن نے جعلی قراردیدیا
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی سینڈیکیٹ نے  2015میں انکی جامعہ سے جاری ہونے والی ڈگری غلط ذریعے سے داخلہ لینے کی بنیاد پر منسوخ کردی
بشکریہ  انصار عباسی روزنامہ جنگ
یعنی پیپلز ہارٹی سے ق لیگ اور پھر تحریک انصاف تک  سفر کرنے والے غلام سرور خان صرف مرغ باد نما ہی نہیں بلکہ انتہا درجے کے دو نمبر ہیں
ہمارے کپتان کے تاج شاہی میں کیسے کیسے کھوٹے نگینے سجے ہوئےہیں
مکمل تحریر >>

نوجوان کمپیوٹر انجئیر ادریس احمد بھٹ کی آج شہادت

آج کپواڑہ میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والا کمپیوٹر انجئیر ادریس احمد بھٹ، اس خوبصورت شہید نوجوان کا تعلق ہندواڑہ سے تھا۔دس لاکھ فوج، گرفتاریاں، عقوبت خانے، شہادتیں اور تشدد کچھ بھی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں رکاوٹ نہ بن سکا جدوجہد اور مزاحمت جاری ہے ۔
مکمل تحریر >>

عمران خان کی ایک اور اے ٹی ایم مشین کی داستان

عمران خان کے ایک اور اے ٹی ایم شبر زیدی نے اپنی من پسند 6 کمپنیوں کو 16 ارب کا ٹیکس ریفنڈ کیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ تمام کمپنیاں شبر زیدی کی کلائنٹس تھیں۔
پاکستان کا سارا مافیا پی ٹی آئی میں جمع ہوچکا ہے، اور دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کر رہے ہیں۔ کم ایسے وزیر رہ گئے ہیں جن پر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا الزام نہ ہو۔ روزانہ اربوں روپے کا نیا سکینڈل سامنے آ رہا ہے، خان صاحب ایکشن لینے کا اعلان کرتے ہیں تو الٹ ہو جاتا ہے۔ ایسے نکمے اور لٹیرے بھی اس قوم کی قسمت میں تھے؟
مکمل تحریر >>