Sunday, September 6, 2020

اقوام متحدہ کی قراردادیں ، کشمیریوں کے پاس موجود آپشنز ، سعید اسعد اور امان اللہ خان کے جھوٹ اور خود مختاری کی حقیت. اظہر فخرالدین

اقوام متحدہ کی قراردادیں ، کشمیریوں کے پاس موجود آپشنز ، سعید اسعد اور امان اللہ خان کے جھوٹ اور خود  مختاری کی حقیت. 

آیے مل کر کُچھ  سوالوں کا جواب تلاش کریں .
کیا اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیریوں کا پاس خود مختاری کا آپشن موجود ہے ؟ 
کیا پاکستان نے اقوام متحدہ سے ساز باز کر کے سیکورٹی کونسل کی قراردادوں سے خود مختاری کا آپشن نکلوا دیا جیسا کے قوم پرستوں کے دانشواران دعوی کرتے ہیں ؟ 

ان سوالوں کے جواب ہمیں سیکورٹی کونسل کا قردار نو ٤٧ میں مل جائیں گے جو مثلا کشمیر پر پہلی جامع قرارداد تھی . جو ٢١ اپریل ١٩٤٨ کو پاس ہوئی تھی .  

یکم جنوری 1948ء کو بھارت جموں و کشمیر کا مسلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر گیا جس پر اقوام متحدہ کا کمیشن برائے بھارت اور پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا. اس کمیشن نے پھر مسلہ کشمیر کے حل کے لئے مختلف قراردادیں پاس کیں لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث ان میں سے کسی بھی قرارداد پر پورے طورعمل نہیں ہو سکا اور مسلہ ابھی بھی حل طلب ہے .

جب ہم سلامتی کونسل کی قراردادوں کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو ایک چیز بلکل واضح ہو جاتی ہے کہ سب کی سب قرادادوں میں جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے رائے شماری کے دوران صرف دو ہی آپشن رکھے گئےہیں۔ مگرایک دلچسپ چیز جو کافی عرصے سے پھیلائی جا رہی ہے کہ ان قراردادوں میں ایک تیسرا آپشن بھی تھا "خودمختار ریاست" کے لئے جسے پاکستان نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ نکلوا دیا۔

یہ جھوٹ بہت تواتر سے بولا گیا اوراسکو پھیلانے میں کچھ جانے مانے قوم پرست رہنما بھی شامل ہیں جس کی وجہ سے لوگوں نے اسے سچ سمجھنا شروع کر دیا۔ لبریشن فرنٹ کے بانی اور اپنے وقت کے سرپرست عالی امان اللہ خان مرحوم نے اپنی کتاب میں حکومت پاکستان کے کشمیر کو لے کر یو ٹرن بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں؛

"مسلہ کشمیر اقوام متحدہ میں چلا گیا اور وہاں 13 اگست 1948ء کی قرارداد میں طے ہوا کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہونے والی رائے شماری کے ذریعہ کریں گے۔۔۔ لیکن صرف چار ماہ کے اندر پاکستان نے پینترا بدل کر اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو بھارت یا پاکستان سے الحاق تک محدود کر دیا جائے اور اس نے اپنا یہ مطالبہ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان کی 5 جنوری 1949ء کی قرارداد کے تحت منوا لیا۔" [1]

موصوف ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ؛

"پاکستان نے 25 دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے کمیشن کے نام اپنے خط میں مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو بھارت یا پاکستان سے الحاق تک محدود کر دیا جائے." [2]

اسی طرح سعید اسد صاحب نے اپنی کتاب "جموں کشمیر بک آف نالج" میں لکھا ہے؛
"پاکستانی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے 25 دسمبر 1948ء کو UNCIP کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے آزادانہ حق خودارادیت کو بھارت یا پاکستان سے الحاق تک محدود کیا جائے۔" [3]

ان تمام الزامات کا باریک بینی سے مطالع کرنے پر یہ بات آشکار ہو گی کے ان میں ذرا برابر بھی سچائی نہیں ہے .
آگے بڑھنے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ سلامتی کونسل کی پہلی مین قرارداد جو کہ 21 اپریل 1948ء میں پاس ہوئی اس میں درج ہے کہ؛

"ہندوستان اور پاکستان دونوں اس پر راضی ہیں کہ جموں وکشمیر کے ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کے سوال کا فیصلہ آزاد اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے کیا جائے."[4]
 See the screenshots attached of the resolution 47 (21 April 1948). I can share the original copy if you need.

اس پہلی قراداد میں ہی کشمیریوں کو دو آپشنز دے گے ہیں، انڈیا یا پاکستان کے ساتھ الحاق . تیسرا کوئی آپشن نہیں. اب آپ خود اندازہ لگیں کے یہ قرارداد اپریل ١٩٤٨ میں پاس ہوئی. سکرین شاٹ لگا دے گے ہیں حوالہ کے لیے. اب امان اللہ خان ور سعید اسعد جھوٹ بولتے ہوۓ کہتے ہیں ک دسمبر میں پاکستان کے وزیر ا خارجہ نے تیسرا آپشن نکلوا دیا.

یعنی کہ پہلی قرارداد سے ہی سے صرف دو ہی آپشن تھے۔ اس کے بعد جو بھی قراردادیں مسلہ کشمیر پر پاس ہوئی ان میں تقریبا اسی موقف کا دوبارہ اعادہ کیاگیا ۔
13 اگست 1948ء کی قرارداد

21 اپریل 1948ء کی قرارداد پر عمل نا ہو سکنے کے بعد اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان نے دونوں ممالک سے مشاورت کے بعد ایک اور قرارداد منظور کروائی جو کہ تین حصوں پر مشتمل تھی؛

پہلا حصہ (پارٹ ون) کا تعلق جنگ بندی سے تھا، دوسرے حصے (پارٹ ٹو) کا تعلق جنگ بندی کے معاہدہ (truce agreement) سے تھا۔ جبکہ تیسرے حصے (پارٹ تھری) کے مطابق truce agreement کے تسلیم کرنے کے بعد دونوں ممالک کمیشن سے بات چیت کے مرحلے میں داخل ہوں گے تا کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اس کی عوام کی مرضی سے طے پائے۔

اس قرارداد کا اصل مقصد جنگ بندی اور truce agreement تھا۔ تیسرے حصے یعنی پارٹ تھری کے لئے قرارداد میں واضح طور پر کہا گیا کہ مزید مذاکرات ہوں گے۔

اسی قرارداد کا پہلا پیراگراف کہتا ہے؛

“Having given careful consideration to the points of view expressed by the Representatives, of India and Pakistan regarding the situation in the State of Jammu and Kashmir, and Being of the opinion that the prompt cessation of hostilities and the correction of conditions the continuance of which is likely to endanger international peace and security are essential to implementation of its endeavors to assist the Governments of India and Pakistan in effecting a final settlement of the situation.”

ترجمہ:- "ریاست جموں و کشمیر کی صورتحال کے بارے میں ، ہندوستان اور پاکستان کے نمائندوں کی طرف سے بیان کردہ نقطہ نظر پر محتاط غور کرنے کے بعد (کمیشن) کا یہ خیال ہے کے پاکستان اور انڈیا کی گورنمنٹ کو صورتحال کے حتمی تصفیہ(حل) کے لئے مدد کرنے کی ضرورت ہے ." [5]
(ترجمہ کو آسان کیا گیا ہے)

19 اگست 1948ء کو پاکستانی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر الفریڈو لوزانو کو خط لکھا جس میں انہوں نے قرارداد کے متعلق کچھ نکات پر مزید جانکاری چاہی۔ اس خط میں وہ لکھتے ہیں؛

"(ہمارا) یہ خیال ہے کہ اس ایکسپریشن "a final settlement of the situation"، جس کے بارے میں کمیشن نے قرارداد کے شروعات میں لکھا ہے، کا مطلب سلامتی کونسل کے ہی پرانے الفاظ ہیں(جس میں کہا گیا ہے کہ) "ریاست کے ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کرنے کے لئے ایک آزاد اور غیر جانب دار رائے شماری کے لئے مناسب حالات (پیدا کرنا)۔" اگر اس ایکسپریشن "a final settlement of the situation" کا کوئی اور مطلب، بلواسطہ یا بلا واسطہ، سلامتی کونسل کی قرارداد(21 اپریل 1948) سے لیے گئے اس اقتباس سے کم یا اس سے بڑھ کر کچھ مطلب ہے تو پاکستانی حکومت اس کے بارے میں جاننا چاہتی ہے۔"[6]
جس کے جواب میں ڈاکٹر الفریڈو نے لکھا؛

"اس ایکسپریشن "a final settlement of the situation" کا مطلب سلامتی کونسل کی 21 اپریل 1948ء کی قرارداد کی شرائط سے کم یا زیادہ نہیں ہے بلکہ یہ ایکسپریشن اس قرارداد سے مکمل طور پر اتفاق کرتا ہے۔"[7]

پھر 3 ستمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان کے چیرمین جوزف کوربل نے اسی بات کو ان الفاظ میں دہرایا؛

"جہاں تک "پارٹ تھری" کا تعلق ہے، اس بارے میں کمیشن سلامتی کونسل کی 21 اپریل 1948ء کی قرارداد کی شرائط سے رہنمائی حاصل کرے گا۔"[8]
اقوام متحدہ کے کمیشن اور پاکستانی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والی اس بات چیت کو پڑھنے کے بعد ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں پارٹ 3 یا رائے شماری کے سوال پر 13 اگست 1948ء کی قرارداد نے 21 اپریل 1948ء کی قرارداد کی پیروی ہی کرنا تھی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں اس قرارداد میں صرف دو ہی آپشن موجود تھے یعنی انڈیا اور پاکستان۔

اب ہم ان الزامات کا بھی جائزہ لیتے ہیں کہ 25 دسمبر 1948ء کو پاکستانی وزیر خارجہ نے کمیشن کو خط لکھا اور رائے شماری کو محدود کروانے کی درخواست کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد، اقوام متحدہ کے کمیشن نے 11 دسمبر 1948ء کو دونوں ممالک کو اپنی تجاویز کا مسودہ (پروپوزل) پیش کیا جس کا عنوان تھا “BASIC PRINCIPLES FOR A PLEBISCITE PROPOSED BY THE COMMISSION TO THE GOVERNMENT OF INDIA AND PAKISTAN ON 11 DECEMBER 1948”.

وضاحت کے لئے میں یہاں اس پروپوزل کے پہلے دو نکات یہاں لکھ دیتا ہوں؛
"اول، کمیشن اپنی 13 اگست 1948ء کی قرارداد کی دوبارہ تصدیق کرتا ہے۔
دوم، ہندوستان اور پاکستان کی حکومت بیک وقت درج ذیل اصولوں کواس قرارداد (13 اگست 1948) میں شامل کرنے پر رضامند ہیں ؛
1- ریاست کے پاکستان یا بھارت سے الحاق کا فیصلہ جمہوری طریقے سے ایک آزاد اور غیر جانب دار رائے شماری کے تحت کیا جائے گا۔"[9]

اس پروپوسل کے پہلے دو نقاط پڑھنے کے بعد سے دو باتیں بلکل واضح ہو جاتی ہیں، ایک کہ تجاویز کا یہ مسودہ کوئی الگ قرارداد نہیں تھا بلکہ 13 اگست 1948ء کی قرارداد پر ضمیمہ (سپلیمنٹ) تھا۔ دوسری، کہ اس میں بھی دو ہی آپشن تھے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ظفر اللہ خان 25 دسمبر 1948ء کو رائے شماری کو محدود کروانے کے لئے خط لکھے جبکہ خود 11 دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے دئے گئے مسودے میں دو ہی آپشن تھے؟ اس کا یہی مطلب ہے کہ یہ الزامات بلکل جھوٹے ہیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے اس تاریخ کو خط ضرور لکھا لیکن صرف کمیشن کی ان تجاویز کو تسلیم کیا جو کہ انہوں نے 11 دسمبر 1948ء کو دیں۔ ظفر اللہ خان کا وہ خط بھی پوسٹ کر دیا گیا۔

پھر دونوں ممالک کی جانب سے کمیشن کی تجاویز تسلیم ہونے کے بعد یہ 13 اگست 1948ء کی قرارداد کی ساتھ یہ ضمیمہ قرارداد 5 جنوری 1949ء کو منظور ہوئی۔

یہ کہنا بلکل بھی غلط نا ہوگا کہ مسلہ کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ لکھے جانے والے موضوعات میں سے ایک ہے۔ لیکن پھر بھی ہم اس کے ساتھ جڑے بہت سے جھوٹ دیکھتے ہیں۔ لہذا ہمیں محتاط رہنا چاہئے اور کچھ بھی پڑھنے کے بعد اس پر یقین کرنے سے پہلے اس موضوع پر ریسرچ کرنی چاہئے۔

ہندوستان یا پاکستان ، اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کوئی تیسرا آپشن نہیں ہے.

حوالہ جات:-
1- امان اللہ خان، "جہد مسلسل"، جلد دوم، صحفہ 200
2- امان اللہ خان، "پاکستان کی حماقتوں بھری کشمیر پالیسی"، صحفہ 9
3- سعید اسد "جموں کشمیر بک آف نالج"، صحفہ 278
4- S/726, p.1
5- S/995, p.3
6- S/1100, “Annexes”, Annex 26, p.3
7- Ibid., Annex 27, p.2
8- Ibid., p.39
9- S/1196, Annex 3, p.19






مکمل تحریر >>

Saturday, September 5, 2020

عبدالمجید بھٹ صاحب انسائیکلوپیڈیا مقبوضہ کشمیر کی یاد میں ۔اسعد فخرالدین

 بھارتی ٹارچر سیل میں کیے گئے تشدد کے نشانات ان کے ٹانگوں اور بازوں پر ابھی بھی موجود تھے۔ 

عبدالمجید بھٹ جماعت اسلامی ضلع بارہمولہ کے امیر ضلع اور قیم ضلع رہے ہیں۔حلقہ انتخاب رفیع آباد سے جماعت اسلامی اور مسلم متحدہ محاذ کے امید وار بھی رہے۔ بہت سنجیدہ  اور ملنسار تھے۔

جبیل مقبول بٹ شہید کی برسی میں ان سے پہلی ملاقات  ہی ہماری قربت کا باعث بنی، پچاس منٹ کی ان کی مفصل گفتگو نے ان سے ملنے ہر مجبور کیا 

برسی کے اگلے ہی ھفتے ریاض جانا ہوا تو ایک دن قبل کال کی کہ چار بجے آپ کے گھر آوں گا، کہا چار بجے نہیں ایک بجے آئیں کشمیری کھانا ملکر کھائیں گے۔

پانچ گھنٹے کی طویل ملاقات کے بعد اندازہ ہوا  آپ تو کشمیر کا انسائیکلوپیڈیا ہیں، جب بھی ریاض جانا ہوا تو  بھٹ صاحب کے گھر ضرور چکر لگا۔کشمیری چائے اور کشمیری کھانے سے ہی تواضع کی

ٹانگ میں سوجن کے باوجود نیچے چھوڑنے کے لئے  آتے اور رات کال کرکے پوچھتے کہ بخیریت پہنچ گئے ہو!

 

علی گیلانی صاحب کے قریبی دوستوں میں سے تھے، جیل میں اور کالی ٹھوکری میں ساتھ ساتھ بند رہے 

انکوائریاں اور جیلیں بھگتیں۔۔

ان سے ملاقاتوں پر جلد مکمل مضمون لکھنے کا ارادہ  ہے

پاکستانی حکومت کی پالیسز سے بہت خفا تھے، لیکن پاکستان سے محبت کا تذکرہ بارہا کرتے تھے۔

ریاض میں ہی مقیم رہے اور آخری سالوں میں آپ کی وابستگی کسی جماعت سے نہیں رہی۔

انتہائی شفیق تھے، منور صاحب کی وفات پر کال کی تو ایک گھنٹہ ان کے یادیں اور باتیں کرتے رہے ، ڈوبتی آواز میں سارے قصے سناتے رہے 

ان سے فون پر آخری بات یہ تھی کہ  جماعت اسلامی نے اگر مقبوضہ کشمیر میں نظریاتی فصل نہ کھڑی کی ہوتی تو آج شاید یہ مزاحمت بھی نہ ہوتی ۔۔ 

ایک  اور بات بات جو ہمیشہ یاد رہے گی !

“جس کسی تحریک میں اینجسیاں (کوئی بھی) انوالو ہو جائیں پھر وہ  تحریک لوگوں کی تحریک نہیں پھر “ان “کی تحریک بن جاتی ہے”

زندہ دل، بیدار مغز اور مدبر رہنما تھے،دو ماہ وینٹیلیٹر پر رہنے کے بعد آج خالق حقیقی سے جا ملے۔

انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ ان کی مفغرت فرمائے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے آمین


مکمل تحریر >>

Friday, September 4, 2020

کے ایچ خورشید کا قائد اعظم کو خط اور حقائق اردو ترجمہ کے ساتھ

 کے ایچ خورشید صاحب کا سری نگر کے دورے کے بعد قائد اعظم کو لکھے گئے  خط کا  ترجمہ حاضر ہے . یہ خط ہمارے قومی نصاب کا حصہ ہونا چائے تھا مگر افسوس. خط پڑھ کر اپ کو ٹھیک سے اندازہ ہو جا ے گا کے ١٩٤٧ میں کشمیر میں کیا حالات تھے . 

اردو ترجمہ

قائداعظم کے پرسنل سیکرٹری کی کشمیر سے بھیجے گئے پیغامات سے معلوم ہوتا ہے کہ ھندوستان نے پاکستان اور کشمیر کے خلاف سازش شروع دن سے ہی شروع کی ھے۔


محمد علی جناح کے پرائیویٹ سیکرٹری خورشید حسن خورشید کو انہوں نے اکتوبر 1947 ء کے پہلے ہفتے میں کشمیر میں موجود مسلمان رہنمائوں کو کچھ اہم پیغامات پہنچانے اور ریاست میں زمینی صورتحال کا اندازہ لگانے کے لئے بھیجا تھا۔ کشمیر میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقات کے بعد کے ایچ خورشید نے محمد علی جناح کو ایک تفصیلی نوٹ واپس بھیجا جس میں انہوں نے انہیں آگاہ کیا کہ ریاست میں گزشتہ دو ماہ کے دوران جو بڑے واقعات رونما ہوئے ہیں ان میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ مہاراجہ کے ارادے ہرگز اچھے نہیں۔ وہ پاکستان سے الحاق کے خلاف تھا اور ہندوستان کے حق میں تھا۔ خورشید نے مشورہ دیا کہ پاکستان کو لڑائی کے حوالے سے سوچنا چاہئے کیونکہ سفارتی دبائو پہلے ہی ناکام ہو چکا تھا اور ریاست میں کوئی بھی پرامن جدوجہد کسی کام کی نہیں تھی۔ اس کے خط کا مکمل متن ذیل میں دوبارہ پیش کیا گیا ہے۔


میرے پیارے سر،

میں دوسری پہر شام کو سرینگر پہنچا اور جب سے میں اپنے دوستوں، جاننے والوں اور گمراہ زائرین کی طرف سے ہر قسم کی معلومات اور معلومات کی وجہ سے حیران ھوں رہا ہوں. میں نے جو کچھ سنا اور دیکھا ہے اس کا خلاصہ بنا لیا ہے اور جو مجھے یقین ہے وہ سچ ہے۔ میں نے حاصل کردہ معلومات کو چھان لیا، دوسرے ذرائع سے اس کی تصدیق کی اور منسلک کاغذات تیار کیے ہیں۔ شاید بہت سی باتیں دوسرے ذرائع سے آپ تک پہلے ہی پہنچ چکی ہوں لیکن میں نے ایک جامع رپورٹ بنا کر اپنی رائے بھی دی اور تجاویز بھی دیں۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ زیادہ لمبا ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ مقامات پر حیرت زدہ ہوجائے، لیکن جو کچھ میں نے سوچا تھا وہ آپ کے سامنے رکھنا ضروری تھا ٹائپ کیا گیا ہے۔

میں امید کرتا ہوں، جناب، کہ آپ اور مس جناح صحت کی بہترین حالت میں ہیں۔

احترام کے ساتھ،

کے ایچ خورشید


نوٹ بذریعہ K. H. خورشید: سرینگر،

شیخ محمد عبداللہ کی رہائی کے بعد سے "رائل کلیمینسی" کے ایک عمل کے طور پر کشمیر میں 12 اکتوبر 1947 کے واقعات بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کی جماعت کے دیگر ارکان، جو "کشمیر سے کنارہ کشی" کے اشتعال کے سلسلے میں گزشتہ سال یا تو قید یا نظربند تھے، کو بھی رہا کردیا گیا ہے۔ لیکن مسلم کانفرنس کے لوگ جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں۔ پہلو بہ پہلو ریاست مسلمانوں سے بیزار ہورہی ہے جو ریاستی قوتوں میں کسی بھی اہمیت کے عہدوں پر فائز تھے۔ فوج اب ان تمام مسلمان اور یورپی افسران سے پاک ہے جن کی جگہ ہندو ڈوگرا راجپوتوں نے لے لی ہے۔


موقف ظاہر ہوتا ہے کہ مہاراجہ کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے خلاف ہے۔ ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ اس کی لاش کو سات سو ٹکڑوں میں کاٹ دیا جائے، لیکن وہ پاکستان سے اتفاق نہیں کرے گا۔ اور، لہذا، وہ کسی بھی اور ہر واقعے سے ملنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ریاست آج گندی عدالتی سازشوں کا ہاٹ بیڈ ہے اور ہر طرح کے منشیوں اور مشینوں کو حکومت کی طرف سے مصلحتوں کو بگاڑنے اور مقبول احساس کو پاکستان کے حق میں دبانے کے لئے جاری ہے۔ لیکن آنے والے کچھ عرصے تک عوام کو ان کے ارادے بنانے میں حکومت کی راہ میں عملی مشکلات ہیں۔ ایک باخبر ڈوگرہ اہلکار نے مجھے بتایا کہ یہ زیادہ تر رائفلوں کا سوال ہے۔ اگر پاکستان کے پاس کشمیر سے زیادہ رائفلیں تھیں، تو بعد میں پاکستان میں شامل ہوں گے. ذیل میں دیا گیا مقام ہے، کیونکہ اس کا اندازہ حقائق اور حالیہ واقعات سے لگایا جاسکتا ہے جو ریاست، حکومت اور مختلف سیاست میں رونما ہوئے ہیں۔


ہندوستانی یونین پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے یا نہیں، حکومت کا ہر اقدام دہلی کی سڑک کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مہاراجا اپنے ارد گرد کے تمام ناپسندیدہ یا مشکوک لوگوں سے جان چھڑا رہے ہیں۔ ان کے چچا نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ نائب وزیر اعظم (ایک نئی پوسٹ) سردار پٹیل کے نامزد ایک مسٹر رام لال بترا ہیں، اور وہ سرینگر اور دہلی کے درمیان مسلسل آگے بڑھتے رہتے ہیں۔


شیخ عبداللہ کی رہائی کا اثر بیرونی دنیا کو یہ تاثر دینے کے واحد مقصد سے ہوا ہے کہ کشمیر کے بھارت سے الحاق، اعلان ہونے پر ریاست کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حمایت حاصل ہوگی۔ مقامی سیاسی حلقوں اور پریس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر کسی بھارتی ریاست کے لوگوں کی خواہشات معلوم کرنے کے سوال پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے اس سے پہلے کہ وہ یا تو ڈومینن پر اکتفا کر لیں، عبداللہ اور پارٹی کو بھارت سے الحاق کی حمایت کے عوض حکومت کی چند نشستوں کا وعدہ کیا جائے گا۔


مشرقی پنجاب اور جموں کو ملانے والی سڑک پر کام اپاکا پر ہو رہا ہے۔ راوی میں سیلاب کی بدولت کام کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور اس کی تکمیل میں خاطر خواہ تاخیر ہوئی ہے۔ جموں اور سری نگر کو ملانے والی ایک اور سڑک بھی تعمیر کا کام جاری ہے، کیونکہ موجودہ ایک تو موسم سرما کے تین ماہ کے دوران ٹریفک کے لیے کھلا نہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ نئی سڑک بار بار ٹریفک کے قابل ہو جائے ۔پٹرول کی سپلائی جسے راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر نے روک لیا تھا، اب دہلی سے بذریعہ ایئر آ رہے ہیں۔


کسی بھی قسم کے خطرات مول لینے کے موڈ میں نہیں، حکومت پوری ریاست میں ڈوگرہ فوجی تعینات کررہی ہے۔ تازہ دستوں کو گلگت اور پونچھ کے سرحدی علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ یہ امر بدستور افواہ ہے کہ بھارتی تسلط کے گورکھا اور سکھ فوجی فوجی کشمیر مشرقی پنجاب کی سرحد پر ریاست میں مارچ کرنے کے احکامات کے منتظر ہیں۔ مسلمانوں اور فوج کے دیگر غیر ہندو افسران کی برطرفی خود بولتا ہے۔


جب موسم سرما میں سیٹ ہوجائے گا تو گلگت جانے والی سڑکیں بلاک کردی جائیں گی اور کشمیر کو عملی طور پر باقی دنیا سے کاٹ دیا جائے گا اگر راولپنڈی سری نگر روڈ فی الحال ٹریفک کو فری کرنے کے لئے نہیں کھلا ہے۔ پٹرول کی قلت کی وجہ سے اب صرف فوجی گاڑیاں اور چند چند نجی کاریں اس سڑک پر چل رہی ہیں۔ گلگت چترال سرحد اور پونچھ سرحد پر قبائل نے مہاراجہ کو ہندوستان سے الحاق کے خلاف متنبہ کیا ہے۔ فی الحقیقت، ریاستی افواج پہلے ہی پونچھ میں مسلح مسلمانوں کے ساتھ تصادم میں آچکی ہیں۔ ریاستی فوجیوں کی ایک اچھی تعداد وہاں مصروف ہے.


ان تمام عوامل کے علاوہ یہ حقیقت بھی ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے ابھی تک جموں کے کچھ پنجابی ہندوؤں کے سوا بھارت سے الحاق کی حمایت نہیں کی، مہاراجہ کے راستے میں کھڑے ہو کر اپنا اعلان کر رہے ہیں۔


مسلم کانفرنس اب عملی طور پر ایک مردہ تنظیم ہے۔ اس کے تمام رہنماؤں کے ساتھ یا تو جیل، قید، حراست یا خارج کر دیا گیا ہے، اس کام پر لے جانے کے لئے شاید ہی کوئی ہے. میر واعظ اور چوہدری حمید اللہ کے درمیان ہونے والے جھگڑے سے جو کچھ بچا تھا وہ دونوں اب ختم ہوچکے ہیں۔ لیکن پاکستان کے حق میں مقبول احساس کا ایک بہت مضبوط احساس ہے، استعمال اور استحصال کرنا جس کا یہاں کوئی نہیں ہے۔ شہر اور ریاست کے مختلف حصوں میں بے ساختہ مظاہرے کئے جارہے ہیں لیکن ان بکھرے ہوئے عناصر کو متحرک کرنے والا کوئی نہیں ہے۔


وہ ایک عجیب پوزیشن میں ہیں۔ یہ ایک معروف حقیقت ہے کہ عبداللہ نے ریاست میں کبھی کسی غیر مسلم کی پیروی نہیں کی تھی اور اب اس کے ماننے والوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پاکستان قائم ہو چکا ہے اور لیگ کانگریس کا تنازع ختم ہونے پر ہے، ریاست کو پاکستان پر اکتفا کرنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے ان کی رہائی ہوئی ہے عبداللہ مبہم بیانات دے رہا ہے۔ میں اس کے ساتھ ان کی ایک حالیہ تقریر کا مکمل متن لے رہا ہوں، جیسا کہ ان کی پارٹی کے سرکاری کاغذ نے شائع کیا ہے۔ انہوں نے متعدد دیگر تقریریں بھی اسی خطوط پر کم و بیش کی ہیں اور اب تک وہ مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل ہیں:


ہمارے سامنے بنیادی سوال (عبداللہ کی جماعت) ذمہ دار حکومت کے قیام اور ریاست کے عوام کی آزادی کا ہے۔ میں اب بھی 'کشمیر سے کنارہ' پر قائم ہوں اور یہی ہمارا بنیادی مطالبہ ہے۔ ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کا سوال ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلم لیگ کا موقف ہے کہ حاکمیت حکمرانوں اور شہزادوں پر مشتمل ہے (یہ ہماری ریاستوں کے موقف کی واضح غلط بیانی ہے کہ پیراموونٹسی ختم نہیں ہوتی بلکہ ہندوستانی ریاستوں کی بھارتی ریاستوں کی طرف پلٹ چکی ہے)۔ لیگ نظام کی خاطر غریبوں اور عوام کو نظرانداز کرتی ہے۔ مسٹر جناح کے خلاف میری ذاتی عناد ہے جنہوں نے مجھے گنڈاسے کہا اور جنہوں نے کہا کہ 'کشمیر سے کنارہ کرو' چند شرپسندوں کا رونا تھا۔ لیکن میں اب کرنا چاہیے ہونا اب کرنا چاہیے اور ہمارے فیصلے پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں ذاتی جذبات کو آگاہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ہم اس کے ساتھ شامل ہوں گے جو ہماری آزادی کے مطالبات کی حمایت کرتا ہے لیکن ہمیں اپنی معاشی پوزیشن، اپنی تجارت اور تجارت اور دیگر چیزوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ہم جذبات کی طرف سے قیادت نہیں کریں گے اور میں بغاوت کروں گا اگر مہاراجہ مقبول منظوری کے بغیر کسی بھی سلطنت کو قبول کرتا ہے. آئیے پہلے اپنی آزادی حاصل کریں اور پھر آزاد لوگوں کی حیثیت سے ہم ایک یا دوسرے تسلط کے حق میں اپنا فیصلہ دیں گے۔


اپنے ہی کچھ پیروکاروں کے ساتھ نجی مذاکرات میں جو انہیں اپنے موجودہ موقف کے منافی باور کرانے گئے تھے، ان کے بارے میں اطلاع ہے کہ مسٹر جناح انہیں لکھ کر مذاکرات کی دعوت دیں لیکن صرف ایک ہی بنیاد ہو گی یعنی لیگ کو ریاست میں ذمہ دار حکومت کے قیام کے لئے تحریک کی حمایت کرنی چاہئے۔ انہوں نے نجی طور پر یہ بھی دیا ہے کہ مہاراجا نے بھارتی تسلط پر عمل کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن سردار پٹیل نے انکار کردیا اور مہاراجا کو صاف صاف کہہ دیا کہ اگر ریاست میں ذمہ دار حکومت قائم نہ ہوئی تو وہ کشمیر کا الحاق قبول نہیں کریں گے۔ وہ پھر پوچھتا ہے کہ مسلم لیگ ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟ لیگ نے حکمرانوں کے حق کو تسلیم کیا ہے کہ وہ عوام کی قسمت کا فیصلہ کریں، وہ جھگڑا کرتا ہے۔


جموں اور کشمیری پنڈتوں کے پنجابی اور ڈوگرہ ہندوؤں نے مہاراجہ کو ایک یادداشت بھیجی ہے جس میں اس سے کہا گیا ہے کہ وہ ہندوستان تک رسائی حاصل کرے۔ لیکن عبداللہ کی رہائی سے ان میں تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے اب نیشنل کانفرنس سے خود کو اتحادی بنا لیا ہے۔ بے شک، وہ موسم گرما ہیں اور ان کی واحد خواہش یہ ہے کہ ان کی کھالوں کو بچایا جائے.


مذکورہ بالا کی روشنی میں میری ذاتی طور پر رائے ہے جناب، کہ پاکستان کو لڑائی (جنگ استعمال نہ کرنے) کے حوالے سے سوچنا ہوگا جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے۔ دوسری طرف عملی طور پر نہ صرف اس پر فیصلہ کیا ہے بلکہ اس کے لئے تیار ہے۔ سفارتی دبائو اب تک ناکام ہوچکا ہے۔ ہم جو عرض البلد دیتے رہے ہیں انہوں نے صرف اس لحاظ سے ہماری غلط تشریح میں خدمت کی ہے کہ پاکستان کو کمزور سمجھا جاتا ہے اور حادثہ ہونے والا ہے۔ یقینا، ہمیں اپنی طرح کی کوشش کرنا چاہئے لیکن ہمیں اس کی لڑائی کے پہلو سے نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ چاہے مسالک کے درمیان اتحاد قائم ہو اور چاہے ریفرنڈم کا انعقاد ہو اور پاکستان کے لئے سازگار فیصلے کے نتیجے میں ہو، اس کی پاسداری کے لئے ایک لمحے کے لئے بھی مہاراجہ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کسی ناموافق فیصلے کے باوجود کشمیر کے الحاق کو قبول نہ کرنے والی بھارتی حکومت پر۔


پاکستان کو جو کچھ بھی اس واقعے کے لئے تیار رہنا ہے وہ یہ ہے کہ وہ ریاست کے اندر اور اس کے بغیر قبائل کو اسلحہ اور کھانے پینے کی چیزیں سپلائی کرے جو پہلے ہی اپنے ہتھیاروں کو تیز کررہے ہیں۔ مقامی آبادی شاید ہی ایک پکھواڑا سے زیادہ کے لئے ایک پر امن تحریک پر لے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے کامیاب حکمت عملی مہاراجہ کو مشرقی پنجاب سے ملحقہ پہاڑی جنوب کی صرف کچھ بنجر پٹریوں کے ساتھ چھوڑ دے گی۔ یہ بہت اچھا لگ سکتا ہے لیکن مہاراجہ کس طرح سوچ رہا ہے بتانے کا شاید ہی کوئی ذریعہ ہے۔ ہمیں بے خبر نہیں پکڑا جانا چاہئے، اور واحد راستہ یہ ہے کہ ہر واقعے کو پورا کرنے کے لئے خود کو تیار کیا جائے۔ بحیثیت ریاست کے لوگوں اور سرحد پار ہمارے لوگوں کے درمیان کیسے قائم ہو سکتا ہے، میں یہ کہہ سکتا ہوں، جناب، کہ میجر خورشید انور (مسلم نیشنل گارڈز کا) پہلے ہی راولپنڈی میں موجود ہے اور اسے رابطے کے کام سے بہت اچھی طرح اعتماد کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ریاست سے تعلق رکھتا ہے اور سرحدی علاقوں کو بہت اچھی طرح جانتا ہے۔


میں یہ بھی تجویز کروں گا، جناب، کہ اگر آپ کشمیر کے حوالے سے کوئی بیان جاری کرسکتے ہیں تو اس سے ہمارے یہاں کے لوگوں کو مدد ملے گی اور ہندوستانی ریاستوں کو لیگ پوزیشن کو واضح کرنے میں مدد ملے گی۔ جناب آپ مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے مسلم کانفرنس کے نظربند افراد کی رہائی کا مطالبہ کرسکتے ہیں جن پر اب تک کوئی مقدمہ بھی نہیں چلا، خاص طور پر اب جب کہ ہر دوسرے سیاسی قیدی اور نظربند آزاد مقرر ہیں۔ لیگ کی پوزیشن کے علاوہ اگر واضح اور دوبارہ حاصل کیا گیا تو عبداللہ کے پاؤں سے زمین اتار دیں گے۔ میں یہ اس لئے تجویز نہیں کر رہا کہ مجھے عبداللہ کے یوٹرنگز پر اشتعال دلایا گیا ہے بلکہ اس لئے کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور یقین ہے کہ لیگ واقعی انہیں نیچا دکھا رہی ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ جناب، بیان کا مندرجہ ذیل حصہ یا کچھ اور اسی اثر کے لئے فارم:


میرے نوٹس میں یہ بات لائی گئی ہے کہ بعض حلقوں میں بھارتی ریاستوں سے متعلق مسلم لیگ کی پالیسی کے حوالے سے کچھ غلط فہمی پائی جاتی ہے اور کچھ دلچسپی رکھنے والے افراد جان بوجھ کر مسلم لیگ کے بارے میں غلط بیانی کر رہے ہیں کہ وہ اپنے اپنے مقصد کی خدمت کرے اور ہندوستانی ریاستوں میں مسلمانوں کو گمراہ کر سکے۔

تیسری جون کے اس منصوبے کے مطابق جسے کانگریس اور مسلم لیگ دونوں نے قبول کیا ہے، ہندوستانی ریاستوں کے احترام میں پیراموونٹسی جو تاج کے ساتھ آرام کیا تھا وہ ہندوستانی ریاستوں کی طرف پلٹ گیا۔ قانونی اور آئینی موقف، اس لئے، تھا، اور رہتا ہے، کہ یہ ایک بھارتی ریاست کے سربراہ کے طور پر حکمران ہے جو اپنی ریاست کی جانب سے مذاکرات کر سکتا ہے اور کسی ایک یا دوسرے تسلط میں شامل ہونے کا حتمی فیصلہ لے سکتا ہے۔500 عجیب ریاستیں جنہوں نے ہندوستانی یونین اور دیگر لوگوں کو قبول کیا ہے جنہوں نے پاکستان کو قبول کیا ہے اسی طریقہ کار پر عمل کیا ہے۔ اس میں ترمیم یا تبدیلی نہیں کی جاسکتی سوائے اس کے کہ دونوں مقبوضات کے مابین اور ہندوستانی ریاستوں کے حکمرانوں کے اتفاق رائے سے۔ ہم تیار ہیں اور پاکستان پہلے ہی بھارتی حکومت سے اس بنیاد اور شرائط پر مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے جس کے تحت وہ اس بات پر متفق ہوں گے کہ الحاق کا سوال بھارتی ریاستوں کے عوام کے حوالہ کیا جائے۔


مسلم لیگ ہمیشہ پوری دنیا میں عوام کے حق خود ارادیت کے لئے کھڑی رہی ہے اور یہ ہی اصول تھا جس نے مسلم لیگ کی طرف سے پاکستان کے مطالبے کی بنیاد تشکیل دی۔ یہ منصوبہ بندی وغیرہ کے تحت ریاستوں کی پوزیشن کی تشریح سے بالکل مختلف سوال ہے۔

میں نے تجویز کیا ہے، جناب، اپنے خام انداز میں کہ مسلم لیگ اور پاکستان کو کشمیر کے حوالے سے کیا کرنا چاہئے۔ یہاں مشکلات یہ ہیں کہ مسلم کانفرنس کو کوئی پریس نہیں ملا ہے اور یہاں تک کہ غیر جانبدار پریس کو بھی مجروح کیا جاتا ہے۔ اگر تھوڑی سی غلطی سے ہمارے یہاں کے لوگ حکومت کو طاقت کے استعمال کا موقع دیں تو میرے ذہن میں کوئی شک نہیں، جناب، وہ ڈوگرہ فوجی ہر گھر میں گھس کر مسلمانوں کو پکڑ کر گولی مار دیں گے۔


میں نے ابھی ابھی سنا ہے کہ شیخ عبداللہ نے اپنے ایک لیفٹیننٹ مسٹر جی ایم صادق کو مسٹر لیاقت علی کو دیکھنے کے لئے لاہور بھیجا ہے۔ اس سے آگے، ابھی کچھ معلوم نہیں ہے۔



مکمل تحریر >>

Thursday, September 3, 2020

پاکستانی سیاست / جمہوریت کا المیہ ۔ رفعت رشید عباسی

 پاکستانی سیاست / جمہوریت کا المیہ

تحریر: رفعت رشید عباسی 


پاکستان میں جمہوریت وہ بھیڑ ہے جو بھیڑیے کے جبڑوں میں سسک رہی ہے

اور

جمہوریت کے خیر خواہ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ اس تڑپتی سسکتی جمہوریت کو اس عذاب سے نجات دلانے کے لیے اپنی جاں لڑا رہے ہیں  

لیکن

بدقسمتی سے حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے

جمہوریت کی خیر خواہی کا لبادہ اوڑھے یہ سب لوگ درپردہ بھیڑیے کی خوشنودی حاصل کرنے میں ہی دن رات لگے ہوئے ہیں 

کہ  

کسی طرح وہ ان سے راضی ہو جائے اور اس بھیڑ کے چیتھڑوں میں سے کچھ حصہ انہیں عنائت کر دے.


حقیقت کتنی بھیانک ہے 

کہ

بھیڑ جن کو اپنا سمجھ کر ان سے امیدیں لگائی بیٹھی ہے  وہ  اصل میں بھیڑیے کے غلام ہیں.


ان غلاموں میں سے جسے یہ حصہ مل جاتا  ہے اس کے لیے یہی جمہوریت ہے اور وہ بھیڑیے کا ترجمان بن کر اس کے گن گانے میں لگ جاتا ہے 

اور 

جو اس  سےمحروم رہ جاتا ہے 

وہ جمہور کی خیر خواہی کے نام پر شور شرابا کر کے اپنی اگلی باری کی راہ ہموار کرنے  میں لگ جاتا ہے 

اور اس سارے عمل کو عوامی حقوق، جمہوریت کا استحکام، آئین کی بالادستی جیسے خوبصورت نام دیتا ہے۔ 


عوام کے ہجوم میں ان کے منہ انقلاب کےشعلے اگل رہے ہوتے ہیں  اور اسی لمحے ان کے  کان کسی خاص "پیغام" کے بھی منتظر  ہوتے   ہیں  اس آس میں کہ کب نظر کرم ہو جائے۔ 


یوں دوہرے چہرے رکھنے والے عوام میں انقلابی اور بھیڑیے کی در پر سوالی بنے رہتے ہیں۔  


ان کا سارا اانقلابی پن بھیڑیے کی رضا کی حدود میں ہی رہتا ہے اور وہ اطاعت وفرمانبرداری کی حد کبھی پار نہیں کرتے ہیں کہ  کہیں بھیڑیے صاحب کو غصہ آ جائے اور خواہ مخواہ عوام ، جمہوریت اور انقلابی پن کے نام پر آئندہ نسلوں تک کے اس ملک پر حکمرانی کے امکانات داو پر لگ جائیں۔ 


جب تک سیاست اس بزدلانہ  و منافقانہ انداز سے پاک نہیں ہو گی عوام کا حق حکمرانی بحال نہیں ہو سکتا۔


 آئین کی کتاب میں لکھے چند حروف کے پیچھے اگر منظم و باشعور عوامی طاقت نہیں ہو گی تو کوئی بھی اور "طاقت"  ان حروف کی حرمت کی پاسداری کبھی نہیں کرے گی.


مکمل تحریر >>

Sunday, August 30, 2020

قوم پرستوں کے 16 ارب ڈالر کے دعوے اور حقیقت.اظہر فخرالدین

 قوم پرستوں کے 16 ارب ڈالر کے دعوے اور حقیقت


ہمارے قوم پرست دوست حضرات اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان کے 

بینکوں میں سے کشمیریوں کا پیسہ اگر نکال لیا جائے تو پاکستان دیوالیہ ہو جائے۔ ویسے تو اس دلیل کی حثیت منگلا ڈیم اور پانی کی رائلٹی کے غبارے جیسی ہی ہے مگر آئیں آج اس دعوی کا بھی جائزہ لے ہی لیتے ہیں، عقلی بنیادوں اور اعداد و شمار کی روشنی میں۔


 قوم پرست دوست کوئی لگ بھگ 16  ارب ڈالر سالانہ کا دعوی دائر کرتے ہیں۔ یعنی بیرون ملک کشمیری اتنے پیسے سالانہ پاکستانی بینکوں میں بھیجتے ہیں۔


ایک اہم بات سمجھنے کی یہ ہے کہ ترسیلات زر، یعنی بیرون ملک سے آنے والے پیسوں میں کشمیری اور پاکستان کے باقی صوبوں کے رہنے والے افرد کا الگ الگ حساب کتاب نہیں ہوتا۔ سب کے پیسوں کو ملا کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایک ٹوٹل فگر جاری کرتا ہے۔


اب آتے ہیں اعدادو شمارکی طرف


پاکستان میں ترسیلات زر کی مد میں بینکوں کے زریعے لگ بھگ 23 ارب ڈالر سالانہ بھیجے جاتے ہیں۔


بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد 8.8 ملین ہے۔ 88 لاکھ۔ جو آزاد کشمیر کی کل آبادی کا دوگنا سے بھی زائد ہے۔ آزاد کشمر کی کل آبادی لگ بھگ 40 لاکھ ہے۔  بیرون ملک کشمیریوں کی ٹھیک تعداد کے کوئی اعداد و شمار مرتب نہیں۔اگر ہم پاکستان کے اوور سیز رہائشیوں کی اوسط کے لحاظ سے اندازہ لگائیں ےتو کوئی دو لاکھ کے قریب کشمیری بیرون ملک ہونگے۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ 88 لاکھ ملکر 7 ارب بھجواتے ہوں اور دو لاکھ 16 ارب ڈالر؟ کیا عقل اسکو مانتی ہے؟

(دو لا کھ کے فگر میں کمی بیشی ممکن ہے ایک دوست کے اندازے کے مطابق یہ کوئی چار لا کھ  یا اس سے بھی زائدہ ہو سکتے ہیں  بہر حال صحیح تعداد معلوم نہیں. )


چلیں اسکو بھی رہنے دیں۔ پاکستان کو موصول ہونے والی ترسیلات زر میں پہلے نمبر پر سعودیہ، دوسرے پر یو اے ای  آتے ہیں۔یہ دونوں ملکر 23  ارب ڈالر کا آدھا حصہ بھیجتے ہیں۔ کشمیری تو صرف برطانیہ میں ہی بڑی تعداد میں آباد ہیں، اور وہی زیادہ خوشحال بھی ہی ۔ برطانیہ کا کل ملا کر 3 سے 4 ارب ڈالر بنتا ہے۔ اس میں 11 لاکھ پاکستانی شامل ہیں اور اور کوئی ایک لاکھ کشمیری۔ باقی اندازہ آپ خود ہی لگا لیں کہ ان 3,4 ارب میں سے کون کتنا بھیجتا ہو گا؟


اور ویسے آپ کہتے ہیں کہ ستر فی صد عوام آکے ساتھ ہے۔ توکیوں نہیں آپ عوام کوکہہ کر ایک مہینے کے لیے ہی سہی  ان 16ارب ڈالرز کو بینکوں سے نکلوا لیتے۔ پاکستان بھی آپ کے گھٹنوں میں لیٹ جائے گا اور آپ کا دعوی بھی سچ ثابت ہو جائے گا۔


خدارا سچ تو بولیں۔ کہاں سے آپ لوگ کہانیاں اور افسانے گھڑتے ہیں۔ کیا آپکو سچ کا سامنا کرتے ہوے شرمندگی نہیں ہوتی؟


مکمل تحریر >>

Friday, August 21, 2020

جوان سعید نام کی طرح جوش ۔ سراپا تحریک ۔اسعد فخرالدین



جوان سعید جوش
اپنے لہو سے سینچے اس گلشن میں آئی بہاروں پر خوش ہے
اپنی لگائی فصل کے بارآور ہونے پر شاداں ہے
لیکن
ظلم کے مقابل بے جگری سے لڑنے والے اپنے ابتدائی ساتھیوں کو یاد کر کے افسردہ بھی ہو جاتا ہے جو اس بہار کو دیکھنے سے رہے 
نام کی طرح پرجوش ، استقامت کا مینارہ 
خالد صاحب ! ان کی دھڑکنوں کومحسوس کریں 
میجر صاحب !!ان کے چہرے پر کھلی مسکراہٹ  اور اطمینان  کو دیکھئے 

غربی باغ کے باشعور لوگو! 
جانتے ہو اس مسکراہٹ کے پیچھے کتنی لمبی داستان ہے؟ 
ظلم بربریت، لاقانونیت ، اجارہ داری اور سرداری کی داستان ۔۔۔۔

اس مسکراہٹ کے پیچھے تو چار دہائیوں کی وفا ہے 
عزم و استقامت  ہے
 نظریے سے محبت ہے 
مشن سے لگن ہے

وقت نے کروٹ بدلی ہے 
جہاں  دو ووٹ زیادہ نکلنے پر پورے گاؤں کو لائن حاضر کر کے بے توقیر کیا جاتا تھا 
جہاں  گلیوں میں آپ کو لہولہان کیا جاتا رہا، جہاں آپ نے جبر کے پہاڑ سہے 
آج اس نیلہ بٹ نے بالآخر  انگڑائی لی ہے 
انقلاب کی صدا پر پیر و جواں لبیک کہنے نکل پڑے ہیں

اندھیروں کے پیامبر
آخری وقت تک اس روشنی کے سفر کو روکنے میں لگے رہے 
لیکن نامراد رہے

پوری زندگی استقامت کے ساتھ ڈٹے “جوش” صاحب  نے دھیرکوٹ کی بازاروں و چوراہوں میں جس “شعوری جدوجہد” کی ابتداء چار دہائیاں قبل کی تھی   
آج اس نے دلوں کو مسخر کرنا تیز تر کر دیا ہے
 ظلم کی علامت بن چکے مافیا کی نسلوں کی غلامی سے عوام بغاوت کر چکے
مقافات عمل کی چکی پسنا شروع ہو گئی ہے 
ہر کارکن سعید جوش بن گیا ہے 
ظلم کے خلاف چٹان بن گیا ہے 
اسعد فخرالدین

 


 

مکمل تحریر >>

Wednesday, August 19, 2020

سینٹر کا بیٹا ویگن کے انتظار میں ۔ اسعد فخرالدین

 اولاد !

جس کے لئے انسان خود بھوکا رہ سکتا ہے۔۔۔سختیوں برداشت کرسکتا ہے۔۔دکھ درد سہہ کر ان کو کو ہر طرح کی سہولتیں پہچانے کی کوشش کرتا ہے 

یہ بچہ کسی عام فرد کا بچہ تو نہیں ہے ؟ 

اس کا باپ سینٹر ہے ۔۔۔سابق وزیر خزانہ ہے ۔۔۔ سابق ایم پی اے 

ایک اچھی کرولا گاڑی اور ڈرائیور تو لیکر دے سکتا ہے 

بالکل ! 

مگر یاد رکھیں اس نے بار ہا اپنی انٹریوز میں کہا ہے کہ میرا گزارہ مشکل سے ہوتا ہے  میری آمدن کے ذرائع سینٹ کی تنخواہ اور گاؤں میں ایک چھوٹے سکول میں پارٹنر شپ ہے

یہ بیٹا سینٹر سراج الحق امیر جماعت اسلامی پاکستان کا بیٹا ہے جو بس سٹاپ پر بیٹھا  گاڑی کا منتظر ہے 

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کسی جماعت کے امیر کا بیٹا اڈوں میں ویگنوں کے انتظار میں بیٹھا رہے


مجھے اس تصویر سے منور حسن صاحب سابق امیر جماعت اسلامی یاد آگئے ان سے کسی نے پوچھا آپ کے اثاثے کتنے ہیں ، جواب دیا مقروض کے بھی اثاثے ہوتے ہیں؟ 

مزدو کا بیٹا ۔۔۔امیر جماعت اور پھر سینٹر 

مگر سچ ہے خدارا خوف دل میں ہے ورنہ کیا کمی تھی کہ اسے اے سی والی کاڑی ایک روڈ کے ٹھیکے سے لیکر ٹھیکیدار سے لیکر دے دیتا !

یہ ہے جماعت اسلامی ! 

اس کے نمائندے آپ کے  علاقوں میں موجود ہیں 

وقت ہے انہیں پہچانیں  جتنی دیر کریں گے نقصان آپ کا 

اور آنے والی  نسل کا ہوگا 

مکمل تحریر >>

بیر کا بوٹا لگا آم ۔ حلقہ چھ سماہنی۔ اسعد فخرالدین

 میری ذاتی رائے میں یہ بات شائد اتنی  ذیادہ اہم نہیں ہے کہ ایک قابل، دیانتدار ، باشعور اور اعلی درجے کا منتظم الیکشن نہ جیت پائے۔ میری نظر میں زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ پڑھے لکھے ، باشعور افراد جب سچائی کو کھلی کتاب کی طرح سامنے پاتے ہوے بھی مفادات، برادری یا ایسی ہی کسی چیز کو بنیاد بنا کر دائروں کا سفر جاری رکھنا چاہیں۔


آج ہمارے پاس وقت اور صلاحیت ہے کہ اپنا فیصلہ شعور کے ساتھ کریں۔ ہمارے آج کے فیصلے ہماری آنے والی نسلوں کے کل کا تعین کریں گے۔ 


یاد رکھیے اگر آپ بیر کے درخت کا بیج بوئیں گے توبیر کا پھل ہی کھائیں گے، اس سے آم کی توقع رکھنے میں قصور آپکا ہی ہے۔

جماعت کے امیدوار نے ایک مفصل منشور پیش کر دیا ہے۔ آپ اپنے پسندیدہ لیڈروں سے بھی انکا پروگرام اور منشور پوچھیں۔ اور پھر خود ہی فیصلہ کر لیں۔


ووٹ میرٹ پر دیں ووٹ تعلیم ، شعور اور حقیقی تبدیلی کے لئے دیں


مکمل تحریر >>

Tuesday, August 18, 2020

مافیا کے خلاف جنگ ۔ جاوید عارف عباسی غربی باغ


مافیا کیخلاف جنگ... 
مافیا کیخلاف جنگ آسان نہیں ہوتی... بہت اعصاب شکن ہوتی ہے. سیاسی جماعت کے خلاف آپ منشور  دیکر لوگوں کے ذہن تبدیل کر سکتے ہیں مگر مافیا کیخلاف جنگ میں سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ اس میں سمجھ دار اور پڑھے لکھے لوگ بھی اس کی جکڑن کا شکار ہوتے ہیں....

 اس میں سوچ اور فکر نا پید ہو جاتی ہے. مافیا میں جکڑے لوگ  اجتماعی مفاد کی بجائے ذاتی مفاد کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں....
محکموں اور  اداروں میں  اس مافیا کے کارندے معاون بنکر جگہ جگہ رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں.
مافیا کا سب سے اہم ہتھیار صالحیت کے لبادے میں چوری، کرہشن، بد دیانتی، استحصال اور لوٹ مار ہوتا ہے.
غربی باغ میں مافیا کی تعداد 2 سے 3 سو کے لگ بھگ ہے. جنہوں نےکئ ہزار لوگوں کو اپنے مفادات کے لیے یر غمال بنایا ہوا ہے...
جھوٹ، ہیرا پھیری، مکاری، لوٹ مار اور کرپشن کے ذریعے عوام کا استحصال کر رہے ہیں...
نوجوان دیکھ لیں
 تین نسلوں نے پسماندگی، غربت اور استحصال میں گزار دیے کیا آپ آئندہ بھی اسی پسماندگی اور غربت میں گزرنا چاہتے ہیں یا ایک روشن، خوشحال اور ترقی یافتہ مستقبل کیلیے بنیاد رکھنا چاہتے ہیں....
آئیے اس ترقی، خوشحالی اور اپنے جائز حقوق کی خاطر جماعت اسلامی کا ساتھ دیجیے


...

 


مکمل تحریر >>

Monday, August 17, 2020

سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے.اسعد فخرالدین

 سانحہ ساہیوال ہو، خروٹ آباد ہو، کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں گولیوں کا شکار ہونے والا نوجوان ہو یا اب  بلوچستان کا طالبعلم ایف سی کے ہاتھوں شہید ہونے والا “حیات “ہو ، کسی کیس میں قاتلوں کو سز انہیں دی گئی ویسے ہی دندناتے پھر رہے ہیں  

معاشرے کے محافظ جب قاتل بن جائیں بیچ سڑکوں میں شہریوں کو قتل کرکے عدالتوں سے بری ذمہ ہوجائیں آب تو انصاف کہاں ملے گا 

درندوں کے معاشرے میں قطر سے واپسی کے بعد بھی انصاف نہیں ملا تو حیات کے لئے کیا امید رکھیں 

سینٹر مشتاق صاحب نے سینٹ نے اس واقعہ پر بھرپور آواز اٹھائی ہے 

اس واقعہ میں ملوث ایف سی اہلکار کو کڑی سے کڑی سزا نا ملی تو کئی حیات بلوچوں کا اس ریاست سے اعتماد اُٹھ جائے گا وہ اسے اپنا دشمن سمجھیں گے پلیز ہاتھ جوڑتے ہیں حضور خدارا اپنا مستقبل اس ملک کا مستقبل بچا لیجیے خدارا نا لیجیے ماوں کی بدعا خدارا


سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے


#JusticeForHayatBaloch


اسعد فخرالدین

مکمل تحریر >>

Tuesday, August 11, 2020

مزدور کا بیٹا راحت قریشی سے راحت اندوری ۔ مسعود ابدالی

جھوٹوں نے جھوٹوں سے کہا ہے سچ  بولو

سرکاری اعلان ہوا ہے سچ بولو

گھر کے اندر جھوٹوں کی اک منڈی ہے

دروازے پر لکھا ہوا سچ بولو

 آہ! راحت اندوری

ممتازشاعر  ڈاکٹر راحت قریشی المعروف راحت اندوری آج اپنے آبائی مقام اندور، مدھیاپردیش (ہندوستان ) میں انتقال کرگئے۔

ایک مزدور کے گھر جنم لینے راحت قریشی نے اندور کے اسلامیہ کریمیہ کالج سے  بی اے، جامعہ برکت اللہ بھوپال س ے ایم اے اور جامعہ بھوج  مدھیہ پردیش سے اردومیں  پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں۔پروفیسر اندوری نے   مشق سخن کے ساتھ مختلف کالجوں اور جامعات میں درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ اندوری صاحب نے  فلمی نغمات بھی لکھے۔

ڈاکٹر اندوری کے مجموعہ ہائے کلام  'رت'،' دو قدم اور سہی '، ' 'میرے بعد'، 'دھوپ بہت ہے آج'۔ 'چاند پاگل ہے'۔' موجود'، اور 'ناراض' کو پزیرائی نصیب ہوئی۔ 

ڈاکٹر اندوری 10 اگست کو دل کا دورہ پڑا جس پر انھیں ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں انکا کرونا وائرس کا ٹیست بھی مثبت نکلا۔ ڈاکٹر راحت اندوری 11 اگست کو 70 سال کی عمر میں انتقال کرگئے

انتقال سے کچھ عرصہ پہلے انکی ایک غزل TikTokپر بہت مقبول ہوئی۔یہ کلام پیش خدمت ہے

نوٹ: جناب اندوری کا اصرار تھا کہ غزل کے ردیف  'نہیں' کو قدیم اردو املے کے مطابق 'نئی' لکھا جاے۔ ہم نے اندروری  مرحوم کی  خواہش کے احترام میں اسی طرح لکھا ہے 

بلاتی ہے مگر جانے کا نئی

یہ دنیا ہے ادھر جانے کانئی

مرے بیٹے کسی سے عشق کر

مگر حد سے گزرجانے کا نئی

کشادہ ظرف ہونا چاہئے

چھلک جانے کا بھرجانےکا نئی

ستارے نوچ کر لے جاونگا

میں خالی ہاتھ گھر جانے کا نئی

وبا پھیلی ہوئی ہے ہرطرف

ابھی ماحول مرجانے کا نئی

وہ گردن ناپتا ہے ناپ لے

مگر ظالم سے ڈرجانے کا نئی


مکمل تحریر >>

Thursday, August 6, 2020

مثالی امیر اور مثالی کارکن ۔شمس الدین امجد

مثالی امیر مثالی کارکن
۔
ابھی امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق صاحب سے بات ہوئی۔ معلوم ہوا بائی روڈ اسلام آباد سے کراچی کی طرف عازم سفر ہیں۔ گزارش کی کہ بائی ائیر جانے میں آسانی رہتی۔ کہا کہ آج پارلیمنٹ کا مشترکہ سیشن تھا۔ اس سے فراغت ہوئی تو کوئی فلائٹ دستیاب نہیں تھی۔ کل موسم خراب بتایا گیا، معلوم نہیں فلائٹ دستیاب ہو یا نہیں۔ اس لیے بائی روڈ نکل پڑے ہیں۔ 
۔
اللہ تعالی امیر صاحب کو خیر و عافیت سے منزل تک پہنچائے۔ جماعت کی انفرادی خصوصیات بیان کی جائیں، یا حل صرف جماعت اسلامی کا کہا جائے تو بعض دوست تعجب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر آپ بتائیے کہ کسی اور پارٹی میں کہاں ایسے امیر اور سربراہ ہیں جو مشکل وقت میں اپنے کارکنان کے درمیان جانے ان کے حوصلے بڑھانے کو بےتاب ہوں۔ یہاں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا کوئی مرحلہ آئے تو قیادت غائب ہوتی ہے یا کارکن، اور قیادت گاہے سات پردوں میں چھپ جاتی ہے، مگر یہ اللہ کا کرم اور جماعت کا خصوصی امتیاز ہے کہ اس کا امیر ہو یا ادنی کارکن، دونوں ایک دوسرے کی ڈھال ہیں، دونوں میدان میں موجود رہتے ہیں، ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔ کسی کو شاید یہ چھوٹی بات کو بڑا بنا کر پیش کرنا نظر آئے مگر ایک لمحے کو ٹھہریے اور خود سوچیے کہ نفسا نفسی کے عالم میں بھلا کہاں ایسے ہوتا ہے۔ کارکن کو چلتے کارواں میں کچھ ہو جائے تو چند لمحے رک کر گاڑی سے اتر کر اس کا حال پوچھنا گوارا نہیں کیا جاتا، کجا کہ اس کے گھر جایا جائے۔ مگر سراج الحق صاحب روانہ ہوئے ہیں، لمبا سفر، مگر آرام کرنے کے بجائے کل ہسپتال جائیں گے، کارکنان کے گھروں میں جانا ہوگا، رفیق تنولی شہید کے اہل خانہ کو حوصلہ دینا ہوگا۔ اور یہ سب کرکے کل رات کسی وقت پشاور روانہ ہوگا کہ اگلے دن وہاں مصروفیات طے ہیں۔
۔
اللہ تعالی اس اجتماعیت کی برکت کو برقرار رکھے، اور اہل پاکستان کو اس کی توفیق دے کہ اپنے حقیقی خیرخواہوں کو پہچانیں اور اس قافلے میں شامل ہو جائیں۔ آمین. شمس الدین امجد
مکمل تحریر >>

Sunday, August 2, 2020

عجیب اتفاق: ۵ اگست سقوط کشمیر کے دن پاکستانی ٹیم کی انگلیڈ میں سیریز۔اسعد فخرالدین

‫ ‫۵ اگست کو پاکستان اور انگلیڈ کے درمیان کرکٹ سیریز کا پہلا میچ مانچسٹر میں ہو گا۔ اسی دن پورے ملک میں ایک منٹ کی خاموشی ہو گی ممکنہ طور پر عارف لوہار کا ایک گانا اور بھی ریلیز ہو جائے۔ افسوس اس بات کا ہے اسی دن مانچسٹر کے کشمیری بھارتی دفتر کے باہر مظاہرہ کر رہے ہونگے اور حکومتی سربراہی میں اندر میچ چل رہا ہو گا۔ بس ان کی ترجیحات میں کشمیر کہیں دور دور بھی نہیں ۔ ‬
‫عمران نیازی کا دور اس لئے تاریخ کا بدترین دور رہا کہ ۵ اگست کو دور نیازی میں کشمیر کی آئینی حثیت ختم کرکے اسے بھارت میں ضم کر لیا گیا۔یوں ایک نیازی نے سقوط ڈھاکہ اور دوسرے نے سقوط کشمیر کیا۔ایک باشعور غیرت مند کشمیری اس کے گن  کس طرح گاتا ہے  کیسے ان ضمیر فروشوں کی کیمپین کرتا ہے ، کیسے ان کے پینا فیلکس پر تصاویر چھپوا کر فخر کرتا ہے اور وہ ان سے کس تبدیلی کا خواہش مند ہے یہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔ ‬
‫جب تک آپ خوداپنے  ضمیر کوشعوری طور پر بیدار نہیں کریں گے  دنیا کی کوئی قوت آپ کو بدل نہیں سکتی ۔ 
پس پشت قوتیں دونوں “سقوط” میں وہی ہیں ‬
‫⁧#اگست_5_یوم_سقوط_سرینگر‬⁩ 


مکمل تحریر >>

Thursday, July 23, 2020

Asia Andaribi Shifted to Tihar Jail ward toady.Asaad Fakharuddin

SRINAGAR: Asiya Andrabi, a female Hurriyet leader of Occupied Kashmir and chairperson of Dukhtaran Millat with female accomplices have been shifted to world known notorious “Tihar Jail “today.
Ahmed,son of Asiya, tweeted that his mother and her two female colleagues had been transferred to the Tihar Jail. My mother is 60 years old while Nahida is 54 & Fehmida Sufi is 32 years old. All three women suffer from various diseases.
Asiya Andrabi is in favor of Kashmir's accession to Pakistan.She has spent most of her life in Indian jails.Asiya Andrabi is the founder of the Kashmiri Women's Organization,Dakhtar-e-Millat. Asiya Andrabi is one of the most important women in Kashmir. 
Proponents of Asiya Andrabi call her the Iron Lady. Asiya's husband Dr Qasim Fakto has also been in jail for 28 years.



مکمل تحریر >>

Wednesday, July 22, 2020

فواد چودھری کا مقصد ان کی مدد کرنا نہیں بلکہ صرف فتنہ گری ہے، جس سے وہ قوم میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں.انجئیر معروف الغنی صدیقی


فواد چودھری کا مسلہ

کل پہلی مرتبہ نہیں تھی ، جب فواد چودھری صاحب نے چاند کے مسلے کو متنازعہ بنانے کی کو شش کی، 

بلکہ گذشتہ کئی مرتبہ سے انھوں نے مستقل یہ وطیرہ اپنایا ہوا ہے، اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ مولوی تو سائنس کے دشمن ہیں ، لہذا یہ سائنس سے استفادہ ہی نہیں کرتے

بات یہیں تک نہیں رہی بلکہ انھوں نے عملا 3 مرتبہ رویت ہلال کے عمل میں باقاعدہ intervention کرتے ہوئے، کمیٹی پر زور دیا ہے کہ مہینہ شروع ہونے کا اعلان اس ہی دن کیجئے جس دن وہ بتا رہے ہیں۔

 ہر ادارہ کا اپنا SOW  ہے اور اگر کوئی دوسرا،  اس میں مداخلت کرتا ہے تو وہ گویا اس میں بگاڑ پیدا کرتا ہے

روئت ہلال بھی اس ہی طرح حکومت کا ادارہ ہے اور اس کا فیصلہ ( غلط یا صحیح )  دراصل حکومت کا فیصلہ ہے، اس کو میڈیا کے اوپر اچھالنا اور اس پر لڑنا نہ صرف یہ کہ بالکل غلط ہے ، بلکہ حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

لہذا حکومت کو چاہئے کہ اس مسلے کو سنجیدہ لیں اور بگاڑ کو ہوا دینے کے بجائے وہ فواد چودھری کی فتنہ گری کی سرکوبی کے لئے ان کے خلاف تادیبی کاروائی کریں ، اور وارننگ دیں کہ اگر آئندہ اس قسم کا کوئی بیان منظر عام پر آیا تو ان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔

جہاں تک بات روئت کی ہے تو اس کے متعلق فواد چودھری یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ رویت ہلال کمیٹی ، پہلے ہی Pakistan meteorological department کے تعاون کے ساتھ کام کرتی ہے ، جس کے پاس وہ تمام data اور  calculations موجود ہوتی ہیں جس کا اظہار وہ میڈیا پر آ کر کرتے ہیں

کچھ سادہ لوح( TV anchors ) لوگ پھر بھی اصرار کرتے ہیں کہ کیا برائی ہے اگر مفتی منیب ، فواد چودھری کے مشورہ سے استفادہ حاصل کریں، تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ مفتی صاحب یہ کام پہلے ہی کر رہے ہیں اور برسوں سے کر رہے ہیں،  اگر وہ سائنس کے دشمن ہوتے تو telescope اور سائنسی آلات سے بھی مدد نہ لیتے۔

لیکن فواد چودھری کا مقصد ان کی مدد کرنا نہیں بلکہ صرف فتنہ گری ہے، جس سے وہ قوم میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں



مکمل تحریر >>

Monday, July 20, 2020

وادی سماہنی پونا پل حادثہ کو چھ سال مکمل ہوگئے۔اسعد فخرالدین


آج پونا وادی سماہنی حادثہ کو چھ سال گزر گئے۔ 
پل کی حالت اس سے بھی بدترین ہو گئی ہے۔
گذشتہ دس سال سے ہمارے ممبر قومی اسمبلی ھفتے میں ایک بار تو اس پل سے گزرتے ہونگے۔
سچ ہے جب جوابدہی کا احساس نہ رہے، عوام  حلقہ قومی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دیں تو پھر اگلے ۵ سال بھی بجلی کا مسئلہ، ہسپتال میں عملہ کی تعیناتی، بحرانوں میں خاموشی ، گرڈ اسٹیشن ، جنڈالہ سے پیر گلی روڈ، تعلیمی اداروں میں  من پسند تعیناتیاں، ایڈھاک ازم پر کمیشن حلقہ کے لوگوں کا مقدر رہے گا۔
اسعد فخرالدین

مکمل تحریر >>

Saturday, July 18, 2020

آزاد کشمیر جماعت اسلامی کے پانچویں امیر اور جمہوری روایات۔ اسعدفخرالدین

جماعت اسلامی آزاد کشمیر و گلگت و بلتستان کے نئے امیر کی حلف برادری کی تقریب آج مرکز اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ 
دونوں سابق امراء جماعت اسلامی کی شرکت اور نو منتخب امیر کو دعائے استقامت دی۔
کیا یہ کسی دوسرے جماعت میں ممکن ہے، گروپنگ، لابی، ایک دوسرے کی ذات پر کیچڑ اچھالنا ، جتھے بازیاں ، بیانات، بلیک میلنگ اور نہ جانے کیا کیا  اور غضب تو یہ اب تو ڈائریکٹ سیلکشن ہوتی ہے۔
الحمد اللہ جماعت اسلامی ایک جمہوری جماعت ہے جس میں شورائیت کا نظام ہے۔یونین کونسل سے امیر تک کا انتخاب اراکین کرتے ہیں  مولانا عبدالباری صاحب ، کرنل رشید عباسی صاحب، عبدالرشید ترابی صاحب، اعجاز افضل صاحب اور اب ڈاکٹر خالد خان صاحب میں سے کوئی بھی رشتہ دار یا فیملی ممبر نہیں۔
الحمد اللہ یہ تنظیم اراکین جماعت کی ہے جو اپنی قیادت خود چنتی ہے اور اس کا اپنا الیکشن کمیشن اور انتخابی شاد و شفاف طریقہ ہے۔
کاش میرے وطن کی سب پارٹیوں میں یہ طریقہ رائج ہو جہاں احتساب، چناؤ  اور جمہوری روایات اتنی مستحکم ہوں کہ  قیادت کو ملک کا وزیر اعظم بننے کے بھی بیساکھیوں کا سہارا نہ لینا پڑے 
اسعد فخرالدین 




مکمل تحریر >>

Friday, July 17, 2020

کوئی میرا سلام میجر لطیف تک پہنچا دے ۔ زبیر منصوری


کوئی میرا سلام میجر لطیف خلیق تک پہنچا سکے تو پہنچا دے
اگر کوئی ان کے ہاتھ پر بوسہ دے سکے تو دے دے
میں انہیں زیادہ تو نہیں جانتا 
شاید کبھی ملا بھی نہیں 
ممکن ہے کہیں دیکھا ہو
مگرایسے لوگ نہ جانے کیوں ہمیشہ سے ہی بڑے اچھے لگتے ہیں ایک وہ میرے ڈاکٹر تھے ڈاکٹر نذیر شہید  ایک یہ میرے میجر صاحب ہیں 
یہ شیروں گے شکاری قبیلے کے لوگ ہوتے ہیں 
اللہ کی زمین پر اللہ کی نعمت 
ہوتے انسان ہی ہیں انسانوں والی خامیاں بھی ہوتی ہیں مگر عادتیں جی داروں والی لے کر پیدا ہوتے ہیں انہیں شکستیں شکست نہیں دے پاتیں 
یہ کسی اور ہی مٹی کے بنے ہوتے ہیں 
ہار کر بھی جیتے ہوئے لوگ اپنوں کے درمیان اپنوں جیسے اپنے اپنے لگنے والے اپنے بلکہ اپنوں سے بڑھ کر اپنے لوگ۔۔۔

بھلا  سوچو توسامنے تھاکون؟
سرزمین کشمیر کا سب سے بڑا لٹیرا جو وزیر اعظم ہوتے ہوئے اپنے ہی شہر کی طرف جاتی اپنی ہی سڑک کے پیسے بد دیانتوں سے نہ بچا سکے
جو دہائیوں سے پنڈی کی بے ساکھیوں کے سہارے کشمیر پر مسلط  ہومگر کشمیر یوں کے لئے بے فیض !
جسے ایک عام برگیڈئیر بھی تین گھنٹے نتظار کروا کر بیس منٹ کا وقت احسان کرتے ہوئے عنایت کرے
آزادی گشمیر کے لئے پہلی گولی چلانے کا مقدس کام جن کے لئے انتخابی نعرے سے بڑھ کر کچھ نہ ہو جن کے لئے اقتدار اپنے سے بڑوں کے احکامات کو اپنا کمیشن رکھ کر نافذ کر دینے سے زیادہ کچھ نہ ہو وہ سردار سامنے ہو اور اس کی ابا سے لے کر سارے سیاسی  گرگوں سے سیکھی چالیں سامنے ہوں وہ جو جانتے ہیں کہ دھونس اور دھاندلی کے "شفاف طریقے "کیا ہیں اور یہ بھی جانتے ہوں کہ سامنے والے کے ووٹ کاٹے کیسے جاتے ہیں؟
ایسے میں ایک میجر اٹھے ہو بھی وہ نظریہ پرستوں کے قبیلہ کا نہ اقتدار میں رہا ہو اور نہ پرکاری اور شاطرانہ چالوں کے داو پیچ جانتا ہو اور پھر مقابلہ کرے شیروں کی طرح اپنے اردگرد اپنے ہی جیسے شیر جمع کرے جو جانیں ہتھیلیوں پر رکھے اس کے قدم بقدم چلنے کو ہر دم تیار ہوں پھر اس جرات سے مقابلہ کرے کہ وہ حاکم جو کبھی کسی سے ووٹ مانگنے کے روادار نہ تھے گلیوں اور بازاروں میں "ٹکےٹکے" کے لوگوں کی ٹھوڑیوں کو ہاتھ لگاتے پائے جائیں بھلا اور فتح کیا ہوتی ہے؟
ویلڈن میجر صاحب اللہ تمہیں سلامت رکھے اللہ تم جیسوں کو سلامت رکھے تم ہمارا فخر ہو تم ہمارا اعزاز ہو تم ہمارے آج اور کل کی کامیابیوں کی نوید ہو ہم اللہ سے تم جیسے اور مانگتے ہیں اور تم جیسے تیار کرنا چاہتے ہیں
کوئی میرا سلام میجر خلیق تک پہنچا سکے تو پہنچا دے
اگر کوئی اس کے ہاتھ پر بوسہ دے سکے تو دے دے

خود کلامی ۔۔۔زبیر منصوری
مکمل تحریر >>

Monday, July 13, 2020

13-Jul-1931, when it took 22 #Kashmiris lives to complete single Azan


July the 13th 1931, Srinagar, a young man was shot dead by the Dogra Army in the mid of call for prayer(Adhan). What followed was astonishing; one after the other, 22 men of faith came forward, all shot dead before the holy call was completed.
This incident will always be remembered in history as a sign of valour of the brave Kashmiri people. To date the unjust and cruel exercise of power is continuing in kashmir whereas the flag bearers of human rights and justice have turned a blind eye to Indian atrocities.
Said Dr Khalid Khan Ameer JI AJK & GB 


مکمل تحریر >>

بریکنگ نیوز اور انارگی .وادی سماہنی



ان کو صحافی مت کہیے  یہ یو ٹیوبرز ہیں جنھوں نے معاشرے کا امن خراب کر رکھا ہے 
جن کے اپنےقریبی عزیز  کرائم کیسز اور چوری میں مطلوب ہیں ، جنھوں نے سماہنی ہسپتال عورت کے کیس  کے واقعے ، چوکی تھانے میں فیصلہ دینے تک سے لیکر رملوہ کیس اور دیگر معاملات میں جانبداری سے کام لیا ہے۔ انتظامیہ اور چند سلجھے ہوئے صحافیوں کو چائیے کہ فورا” انتظامیہ سے مل کر رپورٹنگ کے ایس او پیز اور صحافیوں کو ایک ہی پریس میں انرول کرے۔ 
علاقے کا چند لائکس کے لئے اور بریکنگ نیوز کے چکر میں پورے علاقے کا  سکون چھین لیا ہے 
جو اشتعال دلانے کے بعد معزرتیں پیش کریں ، لاشیں گرنے کے بعد افسوس کا اظہار کریں انہیں بہت پہلے احتجاجا” ان فرینڈ کر دیا تھا ۔ 
قلم کا مقصد آگہی دینا ہے فتنہ پھیلانا نہیں۔ صحافت کا مطلب مظلوم کی آواز بننا ہے اور انصاف سے کام لیکر رپورٹ مرتب کرنا ہے جج بننااور  کسی کی عزت کی دھجیاں اڑانا نہیں 


مکمل تحریر >>