Friday, June 11, 2021

لیڈر کے انتخاب پر میرٹ کیسے ممکن ہو؟ ڈاکٹر اظہر فخرالدین

 لیڈر کے انتخاب پر میرٹ کیسے ممکن ہو؟ 

کیا آپ نے کبھی علاج کروانے سے پہلے ڈاکٹر کا قوم یا قبیلہ پوچھا؟ جب ہمیں کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے تو ہم قابل ڈاکٹرز کی تلاش کرتے ہیں۔ کیوں؟


بچوں کی تعلیم: کیا ہم بچوں کو ایسے سکول میں داخل کروائیں گے جو میرٹ اور اچھی تعلیم میں اپنی جان پہچان رکھتا ہو یا ایک ایسے سکول میں جو پڑھائی کے حوالے سے اوسط سے بھی کم درجے کا ہو، اور ہم صرف اسلیے اپنے بچے داخل کروا  دیں کہ وہاں کا پرنسپل بہت ہی مہمان نواز ہے؟ تعلیم کا میعار بمقابلہ مہمان نوازی یا ذاتی مراسم، دونوں میں آپ اپنی اولاد کے لیے کیا منتخب کریں گے؟


گھر کی تعمیر: کیا معمار کے انتخاب میں آپکی ترجیح علیک سلیک ہوتی ہے یا پیشہ ورانہ قابلیت؟


کھیل: اگر آپکو میچ جیتنا ہے تو کیا آپ صرف اپنے کنبے قبیلے کو بھرتی کریں گے یا اچھے بالرز، بیٹسمین ۔۔۔ پر مشتمل ٹیم بنائیں گے؟


جب ہم روزمرہ کے ان تمام اور دیگر کئی کاموں میں میرٹ کی پاسداری اور اچھی طرح جانچ پڑتال کرتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الیکشنز میں اسکا بلکل الٹ کیوں کرتے ہیں؟


کیا ہمیں اس بات کا علم ہے کہ جس بھی فرد کو ہم اپنا ووٹ دیتے ہیں یہ دراصل اسکے ہاتھ میں اپنے مستقبل کے پانچ سال تھما دیتے ہیں؟ اب کیا ہم اپنا اور اپنے خاندان کا مستقبل ایسے فرد کے ہاتھ میں دیں گے جو مسائل کا ٹھیک ادراک نہ رکھتا ہو اور نہ انکے حل کے لیے واضح وژن۔ مثلا، سماہنی کی ڈیڑھ لاکھ آبادی کیا سب ایڈہاک نوکریاں کرے گی؟ کیا ہمارے نمائندوں نے عوام کے سامنے ایک واضح معاشی پالیسی رکھی جس میں یہ بتایاگیا ہو کہ مقامی طور پر کیا زرائع معاش (local industry) ممکن ہیں؟ کیا آپ نے اپنے لیڈر سے اس پر سوال کیا؟ جب آپ سخت دھوپ میں ہاتھ میں پھول لیے ٹھنڈی گاڑی سے لیڈر کے اترنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں تو کیا آپکے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ لیڈر صاحب کی انفرا سٹرکچر، صحت، تعلیم، ماحولیات، اداروں کی اصلاح، عوامی جوابدہی ۔۔۔ کی کیا پالیسی ہے؟


 کیا ہمیں اندازہ ہے کہ ایک ووٹ جو غلط کاسٹ ہو اسکی کیا قیمت نسلوں کو چکانی ہو گی؟ 


درست لیڈرشپ منتخب کرنے کا ایک ہی راستہ ہے، سوچ سمجھ کر میرٹ پر ووٹ ڈالنا۔ اور اس انتخاب میں کسی بھی قسم کی دوستی، ذاتی مفاد یا عناد کو حائل نہ ہونے دینا۔ نہ تو کسی کی اندھی تقلید اور نہ مخالفت (ری ایکشن) میں ووٹ ڈالنا۔


 تمام نمائندوں سے خوب سوال کیجیے (اگر اپکو اس کا موقع میسر ہو) نہ کہ ہاتھوں میں مالا لیکر دھوپ میں  جلتے رہیں۔

اپنی اور اہنے ووٹ کی طاقت پہچانیے۔ یہی طرز عمل ایک تعلیم یافتہ شخص کے موافق ہے اور ایک باشعور معاشرے کی علامت۔

AF


مکمل تحریر >>

Wednesday, June 2, 2021

میں ابھی تک یہ سمجھ نہ سکی کہ لوگ کیوں شادی کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ تیری زندگی میں کوئی فرد ہو، تو آپ کو شادی کے کاغذات(نکاح نامہ) پر دستخط کرنے کی کیا پڑی ہے، یہ (تعلق) صرف پارٹنرشپ کیوں نہیں بن سکتی ہے؟"ملالہ

 ملالہ نے British Vogue کو انٹرویو دیا ہے۔ شادی، شوہر اور بچوں کے بارے میں تفصیلی بات بلکہ خیالات سامنے رکھے ہیں۔ انٹرویو سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں!!


"میں ابھی تک یہ سمجھ نہ سکی کہ لوگ کیوں شادی کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ تیری زندگی میں کوئی فرد ہو، تو آپ کو شادی کے کاغذات(نکاح نامہ) پر دستخط کرنے کی کیا پڑی ہے، یہ (تعلق) صرف پارٹنرشپ کیوں نہیں بن سکتی ہے؟"

ملالہ نے جس سیاق و سباق میں میرج پیپرز اور پارٹنرشپ کا ذکر کیا ہے وہ یقینا مغرب میں موجود تصور پارٹنرشپ اور شادی ہے، لہذا اس پر مزید بات نہیں کرنا چاہتا۔


Malala’s parents had an “arranged love marriage”, as she describes it – they liked the look of each other, and their parents worked out the rest. She isn’t sure if she’ll ever marry herself. “I still don’t understand why people have to get married. If you want to have a person in your life, why do you have to sign marriage papers, why can’t it just be a partnership?” Her mother – like most mothers – disagrees. “My mum is like,” Malala laughs, “‘Don’t you dare say anything like that! You have to get married, marriage is beautiful.’” Meanwhile, Malala’s father occasionally receives emails from prospective suitors in Pakistan. “The boy says that he has many acres of land and many houses and would love to marry me,” she says, amused.


“Even until my second year of university,” she continues, “I just thought, ‘I’m never going to get married, never going to have kids – just going to do my work. I’m going to be happy and live with my family forever.’” She turns to me, full of revelation. “I didn’t realise that you’re not the same person all the time. You change as well and you’re growing.”


مکمل تحریر >>

Monday, May 31, 2021

اہلیان دھیرکوٹ والو اپنے ہیرے کی قدر کرو۔تحریر صغیر قمر

اہلیان دھیرکوٹ والو اپنے ہیرے کی قدر کرو۔۔۔۔۔۔


وہ ابھی چوبیس پچیس برس کا درزا قد نوجوان تھا,جب اسے میں لے نیلم ویلی گیا۔کیرن ریسٹ ہاؤس کی ساتھ بہتے دریاۓ نیلم کے اس پار کشمیر کی مظلوم بہنوں کو ڈھور ڈنگر چراتے کے دیکھ کر اپنی بے بسی پر زاروقطار رودیا۔تب وہ سعودی عرب اعلیٰ تعلیم حاصل کررہا تھا۔یہ 1986 کے جون کا ذکر ہے۔تب سے میری اس کے ساتھ عقیدت ہے۔بہت جلد کشمیر کے زعفران زاروں میں باردو دھکنے لگا اور وہ پاکستان آگیا۔میں نے اپنی عقیدت دوستی میں بدل لی۔اس نے دوستی کی لاج یوں رکھی کہ میرے دکھ سکھ کے دنوں میں ساتھ کھڑا ہوا اور میرے کندھے پر اس کے ہاتھوں کا لمس ہر لمحے ساتھ رہا۔

میں نے اس مشکل ترین اور جانگسل دنوں میں مسکراتے دیکھا۔میں نے اس کے سکھ کے دن بھی دیکھے وہ عاجزی کا مجسمہ بنا رہا۔میں نے اسے کو نمازوں اور روزے کی حالت میں دیکھا۔اس کے پیچھے درجنوں پار نماز ادا کی اس کی قرات اور سوز سے دلوں کو پگھلتے دیکھا۔میں اس خوشحال دنوں میں دوستوں پر مال و متاع نچھاور کرتے دیکھا۔اس کی تعلیم اس کے اندر غراٌ پیدا نہ کر سکی۔وہ لمبے قد اور بہترین عالم ربانی ہونے کے باوجود جھک کر ملتا۔

ہم اس سے جائز و ناجائز مذاق کر جاتے مگر وہ قہقہے مار کر ٹال جاتا۔

میں نے اسے کشمیر کے مظلوموں کامقدمہ لڑتے ہوۓ ہایا۔کبھی استنبول میں,کبھی مکہ المکرمہ میں ,کبھی تریپولی میں ,کبھی خلیج کی ریاستوں میں,کبھی,عالم ارب کے نوجوانوں کی عالمی تنظیم WAMY,کبھی کوالالمپور میں کبھی,خرطوم میں کبھی قاہرہ میں,فلسطین میں,کبھی جکارتہ میں,کبھی تیونس میں۔۔۔کبھی نور تک کبھی نار تک وہ ہر اس جگہ گیا جہاں کہیں کہیں روشنی تھی۔

وہ عالم عرب کے لیے کشمیر المسلمہ جیسا جریدہ چھاپتا اور سوۓ ہوۓ عربوں کے گھروں پر دستک دیتا ہوا پایا گیا۔

میں نے سفر وحضر میں اسے رب کے ساتھ جڑا ہوا پایا۔اس کے لب رسول اللہ ﷺ پر درود سے ہم وقت تر دیکھے۔

اسے ظلم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ دیکھا۔

عسرت اور مفلسی کے دنوں میں خلیج کی آگ برساتی زندگی میں مزدوری کرتے دیکھا۔

اس کے لب پر کبھی شکوہ نہیں آیا۔ذاتی محرومیوں کا اس نے کبھی رونا نہیں رویا۔۔۔وہ رویا کشمیر کےبہتے لہو پر,فلسطین کے مظلوموں کی بے بسی پر۔

اس کے کردار کا اجلاپن اور ایمان کی دولت سے بھرے دل کی چمک چہرے پر جھلکتی ہے۔

مخالف بنانا اسے آتا نہیں ,دل میں بسا لینے کا سلیقہ خوب جانتا ہے۔

سڑیل,متعصب اور سیاسی مسافروں کے دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ان کے مفادات کے ہیٹ پر جب اس شفاف کردار کی ضرب لگتی ہے تو ان کی چیخیں دور دور تک سنائی دیتی ہیں۔

برسوں سے عوام کا لہو چوسنے والی جونکیں انہیں مسجد اور مصلہ سنبھالنے کا مشورہ دیتی ہیں ان کا کہنا ہے تم دین کو سنبھالو سیاست ہم کریں گے لیکن اس پر شمع کی طرح نچھاور ہونے والے کہتے ہیں اب کہ چنگیزی نہیں چلے گی۔۔۔۔۔تمہارے بوریابستر گول ہونے کے لمحے آ پہنچے۔۔۔۔سیاسی مداریوں اور مسافروں کی "رخصتی "نوشتہ دیوار ہے اسے آج پڑھ لو کیوں کہ جن کو تم پتھر مارتے اوربے گھر کرتے تھے,دفاتر جلاتے تھے ,سماجی بائیکاٹ کرتے تھے۔ان کی نسل جوان ہو چکی ہے۔جو سبق تم نے سکھایا تھا اس کو سننے کی تیاری کرو۔۔۔۔۔۔ ظلم جبر اور تعصب کازمانہ بہت پیچھے رہ گیا۔۔۔۔۔اب مستقبل راجہ خالد محمود خان کا ہے۔!!


مکمل تحریر >>

Wednesday, May 26, 2021

دائروں کا ایک نہ ختم ہونے والا سفر نہ جانے کب ختم ہو گا

 دائروں کے مسافر


 اگر شاہراہوں' کے اتنے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہی عوام کی ضرورت تھے تو مبارک قبول کریں۔ ایک نوٹوں کی مالا میری طرف سے بھی چڑھا دیں۔ ورنہ اڑتی چڑیا کے پر گن سکنے والی ہوشیار عوام لیڈرکو ووٹ بھی اسی حساب سے دینا چاہیے۔ یعنی جہاں 10 ووٹ ہیں وہاں 0.2 کلومیٹر روڈ کے حساب سے آدھا یا ایک ووٹ۔  اللہ جانے اتنی 'سیانی' عوام ہر بار دھوکہ کیوں کھاتی ہے؟


لوگوں کو لیڈر صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ وہ دو سو فٹ سڑک بھی تو دے سکتے تھے، یہ تو انکی مہربانی کہ دو سو میٹر سڑک دی۔ دو سو فٹ دیتے تو ہمارے پاس شکریہ کے الفاظ اور پھولوں کی مالا کے علاوہ بھی کوئی آپشن تھا بھلا؟ 


سمجھ دار لوگوں کے لیے نوٹیفیکیشن کے الفاظ ہی کافی ہیں کہ یہ صدر آزاد کشمیر کے حکم پر پی ڈبلیو ڈی کی سکیمز ہیں جو سالانہ ترقیاتی پروگرام 2020/2021 کا حصہ ہیں (وفاق ترقیاتی فنڈز کے الگ سے پیسے دیتا ہے) لیڈر صاحب خواہ مخواہ اپنے کھاتے میں دال رہے ہیں۔ ہمارے ہاں تو لوگ اسکو اپنے کھاتے میں ایسے ڈال رہے ہیں جیسے صدر آزاد کشمیر علیشان صاحب کے حکم پر سیکرٹری پی ڈبلیو ڈی علیشان صاحب اور وزیر تعمیرات و مواصلات علیشان صاحب نے یہ سڑکیں حلقہ 6 کے نمائندے علیشان صاحب کے ووٹرز کو وفاقی حکومت کا خصوصی تحفہ پہنچایا ہے۔ 


اب زرا ان سڑکوں کی کوالٹی پر نظر بھی رکھیے گا۔ آخر کو ٹھیکیدار نے اسی میں سے پیسے بچا کر آگے بھیجنے ہیں جو آپکے ووٹ خریدنے کے کام آئیں گے۔ یہ نہ ہو کہ سڑک کا اگلا حصہ زیر تعمیر ہو اور پچھلا حصہ بارش کی پھوار میں بہہ نکلا۔


دائروں کا ایک نہ ختم ہونے والا سفر نہ جانے کب ختم ہوگا ۔

تحریر ڈاکٹر اظہر فخرالدین ۔



مکمل تحریر >>

جنسی زیادتیاں اور ہماری معاشرتی ذمہ داریاں ڈاکٹر اظہر فخرالدین

 جنسی زیادتیاں اور ہماری معاشرتی ذمہ داریاں


ڈاکٹر اظہر فخرالدین

جنسی زیادتیاں دنیا بھر کے معاشروں کے لیے ایک چیلنج ہیں بلخصوص جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے جہاں ابھی بھی قانون سازی میں سقم موجود ہیں اور طاقتور مجرم اپنے سیاسی بیک گراؤنڈ اور پولیس یا عدالتی نظام کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر قانون کی گرفت سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ ریپ کا مسئلہ تمام معاشروں کو مساوی مسئلہ ہے اور اسکو رنگ، نسل، مذہب اور جغرافیے سے بالاتر ہو کر سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ اپنی نسلوں کا مستقبل محفوظ کیا جا سکے۔
جنسی زیادتیاں صرف ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی یہ انسانیت سوز جرم ایک ناسور بن چکا ہے۔  امریکہ جیسے ملک میں تقریبا ہر ایک منٹ میں ایک جنسی زیادتی سے جڑا جرم رپورٹ ہوتا ہے۔ ہر 6 میں سے 1 خاتون کا اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار یا تو ریپ ہوتا ہے یا اس پر جنسی حملہ کی کوشش کی جاتی ہے۔ مردوں کو بھی اس سے استشنا حاصل نہیں۔ ہر 33 میں سے ایک مرد بھی اسی صورتحال سے گزرتا ہے۔ Child Protective Agency کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سالانہ 63,000 بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ جس میں سے ایک تہائی تعداد 12 سال سے کم عمر بچوں کی ہوتی ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک انڈیا کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق وہاں روزانہ سو کے قریب ریپ کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں (ہر 15 منٹ میں ایک جنسی زیادتی)۔ NCRB کے اعداد و شمار کے مطابق ہر روز انڈیا میں 109 بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔ ان واقعات میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پچھلے سال ایک دو سالہ بچہ ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ 2008 میں 22,500 واقعات رپورٹ ہوے جبکہ 2018 میں 1,41,764. یہ اس انسانیت سوز جرم میں اضافے کے رحجان کی ایک خوفناک منظر کشی ہے۔ 
اسی طرح بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیوز بنانا اور انکی فروخت کے زریعے پیسہ کمانا بھی ایک گھناؤنا جرم ہے جو پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ انڈیا میں ایک ہزار کے لگ بھگ ایسے کیسز ریکارڈ ہوے۔ پاکستان میں گذشتہ سال ہی راولپنڈی سے ایک گروہ پکڑا گیا جو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرتا تھا اور اسکی فلمیں بنا کر انٹرنیٹ پر فروخت کرتا تھا۔
ارض پاکستان میں بھی حالات تشویشناک ہیں: روزانہ کم از کم 11 ریپ کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں (بحوالہ the news). آزاد کشمیر میں 2020 تک 31 واقعات رپورٹ ہوے جب کہ گلگت بلتستان میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں معاشرتی وجوہات کی بنا پر ایسے واقعات کو منظر عام پر نہیں لایا جاتا یا پھر ان اعداد و شمار کو مرتب کرنے کا نظام ابھی نسبتا کم فعال ہے۔

ایک پریشان کن امر قانون اور قانون کی عملداری کا ہے۔ ارض پاکستان میں رپورٹ ہوئے کل 22,000 سے زائد کیسز میں سے صرف 77 کو سزا ہوئی (0.8٪)۔ 5,000 کے لگ بھگ کیسز عدالتوں میں لٹکے ہوے ہیں۔ 1200 کے قریب کیسز میں ناکافی ثبوتوں کی بنا پر ملزمان کو رہا کر دیا گیا۔ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے مقامی سطح پر جنسی زیادتیوں کے بڑھتے ہوے واقعات، بلخصوص بچوں پر ہونے والے جنسی حملوں کی روک تھام کے لیے ایک قانون گذشتہ برس متعارف کروایا ہے جس کے تحت سخت ترین سزائیں اور 60 دن کے اندر اندر کیس کی سماعت کا مکمل کیا جانا ضروری ہے۔ کیس کی تفتیش ایک ڈی ایس پی لیول کا افسر مکمل کرے گا تاکہ سیاسی اثر و رسوخ کو کم سے کم کیا جا سکے۔ ان سب کے باوجود معاشرے میں بڑھتے ہوے ریپ کے واقعات پریشان کن ہیں۔ کیونکہ مجرمان کو سزا سنائے جانے کا رحجان انتہائی کم ہے۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ جنسی حملہ میں ملوث افراد کون ہوتے ہیں اور یہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپکو یہ جان کر شدید پریشانی ہو گی کہ دو تہائی کیسز میں مجرم ریپ سے متاثرہ فرد کو براہ راست جانتا ہوتا ہے۔ 38 فی صد کیسز میں یہ ایک قریبی دوست یا رشتہ دار ہوتا ہے (US Department of Justice, 2005). وادی سماہنی میں گذشتہ روز ہونے والے افسوسناک واقعے میں بھی ایک قریبی دوست ملوث تھا۔ آدھے سے زیادہ کیسز یا مجرم کے گھر پر ہوتے ہیں یا متاثرہ فرد کے گھر پر (یعنی دونوں کا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا ہوتا ہے)۔ ایک بڑی تعداد ساتھ کام کرنے والوں کی اور افسران بالا کی بھی ہوتی ہے (آفس یا تعلیمی اداروں کی مثال)۔ انجان لوگوں کے ہاتھوں ریپ کی تعداد نسبتا بہت کم ہوتی ہے۔ جہاں تک جنسی حملوں کے پس پردہ وجوہات کا تعلق ہے یہ در اصل طاقت کے زریعے کیا جانے والا جرم ہے اور اسکی کئی ممکنہ وجوہات ہیں مثلا کسی کو مغلوب کرنا، انتقام لینا، جنسی ہوس اور اسکے ساتھ ساتھ میڈیا اور دم توڑتی معاشرتی اقدار ۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی 1987 میں شائع ہوئی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق معاشرے میں عدم مساوات، معاشرتی فکری زوال، جنسی مناظر دکھانے والی فلمیں، معاشی تفریق اور بیروزگاری کا جنسی تشدد سے براہ راست تعلق ہے۔ معاشرے میں پھیلتی بے حیائی بھی ایک ایم فیکٹر ہے لیکن اس کو تمام تر وجہ قرار دینا نا انصافی ہے کیونکہ اگر یہ درست ہوتا تو مرد دوسرے مردوں کا یا بچوں کا ریپ نہ کرتے۔

سب سے اہم سوال اس جرم کو روکنے میں ہمارے کردار کا ہے۔ ہمیں ہر طرح کی عصبیت سے بالاتر ہو کر اس مسئلے کو اپنی نسلوں کے لیے ایک خطرہ سمجھ کر لڑنا ہو گا۔ معاشرے میں آگاہی پھیلانا، قانون سازی اور قانون کی عملداری، جنسی زیادتی کی کیسز کی تیز سماعت، سزاؤں کا نفاذ، مجرمان کی معاشرے میں حوصلہ شکنی کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی نسلوں کو اس حوالے سے تعلیم دینا ہو گی۔ اپنے بچوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ انھیں یہ بھی بتانا ہو گا کہ انھیں کس سے خطرہ ہو سکتا ہے۔ بچوں کو نامناسب طور پر چھونے یا برے الفاظ سے متعلق اگاہی دینا ہو گی۔ اگر بچہ سکول، مدرسے یا کسی رشتہ دار کے گھر جانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہو تو والدین کو وجوہات جاننا چاہیںں۔ بچے کو محفوظ جگہ اور محفوظ لوگوں کا concept سمجھانا چاہیے کہ خطرے کی صورت میں انھیں کس سے رابطہ کرنا ہے اور کس طرح کے لوگ یا سچوئیشن خطرناک ہو سکتی ہے۔ آجکل ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے اس میں اپنے بچوں کی سوشل میڈیا پر تشہیر بھی انکی زندگی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ والدین کو اس حوالے سے بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ ایک اہم بات متاثرہ فرد یا خاندان کے درد کو محسوس کرنے کی ہیں وہ پہلے ہی ایک اذیت سے گزر رہے ہیں اس پر سیاست کرنا، متاثرہ فرد کی شناخت کو عام کرنا یا اس مسئلے کو غیر حساس طریقے سے ہینڈل کرنا بھی انکے درد میں اضافہ کرنا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ الزام ثابت ہونے تک ملزمان کی سوشل میڈیا یا میڈیا کے زریعے کردار کشی کی بھی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی۔ ہماری ذمہ داری قانون کے نفاذ کی ہونی چاہیے نہ کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی۔



مکمل تحریر >>

Sunday, May 9, 2021

لیاقت بلوچ کے بیٹے کی پی ایچ ڈی کی ڈگری اور لبرلز کے پیٹ میں مروڑ ۔صہیب کاکا خیل


 لیاقت بلوچ کے بیٹے کی کینیڈا سے پی۔ایچ۔ ڈی کی ڈگری لینے پر اگر کشمیر یا افغانستان میں شہید ہونے والے نوجوانوں کے والدین یا اہل و عیال میں سے کوئی اٹھ کر کھڑا ہوجائے اور اعتراض کرے کے آپ نے ہمارے نوجوان کو تو جہاد کی ترغیب دے کر محاذ پر بھجوایا اور اپنے بیٹے کو کینیڈا تو پھر بھی کوئی تک بنتی ہے لیکن اب ایسے لوگ جن کو جہاد ، اسلام اور ہر قسم کے دینی شعایر سے بيزاری ہو ان کے منہ سے ایسی باتیں سننا "كهسيانی بلی کمبا نوچے" کے مترادف ہیں ۔ جتنے بھی شہدا اللّه کی راہ میں شہید ہو چکے ہیں ان کے اہل و عیال اللّه کے فضل سے انتہائی مطمین ہیں ۔ جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں یہ گزشتہ 40 سال سے لگے ہوئے ہیں جنھیں اصل درد اور مروڑ روس کی افغانستان میں ذلت آمیز شکست سے ہے جن کے آستقبال کے لیے یہ لوگ سرخ ڈولی اٹھائے طورخم پر بنگڑے ڈالتے تھے لیکن ڈولی کی بجائے انہیں سرخ تابوت میں سرخ ریچ کی لاش  موصول ہوی  جس کے بعد سے یہ حواس باختہ ہوچکے ہیں ۔۔


یہی سوال اگر اے این پی والوں سے کیا جائے کے خان عبدلغفار خان انگریز سامراج کے سخت خلاف اور مذاہم تھے۔ انگریزوں نے قصہ خوانی ، ہاتھی خیل ، اور دیگر جگہوں پر ہزاروں سرخ پوشوں کا قتل عام کیا ، ان پر تشدد کیا ان کو جیلوں میں ڈالا لیکن عین اسی وقت میں ان کا اپنا بھائی اسی سامراج کے دیس میں ڈاکٹری کی  تعلیم حاصل کرکے واپس لوٹا نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ  وہاں سے  ایک گوری بھی اپنے ساتھ بیا کر لے آیا  ۔ جس وقت خدائی خدمات گاروں کی اولاد انگریز تسلط کے خلاف جدوجہد میں جان مال اور جاییداد کی قربانیاں دے کر تنگدستی کی زندگی گزار رہے تھے اس وقت باچا خان کے دونوں بیٹے غنی خان اور علی خان سامراج کے دیس میں اعلی تعلیم حاصل کر رہے تھے ۔ کیا ان سے کوئی پوچھ سکتا ہے کے کسی غریب خدائی خدمت گار کے بیٹے کو بھجوا دیتے تعلیم حاصل کرنے کے لے کے نہیں ان کے حصہ میں صرف انگریز کی گولیاں تھی کھانے کے لیے۔ 


قیام پاکستان سے قبل دو دفعہ فرنٹیئر میں سرخ پوشوں کی حکومت بنی دونوں بار وازرت اعلی کی ھما ڈاکٹر خان صاحب کے سر پر رکھی گئی کیونکہ وہ باچا خان کے بھائی تھے کیوں نہ اس وقت کسی خدائ خدمت گار کے بیٹے کو اس منصب کے لیے منتخب کیا گیا ؟ ڈاکٹر خان نہ پہلے سرخ پوش تھے نہ بعد میں وہ صرف وزارت کے وقت باچا خان کے بھائی بن کر آجاتے اور کرسی سنبهال لیتے ۔ موصوف بعد میں اس وقت ون یونٹ کے وزیر اعلی بن بیٹھے جب باچا خان ون یونٹ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔


اے این پی والے یہ بھی بتا دیں جب 70 کی دہائی میں پشتونستان تحریک کے لیے  پشتون زلمے بنی اور مسلح تحریک کے لیے پشتون طالب علموں کو خیالی گریٹر پشتونستان کے جھانسے میں تخریب اور دہشت کی بھینٹ چڑہایا جارہا تھا تو  اے این پی کے کس لیڈر کا بیٹا وہاں کیمپوں میں تربیت حاصل کرنے گیا تھا۔


افغانستان میں فساد اور بربادی کی بنیاد اس وقت پڑی جب نام نہاد انقلابات کا آغاز ہوا  پہلے ظاہر شاہ کی  مستحکم حکومت کو ختم کیا گیا پھر اقتدار کی ہوس اور لالچ میں ایک دوسرے کا قتل عام کرتے ہویے داؤد خان کو ترکئ نے قتل کیا ، پھر حفیظ اللہ امین نے تراکی کو قتل کیا پھر ببرک کارمل نے اکر حفیظ اللہ امین کو قتل کردیا ۔ یہ قتل عام صرف حکمران وقت تک محدود نہیں ہوتا تھا  بلکہ اس حکمران کے پورے  خاندان اور حامیان کو بے دریغ قتل کیا جاتا تھا ۔ روسی جریدے کے مضمون کے مطابق نام نہاد انقلاب ثور میں کم و بیش 40 ہزار لوگ قتل ہوئے جب تراکی نے داؤد کے خلاف اقدام کیا تھا۔  


عجیب بات یہ ہے کے اس ساری کاروایوں میں اے این پی کی قیادت سب کے ساتھ کھڑی ہوا کرتی تھی۔ ظاہر شاہ سے لے کر داؤد خان ، تراکی ، حفیظ اللہ امین ، ببرک کارمل ، نجیب اللہ سب کے ساتھ ان کے گہرے روابط تھے ۔ کوئی ان سے  پوچھے کے پاکستان میں آپ بیک وقت 73 کے آئین کے خالق بھی اپنے آپ کو مانتے ہیں اور ساتھ ساتھ پشتونستان کی زیر زمین مسلح تحریک کو بھی چلاتے ہیں ۔ پاکستان میں آپ آئین ،ووٹ اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن حرام ہو جو آپ نے کبھی نادر شاہ کے وقت سے لے کر ڈاکٹر نجیب تک کسی حکمران  کو بھی افغانستان میں جمہوریت اور انتخابات پر قایل کیا ہو بلکہ ہر مسلح اور خونی انقلاب کے آپ پشتبان رہیں . 


آج کل بیٹھ کر ماضی پر یوں تجزیہ کرتے ہیں کے ہم نے تو کہا تا یہ روس اور امریکا کی جنگ ہے لیکن پاکستان اور ملا اسے جہاد کہتے تھے۔ مجال ہو جو انہوں نے ایک دن بھی افغانستان پر قابض روس کو کہا ہو کے بھائی کیوں امریکا کے خلاف جنگ افغانستان میں لڑھ رہے ہو جاؤ نکلو یہاں سے یا پھر ان کی کٹھ پتلیوں کو کہا ہو کے بابا یہ تو دراصل روس اور امریکا کی جنگ ہے تم کیوں روس کی خاطر اپنے دیس کو برباد کر رہے ہو ۔ ایسا یہ نہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ ایسا تیسرا اور غیر جانب دار فریق کہہ سکتا ہے جب کے یہ خود روس کے آلہ کار اور حمایتی تھی ۔ 


پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے روس کی افغانستان میں مداخلت کی بھی مخالفت کی تھی اور بعد میں امریکی حملے کے بھی مخالفت کی تھی کیونکے یہ اصولی بات تھی کل روس جارح تھا پھر امریکا جارح بنا ۔جب کے ان لوگوں نے روسی جارحیت کی بھی مکمل حمایت کی تھی اور پھر امریکی جارحیت کی بھی مکمل حمایتی تھے ۔  افغانستان کی بربادی کی بنیاد رکھنے والے بھی یہی تھے اس جنگ کے شعولوں کو بھڑکانے والے بھی یہی ہیں کل تک جس سامراج کے خلاف روس کی بغل  میں بیٹھ کر مخالفت کرتے تھے روس کے شکست کے بعد ایسا قلا بازی کھائی کے اسی سامراج کے گود میں جاکر ان کو پیارے ہوگئے ۔


باقی لیاقت بلوچ صاحب اور جماعت اسلامی کی اکثر قیادت کے بچے اسلامی جمیعت طلبا کا سرگرم حصہ رہے ہیں  ان کے اولاد اور عام کارکنان میں کبھی کوئی تفریق نہیں دیکھی۔


مکمل تحریر >>

مظفر نعیم شہید سے شعیب خان نیازی سے لے کر مولانا جان محمد عباسی کے فرزند تک، خود لیاقت بلوچ صاحب کے ایک رشتہ دار سے لے کر بزرگ رکن غلام علی صاحب کے فرزند تک، یہ تمام لڑکے جو شہید ہوئے، قائدین کے بچے ہی تو تھے ۔۔۔۔


 جب حسان بلوچ اجتماع عام پر کوڑا کرکٹ اکٹھا کر رہا تھا، تب کسی طرف سے تعریفی کلمات سنائی نہیں دئیے اور نا کسی نے کہا کہ چاہے لیاقت بلوچ صاحب کا بیٹا ہے مگر ایک۔مزدور کی طرح کام۔میں لگا ہے۔۔۔


مگر آج کئی فیس بُک مفکرین کو شرم آ رہی کہ ایک لڑکا جس نے کبھی اپنے باپ کے links استعمال نہیں کئے، اپنی محنت سے اپنا مستقبل بنانے میں لگا ہے تو اس پر اچھالے گئے بےسروپا الزامات کے جوابات نہیں مل رہے۔۔۔


کوئی کیسے کسی کے لئے تعلیم کے راستے بند کر سکتا ہے ۔۔ ہھر کس نے کہا کہ قائدین کے بیٹوں نے جہاد میں حصہ نہیں لیا۔۔۔


 مظفر نعیم شہید سے شعیب خان نیازی سے لے کر مولانا جان محمد عباسی کے فرزند تک، خود لیاقت بلوچ صاحب کے ایک رشتہ دار سے لے کر بزرگ رکن غلام علی صاحب کے فرزند تک، یہ تمام لڑکے جو شہید ہوئے، قائدین کے بچے ہی تو تھے ۔۔۔۔


انس قاضی بھائی سمیت کئی لڑکے جہادِ کشمیر و افغانستان سے منسلک رہے


اور اگر لبرلز نے ان بلیڈی سویلین سے ہی جہاد کی امید رکھنی تھی تو 80% بجٹ والوں کے اخراجات برداشت کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔


لہذا دلائل سے جواب دیں ۔۔۔


اور آخری بات، کسی رہنمائے جماعت اسلامی کی ایسی تقریر جس میں وہ نوجوانوں کو اپنا گھر بار، مستقبل چھوڑ کر کشمیر یا افغانستان جہاد کی دعوت دے رہا ہو، پلیز شئیر ضرور کیجئے گا ۔۔۔۔


دعاگو


مکمل تحریر >>

Wednesday, March 24, 2021

آپ چاہیں تو بنام تحریک انصاف ۔شمس الدین امجد


“آپ چاہیں تو”

زندگی بھر اسٹیبلشمنٹ کو گالیاں دینے کے بعد اس کے کندھے پر بیٹھ کر اقتدار کے مزے لوٹ اور بخوشی سلیکٹڈ کہلا سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ساتھ لائن میں لگ کر  آرمی چیف کو ایکسٹینشن دے سکتے ہیں، ایف اے ٹی ایف کے قوانین اکٹھے منظور کروا سکتے ہیں، اور اس کےلیے پارلیمانی روایات بھی توڑ سکتے ہیں۔


اور

آپ چاہیں تو

پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو سے اتحاد کرکے اسے سپیکر بنا سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

جسے چپڑاسی نہیں رکھنا تھا اسے وزیرداخلہ جیسے اہم عہدے سے نواز سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

جو قاتلوں کا گروہ تھا اور جن کے ساتھ کبھی میز پر نہیں بیٹھنا تھا، ان کا شمار نفیس لوگوں میں کرکے وزارتیں بانٹ سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

سندھ میں وڈیرہ شاہی کی دوسری شکل جی ڈی اے سے اتحاد بنا سکتے ہیں

آپ چاہیں تو 

موقع پرستوں کے طور پر معروف لوگوں کو 'باپ' میں اکٹھا کروانے کے بعد ان سے ہاتھ ملا سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

سیاسی مسافروں کو جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں شامل کروا کر اپنے ساتھ ملا سکتے ہیں

آپ چاہیں تو 

آزاد امیدواروں کو کبھی پارٹی میں نہ لینے کا اعلان اور ان کو ووٹ نہ دینے کی تاکید کرکے پھر انھیں جہازوں میں بھر بھر کر پارٹی میں لا اور ان کی بےساکھی پر حکومت بنا سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

ایک درجن پارٹیوں سے اتحاد بنا سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

دوستوں کو نوازنے کے لیے 50 رکنی کابینہ بنا سکتے ہیں، اور عہدوں کی بندر بانٹ میں پچھلوں کو مات دے سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

آپ کی چھتری تلے چینی مافیا، آٹا مافیا، پیٹرول مافیا، سیمنٹ مافیا سمیت مافیاؤں کے مافیا پرورش پا سکتے ہیں


اور

آپ چاہیں تو 

آصف زرداری اور پرویز مشرف اور نوازشریف کے وزرا سے اپنی کابینہ بھر سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

تو آصف زرداری کے ساتھ میں لائن لگ کر چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب کروا سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

سینیٹ الیکشن کے لیے پختونخوا سے پنجاب تک ن لیگ سے اتحاد کر سکتے ہیں


اور

آپ چاہیں تو

اپنے دائیں بائیں چوروں مافیاؤں کو کھڑا کر سکتے ہیں، اور ایک عہدے سے کرپشن کا الزام لگا کر نکالنے کے بعد اس سے اچھے عہدے سے نواز سکتے ہیں

آپ چاہیں تو

50 لاکھ مکانات اور ایک کروڑ نوکریوں کے جھوٹے اعلانات کرکے ان سے مکر سکتے ہیں

آپ چاہیں تو 

آئی ایم ایف کے بجائے موت کو ترجیح دینے کا اعلان کرکے اس کے در پر سجدہ ریز ہو سکتے ہیں


اور

آپ چاہیں تو

مودی کے جیتنے کی دعائیں مانگ کر اسے کشمیر فروخت کرکے کشمیر فروش بن سکتے ہیں

آپ چاہیں تو 

اس کشمیر فروشی کے بعد مودی سے خطوط اور پیار محبت کی پینگیں بھی بڑھا اور جنگ بندی کا اعلان کر سکتے ہیں

 

اور

آپ چاہیں تو

آپ چاہیں تو 

آپ چاہیں تو 

کی ایک لمبی داستان ہے۔ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں۔

۔

اور ہاں! آپ کے شیرو چاہیں تو

اس سب سے آنکھیں بند کرکے دوسروں پر غرا سکتے ہیں

از شمس الدین امجد


مکمل تحریر >>

کرونا کی تیسری لہر، ہسپتالوں کی صورت حال، حکومتی اقدامات ۔ڈاکٹر منہم اقبال پمز اسلام آباد


کووڈ کی تیسری لہر جاری ہے ، گزشتہ کچھ دنوں میں اپنے جاننے والوں یا کسی ریفرنس سے رابطہ کرنے والے مریضوں کے لئے بیڈز کے انتظام کے لئے راولپنڈی اسلام آباد کے کئی سرکاری و پرائیویٹ ہاسپٹلز میں موجود دوستوں سے رابطہ کیا ہے ۔

تقریبا تمام ہی ہاسپٹلز اپنی کیپیسٹی سے زیادہ مریض داخل کر چکے ہیں ، پمز کی ایمرجنسی میں ابھی 25 30 مریض مختلف وارڈ میں داخلے کے منتظر ہیں ۔ انتہائی کوششوں کے باوجود بیڈز کی فراہمی ممکن نہیں ہو پارہی ۔

صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہے ، ایک سال گزرنے کے باوجود حکومت نے بھی ویکسینیشن کے معاملہ میں یا ہاسپٹلز کی capacity building کے حوالہ سے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے ۔جبکہ عوام میں بھی تاحال ایسے افلاطون پائے جا رہے ہیں جو کووڈ کے وجود سے ہی انکاری ہیں ۔

بہرحال باقیوں کی چھوڑیں ، اپنے پیاروں کی خاطر ہر ممکن احتیاط ضرور کریں ۔اگر بے احتیاطی کے سبب آپ اپنے کسی عزیز کی موت کے carrier بنے تو شاید تاحیات آپ خود کو ملامت کرتے رہیں ۔

باقی کسی انفیکشن ، زندگی و موت کا حتمی اختیار اللہ رب العالمین کے پاس ہے ، اسی سے لو لگائیے ۔ توبہ کیجئے ، رجوع الی اللہ آپ میں اعتماد کی قوت ، اطمینان و سکون ، مثبت سوچ ، نیک گمان  اور ان کے نتیجے میں مدافعتی نظام میں طاقت پیدا کرتا ہے ۔


 


مکمل تحریر >>

Tuesday, March 23, 2021

میرا چور زندہ باد۔ تحریر شمس الدین امجد

 میرا چور زندہ باد

۔

میں خود تو چوروں کی پارٹی سے تعلق رکھتا ہوں، حمایتی بھی چور کا ہوں، ووٹ بھی چور کو ہی دیا ہے، آئندہ بھی اسی کو یا اسی جیسے کو دوں گا۔ سوشل میڈیا پر دن بھر وکالت بھی چوروں کی کرتا ہوں، آئندہ بھی کرتا رہوں گا

۔

ہم چور ہیں، آپس میں اتحاد بھی کریں گے، الیکشن بھی ساتھ لڑیں گے، جلسے جلوس بھی نکالیں گے، موقع ملے گا تو بہن بھائی بن جائیں گے، ایک دوسرے کو ہار پہنائیں گے، اپنے امیدوار کو مشترکہ طور پر صوبائی اسمبلی سے قومی اسمبلی اور سینیٹ تک ووٹ دیں گے اور منتخب کروائیں گے

۔

بس میں ہی جمہوری ہوں، تم چور ہو ، تم فلاں کے آلہ کار ہو۔ دل کرے گا تو 90 کی دہائی سے آج تک جب چاہوں گا جس سے چاہوں گا ملوں گا، اور پھر میری مرضی نہ ہوگی تو تعلق توڑ دوں گا۔ چاہوں گا تو سیاسی جماعتوں سے مل کر جمہوری کہلاؤں گا اور چاہوں گا تو مقتدر قوتوں سے مل کر وہی اقتدار کرسی کا کھیل کھیلوں گا۔ یعنی کہ دیگر جماعتوں کو اتحادی بنا کر، ان کے زور پر ان کا ڈراوا دے کر ڈیل بھی کروں گا، ڈھیل بھی لوں گا، اور لازمی طور پر سلطانی جمہور کا چیمپئن بھی رہوں گا

۔

ہاں! مگر دیکھو کہ کوئی میرے جیسا کبھی تمھارے دروازے پر آئے تو اس سے  ملاقات نہیں ہونی چاہیے کہ یہ میری طبع نازک پر گراں گزرتا ہے۔ میرے دادا کے بھائی کے بھتیجے کے ماموں بھی اسلامی تحریک کا حصہ تھے، اور میں نے تب یہ خواب دیکھا تھا کہ خود تو چوروں کا ساتھی رہوں گا، مگر تمھارے لیے اخلاق و اصول کا کوڑا برساتا رہوں گا۔


مکمل تحریر >>

Monday, March 22, 2021

پاکستان آزادکشمیر کو ایک آزاد ملک کے طور پر قبول کر لیتا ہے۔ اب آگے کیا ہو گا ؟ تحریر ڈاکٹر اظہر فخرالدین

آئیے فرض کرتے ہیں کہ پاکستان آزادکشمیر کو ایک آزاد ملک کے طور پر قبول کر لیتا ہے۔

اب آگے کیا ہو گا ؟ 


کیا ہمارے قوم پرست دوست ہمیں سمجھائیں گے کہ آزاد  جموں و کشمیر سے ڈوگرہ دور کی ریاست جموں و کشمیر تک کا سفر کیسے طے ہوگا (ریاستی وحدت!!)؟


آئیے گلگت بلتستان سے آغاز کریں۔ جی بی گلاب سنگھ اور رنبیر سنگھ نے سفاکانہ طاقت کا استعمال کرکے قبضہ میں لیا تھا۔ 1863 میں وادی یاسین میں ہونے والے قتل عام کے بعد ڈوگرا صرف دریائے سندھ کے پار علاقوں پر قبضہ جمانے کے قابل ہوے۔ ہمارے قوم پرست جی بی کو واپس حاصل کرنے کا کیا  منصوبہ رکھتے ہیں؟ واضح طور پر ، جی بی کے اکثریتی لوگ اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے ہیں۔ ہم انھیں دوبارہ سے کشمیری کیسے۔ بنائیں گے؟ 


بھارتی مقبوضہ کشمیر:وادی کشمیر پر قبضہ ختم کرنے کا کیا منصوبہ ہے؟ ہمارے پاس ہندوستان کو وادی کشمیر سے رخصت ہونے پر راضی کرنے کا کیا منصوبہ ہے؟ آزاد کشمیر بحثیت ایک آزاد ملک کے پاس ایسی کون سی طاقت ہو گی جس کے زریعے وہ بھارت یا دنیا پر دباؤ ڈال کر یہ مسئلہ حل کروائے گا؟ ایسا کیا leverageہو گا  جو پاکستان، ایک ایٹمی قوت، کے پاس نہیں؟


فلسطینی خود اپنے معاملے کی نمائندگی پوری دنیا میں اور اقوام متحدہ میں کرتے ہیں۔ کیا اس نے 1948 سے ان کا مسئلہ حل کیا؟ یہ کتنا مختلف ہوگا اگر کشمیری (بلفرض جے کے ایل ایف) اس کیس کی اقوام۔متحدہ میں نمائندگی کریں۔



پی 5 (ویٹو ممالک) 

برطانیہ ہی اس سارے مسئلے کی جڑ ہے۔ امریکہ اور روس نے ہمارے خلاف ویٹو کیا۔ فرانس؟ واقعی؟ کیا اپکو واقعی لگتا ہے کہ فرانس انسانی ہمدردی کی بنا پر آپکی مدد کرے گا؟


 چین: چین آزاد کشمیر کی حمایت کیوں کرے گا؟ کیا چین ویٹو نہیں کرے گا اگر فرانس ، برطانیہ اور امریکہ آزاد کشمیر کوجنوبی  ایشیا میں ایک اور اسرائیل کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور اس خیال کی حمایت کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں (امریکہ ہر صورت یہاں اپنی کالونی قائم کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ چین پر نظر رکھی جا سکے)؟ اور چین کیا انکھیں بند کر لے گا؟ چین سے اقصائی چن کون لے گا؟

جموں: ایک ہندو اکثریتی جموں ایک مسلم اکثریتی آزاد کشمیر یا 'کشمیر' کے ساتھ کیوں رہے گا؟ یہی حال لداخ کا بھی ہے۔ اس حقیقت کو کس طرح نظرانداز کیا جاسکتا ہے کہ ان دو خطوں (جموں کے  مسلم اکثریتی اضلاع کے علاوہ) میں بمشکل ہی ہندوستان کے خلاف کوئی تحریک چل رہی ہے۔ اور تو اور کارگل کے شیعہ مسلمانوں کی اکثریت بھی 'سیکولر' ہندوستان کے ساتھ اپنا مستقبل دیکھتی ہے۔


اور یہ  'آزاد' آزاد کشمیر کتنا عرصہ زندہ رہ سکے گا؟ ہم۔یہ فرض کرتے ہیں کہ پاکستان سے الگ ہو کر بھی پاکستان ہمارے ساتھ برادر ملک کی طرح برتاؤ کرتا ہے۔

 کیا ہم نے واقعتا پاکستان میں بحثیت ایک غیر ملکی ہونے کے خیال کو اچھی طرح سے سوچا اور پرکھا ہے (لگ بھگ افغانیوں والا معاملہ)؟ مطلب پراپرٹی خریدنے اور کام کرنے کی کوئی آزادی نہیں!


بجٹ: بجٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جے کے ایل ایف کا کہنا  ہے کہ آمدنی کا بنیادی ذریعہ پانی ، ترسیلات زر اور قدرتی وسائل ہوں گے۔ کیا یہ دعوے واقعی دور اندیشی پر مبنی ہیں؟


پہلی بات: پانی فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ بھارت پاکستان کو پانی بیچ نہیں سکتا اور نہ ہی  اس سے رقم کما سکتا ہے۔ بجلی!!!کیا واقعتا” پاکستان کو کشمیر سے بجلی خریدنے کی ضرورت ہے ؟ 


پاکستان اکنامک سروے کی حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی حالیہ پیداوار (~ 35 میگا واٹ) تھی۔ یعنی ضرورت سے زیادہ پیداوار۔ مسئلہ بدانتظامی اور لائن لاسز ہے ، جو چند سالوں میں ختم ہوجائے گا(سی پیک کے تحت نئی لائنیں ڈل رہی ہیں)۔

 آزاد جموں وکشمیر کس کو  بجلی فروخت کرے گا؟ ہندوستان کو یا چین کو؟


ترسیلات زر یعنی Remittance ؟ AJK چیمبر آف کانفرنس کے سابق صدر نے کچھ سال پہلے بتایا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کی کل ترسیلات سالانہ 200 سے 300 ملین ڈالر سے تجاوز نہیں کرتی ہیں۔ پورے پاکستان کےمی کل ترسیلات زر 22 بلین ڈالر ہوتی ہیں۔ اگر ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں کے تناسب پر غور کریں: کشمیری: پاکستانی (9-10: 1) ، تو یہ زیادہ سے زیادہ 1 ارب ڈالر سالانہ بنتی ہیں (ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ 500 ملین ڈالر سے زائد ناں ہوں گی)۔

 لیکن ٹھہرئے!

ترسیلات زر براہ راست بجٹ کا حصہ نہیں ہوتیں ، اگرچہ یہ سینٹرل بینک اور کیش ان فلو کے لیے اہم۔ہیں تاکہ ملک میں آنے والے ڈالرز کی وجہ سے کرنسی کی ویلیو ناں گرے۔ لیکن اس سے حکومت کو بجٹ بنانے میں فائدہ صفر ہوتا ہے۔


 قدرتی وسائل؟ کیا ہم واقعی سنجیدہ ہیں کہ ہم درختوں کو کاٹنے اور بیچنے اور کانوں کی کھدائی کر کے اپنا بجٹ بنانا چاہتے ہیں۔ اور کن کانوں کی کھدائی؟ ہمارے پاس تو کوئی ثابت شدہ سونے کی کان بھی نہیں (بلوچستان کی طرح)۔ یا ہم یاقوت کے پتھر بیچیں گے؟


ٹورازم میں یقینا پوٹینشل ہے،لیکن ٹورازم تو تب آئے گا جب یہ ریاست بچ پائے گی۔


بجٹ: بجٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جے کے ایل ایف کا کہنا  ہے کہ آمدنی کا بنیادی ذریعہ پانی ، ترسیلات زر اور قدرتی وسائل ہوں گے۔ کیا یہ دعوے واقعی دور اندیشی پر مبنی ہیں؟


پہلی بات: پانی فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ بھارت پاکستان کو پانی بیچ نہیں سکتا اور نہ ہی  اس سے رقم کما سکتا ہے۔ بجلی!!!کیا واقعتا” پاکستان کو کشمیر سے بجلی خریدنے کی ضرورت ہے ؟ 


پاکستان اکنامک سروے کی حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی حالیہ پیداوار (~ 35 میگا واٹ) تھی۔ یعنی ضرورت سے زیادہ پیداوار۔ مسئلہ بدانتظامی اور لائن لاسز ہے ، جو چند سالوں میں ختم ہوجائے گا(سی پیک کے تحت نئی لائنیں ڈل رہی ہیں)۔

 آزاد جموں وکشمیر کس کو  بجلی فروخت کرے گا؟ ہندوستان کو یا چین کو؟


ترسیلات زر یعنی Remittance ؟ AJK چیمبر آف کانفرنس کے سابق صدر نے کچھ سال پہلے بتایا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کی کل ترسیلات سالانہ 200 سے 300 ملین ڈالر سے تجاوز نہیں کرتی ہیں۔ پورے پاکستان کےمی کل ترسیلات زر 22 بلین ڈالر ہوتی ہیں۔ اگر ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں کے تناسب پر غور کریں: کشمیری: پاکستانی (9-10: 1) ، تو یہ زیادہ سے زیادہ 1 ارب ڈالر سالانہ بنتی ہیں (ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ 500 ملین ڈالر سے زائد ناں ہوں گی)۔

 لیکن ٹھہرئے!

ترسیلات زر براہ راست بجٹ کا حصہ نہیں ہوتیں ، اگرچہ یہ سینٹرل بینک اور کیش ان فلو کے لیے اہم۔ہیں تاکہ ملک میں آنے والے ڈالرز کی وجہ سے کرنسی کی ویلیو ناں گرے۔ لیکن اس سے حکومت کو بجٹ بنانے میں فائدہ صفر ہوتا ہے۔


 قدرتی وسائل؟ کیا ہم واقعی سنجیدہ ہیں کہ ہم درختوں کو کاٹنے اور بیچنے اور کانوں کی کھدائی کر کے اپنا بجٹ بنانا چاہتے ہیں۔ اور کن کانوں کی کھدائی؟ ہمارے پاس تو کوئی ثابت شدہ سونے کی کان بھی نہیں (بلوچستان کی طرح)۔ یا ہم یاقوت کے پتھر بیچیں گے؟


ٹورازم میں یقینا پوٹینشل ہے،لیکن ٹورازم تو تب آئے گا جب یہ ریاست بچ پائے گی۔


بجٹ: بجٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جے کے ایل ایف کا کہنا  ہے کہ آمدنی کا بنیادی ذریعہ پانی ، ترسیلات زر اور قدرتی وسائل ہوں گے۔ کیا یہ دعوے واقعی دور اندیشی پر مبنی ہیں؟


پہلی بات: پانی فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ بھارت پاکستان کو پانی بیچ نہیں سکتا اور نہ ہی  اس سے رقم کما سکتا ہے۔ بجلی!!!کیا واقعتا” پاکستان کو کشمیر سے بجلی خریدنے کی ضرورت ہے ؟ 


پاکستان اکنامک سروے کی حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی حالیہ پیداوار (~ 35 میگا واٹ) تھی۔ یعنی ضرورت سے زیادہ پیداوار۔ مسئلہ بدانتظامی اور لائن لاسز ہے ، جو چند سالوں میں ختم ہوجائے گا(سی پیک کے تحت نئی لائنیں ڈل رہی ہیں)۔

 آزاد جموں وکشمیر کس کو  بجلی فروخت کرے گا؟ ہندوستان کو یا چین کو؟


ترسیلات زر یعنی Remittance ؟ AJK چیمبر آف کانفرنس کے سابق صدر نے کچھ سال پہلے بتایا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کی کل ترسیلات سالانہ 200 سے 300 ملین ڈالر سے تجاوز نہیں کرتی ہیں۔ پورے پاکستان کےمی کل ترسیلات زر 22 بلین ڈالر ہوتی ہیں۔ اگر ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں کے تناسب پر غور کریں: کشمیری: پاکستانی (9-10: 1) ، تو یہ زیادہ سے زیادہ 1 ارب ڈالر سالانہ بنتی ہیں (ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ 500 ملین ڈالر سے زائد ناں ہوں گی)۔

 لیکن ٹھہرئے!

ترسیلات زر براہ راست بجٹ کا حصہ نہیں ہوتیں ، اگرچہ یہ سینٹرل بینک اور کیش ان فلو کے لیے اہم۔ہیں تاکہ ملک میں آنے والے ڈالرز کی وجہ سے کرنسی کی ویلیو ناں گرے۔ لیکن اس سے حکومت کو بجٹ بنانے میں فائدہ صفر ہوتا ہے۔


 قدرتی وسائل؟ کیا ہم واقعی سنجیدہ ہیں کہ ہم درختوں کو کاٹنے اور بیچنے اور کانوں کی کھدائی کر کے اپنا بجٹ بنانا چاہتے ہیں۔ اور کن کانوں کی کھدائی؟ ہمارے پاس تو کوئی ثابت شدہ سونے کی کان بھی نہیں (بلوچستان کی طرح)۔ یا ہم یاقوت کے پتھر بیچیں گے؟


ٹورازم میں یقینا پوٹینشل ہے،لیکن ٹورازم تو تب آئے گا جب یہ ریاست بچ پائے گی۔

دفاع:  دفاع کو ہم بھول ہی جائیں تو اچھا ہے !! ہندوستان اور چین جیسے پڑوسی ممالک کے ساتھ کوئی سوچ بھی سکتا ہے کہ ہماری کیا حالت ہو گی؟ کیا آپ کو واقعی لگتا ہے کہ چین اپکو تبتہہ اور اقصائی چن جھولی میں ڈال دے گا؟ لداخ پر چین نے بھارت سے تقریبا جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ کیا اپکو واقعی ایسا لگتا ہے کہ وہ اسکو ہری سنگھ کی نشانی سمجھ کر اپکو لوٹا دے گا؟ ہمارے قوم پرست احباب کے پاس یقیناکوئی۔منصوبہ ہو گا چین کو راضی کرنے کا۔ امید ہے وہ عوام کے ساتھ شیئر کریں گے۔


 ہمیں چین / روس کے خلاف برطانیہ اور مغرب کے پراکسی ہونے کے امکان کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ مغرب یقینی طور پر اس کے لئے ہماری مدد کرنا چاہتا ہے۔ کہ ایک چھوٹا سا اسرائیل یہاں بھی مل جائے اور اسکے خطے میں قدم جم جائیں۔ کشمیری جو ہر طرف سے پھنسے ہوے ہوں گے بڑی طاقتوں کے لیے ایک ترنوالہ ثابت ہونگے۔


آخری اور اہم بات:  آزاد جموں و کشمیر میں ایک بڑا طبقہ پاکستان نواز  ہے، اس کے بارے میں قوم پرست احباب کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ صرف بیٹھ کر تماشا دیکھیں گے؟ یاد رکھیں ، وہ پاکستان میں جائیداد نہیں خرید سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی کاروبار کرسکتے ہیں۔ تعلیم اور نوکریوں کے لئے کوئی کوٹہ نہیں۔ تین بڑی طاقتوں کے درمیان پھنسا ہوا ایک خطہ جس کو اپنی تجارت کے لیے بھی پاکستان سے پورٹ چاہیے ہو گی، ایک شدید اندرونی کشمکش میں الجھ جائے گا۔


اور ہاں، ہم کیسے اس بات کو کس طرح نظرانداز کرسکتے ہیں کہ آزاد کشمیر کو پاکستان کو حصہ بننے کے لئے آزاد کرایا گیا ( اس حصہ بننے کی نوعیت الحاق کی ہو گی یا انضمام می،یہ فیصلہ کشمیریوں کو ہی کرنا ہے)۔ اب اچانک آزاد کشمیر کے لوگ بھلا کیوں پاکستان سے پیٹھ پھیرنے پر راضی کیوں ہوں گے؟


اس حقیقت کو بھی فراموش نہ کیجیے کہ ایک “خود مختار “ کشمیر زیادہ مشکل کام ہوسکتا ہے۔ نہ صرف یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے (وہاں کوئی تیسرا آپشن نہیں) بلکہ اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے لئے بھی غیر یقینی کی پیدا کر سکتا  ہے۔ خدا جانے کل یہ چھوٹا سا ملک کتنوں کے لیے سر درد بن جائے۔ بھلا کیوں چین،انڈیا، پاکستان اور روس اس بات کی اجازت دیں گے؟ یہ ایک تلخ عالمی حقیقت ہے۔


ان سب باتوں کے کہنے کا مقصد یہی ہے کہ  اہلیان کشمیر کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ خودمختار کشمیر کا معاملہ اتنا سیدھا بھی نہیں۔

ترجمہ: اسعد فخرالدین 



مکمل تحریر >>

Thursday, November 12, 2020

A typical Line of Control morning Umar Aziz

A typical LOC Morning


I've personally witnessed huge mortars and howitzers shelling along the Line of Control (LoC) in Samahni sector today. It was probably the worst shelling in over a decade on civilians after the Kargil war.


I was on the breakfast table with my family at 8:30 am when we heard the heavy sounds of small arms and intense shelling of mortars along the LOC. The mortar fires were hitting the villages and hamlets in surroundings of central town while dust and fire had made the morning view very hazy.


It continued for almost two hours, causing huge panic among residents and shopkeepers in bazar who were forced to take shelter in their houses and shops.


I saw the whole thing from the window of my room (home office) at first floor, almost two and a half KMs away from the shelling target. It was horrifying.


After the shelling stopped, my father and uncle rushed to hospital and then to shelling targeted village with other locals to help affected people. More than four people injured, dozens of cattle killed and several houses and shops were completely damaged.


It was not just today and not only in my home town, it's a routine shelling in hundreds of villages and small towns along the LOC, from Barnala up to Taobat, on a 740 KMs long Line of Control (LOC) between India and Pakistan. Some of the areas are densely populated and it's not possible at all for people to relocate from their native places. If I just talk about my tehsil, Samahni valley, there are more than 100k inhabitants living, which is a huge population of a remote area.


A surprising thing I've realized is the media coverage of LOC, which is completely silent most of the times, and a least important story of 20 seconds sometime at the end of 50 mins news bulletin. It's probably more devastating than the shelling itself.

Umar Aziz from Smahani azad kashmir 



مکمل تحریر >>

Tuesday, October 20, 2020

سراج الحق سینٹر کیسے بنے ۔ارشد زمان

__ یہاں تو سر ہی غائب ہے گریبان سے __!

قومی وطن پارٹی کے باغی رکن صوبائی اسمبلی بلکہ صحیح معنوں میں داغی بخت بیدار صاحب  جنہوں نے دولت کے خاطر  ضمیر کا سودا کر کے اس پارٹی کو کہی کا نہی چهوڑا____

  اج کل زہنی مریض اور مخبوط الحواس ہے اور نئے نئے شگوفے چهوڑ کر دراصل  اپنی کی ہوئی گندگی کو پیشاب سے دهونے کی حماقت کر رہے ہے__ 

جناب فرمارہے ہیں کہ جناب  سراج الحق  جعلی ووٹوں سے سینٹر منتخب ہوچکے ہیں _!

افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ کیسے کیسے عجوبوں کو لوگ  کندھوں پر بٹھا کر ایوانوں تک  پہنچاتے ہیں __اجڈ و انپڑھ ہونا شاید اتنا  گناہ نہی لیکن  اوپر سے اگر کوئی بے شرم اور ڈیٹ جاہل بنے پھرے تو ان کے حلقہ انتخاب کے لوگوں کو کوسنے کو  جی چاہتا ہے ___!

صوبائی اسمبلی کے چند درجن ووٹوں میں جعلی ووٹوں کا استعمال __؟

خدا کے بندے سینٹ کے الیکشن میں تو  اول ترجیح تو دور کی بات اخری ترجیح کا بهی پتہ چل جاتا ہے کہ کس کس نے غلط ووٹ ڈلا ہے یعنی  ووٹ  فروخت کر ڈالا ہے_

اگر  سراج الحق صاحب کو جعلی ووٹ پڑے ہیں تو اس کی معنی یہ ہوئی کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے ووٹ کسی اور کو ملے ہیں اب اس کے دو طرح کے نتائج  ہونے چاہئے ___

اول_ کسی دوسرے امیدوار کا اپنی ووٹوں سے زیادہ ووٹ لینا__ خیبر پختون خواہ سے کسی بھی سینٹر نے اول ترجیح کے اپنے مقرر شدہ ووٹوں سے زیادہ ووٹ نہیں لئے _

دوم__ متعلقہ حلقہ سے اپنی تعداد سے زیادہ سینئرز کا انتخاب__اور اس طرح کا بچگانہ  سوچ تک  بهی  صرف  بخت بیدار صاحب جیسے "صاحب بصیرت " ہی سوچ سکتے ہیں _

اگر صاحب  تهوڑی بہت عقل رکھتے  تو الزام لگاتے کہ:سراج الحق نے ووٹ خریدے ہیں__ !

     *_    کیسے تیر انداز ہو، سیدها تو کرلو تیر _!

موصوف  کی حواس باختگی  کی وجوہات کوئی ڈهکی چهپی نہیں ___

 *_  وہ الزام ہم کو دیتے تھے، قصور اپنا نکل آیا ___کے  مصداق خود ہی اپنے ہاتھوں رسوا ٹهرے اور بڑاس کسی اور پر نکال رہے ہیں __

آفتاب شیر پاؤ صاحب نے کمال مہارت سے چند سیٹوں پر اپنی پارٹی کو صوبائی حکومت میں شامل کرایا  لیکن اگلے ہی دن سے آنجناب بخت بیدار صاحب دل کے کچے  نکلے اور دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف رہے اور جنابِ عمران خان کو دعوت غضب دیکر خود تو کیا  اپنے دیکر وزراء ساتھیوں کو بھی  گهر بٹھا دیا ___

 *_  سر اشک غم سمٹ کر دل  کے ارمانوں کو لے ڈوبے 

      یہ صاحب خانہ  اپنے ساتھ مہمانوں کو لے  ڈوبے __!

 ابهی یہ گرد مکمل طور پر بیٹھی ہی نہیں تهی کہ  جناب نے  اپنی پارٹی کو داغ  دیکر سینٹ کا ووٹ بیچ  ڈال کر ضمیر کا سودا کیا __یہ اور بات ہے کہ ضمیر نام کی چیز وہ کب کے پاوں تلے روند ڈال چکے ہے __!

جب قبلہ کو پارٹی کی طرف سے شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا تو بیچارہ حواس باختہ ہو کر جماعت اسلامی کے پیچھے پڑگیا____اور ایسی عجیب منطق پیش کی کہ  دنیا ہنسی _ کہ مجهے اس لئے پارٹی سے نکالا جارہا ہے کہ میں نے سراج الحق کو ووٹ نہیں دیا___ 

*_اب بندہ روئے کہ پیٹے جگر___!                                                                 محترم! جناب سراج الحق کو خیبر پختون خواہ اسمبلی سے سب سے زیادہ اٹهارہ ووٹ ملے ہیں اور جسے اپ نے ووٹ دینا تها وہ بیچارہ ہی  ہار چکا ہے ___

بحرحال اج کل  بیچارے کی حالت قابل رحم ہے پارٹی نے جو ٹهکرایا ہے اور حلقے کے لوگوں نے خوب  پہچانا__!

   *_   الجھا الجها رہنے کا سبب پوچھتے ہیں لوگ 

      


یہ کیوں نہیں نہیں سمجھتے کہ ٹهکرا گیا ہو میں

مکمل تحریر >>

Sunday, September 6, 2020

اقوام متحدہ کی قراردادیں ، کشمیریوں کے پاس موجود آپشنز ، سعید اسعد اور امان اللہ خان کے جھوٹ اور خود مختاری کی حقیت. اظہر فخرالدین

اقوام متحدہ کی قراردادیں ، کشمیریوں کے پاس موجود آپشنز ، سعید اسعد اور امان اللہ خان کے جھوٹ اور خود  مختاری کی حقیت. 

آیے مل کر کُچھ  سوالوں کا جواب تلاش کریں .
کیا اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیریوں کا پاس خود مختاری کا آپشن موجود ہے ؟ 
کیا پاکستان نے اقوام متحدہ سے ساز باز کر کے سیکورٹی کونسل کی قراردادوں سے خود مختاری کا آپشن نکلوا دیا جیسا کے قوم پرستوں کے دانشواران دعوی کرتے ہیں ؟ 

ان سوالوں کے جواب ہمیں سیکورٹی کونسل کا قردار نو ٤٧ میں مل جائیں گے جو مثلا کشمیر پر پہلی جامع قرارداد تھی . جو ٢١ اپریل ١٩٤٨ کو پاس ہوئی تھی .  

یکم جنوری 1948ء کو بھارت جموں و کشمیر کا مسلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر گیا جس پر اقوام متحدہ کا کمیشن برائے بھارت اور پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا. اس کمیشن نے پھر مسلہ کشمیر کے حل کے لئے مختلف قراردادیں پاس کیں لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث ان میں سے کسی بھی قرارداد پر پورے طورعمل نہیں ہو سکا اور مسلہ ابھی بھی حل طلب ہے .

جب ہم سلامتی کونسل کی قراردادوں کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو ایک چیز بلکل واضح ہو جاتی ہے کہ سب کی سب قرادادوں میں جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے رائے شماری کے دوران صرف دو ہی آپشن رکھے گئےہیں۔ مگرایک دلچسپ چیز جو کافی عرصے سے پھیلائی جا رہی ہے کہ ان قراردادوں میں ایک تیسرا آپشن بھی تھا "خودمختار ریاست" کے لئے جسے پاکستان نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ نکلوا دیا۔

یہ جھوٹ بہت تواتر سے بولا گیا اوراسکو پھیلانے میں کچھ جانے مانے قوم پرست رہنما بھی شامل ہیں جس کی وجہ سے لوگوں نے اسے سچ سمجھنا شروع کر دیا۔ لبریشن فرنٹ کے بانی اور اپنے وقت کے سرپرست عالی امان اللہ خان مرحوم نے اپنی کتاب میں حکومت پاکستان کے کشمیر کو لے کر یو ٹرن بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں؛

"مسلہ کشمیر اقوام متحدہ میں چلا گیا اور وہاں 13 اگست 1948ء کی قرارداد میں طے ہوا کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہونے والی رائے شماری کے ذریعہ کریں گے۔۔۔ لیکن صرف چار ماہ کے اندر پاکستان نے پینترا بدل کر اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو بھارت یا پاکستان سے الحاق تک محدود کر دیا جائے اور اس نے اپنا یہ مطالبہ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان کی 5 جنوری 1949ء کی قرارداد کے تحت منوا لیا۔" [1]

موصوف ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ؛

"پاکستان نے 25 دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے کمیشن کے نام اپنے خط میں مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو بھارت یا پاکستان سے الحاق تک محدود کر دیا جائے." [2]

اسی طرح سعید اسد صاحب نے اپنی کتاب "جموں کشمیر بک آف نالج" میں لکھا ہے؛
"پاکستانی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے 25 دسمبر 1948ء کو UNCIP کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کے آزادانہ حق خودارادیت کو بھارت یا پاکستان سے الحاق تک محدود کیا جائے۔" [3]

ان تمام الزامات کا باریک بینی سے مطالع کرنے پر یہ بات آشکار ہو گی کے ان میں ذرا برابر بھی سچائی نہیں ہے .
آگے بڑھنے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ سلامتی کونسل کی پہلی مین قرارداد جو کہ 21 اپریل 1948ء میں پاس ہوئی اس میں درج ہے کہ؛

"ہندوستان اور پاکستان دونوں اس پر راضی ہیں کہ جموں وکشمیر کے ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کے سوال کا فیصلہ آزاد اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے کیا جائے."[4]
 See the screenshots attached of the resolution 47 (21 April 1948). I can share the original copy if you need.

اس پہلی قراداد میں ہی کشمیریوں کو دو آپشنز دے گے ہیں، انڈیا یا پاکستان کے ساتھ الحاق . تیسرا کوئی آپشن نہیں. اب آپ خود اندازہ لگیں کے یہ قرارداد اپریل ١٩٤٨ میں پاس ہوئی. سکرین شاٹ لگا دے گے ہیں حوالہ کے لیے. اب امان اللہ خان ور سعید اسعد جھوٹ بولتے ہوۓ کہتے ہیں ک دسمبر میں پاکستان کے وزیر ا خارجہ نے تیسرا آپشن نکلوا دیا.

یعنی کہ پہلی قرارداد سے ہی سے صرف دو ہی آپشن تھے۔ اس کے بعد جو بھی قراردادیں مسلہ کشمیر پر پاس ہوئی ان میں تقریبا اسی موقف کا دوبارہ اعادہ کیاگیا ۔
13 اگست 1948ء کی قرارداد

21 اپریل 1948ء کی قرارداد پر عمل نا ہو سکنے کے بعد اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان نے دونوں ممالک سے مشاورت کے بعد ایک اور قرارداد منظور کروائی جو کہ تین حصوں پر مشتمل تھی؛

پہلا حصہ (پارٹ ون) کا تعلق جنگ بندی سے تھا، دوسرے حصے (پارٹ ٹو) کا تعلق جنگ بندی کے معاہدہ (truce agreement) سے تھا۔ جبکہ تیسرے حصے (پارٹ تھری) کے مطابق truce agreement کے تسلیم کرنے کے بعد دونوں ممالک کمیشن سے بات چیت کے مرحلے میں داخل ہوں گے تا کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اس کی عوام کی مرضی سے طے پائے۔

اس قرارداد کا اصل مقصد جنگ بندی اور truce agreement تھا۔ تیسرے حصے یعنی پارٹ تھری کے لئے قرارداد میں واضح طور پر کہا گیا کہ مزید مذاکرات ہوں گے۔

اسی قرارداد کا پہلا پیراگراف کہتا ہے؛

“Having given careful consideration to the points of view expressed by the Representatives, of India and Pakistan regarding the situation in the State of Jammu and Kashmir, and Being of the opinion that the prompt cessation of hostilities and the correction of conditions the continuance of which is likely to endanger international peace and security are essential to implementation of its endeavors to assist the Governments of India and Pakistan in effecting a final settlement of the situation.”

ترجمہ:- "ریاست جموں و کشمیر کی صورتحال کے بارے میں ، ہندوستان اور پاکستان کے نمائندوں کی طرف سے بیان کردہ نقطہ نظر پر محتاط غور کرنے کے بعد (کمیشن) کا یہ خیال ہے کے پاکستان اور انڈیا کی گورنمنٹ کو صورتحال کے حتمی تصفیہ(حل) کے لئے مدد کرنے کی ضرورت ہے ." [5]
(ترجمہ کو آسان کیا گیا ہے)

19 اگست 1948ء کو پاکستانی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر الفریڈو لوزانو کو خط لکھا جس میں انہوں نے قرارداد کے متعلق کچھ نکات پر مزید جانکاری چاہی۔ اس خط میں وہ لکھتے ہیں؛

"(ہمارا) یہ خیال ہے کہ اس ایکسپریشن "a final settlement of the situation"، جس کے بارے میں کمیشن نے قرارداد کے شروعات میں لکھا ہے، کا مطلب سلامتی کونسل کے ہی پرانے الفاظ ہیں(جس میں کہا گیا ہے کہ) "ریاست کے ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کرنے کے لئے ایک آزاد اور غیر جانب دار رائے شماری کے لئے مناسب حالات (پیدا کرنا)۔" اگر اس ایکسپریشن "a final settlement of the situation" کا کوئی اور مطلب، بلواسطہ یا بلا واسطہ، سلامتی کونسل کی قرارداد(21 اپریل 1948) سے لیے گئے اس اقتباس سے کم یا اس سے بڑھ کر کچھ مطلب ہے تو پاکستانی حکومت اس کے بارے میں جاننا چاہتی ہے۔"[6]
جس کے جواب میں ڈاکٹر الفریڈو نے لکھا؛

"اس ایکسپریشن "a final settlement of the situation" کا مطلب سلامتی کونسل کی 21 اپریل 1948ء کی قرارداد کی شرائط سے کم یا زیادہ نہیں ہے بلکہ یہ ایکسپریشن اس قرارداد سے مکمل طور پر اتفاق کرتا ہے۔"[7]

پھر 3 ستمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان کے چیرمین جوزف کوربل نے اسی بات کو ان الفاظ میں دہرایا؛

"جہاں تک "پارٹ تھری" کا تعلق ہے، اس بارے میں کمیشن سلامتی کونسل کی 21 اپریل 1948ء کی قرارداد کی شرائط سے رہنمائی حاصل کرے گا۔"[8]
اقوام متحدہ کے کمیشن اور پاکستانی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والی اس بات چیت کو پڑھنے کے بعد ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں پارٹ 3 یا رائے شماری کے سوال پر 13 اگست 1948ء کی قرارداد نے 21 اپریل 1948ء کی قرارداد کی پیروی ہی کرنا تھی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں اس قرارداد میں صرف دو ہی آپشن موجود تھے یعنی انڈیا اور پاکستان۔

اب ہم ان الزامات کا بھی جائزہ لیتے ہیں کہ 25 دسمبر 1948ء کو پاکستانی وزیر خارجہ نے کمیشن کو خط لکھا اور رائے شماری کو محدود کروانے کی درخواست کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد، اقوام متحدہ کے کمیشن نے 11 دسمبر 1948ء کو دونوں ممالک کو اپنی تجاویز کا مسودہ (پروپوزل) پیش کیا جس کا عنوان تھا “BASIC PRINCIPLES FOR A PLEBISCITE PROPOSED BY THE COMMISSION TO THE GOVERNMENT OF INDIA AND PAKISTAN ON 11 DECEMBER 1948”.

وضاحت کے لئے میں یہاں اس پروپوزل کے پہلے دو نکات یہاں لکھ دیتا ہوں؛
"اول، کمیشن اپنی 13 اگست 1948ء کی قرارداد کی دوبارہ تصدیق کرتا ہے۔
دوم، ہندوستان اور پاکستان کی حکومت بیک وقت درج ذیل اصولوں کواس قرارداد (13 اگست 1948) میں شامل کرنے پر رضامند ہیں ؛
1- ریاست کے پاکستان یا بھارت سے الحاق کا فیصلہ جمہوری طریقے سے ایک آزاد اور غیر جانب دار رائے شماری کے تحت کیا جائے گا۔"[9]

اس پروپوسل کے پہلے دو نقاط پڑھنے کے بعد سے دو باتیں بلکل واضح ہو جاتی ہیں، ایک کہ تجاویز کا یہ مسودہ کوئی الگ قرارداد نہیں تھا بلکہ 13 اگست 1948ء کی قرارداد پر ضمیمہ (سپلیمنٹ) تھا۔ دوسری، کہ اس میں بھی دو ہی آپشن تھے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ظفر اللہ خان 25 دسمبر 1948ء کو رائے شماری کو محدود کروانے کے لئے خط لکھے جبکہ خود 11 دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے دئے گئے مسودے میں دو ہی آپشن تھے؟ اس کا یہی مطلب ہے کہ یہ الزامات بلکل جھوٹے ہیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے اس تاریخ کو خط ضرور لکھا لیکن صرف کمیشن کی ان تجاویز کو تسلیم کیا جو کہ انہوں نے 11 دسمبر 1948ء کو دیں۔ ظفر اللہ خان کا وہ خط بھی پوسٹ کر دیا گیا۔

پھر دونوں ممالک کی جانب سے کمیشن کی تجاویز تسلیم ہونے کے بعد یہ 13 اگست 1948ء کی قرارداد کی ساتھ یہ ضمیمہ قرارداد 5 جنوری 1949ء کو منظور ہوئی۔

یہ کہنا بلکل بھی غلط نا ہوگا کہ مسلہ کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ لکھے جانے والے موضوعات میں سے ایک ہے۔ لیکن پھر بھی ہم اس کے ساتھ جڑے بہت سے جھوٹ دیکھتے ہیں۔ لہذا ہمیں محتاط رہنا چاہئے اور کچھ بھی پڑھنے کے بعد اس پر یقین کرنے سے پہلے اس موضوع پر ریسرچ کرنی چاہئے۔

ہندوستان یا پاکستان ، اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کوئی تیسرا آپشن نہیں ہے.

حوالہ جات:-
1- امان اللہ خان، "جہد مسلسل"، جلد دوم، صحفہ 200
2- امان اللہ خان، "پاکستان کی حماقتوں بھری کشمیر پالیسی"، صحفہ 9
3- سعید اسد "جموں کشمیر بک آف نالج"، صحفہ 278
4- S/726, p.1
5- S/995, p.3
6- S/1100, “Annexes”, Annex 26, p.3
7- Ibid., Annex 27, p.2
8- Ibid., p.39
9- S/1196, Annex 3, p.19






مکمل تحریر >>

Saturday, September 5, 2020

عبدالمجید بھٹ صاحب انسائیکلوپیڈیا مقبوضہ کشمیر کی یاد میں ۔اسعد فخرالدین

 بھارتی ٹارچر سیل میں کیے گئے تشدد کے نشانات ان کے ٹانگوں اور بازوں پر ابھی بھی موجود تھے۔ 

عبدالمجید بھٹ جماعت اسلامی ضلع بارہمولہ کے امیر ضلع اور قیم ضلع رہے ہیں۔حلقہ انتخاب رفیع آباد سے جماعت اسلامی اور مسلم متحدہ محاذ کے امید وار بھی رہے۔ بہت سنجیدہ  اور ملنسار تھے۔

جبیل مقبول بٹ شہید کی برسی میں ان سے پہلی ملاقات  ہی ہماری قربت کا باعث بنی، پچاس منٹ کی ان کی مفصل گفتگو نے ان سے ملنے ہر مجبور کیا 

برسی کے اگلے ہی ھفتے ریاض جانا ہوا تو ایک دن قبل کال کی کہ چار بجے آپ کے گھر آوں گا، کہا چار بجے نہیں ایک بجے آئیں کشمیری کھانا ملکر کھائیں گے۔

پانچ گھنٹے کی طویل ملاقات کے بعد اندازہ ہوا  آپ تو کشمیر کا انسائیکلوپیڈیا ہیں، جب بھی ریاض جانا ہوا تو  بھٹ صاحب کے گھر ضرور چکر لگا۔کشمیری چائے اور کشمیری کھانے سے ہی تواضع کی

ٹانگ میں سوجن کے باوجود نیچے چھوڑنے کے لئے  آتے اور رات کال کرکے پوچھتے کہ بخیریت پہنچ گئے ہو!

 

علی گیلانی صاحب کے قریبی دوستوں میں سے تھے، جیل میں اور کالی ٹھوکری میں ساتھ ساتھ بند رہے 

انکوائریاں اور جیلیں بھگتیں۔۔

ان سے ملاقاتوں پر جلد مکمل مضمون لکھنے کا ارادہ  ہے

پاکستانی حکومت کی پالیسز سے بہت خفا تھے، لیکن پاکستان سے محبت کا تذکرہ بارہا کرتے تھے۔

ریاض میں ہی مقیم رہے اور آخری سالوں میں آپ کی وابستگی کسی جماعت سے نہیں رہی۔

انتہائی شفیق تھے، منور صاحب کی وفات پر کال کی تو ایک گھنٹہ ان کے یادیں اور باتیں کرتے رہے ، ڈوبتی آواز میں سارے قصے سناتے رہے 

ان سے فون پر آخری بات یہ تھی کہ  جماعت اسلامی نے اگر مقبوضہ کشمیر میں نظریاتی فصل نہ کھڑی کی ہوتی تو آج شاید یہ مزاحمت بھی نہ ہوتی ۔۔ 

ایک  اور بات بات جو ہمیشہ یاد رہے گی !

“جس کسی تحریک میں اینجسیاں (کوئی بھی) انوالو ہو جائیں پھر وہ  تحریک لوگوں کی تحریک نہیں پھر “ان “کی تحریک بن جاتی ہے”

زندہ دل، بیدار مغز اور مدبر رہنما تھے،دو ماہ وینٹیلیٹر پر رہنے کے بعد آج خالق حقیقی سے جا ملے۔

انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ ان کی مفغرت فرمائے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے آمین


مکمل تحریر >>

Friday, September 4, 2020

کے ایچ خورشید کا قائد اعظم کو خط اور حقائق اردو ترجمہ کے ساتھ

 کے ایچ خورشید صاحب کا سری نگر کے دورے کے بعد قائد اعظم کو لکھے گئے  خط کا  ترجمہ حاضر ہے . یہ خط ہمارے قومی نصاب کا حصہ ہونا چائے تھا مگر افسوس. خط پڑھ کر اپ کو ٹھیک سے اندازہ ہو جا ے گا کے ١٩٤٧ میں کشمیر میں کیا حالات تھے . 

اردو ترجمہ

قائداعظم کے پرسنل سیکرٹری کی کشمیر سے بھیجے گئے پیغامات سے معلوم ہوتا ہے کہ ھندوستان نے پاکستان اور کشمیر کے خلاف سازش شروع دن سے ہی شروع کی ھے۔


محمد علی جناح کے پرائیویٹ سیکرٹری خورشید حسن خورشید کو انہوں نے اکتوبر 1947 ء کے پہلے ہفتے میں کشمیر میں موجود مسلمان رہنمائوں کو کچھ اہم پیغامات پہنچانے اور ریاست میں زمینی صورتحال کا اندازہ لگانے کے لئے بھیجا تھا۔ کشمیر میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقات کے بعد کے ایچ خورشید نے محمد علی جناح کو ایک تفصیلی نوٹ واپس بھیجا جس میں انہوں نے انہیں آگاہ کیا کہ ریاست میں گزشتہ دو ماہ کے دوران جو بڑے واقعات رونما ہوئے ہیں ان میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ مہاراجہ کے ارادے ہرگز اچھے نہیں۔ وہ پاکستان سے الحاق کے خلاف تھا اور ہندوستان کے حق میں تھا۔ خورشید نے مشورہ دیا کہ پاکستان کو لڑائی کے حوالے سے سوچنا چاہئے کیونکہ سفارتی دبائو پہلے ہی ناکام ہو چکا تھا اور ریاست میں کوئی بھی پرامن جدوجہد کسی کام کی نہیں تھی۔ اس کے خط کا مکمل متن ذیل میں دوبارہ پیش کیا گیا ہے۔


میرے پیارے سر،

میں دوسری پہر شام کو سرینگر پہنچا اور جب سے میں اپنے دوستوں، جاننے والوں اور گمراہ زائرین کی طرف سے ہر قسم کی معلومات اور معلومات کی وجہ سے حیران ھوں رہا ہوں. میں نے جو کچھ سنا اور دیکھا ہے اس کا خلاصہ بنا لیا ہے اور جو مجھے یقین ہے وہ سچ ہے۔ میں نے حاصل کردہ معلومات کو چھان لیا، دوسرے ذرائع سے اس کی تصدیق کی اور منسلک کاغذات تیار کیے ہیں۔ شاید بہت سی باتیں دوسرے ذرائع سے آپ تک پہلے ہی پہنچ چکی ہوں لیکن میں نے ایک جامع رپورٹ بنا کر اپنی رائے بھی دی اور تجاویز بھی دیں۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ زیادہ لمبا ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ مقامات پر حیرت زدہ ہوجائے، لیکن جو کچھ میں نے سوچا تھا وہ آپ کے سامنے رکھنا ضروری تھا ٹائپ کیا گیا ہے۔

میں امید کرتا ہوں، جناب، کہ آپ اور مس جناح صحت کی بہترین حالت میں ہیں۔

احترام کے ساتھ،

کے ایچ خورشید


نوٹ بذریعہ K. H. خورشید: سرینگر،

شیخ محمد عبداللہ کی رہائی کے بعد سے "رائل کلیمینسی" کے ایک عمل کے طور پر کشمیر میں 12 اکتوبر 1947 کے واقعات بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کی جماعت کے دیگر ارکان، جو "کشمیر سے کنارہ کشی" کے اشتعال کے سلسلے میں گزشتہ سال یا تو قید یا نظربند تھے، کو بھی رہا کردیا گیا ہے۔ لیکن مسلم کانفرنس کے لوگ جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں۔ پہلو بہ پہلو ریاست مسلمانوں سے بیزار ہورہی ہے جو ریاستی قوتوں میں کسی بھی اہمیت کے عہدوں پر فائز تھے۔ فوج اب ان تمام مسلمان اور یورپی افسران سے پاک ہے جن کی جگہ ہندو ڈوگرا راجپوتوں نے لے لی ہے۔


موقف ظاہر ہوتا ہے کہ مہاراجہ کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے خلاف ہے۔ ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ اس کی لاش کو سات سو ٹکڑوں میں کاٹ دیا جائے، لیکن وہ پاکستان سے اتفاق نہیں کرے گا۔ اور، لہذا، وہ کسی بھی اور ہر واقعے سے ملنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ریاست آج گندی عدالتی سازشوں کا ہاٹ بیڈ ہے اور ہر طرح کے منشیوں اور مشینوں کو حکومت کی طرف سے مصلحتوں کو بگاڑنے اور مقبول احساس کو پاکستان کے حق میں دبانے کے لئے جاری ہے۔ لیکن آنے والے کچھ عرصے تک عوام کو ان کے ارادے بنانے میں حکومت کی راہ میں عملی مشکلات ہیں۔ ایک باخبر ڈوگرہ اہلکار نے مجھے بتایا کہ یہ زیادہ تر رائفلوں کا سوال ہے۔ اگر پاکستان کے پاس کشمیر سے زیادہ رائفلیں تھیں، تو بعد میں پاکستان میں شامل ہوں گے. ذیل میں دیا گیا مقام ہے، کیونکہ اس کا اندازہ حقائق اور حالیہ واقعات سے لگایا جاسکتا ہے جو ریاست، حکومت اور مختلف سیاست میں رونما ہوئے ہیں۔


ہندوستانی یونین پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے یا نہیں، حکومت کا ہر اقدام دہلی کی سڑک کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مہاراجا اپنے ارد گرد کے تمام ناپسندیدہ یا مشکوک لوگوں سے جان چھڑا رہے ہیں۔ ان کے چچا نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ نائب وزیر اعظم (ایک نئی پوسٹ) سردار پٹیل کے نامزد ایک مسٹر رام لال بترا ہیں، اور وہ سرینگر اور دہلی کے درمیان مسلسل آگے بڑھتے رہتے ہیں۔


شیخ عبداللہ کی رہائی کا اثر بیرونی دنیا کو یہ تاثر دینے کے واحد مقصد سے ہوا ہے کہ کشمیر کے بھارت سے الحاق، اعلان ہونے پر ریاست کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حمایت حاصل ہوگی۔ مقامی سیاسی حلقوں اور پریس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر کسی بھارتی ریاست کے لوگوں کی خواہشات معلوم کرنے کے سوال پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے اس سے پہلے کہ وہ یا تو ڈومینن پر اکتفا کر لیں، عبداللہ اور پارٹی کو بھارت سے الحاق کی حمایت کے عوض حکومت کی چند نشستوں کا وعدہ کیا جائے گا۔


مشرقی پنجاب اور جموں کو ملانے والی سڑک پر کام اپاکا پر ہو رہا ہے۔ راوی میں سیلاب کی بدولت کام کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور اس کی تکمیل میں خاطر خواہ تاخیر ہوئی ہے۔ جموں اور سری نگر کو ملانے والی ایک اور سڑک بھی تعمیر کا کام جاری ہے، کیونکہ موجودہ ایک تو موسم سرما کے تین ماہ کے دوران ٹریفک کے لیے کھلا نہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ نئی سڑک بار بار ٹریفک کے قابل ہو جائے ۔پٹرول کی سپلائی جسے راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر نے روک لیا تھا، اب دہلی سے بذریعہ ایئر آ رہے ہیں۔


کسی بھی قسم کے خطرات مول لینے کے موڈ میں نہیں، حکومت پوری ریاست میں ڈوگرہ فوجی تعینات کررہی ہے۔ تازہ دستوں کو گلگت اور پونچھ کے سرحدی علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ یہ امر بدستور افواہ ہے کہ بھارتی تسلط کے گورکھا اور سکھ فوجی فوجی کشمیر مشرقی پنجاب کی سرحد پر ریاست میں مارچ کرنے کے احکامات کے منتظر ہیں۔ مسلمانوں اور فوج کے دیگر غیر ہندو افسران کی برطرفی خود بولتا ہے۔


جب موسم سرما میں سیٹ ہوجائے گا تو گلگت جانے والی سڑکیں بلاک کردی جائیں گی اور کشمیر کو عملی طور پر باقی دنیا سے کاٹ دیا جائے گا اگر راولپنڈی سری نگر روڈ فی الحال ٹریفک کو فری کرنے کے لئے نہیں کھلا ہے۔ پٹرول کی قلت کی وجہ سے اب صرف فوجی گاڑیاں اور چند چند نجی کاریں اس سڑک پر چل رہی ہیں۔ گلگت چترال سرحد اور پونچھ سرحد پر قبائل نے مہاراجہ کو ہندوستان سے الحاق کے خلاف متنبہ کیا ہے۔ فی الحقیقت، ریاستی افواج پہلے ہی پونچھ میں مسلح مسلمانوں کے ساتھ تصادم میں آچکی ہیں۔ ریاستی فوجیوں کی ایک اچھی تعداد وہاں مصروف ہے.


ان تمام عوامل کے علاوہ یہ حقیقت بھی ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے ابھی تک جموں کے کچھ پنجابی ہندوؤں کے سوا بھارت سے الحاق کی حمایت نہیں کی، مہاراجہ کے راستے میں کھڑے ہو کر اپنا اعلان کر رہے ہیں۔


مسلم کانفرنس اب عملی طور پر ایک مردہ تنظیم ہے۔ اس کے تمام رہنماؤں کے ساتھ یا تو جیل، قید، حراست یا خارج کر دیا گیا ہے، اس کام پر لے جانے کے لئے شاید ہی کوئی ہے. میر واعظ اور چوہدری حمید اللہ کے درمیان ہونے والے جھگڑے سے جو کچھ بچا تھا وہ دونوں اب ختم ہوچکے ہیں۔ لیکن پاکستان کے حق میں مقبول احساس کا ایک بہت مضبوط احساس ہے، استعمال اور استحصال کرنا جس کا یہاں کوئی نہیں ہے۔ شہر اور ریاست کے مختلف حصوں میں بے ساختہ مظاہرے کئے جارہے ہیں لیکن ان بکھرے ہوئے عناصر کو متحرک کرنے والا کوئی نہیں ہے۔


وہ ایک عجیب پوزیشن میں ہیں۔ یہ ایک معروف حقیقت ہے کہ عبداللہ نے ریاست میں کبھی کسی غیر مسلم کی پیروی نہیں کی تھی اور اب اس کے ماننے والوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پاکستان قائم ہو چکا ہے اور لیگ کانگریس کا تنازع ختم ہونے پر ہے، ریاست کو پاکستان پر اکتفا کرنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے ان کی رہائی ہوئی ہے عبداللہ مبہم بیانات دے رہا ہے۔ میں اس کے ساتھ ان کی ایک حالیہ تقریر کا مکمل متن لے رہا ہوں، جیسا کہ ان کی پارٹی کے سرکاری کاغذ نے شائع کیا ہے۔ انہوں نے متعدد دیگر تقریریں بھی اسی خطوط پر کم و بیش کی ہیں اور اب تک وہ مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل ہیں:


ہمارے سامنے بنیادی سوال (عبداللہ کی جماعت) ذمہ دار حکومت کے قیام اور ریاست کے عوام کی آزادی کا ہے۔ میں اب بھی 'کشمیر سے کنارہ' پر قائم ہوں اور یہی ہمارا بنیادی مطالبہ ہے۔ ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کا سوال ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلم لیگ کا موقف ہے کہ حاکمیت حکمرانوں اور شہزادوں پر مشتمل ہے (یہ ہماری ریاستوں کے موقف کی واضح غلط بیانی ہے کہ پیراموونٹسی ختم نہیں ہوتی بلکہ ہندوستانی ریاستوں کی بھارتی ریاستوں کی طرف پلٹ چکی ہے)۔ لیگ نظام کی خاطر غریبوں اور عوام کو نظرانداز کرتی ہے۔ مسٹر جناح کے خلاف میری ذاتی عناد ہے جنہوں نے مجھے گنڈاسے کہا اور جنہوں نے کہا کہ 'کشمیر سے کنارہ کرو' چند شرپسندوں کا رونا تھا۔ لیکن میں اب کرنا چاہیے ہونا اب کرنا چاہیے اور ہمارے فیصلے پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں ذاتی جذبات کو آگاہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ہم اس کے ساتھ شامل ہوں گے جو ہماری آزادی کے مطالبات کی حمایت کرتا ہے لیکن ہمیں اپنی معاشی پوزیشن، اپنی تجارت اور تجارت اور دیگر چیزوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ہم جذبات کی طرف سے قیادت نہیں کریں گے اور میں بغاوت کروں گا اگر مہاراجہ مقبول منظوری کے بغیر کسی بھی سلطنت کو قبول کرتا ہے. آئیے پہلے اپنی آزادی حاصل کریں اور پھر آزاد لوگوں کی حیثیت سے ہم ایک یا دوسرے تسلط کے حق میں اپنا فیصلہ دیں گے۔


اپنے ہی کچھ پیروکاروں کے ساتھ نجی مذاکرات میں جو انہیں اپنے موجودہ موقف کے منافی باور کرانے گئے تھے، ان کے بارے میں اطلاع ہے کہ مسٹر جناح انہیں لکھ کر مذاکرات کی دعوت دیں لیکن صرف ایک ہی بنیاد ہو گی یعنی لیگ کو ریاست میں ذمہ دار حکومت کے قیام کے لئے تحریک کی حمایت کرنی چاہئے۔ انہوں نے نجی طور پر یہ بھی دیا ہے کہ مہاراجا نے بھارتی تسلط پر عمل کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن سردار پٹیل نے انکار کردیا اور مہاراجا کو صاف صاف کہہ دیا کہ اگر ریاست میں ذمہ دار حکومت قائم نہ ہوئی تو وہ کشمیر کا الحاق قبول نہیں کریں گے۔ وہ پھر پوچھتا ہے کہ مسلم لیگ ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟ لیگ نے حکمرانوں کے حق کو تسلیم کیا ہے کہ وہ عوام کی قسمت کا فیصلہ کریں، وہ جھگڑا کرتا ہے۔


جموں اور کشمیری پنڈتوں کے پنجابی اور ڈوگرہ ہندوؤں نے مہاراجہ کو ایک یادداشت بھیجی ہے جس میں اس سے کہا گیا ہے کہ وہ ہندوستان تک رسائی حاصل کرے۔ لیکن عبداللہ کی رہائی سے ان میں تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے اب نیشنل کانفرنس سے خود کو اتحادی بنا لیا ہے۔ بے شک، وہ موسم گرما ہیں اور ان کی واحد خواہش یہ ہے کہ ان کی کھالوں کو بچایا جائے.


مذکورہ بالا کی روشنی میں میری ذاتی طور پر رائے ہے جناب، کہ پاکستان کو لڑائی (جنگ استعمال نہ کرنے) کے حوالے سے سوچنا ہوگا جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے۔ دوسری طرف عملی طور پر نہ صرف اس پر فیصلہ کیا ہے بلکہ اس کے لئے تیار ہے۔ سفارتی دبائو اب تک ناکام ہوچکا ہے۔ ہم جو عرض البلد دیتے رہے ہیں انہوں نے صرف اس لحاظ سے ہماری غلط تشریح میں خدمت کی ہے کہ پاکستان کو کمزور سمجھا جاتا ہے اور حادثہ ہونے والا ہے۔ یقینا، ہمیں اپنی طرح کی کوشش کرنا چاہئے لیکن ہمیں اس کی لڑائی کے پہلو سے نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ چاہے مسالک کے درمیان اتحاد قائم ہو اور چاہے ریفرنڈم کا انعقاد ہو اور پاکستان کے لئے سازگار فیصلے کے نتیجے میں ہو، اس کی پاسداری کے لئے ایک لمحے کے لئے بھی مہاراجہ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کسی ناموافق فیصلے کے باوجود کشمیر کے الحاق کو قبول نہ کرنے والی بھارتی حکومت پر۔


پاکستان کو جو کچھ بھی اس واقعے کے لئے تیار رہنا ہے وہ یہ ہے کہ وہ ریاست کے اندر اور اس کے بغیر قبائل کو اسلحہ اور کھانے پینے کی چیزیں سپلائی کرے جو پہلے ہی اپنے ہتھیاروں کو تیز کررہے ہیں۔ مقامی آبادی شاید ہی ایک پکھواڑا سے زیادہ کے لئے ایک پر امن تحریک پر لے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے کامیاب حکمت عملی مہاراجہ کو مشرقی پنجاب سے ملحقہ پہاڑی جنوب کی صرف کچھ بنجر پٹریوں کے ساتھ چھوڑ دے گی۔ یہ بہت اچھا لگ سکتا ہے لیکن مہاراجہ کس طرح سوچ رہا ہے بتانے کا شاید ہی کوئی ذریعہ ہے۔ ہمیں بے خبر نہیں پکڑا جانا چاہئے، اور واحد راستہ یہ ہے کہ ہر واقعے کو پورا کرنے کے لئے خود کو تیار کیا جائے۔ بحیثیت ریاست کے لوگوں اور سرحد پار ہمارے لوگوں کے درمیان کیسے قائم ہو سکتا ہے، میں یہ کہہ سکتا ہوں، جناب، کہ میجر خورشید انور (مسلم نیشنل گارڈز کا) پہلے ہی راولپنڈی میں موجود ہے اور اسے رابطے کے کام سے بہت اچھی طرح اعتماد کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ریاست سے تعلق رکھتا ہے اور سرحدی علاقوں کو بہت اچھی طرح جانتا ہے۔


میں یہ بھی تجویز کروں گا، جناب، کہ اگر آپ کشمیر کے حوالے سے کوئی بیان جاری کرسکتے ہیں تو اس سے ہمارے یہاں کے لوگوں کو مدد ملے گی اور ہندوستانی ریاستوں کو لیگ پوزیشن کو واضح کرنے میں مدد ملے گی۔ جناب آپ مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے مسلم کانفرنس کے نظربند افراد کی رہائی کا مطالبہ کرسکتے ہیں جن پر اب تک کوئی مقدمہ بھی نہیں چلا، خاص طور پر اب جب کہ ہر دوسرے سیاسی قیدی اور نظربند آزاد مقرر ہیں۔ لیگ کی پوزیشن کے علاوہ اگر واضح اور دوبارہ حاصل کیا گیا تو عبداللہ کے پاؤں سے زمین اتار دیں گے۔ میں یہ اس لئے تجویز نہیں کر رہا کہ مجھے عبداللہ کے یوٹرنگز پر اشتعال دلایا گیا ہے بلکہ اس لئے کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور یقین ہے کہ لیگ واقعی انہیں نیچا دکھا رہی ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ جناب، بیان کا مندرجہ ذیل حصہ یا کچھ اور اسی اثر کے لئے فارم:


میرے نوٹس میں یہ بات لائی گئی ہے کہ بعض حلقوں میں بھارتی ریاستوں سے متعلق مسلم لیگ کی پالیسی کے حوالے سے کچھ غلط فہمی پائی جاتی ہے اور کچھ دلچسپی رکھنے والے افراد جان بوجھ کر مسلم لیگ کے بارے میں غلط بیانی کر رہے ہیں کہ وہ اپنے اپنے مقصد کی خدمت کرے اور ہندوستانی ریاستوں میں مسلمانوں کو گمراہ کر سکے۔

تیسری جون کے اس منصوبے کے مطابق جسے کانگریس اور مسلم لیگ دونوں نے قبول کیا ہے، ہندوستانی ریاستوں کے احترام میں پیراموونٹسی جو تاج کے ساتھ آرام کیا تھا وہ ہندوستانی ریاستوں کی طرف پلٹ گیا۔ قانونی اور آئینی موقف، اس لئے، تھا، اور رہتا ہے، کہ یہ ایک بھارتی ریاست کے سربراہ کے طور پر حکمران ہے جو اپنی ریاست کی جانب سے مذاکرات کر سکتا ہے اور کسی ایک یا دوسرے تسلط میں شامل ہونے کا حتمی فیصلہ لے سکتا ہے۔500 عجیب ریاستیں جنہوں نے ہندوستانی یونین اور دیگر لوگوں کو قبول کیا ہے جنہوں نے پاکستان کو قبول کیا ہے اسی طریقہ کار پر عمل کیا ہے۔ اس میں ترمیم یا تبدیلی نہیں کی جاسکتی سوائے اس کے کہ دونوں مقبوضات کے مابین اور ہندوستانی ریاستوں کے حکمرانوں کے اتفاق رائے سے۔ ہم تیار ہیں اور پاکستان پہلے ہی بھارتی حکومت سے اس بنیاد اور شرائط پر مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے جس کے تحت وہ اس بات پر متفق ہوں گے کہ الحاق کا سوال بھارتی ریاستوں کے عوام کے حوالہ کیا جائے۔


مسلم لیگ ہمیشہ پوری دنیا میں عوام کے حق خود ارادیت کے لئے کھڑی رہی ہے اور یہ ہی اصول تھا جس نے مسلم لیگ کی طرف سے پاکستان کے مطالبے کی بنیاد تشکیل دی۔ یہ منصوبہ بندی وغیرہ کے تحت ریاستوں کی پوزیشن کی تشریح سے بالکل مختلف سوال ہے۔

میں نے تجویز کیا ہے، جناب، اپنے خام انداز میں کہ مسلم لیگ اور پاکستان کو کشمیر کے حوالے سے کیا کرنا چاہئے۔ یہاں مشکلات یہ ہیں کہ مسلم کانفرنس کو کوئی پریس نہیں ملا ہے اور یہاں تک کہ غیر جانبدار پریس کو بھی مجروح کیا جاتا ہے۔ اگر تھوڑی سی غلطی سے ہمارے یہاں کے لوگ حکومت کو طاقت کے استعمال کا موقع دیں تو میرے ذہن میں کوئی شک نہیں، جناب، وہ ڈوگرہ فوجی ہر گھر میں گھس کر مسلمانوں کو پکڑ کر گولی مار دیں گے۔


میں نے ابھی ابھی سنا ہے کہ شیخ عبداللہ نے اپنے ایک لیفٹیننٹ مسٹر جی ایم صادق کو مسٹر لیاقت علی کو دیکھنے کے لئے لاہور بھیجا ہے۔ اس سے آگے، ابھی کچھ معلوم نہیں ہے۔



مکمل تحریر >>

Thursday, September 3, 2020

پاکستانی سیاست / جمہوریت کا المیہ ۔ رفعت رشید عباسی

 پاکستانی سیاست / جمہوریت کا المیہ

تحریر: رفعت رشید عباسی 


پاکستان میں جمہوریت وہ بھیڑ ہے جو بھیڑیے کے جبڑوں میں سسک رہی ہے

اور

جمہوریت کے خیر خواہ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ اس تڑپتی سسکتی جمہوریت کو اس عذاب سے نجات دلانے کے لیے اپنی جاں لڑا رہے ہیں  

لیکن

بدقسمتی سے حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے

جمہوریت کی خیر خواہی کا لبادہ اوڑھے یہ سب لوگ درپردہ بھیڑیے کی خوشنودی حاصل کرنے میں ہی دن رات لگے ہوئے ہیں 

کہ  

کسی طرح وہ ان سے راضی ہو جائے اور اس بھیڑ کے چیتھڑوں میں سے کچھ حصہ انہیں عنائت کر دے.


حقیقت کتنی بھیانک ہے 

کہ

بھیڑ جن کو اپنا سمجھ کر ان سے امیدیں لگائی بیٹھی ہے  وہ  اصل میں بھیڑیے کے غلام ہیں.


ان غلاموں میں سے جسے یہ حصہ مل جاتا  ہے اس کے لیے یہی جمہوریت ہے اور وہ بھیڑیے کا ترجمان بن کر اس کے گن گانے میں لگ جاتا ہے 

اور 

جو اس  سےمحروم رہ جاتا ہے 

وہ جمہور کی خیر خواہی کے نام پر شور شرابا کر کے اپنی اگلی باری کی راہ ہموار کرنے  میں لگ جاتا ہے 

اور اس سارے عمل کو عوامی حقوق، جمہوریت کا استحکام، آئین کی بالادستی جیسے خوبصورت نام دیتا ہے۔ 


عوام کے ہجوم میں ان کے منہ انقلاب کےشعلے اگل رہے ہوتے ہیں  اور اسی لمحے ان کے  کان کسی خاص "پیغام" کے بھی منتظر  ہوتے   ہیں  اس آس میں کہ کب نظر کرم ہو جائے۔ 


یوں دوہرے چہرے رکھنے والے عوام میں انقلابی اور بھیڑیے کی در پر سوالی بنے رہتے ہیں۔  


ان کا سارا اانقلابی پن بھیڑیے کی رضا کی حدود میں ہی رہتا ہے اور وہ اطاعت وفرمانبرداری کی حد کبھی پار نہیں کرتے ہیں کہ  کہیں بھیڑیے صاحب کو غصہ آ جائے اور خواہ مخواہ عوام ، جمہوریت اور انقلابی پن کے نام پر آئندہ نسلوں تک کے اس ملک پر حکمرانی کے امکانات داو پر لگ جائیں۔ 


جب تک سیاست اس بزدلانہ  و منافقانہ انداز سے پاک نہیں ہو گی عوام کا حق حکمرانی بحال نہیں ہو سکتا۔


 آئین کی کتاب میں لکھے چند حروف کے پیچھے اگر منظم و باشعور عوامی طاقت نہیں ہو گی تو کوئی بھی اور "طاقت"  ان حروف کی حرمت کی پاسداری کبھی نہیں کرے گی.


مکمل تحریر >>

Sunday, August 30, 2020

قوم پرستوں کے 16 ارب ڈالر کے دعوے اور حقیقت.اظہر فخرالدین

 قوم پرستوں کے 16 ارب ڈالر کے دعوے اور حقیقت


ہمارے قوم پرست دوست حضرات اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان کے 

بینکوں میں سے کشمیریوں کا پیسہ اگر نکال لیا جائے تو پاکستان دیوالیہ ہو جائے۔ ویسے تو اس دلیل کی حثیت منگلا ڈیم اور پانی کی رائلٹی کے غبارے جیسی ہی ہے مگر آئیں آج اس دعوی کا بھی جائزہ لے ہی لیتے ہیں، عقلی بنیادوں اور اعداد و شمار کی روشنی میں۔


 قوم پرست دوست کوئی لگ بھگ 16  ارب ڈالر سالانہ کا دعوی دائر کرتے ہیں۔ یعنی بیرون ملک کشمیری اتنے پیسے سالانہ پاکستانی بینکوں میں بھیجتے ہیں۔


ایک اہم بات سمجھنے کی یہ ہے کہ ترسیلات زر، یعنی بیرون ملک سے آنے والے پیسوں میں کشمیری اور پاکستان کے باقی صوبوں کے رہنے والے افرد کا الگ الگ حساب کتاب نہیں ہوتا۔ سب کے پیسوں کو ملا کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایک ٹوٹل فگر جاری کرتا ہے۔


اب آتے ہیں اعدادو شمارکی طرف


پاکستان میں ترسیلات زر کی مد میں بینکوں کے زریعے لگ بھگ 23 ارب ڈالر سالانہ بھیجے جاتے ہیں۔


بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد 8.8 ملین ہے۔ 88 لاکھ۔ جو آزاد کشمیر کی کل آبادی کا دوگنا سے بھی زائد ہے۔ آزاد کشمر کی کل آبادی لگ بھگ 40 لاکھ ہے۔  بیرون ملک کشمیریوں کی ٹھیک تعداد کے کوئی اعداد و شمار مرتب نہیں۔اگر ہم پاکستان کے اوور سیز رہائشیوں کی اوسط کے لحاظ سے اندازہ لگائیں ےتو کوئی دو لاکھ کے قریب کشمیری بیرون ملک ہونگے۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ 88 لاکھ ملکر 7 ارب بھجواتے ہوں اور دو لاکھ 16 ارب ڈالر؟ کیا عقل اسکو مانتی ہے؟

(دو لا کھ کے فگر میں کمی بیشی ممکن ہے ایک دوست کے اندازے کے مطابق یہ کوئی چار لا کھ  یا اس سے بھی زائدہ ہو سکتے ہیں  بہر حال صحیح تعداد معلوم نہیں. )


چلیں اسکو بھی رہنے دیں۔ پاکستان کو موصول ہونے والی ترسیلات زر میں پہلے نمبر پر سعودیہ، دوسرے پر یو اے ای  آتے ہیں۔یہ دونوں ملکر 23  ارب ڈالر کا آدھا حصہ بھیجتے ہیں۔ کشمیری تو صرف برطانیہ میں ہی بڑی تعداد میں آباد ہیں، اور وہی زیادہ خوشحال بھی ہی ۔ برطانیہ کا کل ملا کر 3 سے 4 ارب ڈالر بنتا ہے۔ اس میں 11 لاکھ پاکستانی شامل ہیں اور اور کوئی ایک لاکھ کشمیری۔ باقی اندازہ آپ خود ہی لگا لیں کہ ان 3,4 ارب میں سے کون کتنا بھیجتا ہو گا؟


اور ویسے آپ کہتے ہیں کہ ستر فی صد عوام آکے ساتھ ہے۔ توکیوں نہیں آپ عوام کوکہہ کر ایک مہینے کے لیے ہی سہی  ان 16ارب ڈالرز کو بینکوں سے نکلوا لیتے۔ پاکستان بھی آپ کے گھٹنوں میں لیٹ جائے گا اور آپ کا دعوی بھی سچ ثابت ہو جائے گا۔


خدارا سچ تو بولیں۔ کہاں سے آپ لوگ کہانیاں اور افسانے گھڑتے ہیں۔ کیا آپکو سچ کا سامنا کرتے ہوے شرمندگی نہیں ہوتی؟


مکمل تحریر >>

Friday, August 21, 2020

جوان سعید نام کی طرح جوش ۔ سراپا تحریک ۔اسعد فخرالدین



جوان سعید جوش
اپنے لہو سے سینچے اس گلشن میں آئی بہاروں پر خوش ہے
اپنی لگائی فصل کے بارآور ہونے پر شاداں ہے
لیکن
ظلم کے مقابل بے جگری سے لڑنے والے اپنے ابتدائی ساتھیوں کو یاد کر کے افسردہ بھی ہو جاتا ہے جو اس بہار کو دیکھنے سے رہے 
نام کی طرح پرجوش ، استقامت کا مینارہ 
خالد صاحب ! ان کی دھڑکنوں کومحسوس کریں 
میجر صاحب !!ان کے چہرے پر کھلی مسکراہٹ  اور اطمینان  کو دیکھئے 

غربی باغ کے باشعور لوگو! 
جانتے ہو اس مسکراہٹ کے پیچھے کتنی لمبی داستان ہے؟ 
ظلم بربریت، لاقانونیت ، اجارہ داری اور سرداری کی داستان ۔۔۔۔

اس مسکراہٹ کے پیچھے تو چار دہائیوں کی وفا ہے 
عزم و استقامت  ہے
 نظریے سے محبت ہے 
مشن سے لگن ہے

وقت نے کروٹ بدلی ہے 
جہاں  دو ووٹ زیادہ نکلنے پر پورے گاؤں کو لائن حاضر کر کے بے توقیر کیا جاتا تھا 
جہاں  گلیوں میں آپ کو لہولہان کیا جاتا رہا، جہاں آپ نے جبر کے پہاڑ سہے 
آج اس نیلہ بٹ نے بالآخر  انگڑائی لی ہے 
انقلاب کی صدا پر پیر و جواں لبیک کہنے نکل پڑے ہیں

اندھیروں کے پیامبر
آخری وقت تک اس روشنی کے سفر کو روکنے میں لگے رہے 
لیکن نامراد رہے

پوری زندگی استقامت کے ساتھ ڈٹے “جوش” صاحب  نے دھیرکوٹ کی بازاروں و چوراہوں میں جس “شعوری جدوجہد” کی ابتداء چار دہائیاں قبل کی تھی   
آج اس نے دلوں کو مسخر کرنا تیز تر کر دیا ہے
 ظلم کی علامت بن چکے مافیا کی نسلوں کی غلامی سے عوام بغاوت کر چکے
مقافات عمل کی چکی پسنا شروع ہو گئی ہے 
ہر کارکن سعید جوش بن گیا ہے 
ظلم کے خلاف چٹان بن گیا ہے 
اسعد فخرالدین

 


 

مکمل تحریر >>

Wednesday, August 19, 2020

سینٹر کا بیٹا ویگن کے انتظار میں ۔ اسعد فخرالدین

 اولاد !

جس کے لئے انسان خود بھوکا رہ سکتا ہے۔۔۔سختیوں برداشت کرسکتا ہے۔۔دکھ درد سہہ کر ان کو کو ہر طرح کی سہولتیں پہچانے کی کوشش کرتا ہے 

یہ بچہ کسی عام فرد کا بچہ تو نہیں ہے ؟ 

اس کا باپ سینٹر ہے ۔۔۔سابق وزیر خزانہ ہے ۔۔۔ سابق ایم پی اے 

ایک اچھی کرولا گاڑی اور ڈرائیور تو لیکر دے سکتا ہے 

بالکل ! 

مگر یاد رکھیں اس نے بار ہا اپنی انٹریوز میں کہا ہے کہ میرا گزارہ مشکل سے ہوتا ہے  میری آمدن کے ذرائع سینٹ کی تنخواہ اور گاؤں میں ایک چھوٹے سکول میں پارٹنر شپ ہے

یہ بیٹا سینٹر سراج الحق امیر جماعت اسلامی پاکستان کا بیٹا ہے جو بس سٹاپ پر بیٹھا  گاڑی کا منتظر ہے 

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کسی جماعت کے امیر کا بیٹا اڈوں میں ویگنوں کے انتظار میں بیٹھا رہے


مجھے اس تصویر سے منور حسن صاحب سابق امیر جماعت اسلامی یاد آگئے ان سے کسی نے پوچھا آپ کے اثاثے کتنے ہیں ، جواب دیا مقروض کے بھی اثاثے ہوتے ہیں؟ 

مزدو کا بیٹا ۔۔۔امیر جماعت اور پھر سینٹر 

مگر سچ ہے خدارا خوف دل میں ہے ورنہ کیا کمی تھی کہ اسے اے سی والی کاڑی ایک روڈ کے ٹھیکے سے لیکر ٹھیکیدار سے لیکر دے دیتا !

یہ ہے جماعت اسلامی ! 

اس کے نمائندے آپ کے  علاقوں میں موجود ہیں 

وقت ہے انہیں پہچانیں  جتنی دیر کریں گے نقصان آپ کا 

اور آنے والی  نسل کا ہوگا 

مکمل تحریر >>